Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
47 - 126
مسئلہ ۱۲۶: از شہر بریلی مسئولہ عبدالجلیل طالب علم ۲۹ محرم الحرام ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک گائے ذبح کی گئی او اس کا پیٹ جب چاک کیا  توا س میں سے ایک بچہ زندہ کامل اعضا کا نکلا، مگر اس کے جسم میں بال نہیں آیا ہے، اس حالت میں بچہ کا گوشت حلال ہوجائے گا یا نہیں ذبح کرنے سے ؟ اور مردہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
الجواب: بچہ کہ مردہ نکلے حرام، اور زندہ نکلے اور ذبح کرلیا تو حلال، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۷: از اوجین مکان میرخادم علی اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں ۳ ربیع الآخر ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے مدقق ومحققین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو بچہ مردہ بکری مذبوحہ کے شکم سے برآمدہو بمذاہب امام اعظم کوفی رحمۃ اللہ علیہ حلال ہے یاحرام بیان فرمائیں بعبارت کتب رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔
الجواب: ناجائز ہے، ہدایہ وعالمگیریہ میں ہے:
من نحرناقۃ اوذبح بقرۃ فوجد فی بطنہا جنینا میتالم یو کل اشعراولم یشعر وہذا عند ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ، وقال ابویوسف ومحمدرحمہما اﷲ تعالٰی اذا تم خلقہ اکل۔۱؎
کسی نے اونٹنی یا گائے ذبح کی تو اس کے پیٹ میں بچہ مردہ پائے تو اسے نہ کھایا جائے اس پر بال ہوں یا نہ ہوں، اور یہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک ہے اور امام ابویوسف اور امام محمدرحمہما اللہ تعالٰی نے فرمایا اگر وہ بچہ تام الخلقت ہو تو کھانا چاہئے۔ (ت)
 (۱؎ الہدایۃ          کتاب الذبائح     مطبع یوسفی لکھنؤ    ۴/ ۴۳۸)
اسی طرح درمختارو غیرہ عائمہ کتب میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۸ تا ۱۳۱: از ریاست کوٹہ راجپوتانہ ملک ہاڑوتی قصبہ سانگور مسئولہ مسلمانان سانگور ۲۱ رمضان ۱۳۳۵ھ

ہادی دین، پناہ شریعت، علمائے عظام ومفتیان کرام سلمکم اللہ تعالٰی، بعد سلام علیک کے گزارش یہ ہے کہ یہاں پرقصبہ سانگور ریاست کوٹہ راجپوتانہ میں کٹھیک لوگ قدیم زمانے سے گوشت کی دکان کرتے چلے آرہے ہیں، اور مسلمان بھی انھیں کے یہاں سے خریدتے ہیں، ان کھٹکوں کا دو ایک مرتبہ کچہری میں مردار گوشت کا مقدمہ جاچکاہے۔ اس لئے بوجہ شکوک اب ان کے یہاں سے مسلمانوں نے گوشت لینا قطعا بن دکردیا اور مسلمان قصائی آباد کرکے اس کے یہاں سے خریدنا شروع کردیا ہے، مگر دو ایک مسلمان جن کا تجارتی تعلق چمڑے وغیرہ کا کھٹکوں کے ساتھ ہے، وہ ایسا کہتے ہیں کہ یہ ضداور نیا مسئلہ ہے، جب ایک مدت سے مسلمان کھٹکوں کے یہاں کا گوشت لیتے چلے آرہے ہیں اور تمام جگہ کھٹک ہی لوگ فروخت کرتے ہیںِ تو یہ ایک نئی بات پیدا کرکے کھٹکوں کو ناحق نقصان دیا جارہاہے، کیا پہلے زمانے میں کوئی عالم نہ تھے، وہ کیوں کھا گئے، ان کے ایسا کہنے پر بہت سے مسلمان برگشتہ ہورہے ہیں لیکن ساتھ ہی اس کے دنیا کی بدنامی کا خوف ہے اور اصلی جواب کے منتظر ہیں، مسلمانوں کی طرف سے کھٹکوں کے ساتھیوں کو سمجھایا گیا کہ تم ان سے بموجب شرع اس طرح پر انتظام کرادو:

(۱) نگراں مسلمان رہیں۔

(۲) گوشت مختلف مکانوں پر نہ ہو، جہاں مسلمان تجویز کریں۔

(۳) دبانے والا (۴) ذبح کرنے والا مسلمان ہو۔

ان چاروں شرطوں میں سے وہ شرط اول دوم وچہارم پر رضامند ہوتے ہیں، لیکن یہ رضامندی بھی اُن کی قیاسا نئے انتظام کو قطع کرنے کے لئے معلوم ہوتی ہے، دائمی نہیں معلوم ہوتی، اس لئے حسب ذیل امور دریافت طلب ہیں:

(۱) کیا دو شخص کے ورغلانے سے مسلمانوں کو پرانی بات پر جمارہنا چاہئے، اور جو شخص اس پر صاد کرے اورحکم شرع ایک فضول اور بناوٹی بات بتائے اور آج تک تائب نہ ہو، مسلمان اس کے ساتھ کیا سلوک کریں؟

(۲) کیا مسلمانوں کو ہندو کھٹکوں کے یہاں پر گوشت خریدنے کی ممانعت کا حکم سنایا جاتاہے، یہ نیا مسئلہ اور بناوٹی بات ہے؟

(۳) جو شخص مسلمان باوجود سمجھانے کے مسلمان قصائی کو چھوڑ کر پرانی روش، پرضداً ہندو کھٹکوں کے یہاں پر گوشت لینے پرآمادہ ہو ، اس پر کیاحکم ہے؟

(۴) کیا کسی شخص کی خاطر سے ہمارے مذہب کے ایسے حکم کو جس سے ہمارے ایمان میں خلل آنے کا ڈرہو چھوڑ دینا رواہے؟ بینوا توجروا
الجواب

(۱) حکم شرعی یہ ہے کہ مشرک یعنی کافر غیر کتابی سے گوشت خریدنا جائز نہیں، اور اس کا کھانا حرام ہے، اگر چہ وہ زبان سے سو بار کہے کہ یہ مسلما ن کاذبح کیا ہوا ہے، اس لئے کہ امرونہی میں کافر کا قول اصلا مقبول نہیں، 

درمختارمیں ہے:
خبر الکافر مقبول بالاجماع فی المعاملات لا فی الدیانات ۱؎۔
معاملات میں کافر کی خبر بالاجماع مقبول ہے دینی معاملہ میں مقبول نہیں ۔ (ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الحظروالاباحۃ         مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۳۷)
نہایہ وغیرہا میں ہے :
من الدیانات الحل والحرمۃ ۲؎۔
  دیانات میں سے حلال وحرام ہے۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار بحوالہ النہایۃ  کتاب الحظروالاباحۃ         داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۱۹)
ردالمحتارمیں ہے:
فی التاترخانیۃ قبیل الاضحیۃ عن جامع الجوامع لا بی یوسف من اشتری لحما فعلم،انہ مجوسی واراد الرد فقال ذبحہ مسلم یکرہ اکلہ اھ ومفادہ ان مجرد کون البائع مجوسیایثبت الحرمۃ، فانہ بعد اخبارہ بالحل بقولہ ذبحہ مسلم کرہ اکلہ فکیف بدونہ ۱؎۔
تاتارخانیہ میں قربانی کے بیان سے تھوڑا پہلے ابویوسف کی جامع الجوامع سے منقول ہے کسی نےگوشت خریدا تو معلوم ہوا کہ فروخت کرنے والا مجوسی ہے اور اس نے واپس کرنا چاہا تو مجوسی نے کہا اس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے اس کا کھانا مکروہ ہے اھ تو اس کا مفادیہ ہے کہ خالی فروخت کرنے والے کا مجوسی ہونا حرمت کو ثابت کرتاہے کیونکہ مجوسی کے اس بیان کے بعدکہ اس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے جو کہ حلال ہونے کی خبر ہے، کھانا مکروہ ہے، تو اس کے خبر نہ دینے کی صورت میں کیسے مکروہ نہ ہوگا۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار     کتاب الحظروالاباحۃ         داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۱۹)
ہاں اگر وقت ذبح سے وقت خریداری تک وہ گوشت مسلمان کی نگرانی میں رہے، بیچ میں کسی وقت مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہو، اور یوں اطمینان کافی حاصل ہو کہ یہ مسلمان کا ذبیحہ ہے تو اس کا خریدنا جائز اور کھانا حلال ہوگا، جب یہ حکم شرعی معلوم ہوگیا جواب سوالات ظاہر ہوگیا وہ پراناطریقہ شرعاً محض حرام تھا، اس پر جمنا حرام، سخت حرام، اگر چہ دو نہیں، دو لاکھ ورغلائیں، جو حکم شرع کو بناوٹی بتائے اگر جاہل ہے سمجھا یا جائے، ورنہ اس پر لزوم  کفر ہے توبہ کرے، تجدید اسلام کرے، اس کے بعد اپنی عورت سے نکاح جدید،، یہی حکم اس کے ساتھیوں کا ہے، یہ لوگ جب تک تائب نہ ہوں  مسلمان ان سے میل جول نہ کریں،
اللہ تعالٰی فرماتاہے:
واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظلمین ۲؎ o
اور کبھی شیطان تجھ کو بھلادے تویادآنے پر ظالم قوم کے پاس مت بیٹھ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم      ۶/ ۶۸)
 (۲) یہ ممانعت خاص حکم شریعت ہے اور اس کے بناؤٹی کہنے والے کے ایمان پر خطرہ ہے کما تقدم اٰنفا۔

(۳) ایسا شخص حرام ٰخوار، حرام کار، مستحق عذاب پروردگار سزاوار عذاب نارہے، تعزیر شرعی یہاں کون کسے دے سکتا ہے یہی بس ہے کہ مسلمان اس سے یک لخت قطع تعلق کردیں،
قال اﷲ تعالٰی لا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار ۳؎۔
(اللہ تعالٰی نے فرمایا) ظلم کرنے والوں کی طرف میلان نہ کرو کہ تم کو آگ مس کرے۔ (ت)
(۳؎ القرآن الکریم      ۱۱/ ۱۱۳)
 (۴) ہر گز روانہیں، اور ایسی خاطر ملعون، وہ شرطیں جو ان سے کی جارہی ہیں ان میں مسلمانوں کی نگرانی اس طرح کی ہو جیسی ہم نے بیان کی کہ وقت ذبح سے وقت خریداری تک کسی آن مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہوورنہ کافی نہیں، اور دبانے والے کا مسلمان ہونا کچھ ضرور نہیں، ذبح کرنے والا مسلمان چاہئے۔
Flag Counter