Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
39 - 126
مسئلہ ۱۰۳: مرسلہ احمد شاہ خاں     از موضع نگریاسادات ضلع بریلی

عورت کے ہاتھ کا ذبیحہ جائزہے یانہیں؟
الجواب: مسلمان عورت کے ہاتھ کاذبیحہ جائز ہے جبکہ وہ ذبح کرنا جانتی ہو اور ٹھیک ذبح کردے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۴: از مقام سید پور ڈاکخانہ وزیر گنج ضلع بدایوں مسئولہ سید احمد حسین صاحب 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نماز وروزہ کرتاہے لیکن شراب خور ہے، سفلہ وچنڈو وبھنگ وغیرہ، زنا وحرام خوری، چوری، آگ دیتاہے۔ مگر ان فعلوں کو برا جانتاہے تو ایسے شخص کا ذبیحہ درست ہے یانہیں؟
الجواب: اس صورت میں زید فاسق ہے۔ مستحق عذاب جہنم ہے۔ مگر اس کے ہاتھ کا ذبیحہ درست ہے ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۵ تا ۱۰۷: از بھوٹابھوٹی موٹولانگر     علاقہ جام نگر کا ٹھیاوار مرسلہ حاجی اسمعیل میاں صدیقی حنفی ابن امیر میاں ۲۳ صفر ۱۳۳۶ھ

(۱) اگر ایک مرد نے طاہر عور ت کو بغیر نکاح کے گھر میں رکھا ہے آیا اس شخص کا ذبیحہ کھانا درست ہے یانہیں؟

(۲) قربانی کرنا واجب ہے، اگر کوئی شخص ماہ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کی صبح صادق کے بعد اور نماز سےپہلے قربانی کرے تو وہ قربانی جائزہے یانہیں؟

(۳) قربانی کے حصے تین کرنا، ایک حصہ اپنا دوسرا خویش واقارب کا ، تیسرا مسکینوں کا ، آیا گر مساکین لوگ اسلام میں سے نہیں ہیں، تو اس حصہ کا کیاحکم ہے،ا ور اگر کسی شخص نے قربانی کی اور تین حصے نہیں کئے اور سارا گھر میں رکھ لیا آیا قربانی درست ہے یانہیں؟
الجواب

(۱) اگر بالفرض اس پر زنا ثابت بھی ہو جب بھی زانی کے ہاتھ کا ذبیحہ جائز ہے کہ ذبح کے لئے دین سماوی شرط ہے اعمال شرط نہیں، اور اتنی بات پر کہ گھر میں رکھاہے۔ اور ہمارے سامنے نکاح نہ ہوا، نسبت زنا کربھی نہیں سکتے، بنص قطعی قرآن مجید حرام شدید ہے۔ بلکہ اگر گھرمیں بیبیوں کی طرح رکھتاہواور بیبیوں کا سا برتاؤبرتتا ہو تو ان کو زوج وزوجہ ہی سمجھا جائے گا اور ان کی زوجیت پر گواہی دینی حلال ہوگی اگر چہ ہمارے سامنے نکاح نہ ہوا،
کما فی الہدایۃ والدرالمختار والہندیۃ وغیرہا
 (جیسا کہ ہدایہ، درمختار اورہندیہ وغیرہ میں ہے ۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۲) دیہات میں عید جائز نہیں۔ قربانی اگر گاؤن میں ہو طلوع صبح کے بعد ہوسکتی ہے اگرچہ شہری نے اپنی قربانی وہاں بھیج دی ہو، اور اگر قربانی شہرمیں ہو جہاں نماز عید واجب ہے تو لازم ہے کہ بعد نماز ہو، اگرنماز سے پہلے کرلی قربانی نہ ہوئی اگر چہ قربانی دیہاتی کی ہو کہ اس نے شہر میں کی،
درمختارمیں ہے:
(اول وقتہا بعد الصلاۃ ان ذبح فی مصر) ای لو اسبق صلوۃ عید ولوقبل الخطبۃ لکن بعد ہا احب (وبعد طلوع فجر یوم النحر ان ذبح فی غیرہ ) والمعتبر مکان الاضحیۃ لامکان من علیہ فحیلۃ مصری ارادالتعجیل ان یخرجہا الخارج المصر فیضحی بہا اذااطلع الفجر ۔ مجتبی ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر شہر میں قربانی دینی ہو تو اس کا وقت نمازکے بعد شروع یعنی نماز عید سے پہلے ہو اگر چہ قربانی خطبہ سے پہلے کرے بعد از خطبہ افضل ہے، اور قربانی شہر میں نہ ہو تو اس کا اول وقت بعد از طلوع فجر بروز عید قربان، اس فرق میں قربانی کا مقام معتبر ہے نہ کہ قربانی والے کا مقام شہری کے لئے قربانی جلدی کرنے کاحیلہ یہ ہے کہ وہ جانور کو شہر سے خارج لیجا کر فجر کے بعد قربانی کرے، مجتبٰی ، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الاضحیۃ     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۳۲)
 (۳) تین حصے کرناصرف استحبابی امرہے کچھ ضروری نہیں چاہے سب اپنے صرف میں کرلےی یا سب عزیزوں قریبوں کودے دے، یا سب مساکین کو بانٹ دیں، یہاں اگر مسلمان مسکین نہ ملے تو کافر کو اصلا نہ دے کہ یہ کفار ذمی نہیں، تو ان کو دینا قربانی ہو خواہ صدقہ، اصلا کچھ ثواب نہیں رکھتا،
درمختارمیں ہے:
اماا لحربی ولو مستامنا فجمیع الصدقات لایجوز لہ اتفاقا، بحر عن الخانیۃ وغیرہا ۱؎۔
حربی اگر مستامن بھی ہو تو اس کو کوئی بھی صدقہ دینا بالاتفاق ناجائز ہے۔ بحر نے خانیہ وغیرہا سے نقل کیا۔ (ت)
 (۱؎ درمختار         کتاب الزکوٰۃ     مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۴۱)
بحرالرائق میں معراج الدرایہ شرح ہدایہ سے ہے:
صلتہ لاتکون براشرعا، ولذا لم یجز التطوع الیہ فلم یقع قربۃ ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اس سے صلہ شرعا نیکی نہیں اسی لئے اس کو نفلی صدقہ بھی جائز نہیں لہذا عبادت نہ بنے گا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ بحرالرائق     کتاب الزکوٰۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲/ ۲۴۸)
مسئلہ ۱۰۸: از سرنیاضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری     ۲ رجب ۱۳۳۱ھ

