Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
40 - 126
مسئلہ ۱۱۰: از مدرسہ مڈھاوی ڈاکخانہ کوراولی ضلع میں پوری مرسلہ محمد بختیار صاحب مدرس ۱۵ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ

قصاب پیشہ شخص جو ذبح کرے اس کے ہاتھ کا ذبیحہ درست ہے یانہیں؟
الجواب درست ہے جبکہ تکبیر کے ساتھ ذبح کرے، فتاوٰی بزازیہ میں ہے:
یلزم علی ھذا الجاھل ان لا یاکل ماذبح القصاب ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ایسے جاہل کو لازما آتاہے کہ وہ قصاب کے کسی ذبیحہ کو نہ کھائے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی ہندیۃ     کتا ب الصید الفصل الرابع     نورانی کتب خانہ پشاور    ۶/ ۳۰۲)
مسئلہ ۱۱۱: از کانپور مدرسہ فیض عام مرسلہ مولوی عبدالحمید صاحب ۲۹ ذی الحجہ ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ قصاب کا ذبیحہ جائزہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب :ذبح قصاب وغیرہ سب کا ایک حکم ہے۔ مسلمان یا کتابی، عاقل ہونا چاہئے کہ ذبح جانتاہو اور عمدا تسمیہ ترک نہ کرے، کسی قوم یا پیشہ کی تخصیص محض جہالت ہے،
درمختارمیں ہے:
لایعطی اجر الجزار منہا لانہ کبیع ۱؎۔
قربانی کا کوئی حصہ قصاب کی اجرت میں نہ دے کیونکہ یہ معاوضہ سوداکاری کے معنی میں ہے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار             کتاب الاضحیۃ         مطبع مجتبائی دہلی        ۲/ ۲۳۴)
ردالمحتار میں ہے:
لانہ انما یعطی الجزار بمقابلۃ جزرہ ۲؎۔
کیونکہ یہ قصاب کے عمل کے بدلے میں دے گا۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار          کتاب الاضحیۃ         داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۰۹)
خانیہ میں ہے:
وضع صاحب الشاۃ یدہ مع یدالقصاب فی المذبح واعانہ علی الذبح، سمی کل وجوبا ۳؎ الخ (ملخصا)
بکری والے نے ذبح میں قصاب کے ساتھ اپنا ہاتھ شریک کیا تو دونوں پر بسم اللہ پڑھنا وجب ہے۔ الخ (ملخصا) ۔ (ت)
 (۳؎ فتاوٰی قاضی خاں      کتاب الاضحیۃ    فصل مسائل متفرقہ     نولکشور لکھنؤ            ۴/ ۷۵۰)
بزازیہ میں ہے :
لاریب ان القصاب یذبح للربح ولو علم انہ نجس لایذبح، فیلزم علی ہذا الجاہل ان لایاکل ماذبحہ القصاب ۴؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
بے شک قصاب نفع حاصل کرنے کے لئے ذبح کرتاہے اگر اسے معلوم ہو کہ یہ نجس ہے تو ذبح نہ کرے گا،توایسے جاہل پر لازم آتاہے کہ قصاب کا ذبیحہ نہ کھائے، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۴؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی ہندیہ     کتا ب الصید الفصل الرابع         نورانی کتب خانہ پشاور        ۶/ ۳۰۲)
مسئلہ ۱۱۲: از اوجین علاقہ گوالیار مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی محمد یعقوب علی خاں صاحب ۱۱ جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ

خنثٰی جانور کا ذبیحہ جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : خنثٰی کہ نر ومادہ دونوں کی علامتیں رکھتاہو، دونوں سے یکساں پیشاب آتاہو، کوئی وجہ ترجیح نہ رکھتاہو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں کہ اس کا گوشت کسی طرح پکائے نہیں پکتا، ویسے ذبح سے حلال ہوجائے گا، اگر کوئی کچا گوشت کھائے، کھائے،
درمختارمیں ہے:
ولابالخنثی لان لحمہا لاینضج، شرح وہبانیۃ ۱؎۔
خنثٰی بکرے کی قربانی جائزنہیں کیونکہ اس کا گوشت پکتا نہیں، شرح وہبانیہ۔ (ت)
(۱؎ درمختار     کتاب لاضیحہ            مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۳۳)
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
لاتجوز التضحیۃ بالشاۃ الخنثٰی لان لحمہا لاینضج، کذا فی القنیۃ، ۲؎، واﷲ تعالٰی اعلم۔
خنثٰی بکرے کی قربانی جائزنہیں کیونکہ اس کا گوشت پکتانہیں، قنیہ میں اسی طرح ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الاضحیۃ الباب الخامس     نورانی کتب خانہ پشاور     ۵/ ۲۹۹)
مسئلہ ۱۱۳: از کلکتہ دھرم تلا اسٹریٹ نمبر ۱۶۲ مرسلہ حافظ عبدالرحمان صاحب ۳ محرم الحرام ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک بکری بچہ جنی، اور بعد جننے کے مرگئی، اب وہ بچہ ایک کتیا کا دودھ پی کر سیانا ہوا، پس وہ بچہ حلال ہے یاحرام؟ بینوا توجروا
الجواب: اگر ایسا سیانا ہوگیا کہ دودھ چھٹے کچھ مدت گزری، جب تو بالاتفاق بلاکراہت حلال ہے۔ یونہی دودھ پیتے کو چند روز اس دودھ سے جدا رکھ کر حلال جانور کا دودھ یا چارا دیا، اور اس کے بعد ذبح کیا جب بھی بالاتفاق بے کراہت حلال ہے۔ اور اگر اسی حالت میں ذبح کرلیا تو اس کا کھانا مکروہ ہے۔ اس صورت میں کراہت بھی محل نزاع نہیں، ہاں اس میں اختلاف ہے کہ یہ کراہت تنزیہی ہے یعنی کھانا بہترنہیں، اور کھالے تو گناہ نہیں، یا تحریمی یعنی کھانا ناجائز وگناہ ہے۔ عامہ کتب میں معتمدہ مذہب مثل نوازل وخلاصہ وخانیہ وذخیرہ وبزازیہ وتبیین الحقائق وتکملہ لسان الحکام للعلامۃ ابراہیم حلبی ودرمختار وغیرہا میں قول اول ہی پر جزم فرمایا اور خود محرر مذہب سیدنا امام محمدرحمہ اللہ تعالٰی علیہ سے اس پر نص صریح آیا، اور شک نہیں کہ وہی اقوٰی من حیث الدلیل ہے۔
درمختارمیں ہے:
حل اکل جدی غذی بلبن خنزیر لان لحمہ لایتغیر وماغذی بہ یصیر مستہلکا لایبقی لہ اثر ۳؎۔
بھیڑ کے جس بچے نے خنزیر کا دودھ بطور خوراک پیا تو اسے کھانے میں حرج نہیں ہے کیونکہ اس کا گوشت متغیر نہ ہوا اور جو خوراک دی گئی وہ ہلاک ہوگئی اس کا کوئی اثر باقی نہ رہا، (ت)
 (۳؎ درمختار     کتاب الحظروا لاباحۃ         مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۳۶)
خلاصہ میں ہے:
فی النوازل لو ان جدیا غذی بلبن الخنزیر فلا باس باکلہ، فعل ہذا قالوا لاباس باکل الدجاج الذی یخلط ولا یتغیر لحمہ، والذی روی عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ قال تحبس الدجاجۃ ثلثۃ ایام کان للتنزیہ۱؎ (باختصار)۔
نوازل میں ہے جو بچہ خنزیر کے دودھ کی خوراک سے پرورش پایا اس کو کھانے میں حرج نہیں ہے اسی لئے فقہاء نے فرمایا جو مرغ گندگی کھائے اور اس کا گوشت متغیر نہ ہو تو کھانے میں حرج نہیں ہے، او ر حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد کہ مرغی کو تین دن قید رکھ کر ذبح کیا جائے، یہ ارشاد تنزیہ کے طور پر ہے۔ (باختصار) (ت)
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی     کتاب الصید     الفصل الخامس     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ        ۴/ ۳۰۴)
اسی سے تکملہ لسان میں فرمایا اسی طرح بقیہ کتب میں مذکور ہے، ہندیہ کی کتاب الکراہیۃ میں قنیہ سے ہے:
ذکر محمد رحمہ اﷲ تعالٰی  جدی او حمل یرضع بلبن الاتان یحل اکلہ ویکرہ ۲؎۔
امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایابکری یاگائے کا بچہ گدھی کے دودھ سے پرورش پائے اس کا کھانا حلال ہے اور مکروہ ہے۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الکراہیۃ الباب الحادی عشر     نورانی کتب خانہ پشاور        ۵/ ۳۳۹)
اسی قنیہ میں بعض علماء سے قول ثانی نقل کیا ، وہی ظاہرا کلام فتاوی کبرٰی وخزانۃ المفتین کا مفاد ، اور امام اعبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے ارشاد سے مستفاد،
ردالمحتارمیں ہے:
فی شرح الوہبانیۃ عن القنیۃ راقما انہ یحل اذا ذبح بعد ایام والا لا ۳؎۔
شرح وہبانیہ میں قنیہ  سے نقل کیا کہ اگر چند روز کے بعد ذبح کیا تو حلال ہے ورنہ نہیں۔ (ت)
 (۳؎ ردالمحتار       کتاب الکراہیۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۱۷)
Flag Counter