فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
43 - 126
مسئلہ ۱۲۲: از اودے پور میواڑ مہارانا ہائی اسکول مرسلہ مولوی وزیر احمد صاحب ۱۸ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ اس زمانہ میں بکرا جو شیخ سدو کے نام سے یا دوسرے کسی بزرگ کے نام سے موسوم کیا جائے، اور وہ بکرا اللہ کے نام کے ساتھ ذبح کیا جائے اس کا کھانا مسلمان کو جائز ہے یانہیں؟ اور
وما اہل لغیر اﷲ بہ ۱؎
سے مراد قبل ذبح کے پکارا جاناہے یا وقت ذبح کے؟
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۱۷۳)
الجواب الملفوظ
اصل کلی اس میں یہ ہے کہ ذابح کی نیت اور وقت ذبح اس کے تسمیہ کا اعتبار ہے اس کے سوا کسی بات کا لحاظ نہیں، اگر مالک نے خاص اللہ عزوجل کے لئے نیت کی ہے اورذابح نے بسم اللہ کی جگہ بسم فلاں کہا، یا بسم اللہ ہی کہا اور اراقت دم سے عبادت غیر خدا مقصود رکھی ذبیحہ مردار ہوگیا، اور اگر مالک نے کسی غیر خدا اگر چہ بت یا شیطان کےلئے نیت کی اور اسی کے نام کی شہرت دی اور اسی کے ذبح کرنے کے واسطے ذابح کودیا، اور ذابح نے خاص اللہ عزوجل کے لئے اس کانام پاک لے کر ذبح کیابنص قطعی قرآن حلال ہوگیا۔
قال اﷲ تعالٰی ومالکم ان لاتاکلوا مما ذکر اسم اﷲ علیہ ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: تمھیں کیا ہوا کہ اس چیزمیں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کانام ذکر کیا گیا ۔ (ت)
(۲؎القرآن الکریم ۶/ ۱۲۱)
عالمگیری میں ہے:
مسلم ذبح شاہ المجوسی لبیت نارہم او الکافر لالہتہم توکل لانہ سمی اﷲ تعالٰی ویکرہ للمسلم، کذا فی التاتارخانیۃ ۳؎۔
مسلمان نے مجوسی کی بکری ذبح کی ان کے آتشکدہ کے لئے، یا کسی کافر کی بکری ان کے معبودوں کے لئے ذبح کی تو کھائی جائے کیونکہ مسلمان نے اللہ تعالٰی کا نام لے کر ذبح کی ہے اور مسلمان کو یہ عمل مکروہ ہے تاتارخانیہ میں یونہی ہے۔ (ت)
اس مسئلہ کی تحقیق وتفصیل ہمارے رسالے سبل الاصفیاء فی حکم الذبح للاولیاء میں ہے اور شیخ سدو کوئی بزرگ نہیں بلکہ ایک خبیث روح ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۳: از قصبہ کلی ناگر تھانہ مادھوٹانڈہ پرگنہ پورنپور، ضلع پیلی بھیت مرسلہ محمد اکبر علی صاحب ۱۹ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے شیخ سدو کے نام سے مرغ وغیرہ ذبح کرایا ،ا ورمیلاد بھی زید نے پڑاھوایا، تو زید کے مکان پر میلاد پڑھنا جائز ہے یانہیں، اور کھانا زید کا میلاد خواں نے کھایا تو وہ اس کے حق میں کیسا ہے؟ بینوا توجروا
الجواب
ذکر میلاد شریف بہ نیت ہدایت پڑھے،ا ور اس میں ایسی ارواح کی تکریم سے ممانعت کرے جن کا اسلام تک معلوم نہیں، بلکہ بعض علماء نے انھیں ارواح خبیثہ لکھا، اور وہ مرغ وغیرہ ذبیحہ نہ کھائے جو ایسوں کےلئے ذبح ہوا، اور بہتریہ ہے کہ اس کے یہاں کا اور کھانا بھی نہ کھائے، جب تک وہ توبہ نہ کرے زجرالہ و توبیخا اور اگر یہ عالم مقتدٰی ہے تو ایسوں کے ساتھ اور انکے یہاں کھانا کھانے سے احترازاور اہم ہے۔
کما نص علیہ فی الہندیۃ وغیرہا
(جس طرح کہ ہندیہ وغیرہ میں اس پر نص کی گئی ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۴: از کلی ناگر ضلع پیلی بھیت مرسلہ اکبر علی صاحب ۶ جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک مکان میں چچا اور بھائی اور بھتیجا رہتے ہیں، اور حقہ پانی ان سب کاایک ہے، اور بھتیجے نے شیخ سدو کے نام سے جانور ذبحہ کیا اور کوئی مولوی صاحب اس کے چچا یا بھائی کے یہاں آکر ٹھہرے، او رمولوی صاحب کو معلوم ہوگیا کہ ان کا بھتیجا غیر اللہ کے نام کا جانور ذبح کرواتاہے اور چچا اور بھائی کوکھلاتاہے، تو جو مولوی صاحب اس کے چچا کے یہاں مقیم ہیں ان مولوی صاحب کو ان کے گھر کا کھانا درست ہے یا نہیں اور مولوی صاحب سے کہا گیا کہ اس کے گھر کا کھانا نہ کھاؤ، تو درجواب مولوی صاحب نے کہا کہ تم کون ہو ہم کسی کا کہنے کو نہیں مان سکتے ہیں مولوی صاحب کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
جانور جو اللہ عزوجل کے نام پر ذبح کیا جائے اور اس سے اللہ عزوجل ہی کی طرف تقرب مقصود ہو اگر چہ اس پر باعث مسلمان کا اکرام، یا اولیاء کرام کا، خواہ اموات مسلمین کو ایصال ثواب یا اپنے کوئی جائز مثل تقریب شادی ونکاح وغیرہ یا جائز انتفاع مثل گوشت فروشی قصاباں ہو تو اس کے جائز وحلال ہونے میں شک نہیں،
اللہ تعالٰی فرماتاہے:
ومالکم ان لاتاکلوا مماذکر اسم اﷲ علیہ ۱؎۔
تمھیں کیا ہوا کہ اس چیز سے نہ کھاؤ جس پر اللہ سبحانہ کانام پاک لیا گیا۔
(۱؎ القرآن الکریم ۶/ ۱۲۱)
مگر خبیث روحوں کو منانا تقرب الی اللہ نہیں ہوسکتا، شیخ سدو بھی ارواح خبیثہ سے شمار کیا گیا ہے، تو ذبح کرنے والے کی نیت اگر شیخ سدو کی طرف تقرب کی ہو جانور بلا شبہ مردار ہوجائے گا، اگر چہ بظاہر تکبیر ہی کہہ کر ذبح کیا گیا ہو، یہاں ذابح کی ہی نیت کا اعتبار ہے اگر چہ مالک کی نیت کچھ ہو، مثلامالک نے خالص اللہ عزوجل کے لئے ذبح کرنے کو جانوردیا ہے، ذابح نے اسے کسی بت کی بھینٹ چڑھادیا جانور بیشک حرام ہوگیا مالک کی نیت کچھ نفع نہ دے گی، یوہیں مالک نے اگر کسی بت یا شیطان ہی کے لئے ذبح کرنے کو کہا اور ذابح نے معبود برحق جل جلالہ کے لئے ذبح کیا جانور بیشک حلال ہے، مالک کی نیت کچھ نقصان نہ دے گی، پس صورت مذکورہ میں اگر ذابح نے سدو کی طرف تقرب کی نیت سے ذبح کیا اور ان مولوی کو اس کا یہ حال معلوم تھا، پھر اس سے گوشت کھایا، تویہ شخص مردار خور ہوا، اور اس کے پیچھے نماز منع ہے، اور اگراسے ذابح کی نیت معلوم ہوگئی تھی کہ اس نے وہ نیت فاسدہ نہ کی بلکہ خالص اللہ عزوجل کے لئے ذبح کیا ، تو اگر چہ جانور حلال ہوگیا مگر بہتر اس سے بچنا تھا جبکہ مالک نے غیر خدا کے تقرب کے لئے دیا تھا، خصوصا اس شخص کو جو مولوی کہلاتاہو اور لوگ اس کے فعل کو حُجت جانتے ہوں ،
عالمگیری میں ہے:
مسلم ذبح شاۃ المجوسی لبیت نارہم او الکافر لالہتہم توکل لانہ سمی اﷲ تعالٰی ویکرہ للمسلم ۱؎۔
مسلمان نے مجوسی کی بکری اس کے معبود کے آتشکدہ کے لئے یا کسی کافر کی بکری اس کے معبود کے لئے ذبح کی تو کھائی جائے کیونکہ مسلمان نے اللہ تعالٰی کے نام سے ذبح کی ہے اور مسلمان کو یہ عمل مکروہ ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الذبائح الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاوار ۵/ ۲۸۶)
اور اگرنیت معلوم نہ تھی اور یہ جان چکا تھا کہ یہ لوگ شیخ سدو کے منانے والے ہیں، اور بچنا اور اہم تھا کہ ارواح خبیثہ کے منانے والوں اور اس سے استعانت کرنے والوں کا ظاہر حال سخت مخدوش ہے، اور ایسی جگہ شہادت سے احتراز لازم اور اگر گوشت نہ کھایا بلکہ اور کھانا کھایا تو جب مولوی کہلاکر ایسے لوگوں کے یہاں اکل طعام کہ قلوب المسلمین میں شبہہ ڈالے ہر گز مناسب نہ تھا، واللہ تعالٰی اعلم۔