فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
49 - 126
مسئلہ ۱۳۳: ۷ محرم الحرام ۱۳۱۳ھ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے گوسفند ذبح کیا ہوا اپنے ایک ملازم غیر کتابی کے ہاتھ مکان کو بھیجا اور آرندہ ذبیحہ نے یہاں کہا کہ یہ ذبیحہ فلاں شخص مسلم نے بھیجاہے۔ کھانا اس کامسلمان کو جائزہے یانہیں؟
الجواب: اگر قرائن کی رو سے اس کافر کے اس قول میں شک پیدانہ ہو، ظن غالب اس کے صدق ہی کاہو، تو مسلمان کے لئے اس ذبیحہ کے کھانے میں کوئی حرج نہیں کہ ہدیہ لانا از قبیل معاملات ہے اور معاملات میں کافر کی بات مقبول، او ر جب یہ مان لیا گیا کہ یہ ذبیحہ فلاں مسلم کا بھیجا ہوا ہے، تو اس کے ضمن میں حلت بھی مسلم ہوگئی، اگر چہ ابتداء حلت، حرمت، طہارت، نجاست وغیرہا امور خالصہ دینیہ میں کافرکا قول مقبول نہیں۔
ہدایہ میں ہے:ـ
من ارسل اجیرا لہ مجوسیا اوخادما فاشتری لحما فقال اشتریتہ من یہودی اونصرانی اومسلم وسعہ اکلہ، لان قول الکافر مقبول فی المعاملات الخ ۱؎۔
جس نے اپنا مجوسی مزدور یا خادم گوشت خریدنے بھیجا تو اس نے واپس آکر کہا میں نے یہودی یا نصرانی یا مسلمان سے خریدا ہے تو مزدور یا غلام کا خریدا ہوا گوشت کھاناجائز ہے کیونکہ معاملات میں کافر کا قول مقبول ہے۔ الخ (ت)
(۱؎ الہدایۃ کتا ب الکراہیۃ فصل فی الاکل والشرب مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۵۱)
تبیین الحقائق ودرمختارمیں ہے:
المعاملات یقبل فیہا خبر کل ممیز حرا کان اوعبدا مسلما کان اوکافرا، کبیرا او صغیرا لعموم الضرورۃ فان الانسان قلما یجد المستجمع لشرائط العدالۃ لیعاملہ اویستخدمہ اویبعثہ الی وکلائہ ونحوذٰلک ولا دلیل مع السامع یعمل بہ سوی الخبیر ۲؎ الخ۔
معاملات میں ہر باتمیز شخص کی بات مقبول ہے، وہ آزاد ہو یا غلام مسلمان ہو یاکافر ، وہ بڑا ہو یا نابالغ ہو کیونکہ ضرورت عام چیزہے جبکہ انسان معاملہ یا خدمت لینے یا اپنے وکلاء کے پاس بھیجنے کے لئے شرائط عدالت پر پورا اترنے والے کو بہت کم پاتا ہے اور سامع کے پاس خبر کے علاوہ کوئی دلیل نہیں ہوتی، جس پر عمل کیا جائے۔ (ت)
(۲؎ تبیین الحقائق کتا ب الکراہیۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ بولاق مصر ۶/ ۱۲)
معاملات میں ایک شخص کی بات قبول کی جائے گی خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر ہو تاکہ حرج کو ختم کیا جاسکے اور معاملات میں سے مضاربت اور ہدیہ وغیرہ کا قاصدبنانا تجارت کی اجازت دینا بھی ہے، اسی طرح کافی میں ہے اھ ملخصا۔ (ت)
(۱؎فتاوٰی قاضی خاں کتاب الکراہیۃ الباب الاول الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۱۰)
نیز تبیین میں ہے :
فاذا قبل فیہا قول المیز وکان فی ضمن قبول قولہ فیہا قبولہ فی الدیانات یقبل قولہ فی الدیانات ضمنا ضررورۃ، وکم من شیئ لایصح قصدا یصح ضمنا ولان کل معاملۃ لاتخلو عن دیانۃ، فلو لم یقبل فیہا فی ضمن المعاملات لادی الی الحرج، بخلاف الدیانات المقصودۃ ۲؎ (ملخصا)
تو جب اس میں باتمیز شخص کی بات قبول ہے تو اس کے ضمن والی دینی چیز بھی اس کی قبولیت سے ضرورۃ ضمن میں قبول ہوگی اور اس لئے بھی کہ کوئی معاملہ بھی دینی امر سے خالی نہیں ہوتا، تو اگر وہ معاملہ میں ضمنا ثابت نہ ہو تو حرج کا باعث ہوگا جبکہ بہت سی چیزیں ضمنا ثابت ہوتی ہیں اور قصدا صحیح نہیں ہوتیں، اس کے برخلاف مقصود دینیات کہ وہ ضمنا صحیح نہیں ہوتے، ملخصا (ت)
(۲؎ تبیین الحقائق کتاب الکراہیۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ بولاق مصر ۶/ ۱۲)
ہاں اگر بنظر قرائن اس کی بات میں شک پڑے، کچھ فریب معلوم دے،تو ہر گز نہ کھائے کہ ذبیحہ کی حلت مشکوک وموہوم بات سے ثابت نہ ہوگی،
فان الحیوان ماکان حیا کان حراما، وانما یحل بذبح مشروع فلا یثبت الطاری بالشک۔
کیونکہ جانور جب تک زندہ ہے کھانا حرام ہے وہ صرف شرعی طریقہ سے ذبح کرنے سے حلال ہوتاہے تو اصل کے خلاف وارد ہونیوالی چیز شک سے ثابت نہ ہوگی۔ (ت)
درمختارمیں ہے:
یقبل قول المملوک ولو انثی، والصبی، فی الہدیۃ، وقیدہ فی السراج بما اذا غلب علی رائہ صدقہم ۱؎ اھ ملخصا۔
غلام عورت ہو یا بچہ ہو اس کی بات قبول ہوگی، ہدیہ میں اور کہ اس بات کو سراج میں اس قید سے مقید کیا ہے کہ اس کی رائے میں اس مملوک غلام کی سچائی غالب ہواھ ملخصا (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الحظروالاباحۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۷)
