فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
48 - 126
مسئلہ ۱۳۲: از اٹاوہ محلہ اورنگ آباد مرسلہ فضل حسین صاحب سوم جمادی الاولٰی ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس شہر میں گوشت ہندو کھٹک فروخت کرتے ہیں، اور انتظام ذبح یہ ہے کہ گورنمنٹی مذبح بناہوا ہے، بعد ملاحظہ ڈاکٹر انگریزی کے (عام اس سے کہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم ہو) اس مذبح میں کل جانور ذبح ہوتے ہیں، کھٹک گوشت بناکر بازار میں لاکر فروخت کرتے ہیں، مذبح پر ایک مسلمان جاتاہے جس کی نسبت معلوم ہوا کہ ذبح وہی شخص کرتاہے، اگر چہ عادت مستمرہ وطریقہ مقررہ تویہی ہے، لیکن ممکن ہے کہ بخلاف ورزی اس حکم گورنمنٹی کے کوئی جانور خفیۃً اپنے گھروں پر ذبح کرکے اس کا گوشت بھی انھیں جانوروں کے گوشت میں ملاکر فروخت کرلیں، چنانچہ ایسے مقدمات بھی ہوتے اور وہ لوگ سزا پاتے ہیں، شہادت اس امر کی کہ گوشت جو فروخت ہورہا ہے اس جانور کا ہے جس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے بجز قول اُس کا فرکے جو گوشت فروخت کررہاہے، اور کوئی نہیں ہے، اورنہ وقت ذبح سے وقت فروخت تک بالاتصال وہ گوشت کسی مسلمان کے زیر نظر رہا، اگر چہ عادت معہودہ کے موافق کہا جاسکتاہے، کہ مذبح گورنمنٹی میں ذبح ہوا ہے، اور وہاں مسلمان معمولاً جاتاہے، اور ایسے مقدمات بھی پیش آتے ہیں کہ بیماری مویشی وغیرہ بخوف ڈاکٹر کے معائنہ کے گھر پر ذبح کرلیتے ہیں۔ اور اس گوشت میں شامل کرلیتے ہیں، جو مذبح کے مذبوح جانور وں کا ہے، پس ایسی حالت میں اس ہندو کھٹک سے خریدا ہوا گوشت کھانا جائز وحلال ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: صورت مستفسرہ میں اس سے گوشت کاخریدنا ، کھانا، کھلانا ناجائز ہے، کہ حیوان جب تک زندہ تھا حرام تھا، ذبح شرعی سے حلال ہوگیا، اور اس کا حصول ثابت نہ ہوا،
والیقین لایزول بالشک
(شک سے یقین زائل نہیں ہوتا۔ ت) اور وہ کافر غیر کتابی اگر کہے بھی کہ یہ مسلمان کا ذبیحہ ہے، تویہ خبر خصوصا امردیانت وحلت وحرمت میں ہیں۔ اور ان امور میں کافرکی خبر محض باطل ونامعتبر ہے،
درمختاروہدایہ وتبیین و ہندیہ وغیرہاعامہ کتب میں ہے:
الشاۃ فی حال حیاتہا محرمۃ فالمشتری مستمسک باصل التحریم الی ان یتحقق زوالہ ۱؎۔
بکری زندہ حرام ہے، تو خریدار نے اس کے اصل حال کو دلیل بناکر حرام کردیا تا وقتیکہ اس اصل یقین کا زوال نہ ہوجائے۔ (ت)
(۱؎ الاشباہ النظائر الفن الاول القاعدہ الثالثۃ اداراۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۸۹)
فتح القدیر میں ہے:
لاتحل حتی یعلم انہاذکاۃ مسلم لانہا اصلہا حرام، وشککنا فی الذکاۃ المبیحۃ ۲؎۔
کھاناحلال نہیں جب تک یقینی علم نہ ہوجائے کہ اس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے کیونکہ اصل میں حرام ہے، اور ہمیں مباح بنانے والے ذبح میں شک ہے۔ (ت)
(۲؎ فتح القدیر)
تاتارخانیہ میں جامع الجوامع امام ابویوسف سے ہے:
من اشتری لحما فعلم انہ مجوسی واراد الرد، فقال ذبحہ مسلم یکرہ اکلہ ۳؎ اھ۔
کسی نے گوشت خریدا اور معلوم ہے کہ فروخت کرنیوالا مجوسی ہے تو واپس کرنا چاہا تو مجوسی نے کہا اس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے اس کا کھانا مکروہ ہے اھ (ت)
(۳؎ ردالمحتار بحوالہ التاتارخانیہ کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۱۹)
ردالمحتارمیں ہے:
ومفادہ ان مجرد کون البائع مجوسیایثبت الحرمۃ فانہ بعد اخبارہ بالحل بقولہ ذبحہ مسلم کرہ اکلہ فکیف بدونہ، تأمل ۴؎۔
اس کا مفاد یہ ہے کہ محض بائع کا مجوسی ہونا ہی حرمت کو ثابت کردے گا کیونکہ اس نے اس کے حلال ہونے کی خبر دی،کہ اس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے، اس کے باوجود جب کھانا مکروہ ہو ا تو ایسی خبر کے نہ ہونے پر کیسے حلال ہوسکتاہے ، غور کیجئے۔ (ت)
(۴؎ردالمحتار بحوالہ التاتارخانیہ کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۱۹)
بخلاف اس کے کہ مسلمان اپنے کسی نوکر یا مزدور مشرک کو گوشت لینے بھیجے اور وہ خریدکر لائے اور کہے میں نے مسلمان سے خریدا ہے اس کا کھانا جائز ہوگا، جبکہ قبل میں اس کا صدق جمتاہو کہ اب یہ اصالۃً دربارہ معاملات قول کافر کا قبول ہے اگر چہ حکم دیانت کو متضمن ہوجائے گا،
تبیین الحقائق پر ہندیہ میں ہے:
لایقبل قول الکافر فی الدیانات الا اذا کان قبول قول الکافر فی المعاملات یتضمن قبولہ فی الدیانات، فح تدخل الدیانات فی ضمن المعاملات، فیقبل قولہ فیہا ضرورۃ ۱؎۔
دیانات میں کافر کا قول مقبول نہیں ماسوائے اس کے کہ جب معاملات میں اس کا قول ہو نے پر دیانات میں مقبول ہونے کو متضمن ہو تو ایسی صورت میں دیانات، معاملات میں داخل قرار پاتے ہیں۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ بحوالہ تبیین الحقائق کتاب الکراہیۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۰۸)
ردالمحتارمیں ہے:
الجواب ان قولہ شریتہ من المعاملات، و ثبوت الحل والحرمۃ فیہ ضمنی ، فلما قبل قولہ فی الشراء، ثبت مافی ضمنہ بخلاف مایأتی، وکم من شیئ یثبت ضمنا لاقصدا ۲؎۔
جواب یہ ہےکہ اس کا یہ کہنا کہ میں نے اسے خریدا ہے، یہ معاملات کی بات ہے اورحلال وحرام ہونا اس میں ضمنی چیز ہے تو جب خریداری کے متعلق اس کا قول مقبول ہے تو ضمنی امر بھی ثابت ہوجائے گا، آئندہ بیان اس کے خلاف ہے، تاہم بہت سی چیزیں ضمناً ثابت ہوجاتی ہیں وہ قصدا ثابت نہیں ہوتیں۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۱۹)
ولہذا اگر وہ نوکر کہے کہ بائع مشرک تھا گوشت حرام ہوگا، معلوم ہو اکہ بیچنے والے کا مشرک ہونا ہی حرمت گوشت کےلئے کافی ہے،
تنویر الابصار ودرمختارمیں ہے:
قال اشتریت اللحم من کتابی فیحل، او قال اشتریتۃ من مجوسی فیحرم ۳؎۔
اس نے کہا میں نے یہ گوشت کتابی شخص سے خریدا ہے تو حلال ہوگا، یا اس نے کہا میں نے مجوسی سے خریدا ہے ، توحرام ہوگا، (ت)
(۳؎ درمختار کتاب الحظروالاباحۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۷)
ہاں جب تک وہ گوشت ذابح مسلم خواہ او ر کسی مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہو تو اس مسلمان اور نیز دوسرے کو اس مسلم کی خبر پر کہ یہ وہی گوشت ہے جو مسلمان نے ذبح کیا، خریدنا اور کھانا سب جائز ہے کہ اب خبر مسلم ہے نہ کہ کافر ، مگر وہ مخبر ثقہ نہ ہو تو قلب پر اس کا صدق جمنا شرط ہوگا۔