ذبح کرنے والے کا مسلمان یا کتابی ذمی یا حربی ہونا شرط ہے۔ ہاں اگر ذبح کے وقت ان سے مسیح کانام سنا جائے تو ناجائز ہے۔ (ت)
(۳؎ درمختار کتاب الذبائح مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۸)
ردالمحتارمیں ہے:
ولوسمع منہ ذکر اﷲ تعالٰی لکنہ عنی بالمسیح قالوا یوکل الا اذا نص فقال باسم اﷲ الذی وہوثالث ثلثۃ، ہندیۃ ۴؎۔
اگر عیسائی سے اللہ تعالٰی کا نام سنا لیکن اس سے مراد اس نے مسیح کا لیا تو فقہاء نے فرمایا کھالیا جائے ہاں اگر صراحۃ ''باسم اللہ تعالٰی جو کہ تین کا تیسرا ہے'' کہیں تو نہ کھائیں، ہندیہ (ت)
(۴؎ ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۸۸)
نصارٰی زمانہ کاحال معلوم ہے کہ نہ وہ تکبیر کہیں نہ ذبح کے طور پر ذبح کریں، مرغ وپرند کا تو گلا گھونٹتے ہیں، اور بھیڑ بکری کو اگر چہ ذبح کریں، رگیں نہیں کاٹتے، فقیر نے بھی اسے مشاہدہ کیا ہے۔
ذیقعدہ ۱۲۹۵ھ میں کپتان کی ملک سے سمور کا ایک مینڈہا جہاز میں دیکھا گیا جسے وہ چالیس روپےکے خریدبتاتا تھا، مول لینا چاہا کہ گوشت درکار تھا، نہ بیچا اور کہا جب ذبح ہوگا گوشت کاحصہ خرید لینا، ذبح کیا تو گلے میں ایک کروٹ کو چھری داخل کردی تھی رگیں نہ کاٹیں، اس سے کہہ دیا گیا کہ اب یہ سوئر ہے ہمارے کسی کام کا نہیں بلکہ نصارٰی کے یہاں صد سال سے ذبح شرعی نہیں،
فتاوٰی قاضی خاں میں نقل فرمایا:
النصرانی لاذبیحۃ لہ۔ وانما یا کل ہو ذبیحۃ المسلم ویخنق ۱؎۔
نصرانی کا ذبیحہ ہی نہیں، وہ مسلمان کا ذبیحہ کھا لیتاہے اور وہ جانور کا گلا گھونٹتاہے۔ (ت)
تو نصارائے زمانہ کا ذبیحہ ضرور حرام یہود کا حال معلوم نہیں۔ اگر ان کے یہاں بھی ترک تکبیر یا ذبح کی تغیر ہو تو حکم حرمت ہے ورنہ بے ضرورت، ناپسندی وکراہت واللہ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۶: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص فرقہ غیر مقلدین یا فرقہ قادیانی یا وہابیہ سے ہو اس کے ہاتھ کا ذبیحہ واسطے اہل سنت وجماعت کے کھانا جائز ہوگا یا نہیں؟
الجواب: قادیانی صریح مرتد ہیں۔ ان کا ذبیحہ قطعی مردار ہے۔ اور غیر مقلدین وہابیہ پر بوجوہ کثیرہ الزام کفر ہے۔ ان میں جو منکر ضروریات دین ہیں وہ تو بالاجماع کافرہی ہیں، ورنہ فقہائے کرام ان پر حکم کفرفرماتے ہیں اور ذبیحہ کا حلال ہونا نہ ہونا حکم فقہی ہے خصوصا وہی احتیاط کہ مانع تکفیر ہو، یہاں ان کے ذبیحہ کے کھانے سے منع کرتی ہے کہ جمہور فقہاء کرام کے طورپر حرام ومردار کا کھانا ہوگا، لہذا احتراز لازم ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۷: ا زبریلی محلہ قراولاں مسئولہ عبدالکریم خیاط قادری رضوی ۲۳ محرم ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید کا خسر دیوبندی ہے وہ اپنی قیمت سے گوشت خرید کر بھیجتاہے۔لانے والا بھی دیوبندی ہے تو یہ گوشت حلال ہے یانہیں؟ نیز دیوبندی کی قربانی کا گوشت کیساہے؟ بینوا توجروا
الجواب: دیوبندی کا ذبیحہ مردار ہے۔ اور دیوبندی کا بھیجا ہوا گوشت اگرچہ مسلمان کا لایا ہوا ہو مردار ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۸: از نجیب آباد مسئولہ جناب احمد حسن خاں صاحب رضوی بتاریخ ۲۸ محرم ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بعض اوقات وہابیوں سے ذبیحہ کرایا جاتاہے جس کا گوشت گھر میں پکتا ہے کھاناکیساہے؟
الجواب: وہابی رافضی قادیانی وغیرہم جن جن کی گمراہی حد کفر تک ہے ان کا ذبیحہ مردارہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۹۹: از بشارت گنج ضلع بریلی مسئولہ حاجی غنی رضا خاں صاحب رضوی ۲۸ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ وہابی یا رافضی کا ذبیحہ گائے یا بکری یا مرغی کا جائز ہے یا نہیں؟ اور وہابیہ اور رافضی کے یہاں کا گوشت پکا ہوا بطور دعوت کھانا جائز ہے یانہیں؟
الجواب: وہابیہ اور رافضی کا ذبیحہ مردا رہے اور ان کے یہاں کا گوشت کھانا حرام ہے۔ فتاوٰی ظہیریہ وفتاوٰی عالمگیریہ وغیرہما میں ہے:
احکامہم احکام المرتدین ۱؎
(ان کے احکام مرتدین کے احکام ہیں۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الظہیریۃ کتاب السیر الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۴)
مسئلہ ۱۰۰ و ۱۰۱: از ڈونگر پور ملک میواڑ راجپوتانہ مکان جمعدار سمندرخاں مسئولہ عبدالرؤف خاں ۱۵ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ:
(۱) بوہروں کے یہاں کا ذبیحہ کیا ہوا گوشت ان کے یہاں کا پکا ہوا کھانا اہلسنت وجماعت کھاسکتے ہیں یانہیں؟
(۲) اور کوئی شخص ذبیحہ کرتاہو اور اس سے اپنی اور اپنے بچوں کی گزر اوقات کرتاہو وہ خدا کے یہاں مواخذہ حشرمیں تونہ ہوگا؟ یا نامہ اعمال میں اس کے کچھ لکھا جائے گا؟ بینوا توجروا
الجواب
(۱) بوہرے کہ اسمعیلی رافضی ہیں ان کے ہاتھ کا ذبیحہ مردارہے۔ اور ان کے یہاں کا گوشت پکا ہوا بھی حرام ہے، مگریہ کہ مسلمان نے ذبح کیا اور اس وقت سے اس وقت تک مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہوا ہو، گوشت کے علاوہ باقی کھانوں پراگر چہ قطعی حکم حرمت مگر بہرحال احتراز ہی مناسب ہے۔
(۲) ذبح کا پیشہ شرعا ممنوع نہیں، نہ اس پر کچھ مواخذہ ہے اگر چہ گائے ذبح کرنے کا پیشہ ہو، وہ جو حدیث لوگوں نے دربارہ ذابح بقروقاطع شجر بنارکھی ہے محض باطل وموضوع ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم.
مسئلہ ۱۰۲: از شہر کہنہ بریلی محلہ کوٹ مرسلہ محمدود علی صاحب بنگال ۲ صفر ۱۳۳۱ھ
عورت کاذبح کیا ہوا حلال اور درست ہے یانہیں؟
الجواب: عورت کا ذبیحہ جائز ہے جبکہ ذبح کرناجانتی ہو، اور شرائط حلت مجتمع ہو، درمختارمیں ہے: