فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
36 - 126
مسئلہ۹۰: ا ز جڑودہ ضلع میرٹھ مرسلہ سید صابر جیلانی صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جانور کی کون سی چیز جائز اور حلال ہے اور کون سی چیز ناجائز وحرام ہے؟
الجواب : حلال جانور کے سب اجزاء حلال ہیں مگر بعض کہ حرام یا ممنوع یا مکروہ ہیں (۱) رگوں کا خون (۲) پتا (۳) پُھکنا (۴) و (۵) علامات مادہ ونر (۶) بیضے (۷) غدود (۸) حرام مغز (۹) گردن کے دو پٹھے کہ شانوں تک کھنچے ہوتے ہیں (۱۰) جگر کا خون (۱۱) تلی کا خون (۱۲) گوشت کا خون کہ بعد ذبح گوشت میں سے لکھتا ہے (۱۳) دل کا خون (۱۴) پت یعنی وہ زرد پانی کہ پتے میں ہوتاہے (۱۵) ناک کی رطوبت کہ بھیڑ میں اکثر ہوتی ہے (۱۶) پاخانہ کا مقام (۱۷) اوجھڑی (۱۸) آنتیں (۱۹) نطفہ (۲۰) وہ نطفہ کہ خون ہوگیا (۲۱) وہ کہ گوشت کا لوتھڑا ہوگیا (۲۲) وہ کہ پورا جانور بن گیا اور مردہ نکلا یا بے ذبح مرگیا۔
مسئلہ ۹۱: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زندہ جانور کا کوئی عضو مثلا دنبہ کی چکی کاٹ کر استعمال کرنا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : جو عضو مچھلی اور ٹیڑی کے سوا کسی زندہ جانور سے جدا کرلیا جائے مردہ ہے اور کھانا اس کا حرام
رواہ الحافظ ابوعیسٰی محمدن الترمذی عن ابی واقداللیثی رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قدم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المدینۃ وہم یحبون اسنمۃ الابل، ویقطعون الیات الغنم فقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مایقطع من البیہمۃ وہی حیۃ فہو میتۃ، قال الحافظ والعمل علی ہذا عند اہل العلم ۱؎ فی الہدایۃ فی مسائل السمک اذا قطع بعضہا فمات یحل اکل ما ابین ومابقی لان موتہ بافۃ وما ابین من الحق، وان کان میتا فمیتتہ حلال ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم بحقیقۃ الحال۔
ابو عیسٰی محمد ترمذی نے ابو واقد لیثی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ حضو رصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ زندہ اونٹوں کی کہانوں اور دنبوں کی چکیوں کو کاٹ کھانا پسند کرتے تھے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: زندہ جانور کا کاٹا ہوا حصہ مردار ہو حافظ ترمذی نے فرمایا: اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے ہدایہ کے مچھلی کے مسائل میں ہے کہ اگر مچھلی کا کچھ حصہ کاٹ کر جدا کرلیا اور مچھلی مرجائے تو اس کے دونوں ٹکڑے حلال ہیں کیونکہ اس کی موت سماوی ہوتی ہے تو زندہ سے ٹکڑا جدا کیا ہوا اگر چہ مردہ ہے لیکن اس کا مردہ حلال ہے۔ اللہ تعالٰی حقیقت حال بہتر جانتاہے۔ (ت)
(۱؎ جامع الترمذی ابواب الصیدباب ماجاء فی ماقطع من الحی فہو میت امین کمپنی کراچی ۱/ ۱۷۹)
(۲؎ الہدایۃ کتاب الذبائح مطبع یوسفی لکھنو دہلی ۴/ ۴۴۱)
مسئلہ ۹۲: موضع بکہ جیبی والا، علاقہ جاگل تھانہ ہری پور ڈاک خانہ کوٹ نجیب اللہ خاں مرسلہ مولوی شیر محمدصاحب ۲۳ رمضان المبارک ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ذبح کس شخص کا جائز اور کس کا ناجائز ہے؟
الجواب: جن، مرتد، مشرک، مجوسی، مجنون، ناسمجھ اور اس شخص کا جو قصدا تکبیر ترک کرے ذبیحہ حرام و مردار ہے۔ اور ان کے غیر کا حلال جبکہ رگیں ٹھیک کٹ جائیں، اگر چہ ذابح عورت یا سمجھ والا بچہ یا گونگایا بے ختنہ ہو، اور اگر ذبیحہ صید ہو تو یہ بھی شرط ہے کہ ذبح حرم میں نہ ہو، ذابح احرام میں نہ ہو،
درمختار میں ہے ذبح کرنے والے مسلمان کا حالت احرام میں نہ ہونا، یا کتابی ہواگرچہ مجنون ہو یا عورت ہو یا بچہ عقلمند ہو جو بسم اللہ وذبح کو سمجھتاہو اور قادر ہو، بے سنت ہو یا گونگا ہو، بت پرست، مجوسی ، مرتد، جن اور قصدا بسم اللہ کو ترک کرنے والا نہ ہو اھ ملخصا، ردالمحتارمیں ہے اس کا قول ''مجنون ہو'' سے مراد معتوہ (نیم پاگل) ہے کیونکہ مکمل مجنون کا قصد نہیں ہوتا او رنہ نیت ہوتی جیسا کہ عنایہ میں نہایہ سے ہے کیونکہ قصد کے بغیر بسم اللہ کی شرط پوری نہیں ہوتی جبکہ بسم اللہ پڑھنا نص سے ثابت ہے الخ، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الذبائح مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۸)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۸۸)
مسئلہ ۹۳ـ: ازاوجین مرسلہ ملایعقوب علی خاں یکم رمضان المبارک ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے نامدار مفتیان ذوی الاقتدار اس مسئلہ میں کہ اقوام بواہر اور عورات اور خروعنی (عہ) اور کتابی اور مجوسی اورنصرانی اور مردم مشرک،یہ سب بہ تکبیر اللہ اکبر ذبح کریں درست ہے یانہیں؟ اور اہل علم ذبح کرے اور ہندو جانور کو دبائے تو مددگار اور ذابح دونوں پر تکبیر کہنا واجب ہے یا فقط ذبح کنندہ پر؟ اور سوائے ذابح کے اور نے تکبیرنہ کہی تو وہ جانور حلال ہے یاحرام؟بسند عبارت کتب بیان فرمائیں بینوا توجروا
عہ: ہکذا فی الاصل ۱۲
الجواب: مسلمان وکتابی کا ذبیحہ حلال ہے اگر چہ عورت یا عنین ہو اور ان کے سوا مشرک مجوسی، مرتد کسی کا ذبیحہ اصلا حلال نہیں اگرچہ تکبیر کہہ کر ذبح کریں،
درمختارمیں ہے:
شرط کون الذابح مسلما اوکتابیا ولوامرأۃ لاذبیحۃ غیر کتابی من وثنی و مجوسی و مرتد۱ اھ ملخصا۔
ذبخ کرنے والے کا مسلمان یا کتابی ہونا اگر چہ عورت ہو، شرط ہے، کافر غیر کتابی مثلا بت پرست، مجوسی اور مرتد نہ ہو، اھ ملخصا۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الذبائح مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۸)
قوم بوہرہ میں جو شخص صرف بدعت رفض وغیرہ رکھتاہو اور اس کے ساتھ ضروریات دین کا منکر نہ ہو تو اس کا بھی ذبیحہ حلال، کہ اگر چہ بدعتی مذہب ہے مگر اسلام رکھتاہے، اور اگر ضروریات دین سے کسی امر کا انکار کرے گو دعوٰی اسلام رکھتا اور کلمہ طیبہ پڑھتا ہو، جیسے آج کل اکثر روافض زمانہ کا حال ہے تو کافر مرتد ہے اور اس کا ذبیحہ حرام مطلقا
کما حققناہ فی السیر من فتاوٰنا بتوفیق اللہ سبحٰنہ تعالٰی
(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی کے باب سیر میں اس کی تحقیق کی ہے۔بتوفیق اللہ تعالٰی ۔ ت) نصارٰی زمانہ کہ علی الاعلان الوہیت وابنیت بندہ خدا وزادہ کنیز خدا سیدنا مسیح عیسی بن مریم علیہم الصلوٰۃ والسلام کے قائل ہیں، ان کے بارہ میں مختلف بہت مشائخ کرام ان کے ذبیحہ کو حرام فرماتے ہیں یہاں تک کہ کہا گیا اسی پر فتوٰی ہے، مگر ظاہر الروایہ اطلاق حل ہے
والتحقیق فی سیرفتاوٰنا
(اور ہمارے فتاوٰی کے باب سیر میں اس کی تحقیق ہے۔ ت) بہرحال اس قدر ضروری ہے کہ مسلمان کو ان کے ذبیحہ سے احتراز چاہئے ،
بلکہ مجمع الانہر میں ہے:
النصارٰی فی زماننا یصرحون بالابنیۃ قبحم اﷲ تعالٰی، وعدم الضرورۃ متحقق، والاحتیاط واجب لان فی حل ذبیحتہم اختلاف العلماء کما بیناہ فالا خذ بجانب الحرمۃ اولی ۲؎۔
ہمارے زمانے میں نصرانی عیسٰی علیہ السلام کی ابنیت کی تصریح کرتے ہیں اللہ تعالٰی ان کو قبیح کرے جبکہ عدم ضرورت بھی متحقق ہے اور واجب ہے کیونکہ ان کے ذبیحہ میں علماء کا اختلاف ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے لہذاحرام ہونے کا پہلو اولٰی ہے۔ (ت)
(۲؎ مجمع الانہر کتاب النکاح باب المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۲۸)
پھریہ بھی اس حالت میں ہے کہ وہ ذبح بطور ذبح کریں ورنہ جانور کو گلا گھونٹ کرمارڈالا، یا گلے میں ایک طرف چھری بھونک دی رگیں نہ کاٹیں جیسا کہ فقیر نے جہاز میں بچشم خود معائنہ کیا تو اس کے حرام قطعی ہونے میں اصلا کلام نہیں کہ ایسا مقتول تو مسلمان کے ہاتھ کا بھی مردار ہے نہ کہ کافر کا، اور جو شخص جانور کو دبائے، یا ہاتھ پاؤں پکڑے ایسے مددگار پر تکبیر ضرور نہیں، نہ اس کے ہندو وغیرہ ہونے سے کچھ حرج کہ وہ ذابح نہیں، ہاں جو نفس فعل ذبح میں مدد دے یعنی ذابح کا ہاتھ مثلا کمزور تھا اس نے بھی اس کے ساتھ چھری پر ہاتھ رکھ کر پھیرا کہ دونوں کے فعل سے ذبح واقع ہوا، تو ایسی حالت میں دونوں پر تکبیر لازم ہے۔ ان میں جو قصدا تکبیر نہ کہے گا یا حرام الذبیحۃ مثلا ہندو، مجوسی، مرتد ہوگا تو جانور حرام مردار ہوجائے گا،
درمختارمیں ہے:
تشترط التسمیۃ من الذابح ۱؎
(ذابح کا تسمیہ پڑھنا شرط ہے۔ ت)
(۱؎ درمختار کتاب الذبائح مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۸)
اسی میں ہے:
ارادالتضحیۃ فوضع یدہ مع یدالقصاب فی الذبح واعانہ علی الذبح سمی کل وجوبا فلو ترکہا احدہما اوظن ان تسمیۃ احد ہما تکفی حرمت ۲؎۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
قربانی کے ارادے سے اپنا ہاتھ قصاب کے ہا تھ کے ساتھ ذبح کرنے میں شریک کیا اورذبح میں مدد کی تو دونوں پر بسم اللہ پڑھنا واجب ہے اگر ایک نے پڑھنا ترک کیا یا یہ خیال کیا کہ ایک کا پڑھنا کافی ہے تو ذبیحہ حرام ہوگا واللہ سبحانہ وتعالٰی (ت)