Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
41 - 126
سیدا بو السعود ازہری فتح اللہ المعین حاشیہ کنزمیں فرماتے ہیں:
الجدی اذا ربی بلبن الا تان، قال ابن المبارک یکرہ اکلہ قال واخبرنی رجل عن الحسن، قال اذا ربی الجدی بلبن الخنزیر لاباس بہ۔ قال معناہ اذا اعتلف ایاما بعد ذٰلک کالجلالۃ کذا بخط شیخنا عن الخانیۃ ۱؎۔
بھیڑ کا بچہ گدھی کے دودھ سے پرورش پائے تو ابن مبارک نے فرمایا اس کا کھانا مکروہ ہے مجھے یک شخص نے حسن سے خبردی انھوں نے کہا بھیڑ کا بچہ اگر خنزیر کے دودھ سے پرورش پائے توحرج نہیں، انھوں نے فرمایا اس کا معنی یہ ہے کہ اس کے بعد وہ چارہ کھاتا رہا تووہ جلالہ یعنی گندگی کھانیوالے جانور کی طرح ہے ہمارے شیخ کے سے یوں خانیہ سے منقول ہے۔
(۱؎ فتح المعین علی الکنز لمنلا مسکین     کتاب الکراہیۃ فصل فی الاکل والشرب     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۳/ ۳۸۶)
ہندیہ کی کتاب الصید والذبائح میں ہے:
الجدی اذا کان یربی بلبن الاتان والخنزیران اعتلف ایاما، فلا باس لانہ بمنزلۃ الجلالۃ والجلالۃ اذا حبست ایاما فعلفت لاباس بہا فکذا ہذا، کذا فی الفتاوٰی الکبری ۲؎۔
بکری کا بچہ گدھی یاخنزیر کے دودھ سے پرورش پائے پھر چند روز چارہ کھالے تو کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ گندگی کھانے والے جانور کی طرح ہے اور یہ گندگی کھانے والا اگرچند روز قیدمیں رکھا جائے اور چارہ کھائے تو کوئی حرج نہیں اسی طرح یہ بھی ہے، فتاوٰی کبرٰی میں ایسے ہی ہے۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ         کتاب الذبائح الباب الثانی     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۲۹۰)
اسی طرح خزانۃالمفتین میں برمز فتاوٰی کبرٰی سے منقول :
فقدعلق نفی الباس علی الاعتلاف فافاد وجودہ عندعدمہ، والباس انما ہو فیما ینہی عنہ۔
انھوں نے حرج کی نفی کو چارہ کھانے سے معلق کیا ہے تو چارہ نہ کھانے کی صورت میں حرج کا وجود ثابت ہوتاہے اور حرج کا تعلق ممنوع چیز ہے (ت)

لہذا اختلاف علماء سے بچنے کے لئے اسلم وہی ہے کہ چند روز کا وقفہ دے کر ذبح کریں، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۴: از شیرپور ضلع پیلی بھیت مرسلہ محمد منگل خانصاحب تعلقدار ۳ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ ایک بچہ ہرنی کا کتی کا دودھ پی کر پرورش ہوا اس کا گوشت کھانا جائزہے یا نہیں؟
الجواب: اگر اب دودھ چھوڑے ہوئے ایک زمانہ گزرا تواس کا گوشت حلال ہے۔ اور اگر اب بھی پیتاہے تو چند روز وہ دودھ چھڑائیں، پاک دودھ پلائیں یا چارہ کھلائیں، یہاں تک کہ پیٹ میں وہ دودھ بالکل نہ رہے۔ اس وقت اسے ذبح کرکے کھاسکتے ہیں
عالمگیریہ میں ہے:
الجدی اذا کان یربی بلبن الاتان والخنزیر ان اعتلف ایاما فلا باس لانہ بمنزلۃ الجلالۃ، والجلالۃ اذا حبست ایاما فعلفت لا باس بہا فکذا ہذا، کذا فی الفتاوٰی الکبری ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
بھیڑ کا بچہ اگر گدھی یا خنزیر کے دودھ سے پرورش پائے اور بعد میں چند روز چارہ کھائے تو حرج نہیں ہے کیونکہ وہ جلالہ (گندگی کھانے والے جانور) کی طرح ہے اور جلالہ کو چند روز قید میں رکھا جائے چارہ کھائے تو اس کے کھانے میں حرج نہیں ہے۔ تویہ بھی ایسا ہے، فتاوٰی کبرٰی میں یونہی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ         کتاب الذبائح الباب الثانی     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۲۹۰)
مسئلہ ۱۱۵: از شہرکہنہ اپربرہما مرسلہ محمد یعقوب صاحب امام مسجد شہر مذکور     ۱۷محرم الحرام ۱۳۲۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی جانور آدمی کا دوددھ پئے گا تو اس کا گوشت کھانا کیساہے ؟ بینوا توجروا
الجواب: جس جانور نے آدمی کا دودھ پیا ہو وہ اس کے باعث حرام نہیں ہوجاتا، اگر چہ پوری پرورش انسان بلکہ خنزیر کے دودھ سے پائی، غایت یہ کہ چند روز بند کرکے چارہ کھلائیں یا حلال جانور کا دودھ پلائیں، اس کے بعد ذبح کریں، خانیہ میں ہے :
لوان جد یاغذی بلبن الخنزیر لاباس باکلہ ۲؎۔
بھیڑ کا بچہ اگر خنزیر کے دودھ سے پرورش پائے تو اس کے کھانے میں ممانعت نہیں۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی قاضی خاں     کتاب الذبائح         مطبع نولکشور لکھنؤ    ۴/ ۷۵۲)
ہندیہ میں ہے:
الجدی یربی بلبن الاتان والخنزیر ان اعتلف ایاما فلا باس ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
بھیڑکا بچہ اگر گدھی یا خنزیر کے دودھ سے پرورش پائے تو اس نے چند روز بعد میں چارہ کھالیا تو کھانے میں حرج نہیں ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الذبائح الباب الثانی     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۲۹۰)
مسئلہ ۱۱۶: مرسلہ مولانابخش ہولاپاڈنگ چاہ بگان ڈاکخانہ لٹاکوباڑی ضلع ڈونگ بتاریخ ۷ شعبان ۱۳۳۳ھ

جناب مولانااحمد رضاخاں صاحب مصدر اشفاق فراواں ومحزن الطاف بیکراں برحال بیکساں، بعد سلام مسنون اسلام مشہور، ضمیر مبین یاد کے عرصہ بعید منقضی ہوتاہے کہ خاکسار نے حضور کے گوش گزار کیا تھا کہ کوئی مشرک یا کافر کسی جانور کو کالی یا بھوانی کے بھوگ چڑھاوے، اور بل دینے کو لے جائے اور بل نہ دے یعنی گردن نہ مارے، صرف کان کاٹ کر چھوڑ دے یہ کہہ کر کے''یابھوانی یا کالی یہ تمھارا بھوگ ہے ''تو اس جانور کو ذبح کرنا اور کھانا مسلمانوں کو جائزا ور درست ہے یانہیں؟ ہم نے ان کو بموجب آیہ شریف
وما اہل بہ لغیر اﷲ ۱؎
 (ذبح کے وقت غیراللہ کا نام پکارا گیا۔ ت)منع کیا کہ جس جانور یا مٹھائی وغیرہ کو مشرک یا کافر اپنے بتوں کو چڑھائیں وہ نہ کھانا چاہئے، تو وہ لوگ کہتے ہیں کہ عالموں نے فتوٰی دیاہے کھانے کے لئے، اس وجہ سے ہم لوگ چڑھائے ہوئے جانور کو کھاتے ہیں، چونکہ اس زمانہ میں بہت سا اختلاف ہورہاہے اور لوگوں نے کئی ایک طریقہ اختیار کیاہے اس لئے آپ سے التجا ہے کہ آپ گویا اس وقت کے امام ہیں ہادی گمراہاں سمجھ کردرخواست کرتے ہیں شاید ہم غلطی پر ہوں اور آپ کے باعث ہم کو راہ راست نصیب ہو للہ جواب خط سے ضرور سرفراز فرمائیں، اس کا اجر آپ کو اللہ تعالٰی عطا فرمائے گا، جواب کے لئے لفافہ خط کے ساتھ شامل خدمت والا میں ارسال کرتاہوں،
 (۱؎ القرآن الکریم            ۲/ ۱۷۳)
الجواب: مشرکین اپنے بتوں کے لئے سانڈ چھوڑتے  اسے سائبہ کہتے جسے کان چیر کر چھوڑتے اسے بحیرہ کہتے  اور ان جانوروں کو حرام جانتے، اللہ تعالٰی نے ان کو رد فرمایا کہ:
ماجعل اﷲ من بحیرۃ ولاسائبۃ ولاوصیۃ ولاحام ولکن الذین یفترون علی اﷲ الکذب واکثرہم لایعقلون ۲؎۔
اللہ نے مقرر نہیں کیا ہے کان چرا ہوا اور نہ بحار اور نہ وصیلہ اور نہ حامی، ہاں کافر لوگ اللہ پر جھوٹا افتراء باندھتے ہیں اور ان میں اکثر نرے بے عقل ہیں، (ت)
 (۲؎القرآن الکریم            ۵/ ۱۰۳)
یعنی یہ باتیں اللہ نے تو ٹھہرائیں نہیں لیکن کافر ان پر جھوٹ باندھتے ہیں، تو ان جانوروں کو حرام بنانا کافروں کاقول، اور قرآن مجید کے خلاف ہے۔ اور آیہ مااہل بہ لغیر اﷲ اس جانور کے لئے ہے جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا جائے، چھوڑے ہوئے جانور سے اسے کوئی تعلق نہیں نہ کہ مٹھائی تک پہنچے، یہ تعصب وہابیوں کے جاہلانہ خیال ہیں کہ ''جانداریا بے جان ذبیحہ ہو یا غیر ، جس چیز کو غیر خدا کی طرف منسوب کرکے پکاریں گے حرام ہوجائیں گی'' ایسا ہو تو ان کی عورتیں بھی ان پر حرام ہوں کہ وہ بھی انھیں کی عورتیں کہہ کر پکاری جاتی ہیں اللہ تعالٰی کا نام ان پر نہیں لیا جاتا، ایسے بیہودہ خیالوں سے بچنا لازم ہے۔ ہاں بت کے چڑھاوے کی مٹھائی پر شاد مسلمانوں کو نہ لینا چاہئے کہ کافر اسے صدقہ کے طور پر بانٹتے ہیں، وہ لینا ذلت بھی ہے اور معاذاللہ جو چیز انھوں نے تعظیم بت کے لئے بانٹی اس کا ان کے موافق مراد استعمال بھی ہے بخلاف چھوڑے ہوئے جانور کے کہ اس کا کھانا کافروں کے خلاف مراد  اور ان کی ذلت ہے، اس میں حرج نہیں مگر شرط یہ ہے کہ فتنہ نہ ہو، ورنہ فتنہ سے بچنا لازم ہے۔
قال اﷲ تعالٰی الفتنۃ اشد من القتل ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: فتنہ قتل سے شدید تر ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎القرآن الکریم            ۲/ ۱۹۱)
Flag Counter