Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
37 - 126
مسئلہ ۹۴: از گلکٹ چھاؤنی جوئنال مرسلہ سید محمد یوسف علی صاحب ۷ شعبان معظم ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیعہ کے یہاں کا ذبح کراکھانا، دیگر جس کا عقیدہ درست نہ ہو اس کا ذبح کھانا کیسا ہے ؟ بینوا توجروا
الجواب: آج کل کے رافضی تبرائی علی العموم کا فر مرتد ہیں، شاید ان میں گنتی کے ایسے نکلیں جو اسلام سے کچھ حصہ رکھتے ہوں، ان کا عام عقیدہ یہ ہے کہ یہ قرآن شریف جو بحمداللہ تعالٰی ہمارے ہاتھو ں میں موجود ہے یہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد پورا نہ رہا، اس میں سے کچھ پارے یا سورتیں یاآیتیں صحابہ کرام اور اہلسنت نے معاذا للہ کم کردیں، اور یہ بھی ان کے چھوٹے بڑے سب مانتے ہیں کہ حضرت مولا علی ودیگر ائمہ اطہار کرم اللہ تعالٰی وجوہہم اگلے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے افضل تھے، یہ دونوں عقیدے خالص کفر ہیں جو شخص قرآن مجید سے ایک حرف، ایک نقطہ کی نسبت ادنٰی احتمال کے طور پر کہے کہ شاید کسی نے گٹھادیا یا بڑھادیا یابدل دیا ہو وہ کافر ہے اور قرآن عظیم کا منکر، یونہی جو کسی غیرنبی کو کسی نبی سے افضل بتائے وہ بھی کافر ،ا ور جبکہ ان اشقیاء نے باوصف ادعائے اسلام عقائد کفر اختیار کئے تو مرتد ہوئے،
فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
ھؤلاء القوم خارجون عن ملۃ الاسلام و احکامہم احکام المرتدین ۱؎۔
یہ قوم ملت اسلامیہ سے خارج ہے ان کے احکام مرتدین والے ہیں۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ         کتاب السیر الباب التاسع         نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/ ۲۶۴)
اور مرتد کے ہاتھ کا ذبیحہ نراحرام ومردار سوئر کی مانند ہے اگرچہ اس نے لاکھ تکبیریں پڑھ کر ذبح کیا ہو،
درمختارمیں ہے:
لاتحل ذبیحۃ غیر کتابی من وثنی ومجوسی و مرتد ۲؎۔
غیر کتابی کا ذبیحہ حلال نہیں ہے خواہ وہ بت پرست ہو مجوسی ہو یا مرتد ہو۔ (ت)
(۲؎ درمختار         کتاب الذبائح         مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۲۸)
اسی طرح جس مذہب کا عقیدہ حد کفر تک پہنچا ہو ، جسے نیچیری کہ وجود ملائکہ ووجود جن وجود شیطان وجود آسمان وصحت معجزائے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃوالسلام وحشر ونشر وجنت و نار بطور عقائد اسلام وغیرہا بہت ضروریات دینیہ سے منکر ہیں۔ یونہی وہ وہابی کہ حضورپر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مثل سات یا چھ یا دو یا ایک خاتم النبیین کسی طبقہ زمین میں کبھی موجود مانے یا ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد کسی اور کو نبوت ملنی جائز جانے اور اسے آیۃ وخاتم النبیین کے مخالف نہ سمجھے، یانبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین شان اقدس کے لئے حضور کو بڑا بھائی ، اپنے آپ کو چھوٹا بھائی کہے، یا حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت یہ ناپاک کلمہ لکھے کہ مرکر مٹی میں مل گئے، وعلی ہذالقیاس جو بد مذہب ضروریات دین اسلام میں سے کسی عقیدہ کا منکر ہو یا اس میں شرک کرے یا تاویلیں گھڑے، باجماع تمام علماء اسلام وہ سب کے سب کافر ومرتد ہیں اگر چہ لوگوں کے سامنے کلمہ، نماز قرآن پڑھتے، روزہ رکھتے، اپنے آپ کو سچا پکا مسلمان جتاتے ہوں کہ جب وہ ضروریات اسلام کے منکر ہوئے تو انھوں نے خدا ورسول وقرآن کو صاف صاف جھٹلایا، پھریہ جھوٹے طورپر کلمہ وغیرہ کیا نفع دے سکتاہے۔ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی منافق لوگ کلمہ ونماز پڑھتے اور اپنے آپ کوقسمیں کھاکھاکر مسلمان بتاتے تھے اور اللہ تعالٰی نے ان کی ایک نہ سنی اور صاف فرمایا
واﷲ یشہد ان المنفقین لکذبون ۳؎
اللہ گواہی دیتاہے کہ یہ لوگ نرا جھوٹا دعوٰی اسلام کرتے ہیں:
 (۳؎ القرآن الکریم    ۶۳/ ۱)
خاص ایسے لوگوں کے کفر میں ہر گز شک نہ کیا جائے کہ جو ان کے عقیدہ پر مطلع ہوکر پھر سمجھ بوجھ کر ان کے کفر میں شک کرے وہ خود کافر ہوجاتاہے۔
درمختارمیں ہے:
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۱؎ اھ واما ارتدادہم فہو الصحیح الثابت المنصوص علیہ کما اوضحناہ بتوفیق اﷲ تعالٰی فی السیر من فتاوٰینا وفی رسالتنا ''المقالۃ المسفرۃ عن احکام البدعۃ المکفرۃ''
جو ان کے کفر وعذاب میں شک کرے وہ کافر ہے اھ لیکن ان کاا رتداد توصحیح ثابت منصوص علیہ ہے جیسا کہ ہم نے اللہ تعالٰی کی توفیق سے اپنے فتاوٰی کے باب السیر میں واضح کردیا ہے نیز اس اپنے رسالہ
''المقالۃ المسفرۃ عن احکام البدعۃ المکفرۃ''
میں بیان کیا ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار    کتاب الجہاد باب المرتد         مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۳۵۶)
اس قسم کے ہر بدمذہب کا ذبیحہ مردار وحرام، ان کے ساتھ نکاح حرام وباطل ومحض زنا، ان کے ساتھ کھانا پینا بیٹھنا اٹھنا، ملنا جلنا، کوئی برتاؤ مسلمان کا ساکرنا ہر گز ہرگز کسی طرح جائز نہیں، ہاں جو مذہب دین اسلام کی ضروری باتوں سے کسی بات میں شک نہ کرتاہو، صرف ان سے نیچے درجہ کے عقیدوں میں مخالف ہوں، جیسے رافضیوں میں تفضیلی ، یا وہابیوں میں اسحاقی وغیرہم وہ اگر چہ گمراہ ہے کافر نہیں اس کے ہاتھ کاذبیحہ حلال ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۵: از گونڈہ ملک اودھ مدرسہ اسلامیہ     مرسلہ حافظ عبدالعزیز صاحب مدرس مدرسہ مذکورہ ۱۷ جمادی الآخرہ ۱۳۱۸ھ

یہ جو اکثر کتب دینیہ میں لکھا ہے کہ اہل کتاب کا ذبیحہ درست ہے تو آج کل یہود ونصارٰی جو ہیں ان کاذبیحہ درست ہے یانہیں؟
الجواب: شک نہیں کہ نصارٰی الوہیت وابنیت عبداللہ وابن امتہ، سیدنا مسیح ابن مریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی صاف تصریح کرتے ہیں جو نصارٰی ایسے ہیں اور یوہیں وہ یہود کہ ابنیت عبداللہ عزیر علیہ الصلوٰۃ والسلام مانیں ان کا ذبیحہ حلال ہونے میں ہمارے ائمہ کا اختلاف ہے، جمہورمشائخ جانب حرمت گئے اور کہا گیا کہ اسی پر فتوٰی ہے۔ اور بکثرت محققین تحقیق جواز فرماتے ہیں کہ یہی ظاہر الروایۃ اوریہی اقوی من حیث الدلیل ہے
وقد حققناہ فی فتاوٰنا بما یتعین المراجعۃ الیہ
 (ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کر دی ہے اور اس کی طرف مراجعت کی جائے۔ ت)
مستصفی میں ہے:
فی مبسوط شیخ الاسلام یجب ان لایاکلوا ذبائح اہل الکتاب اذا اعتقدوا ان المسیح الہ، وان عزیرا الہ، ولایتزوجوا نسائہم ، وقیل علیہ الفتوی لکن بالنظر الی الدلائل ینبغی ان یجوز الا کل والتزوج ۱؎۔
شیخ الاسلام کی مبسوط میں ہے جب کہ اہل کتاب کا عقیدہ ہو کہ مسیح علیہ السلام اللہ ہے، تو ان کے ذبیحہ کو مت کھاؤ اور ان کی عورتوں سے نکاح نہ کرو۔ اور یوں اگر عزیر علیہ السلام کو الہ کہتے ہوں ، بعض کے نزدیک اس پر فتوٰی ہے لیکن دلائل کی روشنی میں کھانا اور نکاح کرنا جائز ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار بحوالہ المستصفٰی     کتاب النکاح فصل فی المحرمات     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۲۸۹)
درمختارمیں ہے:
صح نکاح کتابیۃ، وان اعتقدواالمسیح الہا، وکذا حل ذبیحتہم علی المذہب بحر ۲؎ اھ مختصرا۔
کتابیہ عورت سے نکاح جائز ہے اگر چہ وہ مسیح کے الہ ہونے کا عقیدہ رکھے،یونہی ان کا ذبیحہ مذہب میں جائز ہے بحر اھ مختصرا۔ (ت)
 (۲؎ درمختار        کتاب النکاح فصل فی المحرمات     مطبع مجتبائی دہلی        ۱/ ۱۸۹)
ہاں کراہت میں شک نہیں کہ جب بیضرورت کتابی خالص کے ذبیحے کو علماء ناپسند کرتے ہیں تو یہ بدتر درجے میں ہیں،
فتح القدیرمیں ہے:
یجوز تزوج الکتابیات والاولٰی ان لایفعل، ولایاکل ذبیحتہم الا لضرورۃ ۳؎۔
کتابی عورتوں سے نکاح جائز ہے اور اولٰی یہ ہے کہ نہ کیا جائے اور ان کا ذبیحہ نہ کھایا جائے، ماسوائے ضرورت کے۔ (ت)
(۳؎ فتح القدیر         کتاب النکاح فصل فی المحرمات      مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۳/ ۱۳۵)
مجمع الانہر میں ہے:
النصارٰی فی زماننا یصرحون بالابنیۃ قبحہم اﷲ تعالٰی ، وعدم الضرورۃ متحقق، والاحتیاط واجب ۔ لان فی حل ذبیحتہم اختلاف العلماء کما بیناہ فالاخذ بجانب الحرمۃ اولی عند عدم الضرورۃ ۱؎۔
ہمارے زمانہ کے نصرانی عیسی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ابنیت کی تصریح کرتے ہیں اللہ تعالٰی ان کو قبیح کرے۔ ضرورت بھی متحقق نہیں ہے اور احتیاط واجب ہے کیونکہ ان کے ذبیحہ کے حلال ہونے میں علماء کا اختلاف  ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے ضرورت نہ ہو تو حرمت کی جانب کو ترجیح ہے۔ (ت)
(۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر         کتاب النکاح باب المحرمات     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۳۲۸)
یہ سب اس صورت میں ہے کہ وہ ذبح بطور ذبح کریں، اور وقت ذبح خالص اللہ عزوجل کا نام پاک لیں، مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام شریک نہ کریں اگر چہ دل میں مسیح ہی کو خدا جانیں، بالجملہ نہ قصدا تکبیر چھوڑیں نہ تکبیر میں شرک ظاہر کریں ورنہ جو ذبیحہ ان شرائط سے خالی ہو وہ مسلمان کا بھی حرام ومردار ہوتاہے چہ جائیکہ کتابی،
Flag Counter