فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
42 - 126
مسئلہ ۱۱۷: مسئولہ مسلماناں کاٹھیاواڑ جام جودھپور معرفت شیخ عبدالستار پوربند کاٹھیاواڑ ۱۵ جمادی الاولٰی ۱۳۳۳ھ
اس ملک میں رواج ہے کہ اہل ہنود بکریوں کے چرواہے مندروں پر بکرا چڑھانے کے واسطے لے جاتے ہیں اور اس کے ذبح کرنے کے واسطے مسلمان قصاب کو بلاتے ہیں اور اکثر قصاب نہیں ہوتے تو پیش امام کو لے جاتے ہیں اور بعدذبح کے وہ گوشت انھیں لوگوں پر تقسیم کیا جاتاہے اس گوشت کالینا جائز ہے یانہیں؟ اور ذبح کرنے کے واسطے جانا چاہئے یانہیں؟ اور قصاب وہاں سے گوشت لے کر فروخت کرتے ہیں ان سے خرید کر کھانا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب :ذبح میں ذابح کی نیت شرط معتبر ہے، اگر کافر اپنے معبودوں کے لئے ذبح کرائے اور مسلمان اللہ عزوجل کے لئے اس کانام لے کر ذبح کرے جانور حلال ہوجائے گا مگریہ فعل مسلمان کے لئے مکروہ ہے، اور اس گوشت کا اس سے لینا بھی نہ چاہئے کہ اس میں کافر کے زعم میں اس کے مقصد باطل کو پورا کرنا ہے اور یہ گوشت گویا اس کی طرف سے تصدق لینا ہے۔
والید العلیا خیر من الید السفلٰی ولا ینبغی لید کافر ان تکون اعلٰی من ید مسلم والمسئلۃ منصوص علیہا فی العالمگیریۃ والتتارخانیۃ انہ یحل ویکرہ للمسلم ۱؎۔
اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ تویہ مناسب نہیں کہ کافر کا ہاتھ مسلمان کے ہاتھ سے افضل ہو، اس مسئلہ پر عالمگیری میں نص ہے تاتارخانیہ میں ہے حلال ہے اور مکروہ ہوگا مسلم کے لئے (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتا ب الذبائح البا ب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۸۶)
ہاں قصاب وغیرہ جس مسلمان نے اس سے گوشت لیا اور بعد ذبح مسلم نظر مسلم سے غائب نہ ہوا تھا اسکے خریدنے میں حرج نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۸: مرسلہ شیخ گھورا موضع یکسٹرا ڈاکخانہ ایٹاری ضلع شاہ آباد آرہ ۱۷ صفر ۱۳۳۵ھ
اگر ہندو کسی جانور یعنی بکرا بکری، بھیڑا بھیڑی وغیر ہ کو کسی اپنے دیوتا کے نام پر یا دیوتا کی جگہ پر لے جاکر اس کا کان کاٹ ڈالے اور بعدمیں اس جانور کو کسی مسلمان کے ہاتھ بیچ ڈالے اور وہ مسلمان اس جانور کو شرعی طریقہ پر ذبح کرکے کھائے تو وہ جانور یا اس کا کھانا حلال ہے یاحرام؟ بینوا توجروا
الجواب حلال ہے
قال اﷲ تعالٰی
ومالکم الا تاکلوا مماذکر اسم اﷲ علیہ ۲؎۔
واﷲتعالٰی اعلم۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: تمھیں کیا ہوا کہ نہیں کھاتے جس پر اللہ تعالٰی کانام پکا راگیا، واللہ تعالٰی اعلم (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۶/ ۱۲۱)
مسئلہ ۱۱۹ و ۱۲۰: ازچتوڑ گڑھ علاقہ اودیہ پور راجپوتانہ مسئولہ مولوی عبدالکریم صاحب ۶ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ بروز شنبہ
(۱) سانڈ حرام ہے یا حلال ، فتاوٰی عبدالحی صاحب لکھنؤ جلد سوم میں حرام لکھا ہے اس بناء پر کہ وہ سانڈ مالک کی ملک سے خارج نہیں۔
(۲) خراطین یا کسی مکروہ تحریمی یا حرام شے کا جلاکرکھانا یا جس شیئ میں جلائی ہے مثلا گھی وغیرہ اس کا کھانا کیسا ہے؟
الجواب:
(۱) سانڈ اگر اللہ کے لئے ذبح کرلیا جائے گا تو اس کے گوشت کی حلت میں تو کوئی کلام ہی نہیں
قال اﷲ تعالٰی
ما جعل اﷲ من بحیرۃ و لاسائبۃ ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اللہ تعالٰی نے بحیرہ اور سائبہ نہیں بنائے۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۵/ ۱۰۳)
کافروں کا یہ اعتقاد تھا کہ کان چیر کر چھوڑ دیا یا بحار کردیا تو اس کا کھانا حرام ہے، قرآن عظیم نے اس کا رد فرمادیا، رہا ملک غیر کی وجہ سے حرام ہونا یہ معصوم وغیر معصوم میں عدم تفرقہ سے ناشی ہے۔ کافرکہ نہ ذمی ہو نہ مستامن نہ مستامن منہ، یعنی نہ وہ اس کی امان میں ہو نہ یہ اس کی امان میں، اس سے صرف غدر حرام ہے، ہاں ایک اور راہ سے یہاں عدم جواز آسکتاہے، وہ یہ کہ یہ صورت اگر قانونا جرم ہو تو ایسا مباح جومسلمان کو معاذاللہ ذلت پر پیش کرے شرعا ممنوع ہوجاتاہے، واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲) حرام شیئ جلنے کے بعد بھی حرام ہی رہے گی اور دوسری شیئ میں اگر ایسی مخلوط ہوگی کہ تمیز ناممکن ہے، تو اسے بھی حرام کردے گی،
حلال اور حرام مجتمع ہوں تو حرام کو غلبہ ہوتاہے، واللہ تعالٰی اعلم (ت)
(۲؎ الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۴۴)
مسئلہ ۱۲۱: از ملک آسام مقام نوعلی گاؤں ضلع شیپ ساگر مرسلہ پیر ملا مولوی سید عبدالمجید صاحب ۱۶ رمضان ۱۳۱۳ھ
علمائے دین کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ ایک بیل غیر اللہ کے نام پر چھوڑا ہوا ہے آیا اس جانور کو کھانا جائز ہے یانہیں؟ اس مسئلہ میں کہ یہاں پر بہت اختلاف ہے اس کو معہ دلیل تحریر فرمائیں،
الجواب اس چھوڑدینے سے وہ جانور حرام نہیں ہوجاتا۔
قال اﷲ تعالٰی ماجعل اﷲ من بحیرۃ ولاسائبۃ ولاوصیلۃ ولا حام ولکن الذین کفروا یفترون علی اﷲ الکذب واکثرہم لایعقلون ۳؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: بحیرہ ، سائبہ، وصیلہ اور حام اللہ تعالٰی نے نہیں بنائے لیکن کافروں نے اللہ تعالٰی پر جھوٹ افتراء باندھا جبکہ ان کی اکثریت بے عقل ہے۔ (ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۵/ ۱۰۳)
تفسیر مدارک شریف میں ہے:
یفترون علی اﷲ الکذب فی نسبتہم ہذا التحریم الیہ، واکثرہم لایعقلون ان اﷲ تعالٰی لایحرم ذٰلک ۱؎۔
اللہ تعالٰی پر ان کے حرام کرنے کی نسبت میں افتراء باندھتے ہیں جبکہ ان کی اکثریت بے عقل ہے اللہ تعالٰی نے ان کوحرام نہیں کیا، (ت)
(۱؎ مدارک التزیل (تفسیر النسفی) تحت آیۃ یفترون علی اﷲ الکذب الخ دارالکتب العربی بیروت ۱/ ۳۰۵)
مگر اس چھوڑدینے سے وہ ملک مالک سے بھی خارج نہیں ہوتا، اسی کی ملک پر باقی رہتاہے کہ بیل چھوڑنے والے چھوڑتے وقت نہ یہ کہتے کہ جو اسے پکڑلے اس کا مالک ہوجائے، نہ وہ ہر گز اس کا پکڑنا روا رکھتے ہیں، بلکہ ان کی نیت یہی ہوتی ہے کہ یہ یونہی چھوٹا پھرے، تو جانور بدستور انھیں کا مملوک رہتاہے،
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہےـ:
لو سیب دابۃ ، وقال لاحاجۃ لی الیہا، ولم یقل ہی لمن اخذہا فاخذہا الانسان لا تکون لہ ۲؎۔
اگر کوئی جانور آزاد چھوڑ دیا گیا اور یہ نہ کہا جو پکڑے اس کا ہوگا تو کوئی انسان پکڑلے تو وہ اس کا مالک نہ بنے گا۔ (ت)
(۲فتاوی ہندیۃ کتاب الہبۃ الباب الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۸۲)
اس وجہ سے اس کاپکڑنا ،ذبح کرنا، کھانا کچھ جائز نہیں کہ وہ ملک غیر ہے یہاں تک کہ اگر مالک اجازت دے دے بلاشبہ حلال ہوجائے ، یااگر کسی شخص کا اس بیل چھوڑنے والے پر کچھ دین آتاہو مثلا اس نے کچھ مال اس کا چھینا یا چرایا یا سود یا رشوت میں لیا ہو اور اس سے وصول کی امید نہیں تو یہ شخص اپنے آتے میں اس بیل کو لے سکتاہے جبکہ اس کی قیمت اس کے مقدار حق سے زائد نہ ہو
وہی مسئلۃ الظفر بخلاف الجنس الحق المفتی الاٰن بجواز اخذہ کما فی ردالمحتار وغیرہ ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
یہ مسئلہ اپنے حق کے خلاف جنس پر قابو پانے کا ہے جس پر آج کل فتوٰی ہے کہ قابو پاناجائز ہے جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم (ت)
(۳؎ ردالمحتار کتا ب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۹۵)