زید نماز روزے سے بالکل بے خبر ہے اور ذبح کے وقت کلی بھی نہیں کرتا، تو اس کاذبح کیساہے؟
الجواب : اگر مسلمان ہے اور ذبح کرنا جانتاہے اورتکبیر کہے تو ذبح ہوجائے گا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۹: از گوری ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ عبدالجبار صاحب      یکم شعبان ۱۳۳۶ھ

ایک شخص مسلمان کلمہ گو اپنی بدقسمتی سے ادائے نماز میں غفلت کرتاہے، پس اس صورت میں ذبیحہ و ضیافت اس کا مسلمانوں کو کھانا ونماز جنازہ، دفن مقبرہ مومنین میں جائز ہے یانہیں؟ اگر نہیں تو کس دلیل سے، ذبیحہ اہل کتاب وضیافت مسلمانوں کو جائز کیا گیا؟
الجواب : ضرور اس کا ذبیحہ جائز، اور اس کے جنازہ کی نماز، اور اسے اسلامی طور پر دفن کرنا مسلمانوں پر فرض
لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اما الدیوان الذی لایعبؤاﷲ بہ شیئا فظلم العبد نفسہ فیما بینہ وبین ربہ، من صوم یوم  ترکہ ، اوصلوٰۃ ترکہا، فان اﷲ تعالٰی یغفر ذٰلک ان شاء ویتجاوز ۱؎۔
حضو رصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی بناء پر کہ گناہوں کا دفتر اللہ تعالٰی کے ہاں اس کی حیثیت نہیں ہے تو بندے کا اپنے نفس پر ظلم اس کے اور اس کے رب کے درمیان معاملہ ہے کسی دن کا روزہ یا کوئی نماز ترک کی ہو تو اللہ تعالٰی چاہے تو اسے بخش دے اور درگزر فرمادے۔ (ت)
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل     حدیث ۲۵۵۰۰     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۷/ ۳۴۲)

(مسند احمد بن حنبل       از مسند عائشہ رضی اللہ عنہا     المکتب الاسلامی بیروت        ۶/ ۲۴۰)
ضیافت بھی جائز ضرورہے اس سے بچنے نہ بچنے میں عمل سلف مختلف ہے
کما فصلہ الامام حجۃالاسلام فی الاحیاء
(جیسا کہ حجۃ الاسلام امام غزالی علیہ الرحمۃ نے احیاء العلوم میں اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔ ت) اسکا بیان ہمارے فتاوٰی میں ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter