فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
45 - 126
دوسری حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیںـــ:
من ذبح لضیف، ذبیحۃ کانت فداء ہ من النار ۳؎۔ رواہ الحاکم فی تاریخہ عن جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
جو اپنے مہمان کے لئے جانور ذبح کرے وہ ذبیحہ اس کا فدیہ ہوجائے آتش دوزخ سے (اس کو امام حاکم نے اپنی تاریخ میں حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
تو معلوم ہوا کہ ذبیحہ میں غیر خدا کی نیت اور اس کی طرف نسبت مطلقا کفر کیا حرام بھی نہیں، بلکہ موجب ثواب ہے تو ایک حکم عام کفر وحرام کیوں کر صحیح ہوسکتاہے۔
ولہذا علماء فرماتے ہیں، مطلقا نیت غیر کو موجب حرمت جاننے والا سخت جاہل اور قرآن و حدیث وعقل کا مخالف ہے، آخر قصاب کی نیت تحصیل نفع دنیا اور ذبائح شادی کا مقصود برات کو کھانا دینا ہے، نیت غیر تویہ بھی ہوئی، کیا یہ سب ذبیحے حرام ہوجائیں گے، یونہی مہمان کے واسطے ذبح کرنا درست وبجا ہے کہ مہمان کا اکرام عین اکرام خدا ہے،
درمختارمیں ہے:
لو ذبح للضیف لایحرم لانہ سنۃ الخلیل و اکرام الضیف اکرام اﷲ تعالٰی ۱؎۔
جس نے مہمان کی نیت سے ذبح کیا توحرام نہیں کیونکہ یہ خلیل علیہ السلام کی سنت اور مہمان کا اکرام ہے، اور مہمان کا اکرام اللہ تعالٰی کا اکرام ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الذبائح مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۰)
ردالمحتارمیں ہے:
قال البزدوی ومن ظن انہ لایحل لانہ ذبح لاکرام ابن اٰدم فیکون اہل بہ لغیر اﷲ تعالٰی فقد خالف القراٰن والحدیث و العقل فانہ لاریب ان القصاب یذبح للربح ولو علم انہ نجس لایذبح فیلزم ہذا الجاہل ان لایاکل ماذبح القصاب وما ذبح للولائم والاعراس والعقیقۃ ۲؎۔
بزازی نے کہا اور جس نے گمان کیا کہ وہ اس لئے حلا ل نہیں کہ اس میں بنی آدم کا اکرام ہے تو یہ غیر اللہ کے نام سے ذبح ہوا تو اس نے قرآن وحدیث اور عقل کے خلاف بات کی ، کیونکہ بلا شبہ قصاب اپنے نفع کے لئے ذبح کرتاہے اگر اسے معلوم ہو کہ یہ نجس ہے تو وہ ذبح نہ کرے، تو ایسے جاہل کو چاہئے کہ وہ قصاب ذبح کردہ کونہ کھائے اور ولیمہ اور شادی اور عقیقہ کے لئے ذبح کردہ بھی نہ کھائے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۹۶)
دیکھو علمائے کرام صراحۃً ارشاد فرماتے ہیں کہ مطلقا نیت ونسبت غیر کو موجب حرمت جاننا اور مااُہل بہ لغیر اﷲ میں داخل ماننا نہ صرف جہالت بلکہ جنون ودیوانگی اور شرع وعقل دونوں سے بیگانگی ہے، جب نفع دنیا کی نیت مخل نہ ہوئی تو فاتحہ اور ایصال ثواب میں کیا زہر مل گیا، اور اکرام مہمان عین اکرام خدا ٹھہرا تو اکرام اولیاء بدرجہ اولٰی۔
ہاں اگر کوئی جاہل اجہل یہ نسبت واضافت بقصد عبادت غیر ہی کرتاہے تو اس کے کفر میں شک نہیں۔ پھر اگر ذابح اس نیت سے بَری ہے تو جانور حلال ہوجائے گا کہ نیت غیر اس پر اثر نہیں ڈالتی کما حققناہ اٰنفا (جیسا کہ ابھی ہم نے بیان کیا ہے۔ ت)
مگر جب کہ حدیثا وفقہاً دلائل قاہرہ سے ثابت کرچکے ہیں کہ اضافت معنی عبادت ہی میں منحصر نہیں، تو صرف اس بناء پرحکم کفر محض جہالت وجرأت وحرام قطعی اور مسلمانوں پر ناحق بدگمانی ہے، تم سے کس نے کہہ دیا کہ وہ آدمیوں کا جانور کہنے سے عبادت آدمیان کا ارادہ کرتے ہیں، اور انھیں اپنا معبودوخدا بنانا چاہتے ہیں۔
اللہ عزوجل فرماتاہے:
یا یھاالذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ۱؎۔
اے ایمان والو! بہت سے گمان سے بچو بے شک کچھ گمان گناہ ہیں۔
(۱؎ القرآن الکریم ۴۹/ ۱۲)
اور فرماتا ہے:
ولا تقف مالیس لک بہ علم ط ان السمع والبصر والفؤاد کل اولئک کان عنہ مسئولا ۲؎۔
بے یقین بات کے پیچھے نہ پڑ، بیشک کان، آنکھ اور دل سب سے سوال ہوناہے۔
(۲؎القرآن الکریم ۱۷/ ۳۶)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم والظن فان الطن اکذب الحدیث ۳؎ رواہ الائمۃ مالک والشیخان وابوداؤد و الترمذی عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
گمان سے بچو کہ گمان سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے( اس کو امام مالک ، شیخین، ابوداؤد اور رترمذی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
(۳؎ صحیح البخاری کتاب الوصایا باب قول عزوجل من بعد وصیۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۸۴)
(صحیح مسلم کتاب البر باب تحریم الظن الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۶)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:
افلا شققت عن قلبہ حتی تعلم اقالہا ام لا، ۴؎ رواہ مسلم، عن اسامۃ بن زید رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھا کہ دل کے عقیدے پر ا طلاع پاتا۔ (اس کو امام مسلم نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
(۴؎صحیح مسلم کتاب الایمان باب تحریم الظن الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۶۷)
امام عارف باللہ سید احمد زروق رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
انما ینشأ الظن الخبیث عن القلب الخبیث ۵؎، نقلہ سیدی عبدالغنی النابلسی فی شرح الطریقۃ المحمدیۃ۔
بدگمانی خبیث دل سے ہی پیدا ہوتی ہے، (اس کو سیدی عبدالغنی نابلسی نے شرح طریقہ محمدیہ میں نقل کیا ہے۔ ت)
(۵؎ الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ الخلق الرابع والعشرون مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۸)
والہذا منیہ وذخیرۃ وہبانیۃ ودرمختار وغیرہا میں ارشاد فرمایا:
ہم مسلمان پر بدگمانی نہیں کرتے کہ وہ اس ذبح سے آدمی کی طرف تقرب چاہتاہو۔
(۱؎ درمختار کتاب الذبائح مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۰)
ردالمحتار میں ہے:
ای علی وجہ العبادۃ لانہ المکفر وہذا بعید من حال المسلم ۲؎۔
یعنی اس تقرب سے تقر ب بروجہ عبادات مراد ہے کہ اس میں کفر ہے اوراس کا خیال مسلمان کے حال سے دور ہے۔
(۲؎ ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۹۷)
بلکہ علماء تو یہاں تک تصریح فرماتے ہیں کہ اگر خود ذابح خاص وقت تکبیر میں یوں کہے ''بسم اللہ بنام خدائے بنام محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم'' تویہ کہنا کہ مکروہ تو بیشک ہے مگر کفر کیسا! جانور حرام بھی نہ ہوگا، جبکہ اس لفظ سے اس کی نیت حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم محض ہو،نہ معاذاللہ حضور کو رب عزوجل کے ساتھ شریک ٹھہرانا،