فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
44 - 126
سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء (۱۳۱۲ھ)
(اولیاء اللہ کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۱۲۵:در رد فتوٰی بعض معاصرین ۲۵ ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ
ا ز لشکر گوالیار ڈاک دربار بجواب سوال مولوی نور الدین صاحب اوائل ذیقعدہ ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صور ت میں کہ زید نے ایک بکرامیاں کا اور عمرو نے ایک گائے چہل تن کی اور مرغ مدار کا پالا، اور پال کران کو باتکبیر ذبح کیا یا کرالیا اس کا کھانا مسلمانوں کو عندالشرع جائزہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
حامدا لک ومصلیا ومسلما علی حبیبک والہ یاوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب۔
یا اللہ ! تیرے لئے حمد کرنے والا اور تیرے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر صلوٰۃ وسلام پڑھنے والا ان کی آل پر، حق وصواب کی رہنمائی فرما اے میرے رب ! (ت)
اقول وباللہ التوفیق (میں کہتاہوں اور توفیق اللہ تعالی سے ہے۔ت) حق اس مسئلہ میں ہے کہ حلت وحرمت ذبیحہ میں حال وقول ونیت ذابح کا اعتبار نہ کہ مالک کا، مثلا مسلمان کاجانور کوئی مجوسی ذبح کرے تو حرام ہوگیا اگر چہ مالک مسلم تھا، اور مجوسی کا جانور مسلمان ذبح کرے تو حلال اگر چہ مالک مشرک تھا، یا زید کا جانور عمرو ذبح کرے اور قصدا تکبیر نہ کہے حرام ہوگیا، اگرچہ مالک برابر کھڑا سو بار بسم اللہ اللہ اکبر کہتا رہے اور ذابح تکبیر سے ذبح کرے تو حلال ، اگر چہ مالک ایک بار بھی نہ کہے، ذابح کلمہ گو نے غیر خدا کی عبادت وتعظیم مخصوص کی نیت سے ذبح کیا توحرام ہوگیا اگر چہ مالک کی نیت خاص اللہ عزوجل کے لئے ذبح کی تھی۔
یونہی ذابح نے خاص اللہ عزوجل کے لئے ذبح کیا تو حلال اگر چہ مالک کی نیت کسی کے واسطے تھی تمام صورتوں میں حال ذابح کا اعتبار ماننا اور اس شکل خاص میں انکار کرجانا محض تحکم باطل ہے جس پر شرع مطہر سے اصلا دلیل نہیں، ولہذا فقہائے کرام خاص اس جزئیہ کی تصریح فرماتے ہیں کہ مثلا مجوسی نے اپنے آتشکدہ یا مشرک نے اپنے بتوں کے لئے مسلمان سے بکری ذبح کرائی اور اس نے تکبیر کہہ کر ذبح کی حلال ہے، کھائی ہے، اگر چہ یہ بات مسلم کے حق میں مکروہ ،
فتاوٰی عالمگیری وفتاوٰی تاتارخانیہ و جامع الفتاوٰی میں ہے:
مسلم ذبح شاۃ المجوسی لبیت نارہم او الکافر لالھتہم توکل لانہ سمی اﷲ تعالٰی ویکرہ للمسلم ۱؎۔
مسلمان نے مجوسی کی بکری اس کے آتشکدہ کے لئے یا کسی اور کافر کی اس کے معبودوں کے لئے ذبح کی تو بکری کھائی جائے کیونکہ اس نے اللہ تعالٰی کے نام سے ذبح کی ہے اور یہ عمل مسلمان کو مکروہ ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الذبائح الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۸۶)
پھر مسلمان ذابح کی نیت بھی وقت ذبح کی معتبر ہے اس سے قبل وبعد کا اعتبار نہیں ذبح سے ایک آن پہلے تک خاص اللہ عزوجل کے لئے نیت تھی، ذبح کرتے وقت غیرخدا کے لئے اس کی جان دی، ذبیحہ حرام ہوگیا، وہ پہلی نیت کچھ نفع نہ دے گی، یونہی اگر ذبح سے پہلے غیر خداکے لئے ارادہ تھا ذبح کے وقت اس سے تائب ہو کر مولٰی تبارک وتعالٰی کے لئے اراقت دم کی تو حلال ہوگیا یہاں وہ پہلی نیت کچھ نقصان نہ دے گی،
ردالمحتارمیں ہے:
اعلم ان المدار علی القصد عند ابتداء الذبح ۲؎۔
معلوم ہونا چاہئے کہ ذبح کی ابتداء میں قصد کا اعتبار ہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۹۶)
غرض ہر عاقل جانتاہے کہ تمام افعال میں اصل نیت مقارنہ ہے، نماز سے پہلے خدا کے لئے نیت تھی تکبیر کہتے وقت دکھاوے کے لئے پڑھی، قطعا مرتکب کبیرہ ہوا، اور نماز ناقابل قبول اور اگر دکھاوے کے لئے اٹھا تھا نیت باندھتے وقت تک یہی قصد تھا، جب نیت باندھی قصد خالص رب جل وعلا کے لئے کرلیا تو بلا شبہ وہ نماز پاک وصاف وصالح ہوگئی، تو ذبح سے پہلے کی شہرت پکار کاکچھ اعتبار نہیں، نہ نافع نفع دے نہ مضر ضرر، خصوصا جبکہ پکارنے والا غیر ذابح ہو کہ اسے تو اس باب میں کچھ دخل ہی نہیں
کما قدعلمت وہذاکلہ ظاہر جدا لا یصلح ان یتناطح فیہ قرناء وجماء۔
جیسا کہ معلوم ہے اور یہ تمام ظاہرہے اس میں بالکل گنجائش نہیں کہ اس میں بحث کی جائے۔ (ت)
پھر اضافت معنی عبادت میں منحصر نہیں کہ خواہی نخواہی مدار کے مرغ یا چہل تن کی گائے کے معنی ٹھہرالئے جائیں کہ وہ مرغ وگاؤ جس سے ان حضرات کی عبادت کی جائے گی، جس کی جان ان کے لئے دی جائے گی، اضافت کو ادنٰی علاقہ کافی ہوتاہے، ظہر کی نماز، جنازہ کی نماز، مسافر کی نماز، امام کی نماز، مقتدی کی نماز، بیمار کی نماز، پیرکار وزہ۔ اونٹوں کی زکوٰۃ، کعبہ کا حج، جب ان اضافتوں سے نما زوغیرہ میں کفر وحرمت درکنار نام کو بھی کراہت نہیں آتی، تو حضرت مدار کے مرغ، حضرت احمد کبیر کی گائے، فلاں کی بکری کہنے سے یہ خدا کے حلال کئے ہوئے جانور کیوں جیتے جی مرداراور سور ہوگئے کہ اب کسی صورت حلال نہیں ہوسکتے، یہ شرع مطہر پر سخت جرأت ہے، خودحضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیںـ:
ان احب الصیام الی اﷲ تعالٰی صیام داؤد واحب الصلوٰۃ الی اﷲ عزوجل صلوٰۃ داؤد،۱؎ رواہ الائمۃ احمد والستۃ عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما الا الترمذی فعندہ فضل الصیام وحدہ۔
بیشک سب روزوں میں پیارے اللہ تعالٰی کو داؤد کے روزے ہیں اور سب نمازوں میں پیاری داؤد کی نماز ہے علیہ الصلوٰۃ والسلام (اس کو ائمہ صحاح ستہ اور امام محمد نے عبداللہ بن عمرر ضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیاہے لیکن امام ترمذی کی روایت میں صرف روزوں کی فضیلت کا ذکر ہے۔ ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب التہجد باب من نام عندالسحر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۵۲ و ۴۸۶)
(۲؎ صحیح مسلم کتا ب الصیام با ب النہی عن صوم الدہر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۶۷)
علماء فرماتے ہیں مستحب نمازوں میں صلوٰۃ الولدین یعنی ماں باپ کی نماز ہے۔
فی ردالمحتار عن الشیخ اسمٰعیل عن شرح شرعۃ الاسلام من المندوبات صلوٰۃ التوبۃ وصلوٰۃ الوالدین ۱؎۔
ردالمحتارمیں شیخ اسمعیل سے بحوالہ شرح شرعۃ الاسلام منقول ہے کہ مستحب نمازوں میں صلوٰۃ التوبہ اور صلوٰۃ والدین ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتا ب الصلوٰۃ باب الوتر والنوافل داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۶۲)
سبحان اللہ! داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نماز ، داؤد علیہ السلام کے روزے، ماں باپ کی نماز کہنا صواب، پڑھنا ثواب، اور جانور کی اضافت وہ سخت آفت کہ قائلین کفار ، جانور مردار، کیا ذبح نماز روزے سے بڑھ کر عبادت خدا ہے یا اس میں شرکت حرام ان میں روا ہے۔
خود اضافت ذبح کا فرق سنئے، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ من ذبح لغیر اﷲ ۲؎ رواہ مسلم والنسائی عن امیر المومنین علی ونحوہ احمد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
خدا کی لعنت ہے اس پر جو غیر خدا کے لئے ذبح کرے (اس کو مسلم اور نسائی نے امیرالمومنین علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور اس کی مثل امام احمد نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے۔ ت)
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الاضاحی باب تحریم الذبح لغیر اللہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۶۰)