ردالمحتارمیں ہے:
ثم قال کمافی المنح وان لم یغلب علی رأیہ ذٰلک لم یسعہ قبولہ منہم، لان الامر مشتبہ علیہ، اھ، قال الاتقانی لان الاصل انہ محجور علیہ، والاذن طاری، فلا یجوز اثباتہ بالشک ۲؎۔ الخ، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
پھر منح میں کہا گیا کہ اگر اس کی سچائی پر غلبہ ظن نہ ہو تو پھر اس کی بات کو قبول کرنے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ معاملہ اس پر مشتبہ رہے گا اھ، اتقانی نے کہاکہ اصل ممانعت ہے اوراجازت بعد والی چیز ہے، لہذا شک کے ساتھ اجازت ثابت نہ ہوگی الخ
(۲؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۲۰)
مسئلہ ۱۳۴: از ضلع لاہور مقام چونیا مسئولہ انوارالحق بروز چہارشنبہ بتاریخ ۱۴ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
اس شہر میں حلال خور یعنی چوُہڑے درپردہ گائے ذبح کراکے گوشت فروخت کرتے ہیں، بعض مسلمان ان سے خریدلیتے ہیں، اگر ان سے منع کیا جائے تو زید کہتاہے کہ مولوی عبدالحی کے فتاوٰی میں لکھاہے اگر جانور کو مسلمان ذبح کرے اور فروخت کافر کرے تو کھاناجائز ہے، جب شریعت جاز کرتی ہے تو تم کیوں نفرت کرتے ہو، یا حضرت ! چوہڑوں سے گوشت کھانا مسلمان کو بہت برا معلوم ہوتاہے برائے مہربانی تحریر فرمائیں کہ اگر جائز ہو تو نفرت نہ کی جائے۔ فقط
الجواب : گوشت میں اصل یہ کہ جانور مثلا گائے جب تک زندہ ہے اس کا گوشت حرام ہے، اگر کوئی ٹکڑا کاٹ لیا جائے مردار اور حرام ہوگا
، ''ماابین فی حی فہو میت''
(زندہ جانور سے گوشت کاٹا تو وہ حرام ہے) حلت ذکات شرعی سے ثابت ہوتی ہے، تو جب ذبح شرعی معلوم ومتحقق نہ ہو تو حکم حرمت ہے، کافر نے مسلمان سے راس ذبح کرائی اور قبل اس کے کہ مسلمان کی نگاہ سے غائب ہوانھیں سے خریدلیا، یہ جائز ہے اور اگر مسلمان نے ذبح کیا اور اس کے بعد جانور اس کی نظر سے غائب ہوگیا ''اور کافر(عہ)گوشت اس کی حلت وطہارت کرنا چاہتاہے۔'' اور حلت وحرمت وطہارت ونجاست خالص امور دیانت ہیں، اورامور دیانت میں کافر کی خبر محض نامعتبر ہے۔
قال اﷲ تعالٰی لن یجعل اﷲ للکافرین علی المؤمنین سبیلا ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اللہ تعالٰی ہر گز کافروں کو مومنوں پر راہ نہ دے گا۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۴۱)
عہ: اصل میں اسی طرح ہے، مگر ہونا اس طرح چاہئے: ''اور کافر گوشت فروش اس کی حلت و طہارت ثابت کرنا چاہتاہے۔'' عبدالمنان اعظمی
مسلمان اس کے گوشت کی خریداری سے نفرت واعراض کرتے ہیں، بہت صحیح وبجا ہے، یہی حکم شرع ہے، بلکہ چوہڑے چمار اگر مسلمان سے ذبح کرائیں او ر ہنوز نگاہ سے غائب نہ ہو جب بھی خریدنا نہ چاہئے جبکہ قلوب اس سے تنفر کرتے ہوں،
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم: بشروا ولا تنفروا ۲؎۔ وعنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم : ایاکم ومایتغدر منہ ۲؎ فان الخبر لایتغدر منہ، وعنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایاک ومایسؤالاذن ۴؎۔ ہذا وفصلناہ فی فتاوٰنا بتوفیق اﷲ تعالٰی ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی ہے ؛ بشارت دینے والے بنو اور نفرت پیدا نہ کرو۔ اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی ہے: باعث غدر سے بچو جبکہ خبر باعث غدرنہیں ہے، اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی ہے ۔ کانوں کو تکلیف دہ بات سے بچاؤ۔ اسے ہم نے بتوفیق الہٰی اپنے فتاوٰی میں تفصیل سے بیان کردیا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ صحیح البخاری کتاب العلم باب ماکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یتخولہم بالموعظۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶)
(۳؎ المستدر ک للحاکم کتاب الرقاق دارالفکر بیروت ۴/ ۳۲۷)
(کشف الخفاء للعجلونی حدیث ۸۶۷ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۲۴۷)
(۴؎ مسند احمد بن حنبل بقیہ حدیث ابی الغادبۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتبہ الاسلامی بیروت ۴/ ۷۶)
(کشف الخفاء للعجلولی حدیث ۸۶۶ و ۸۶۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۲۴۷)