فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
35 - 126
اقول: وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی اوج التحقیق
( میں کہتاہوں اور اللہ تعالٰی کی توفیق سے ہی تحقیق کی بلندی تک وصول ہے۔ ت) علماء کی ان زیادت سے ظاہر ہوگیا کہ سات میں حصر مقصود نہ تھا۔
بلکہ صرف باتباع نظم حدیث ونص امام ان پر اقتصار واقع ہوا، اور خود ان علمائے زائدین نے بھی قصد استیعاب نہ فرمایا، یہ امر انھیں عبارات مذکورہ سے ظاہر ، اور اس پر دوسری دلیل واضح یہ کہ جگر وطحال وگوشت کے خون گنے اور (۱۳) خون قلب چھوڑ گئے حالانکہ وہ قطعا ان کے مثل ہے۔ یہاں تک کہ عتابیہ وخزانۃ وقنیہ وغیرہامیں اس کی نجاست پر جزم کیا، اور اسی طرح امام برہان الدین فرغانی صاحب ہدایہ نے کتاب التجنیس والمزید میں فرمایا، اگرچہ روضہ ناطفی ومراقی الفلاح ودرمختار وردالمحتار وغٖیرہا اسفار میں طہارت کو مختار رکھا، اور ظاہر ہے کہ نجاست مثبت حرمت ہے اور طہارت مفید حلت نہیں ،
حلیہ میں ہے:
فی القنیۃ دم قلب الشاۃ نجس والیہ مال کلام صاحب الہدایۃ فی التجنیس وفی خزانۃ الفتاوٰی دم القلب نجس ودم الکبد والطحال لا ۱؎۔
قنیہ میں ہے بکری کے دل کا خون نجس ہے۔ تجنیس میں صاحب ہدایہ کا میلان اسی طرف ہے۔ اور خزانۃ الفتاوٰی میں ہے کہ دل کا خون نجس ہے تلی اور جگر کا خون نجس نہیں ہے۔ (ت)
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
رحمانیہ میں ہے:
فی العتابیۃ دم القلب نجس، ودم الکبد والطحال لا ۲؎۔
عتابیہ میں ہے دل کا خون نجس ہے۔جگر اور تلی کا خون نجس نہیں ۔ (ت)
(۲؎ رحمانیہ )
اورنیز عدم حصر پر ایک اور دلیل قاطع یہ ہے کہ عامہ کتب میں دم مسفوح، اور ان کتابوں میں دم لحم وکبد وطحال کو شمار کیا، تو اس سے واضح کہ کلام اعضاء سے اخلاط تک متجاوز ہوا، اور بیشک اخلاط سے (۱۴) مرہ بھی ہے یعنی وہ زرد پانی کہ پتہ میں ہوتا ہے جسے صفر کہتے ہیں، اور ہمارے علماء کتاب الطہارۃ میں تصریح فرماتے ہیں کہ اس کا حکم مثل پیشاب کے ہے، بلکہ بعض نے تو مثل خون کے ٹھہرایا،
درمختار میں ہے:
مرارۃ فی حیوان کبولہ ۳؎
(حیوان کا پتہ پیشاب کی مانند ہے۔ ت)
(۳؎ درمختار کتاب الطہارۃ باب الاستنجاء مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۵۷)
حلیہ میں ہے:
قیل مرارۃ الشارۃ کالدم وقیل کبولہا خفیفۃ عندھما ، طاہرۃ عند محمد ۴؎۔
بعض نے کہا ہے پتہ جانور کا خون کی طرح ہے۔ بعض نے کہا پیشاب کی طرح ہے۔ شیخین کے نزدیک نجاست خفیفہ ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک پاک ہے۔ (ت)
(۴؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
بہر حال کھانا اس کا بیشک ناجائز ہے
کما ھوالمذہب فی البول
(جیسا کہ پیشاب کے بارے میں ان کا مذہب ہے۔ ت) باوجود اس کے یہاں شمار میں نہ آیا، یونہی اخلاط سے بلغم ہے کہ جب براہ بینی مند فع ہو، جیسے بھیڑ وغیرہ میں مشاہد ہے۔ اسے عربی میں مخاط اور فارسی میں آب بیتی کہتے ہیں، (۱۵) اس کا کھانا بھی یقینا ناجائز،
صرح بہ فی العقود الدریۃ تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ
(یہی تصریح عقود الدریۃ تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ میں ہے۔ ت) یہ بھی یہاں غیر معدود اور منجملہ دماء، (۱۶) وہ خون بھی ہے جو رحم میں نطفہ سے بنتاہے منجمد ہوکر علقہ نام رکھا جاتاہے۔ وہ بھی قطعا حرام۔
نہایہ وتبیین الحقائق وردالمحتار وغیرہامیں ہے:
العلقۃ والمضغۃ نجسان کالمنی ۱؎۔
علقہ (منجمد خون) اور مضغہ (ابتداء تخلیق کا خون اور لوتھڑا) منی کی طرح ناپاک ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار بحوالہ نہایہ وزیلعی کتاب الطہارۃ باب الانجاس داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۰۸ )
یہ بھی نہ گنا گیا، تو واضح ہوگیا کہ عامہ کتب میں لفظ سبع (سات) صرف باتباع حدیث ہے۔ جس طرح کتب کثیرہ میں شاۃ (بکری) کی قید،
(جیسا کہ تنویر الابصاراور مغنی المستفتٰی سے گزرا، اور اس کی مثل ان کے غیر میں ہے۔ ت) حالانکہ حکم صرف بکری سے خاص نہیں، یقینا سب جانوروں کا یہی حکم ہے،
حاشیہ طحطاوی میں ہے:
قولہ من الشاۃ ذکر الشاۃ اتفاقی لان الحکم لا یختلف فی غیرہا من الماکولات ۲؎۔
بکری کاذکر اتفاقی ہے کیونکہ دوسرے جانورں کے ماکولات میں فرق نہیں(ت)
(۲حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار مسائل شتی دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۳۶۰)
تو جیسے لفظ شاۃ محض باتباع حدیث واقع ہوا، اور اس کا مفہوم مراد نہیں، یونہی لفظ سبع اور اہل علم پر مستتر نہیں کہ استدلال بالفحوٰی یا اجرائے علت منصوصہ خاصہ مجتہد نہیں،
کما نص علیہ العلامۃ الطحطاوی تبعا لمن تقدمہ من الاعلام
(جیسا کہ اس پر علامہ طحطاوی نے اپنے گزرے ہوئے بزرگوں کی اتباعی میں نص کی ہے۔ ت) اور یہاں خود امام مذہب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اشیاء ستہ کی علت کراہت پر نص فرمایا کہ خباثت ہے۔ اب فقیر متوکلا علی اللہ تعالٰی کوئی محل شک نہیں جانتا کہ دُبر یعنی پاخانے کا مقام، کرش یعنی اوجھڑی ،امعاء یعنی آنتیں بھی اس حکم کراہت میں داخل ہیں، بیشک دُبرفرج وذکر سے اور کرکش وامعاء مثانہ سے اگر خباثت میں زائد نہیں تو کسی طرح کم بھی نہیں، فرج وذکر اگر گزر گاہ بول ومنی ہیں دُبرگزر گاہ سرگین ہے، مثانہ اگر معدن بول ہے شکنبہ و رودہ مخزن فرث ہے اب چاہے اسے دلالۃ النص سمجھئے خواہ اجرائے علت منصوصہ، الحمدللہ بعد اس کے فقیر نے ینابیع سے تصریح پائی، کہ امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے دبر کی کراہت پر تنصیص فرمائی،
رحمانیہ میں ہے:
فی الینابیع کرہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من الشاۃ سبعۃ اشیاء الذکر والانثیین والقبل والدبر والغدۃ و المثانۃ والدم، قال ابوحنیفۃ الدم حرام بالنص، والستۃ نکرہہا لانہا تکرہہا الطبائع ۱؎۔
ینابیع میں کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے بکری کے سات اجزاء ذکر ،خصیے، مادہ کی شرمگاہ، پاخانہ کی جگہ، غدود، مثانہ اور خون کو مکروہ فرمایا، اور امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: خون نص کے ذریعہ حرام اور باقی چھ کو ہم مکروہ سمجھتے ہیں کیونکہ طبائع ان سے نفرت کرتے ہیں۔ (ت)
(۱؎ رحمانیہ)
(۲۰) وہ گوشت کا ٹکڑا جو رحم میں نطفہ سے بنتا ہے جسے مضغہ کہتے ہیں، اجرائے حیوان سے ہے۔ اور وہ بھی بلا شبہ حرام عام ازیں کہ مخلقہ ہویا غیر مخلقہ، یعنی ہنوز اس میں اعضاء کی کلیاں پھوٹی ہوں یا صرف لوتھڑا ہو،
فقد اسلفنا عن السغناقی والزیلعی والشامی انہا نجسۃ، ومعلوم ان کل نجس حرام، وقد قال فی الہدایۃ فی الجنین التام الخلقۃ انہ جزء من الام حقیقۃ لانہ متصل بہا حتی یفصل بالمقراض ۲؎ الخ قلت ویدل علیہ صحۃ الاستثناء وہو حقیقۃ فی الاتصال واذا کان ذٰلک کذالک فالمضغۃ اولی بالجزئیۃ ، وہذا یدل ان السبع لم تستوعب الاجزاء، فضلا من الاخلاط اخوات الدماء۔
ہم سغناقی، زیلعی اور شامی سے پہلے نقل کرچکے ہیں کہ وہ نجس ہے۔ اور ہر نجس کا حرام ہونا معلوم ہے اور ہدایہ میں فرماچکے ہیں کہ ماں کے پیٹ میں مکمل خلقت بچہ ماں کا جز ہے کیونکہ وہ حقیقی جز ہے حتی کہ اس کو کاٹ کر جدا کیا جاتا ہے، میں کہتاہوں اور اس پر استثناء کی صحت دلالت کرتی ہے اور استثناء کی حقیقت اتصال ہے تو جب معاملہ یوں ہے تو مضغہ بطریق اولٰی ماں کا جز ہے۔ اس سے اس بات پر دلالت ہے کہ سات کا عدد پورے اجزاء کو شامل نہیں چہ جائیکہ خون کی آمیزش سے پیدا ہونے والے امور کو شامل ہوں۔ (ت)
(۲؎ الہدایہ کتاب الذبائح مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۳۸)
(۲۱) ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک بچہ تام الخلقۃ بھی کہ من وجہ جز و حیوان ہے
یتصل بالام ویتغذی بغذائہا ، ویتنفس بتنفسہا
(ماں سے متصل ماں کی ماں کی غذا سے اور اس کی سانس سے سانس پاتاہے۔ ت) حرام ہے خواہ اس کے پوست پر بال آئے ہوں یا نہیں، مگر جبکہ زندہ نکلے اور ذبح کرلیں،
جس نے اونٹنی یا گائے ذبح کی تو اس کے پیٹ میں بچہ مردہ ہو تونہ کھایا جائے اس پر بال ہوں یا نہ ہوں۔ (ت)
(۱؎ الہدایۃ کتاب الذبائح مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۳۸)
شامی میں علقہ ومضغہ کی نجاست لکھ کر فرماتے ہیں:
وکذا الولد اذالم یستہل ۲؎
(یونہی بچہ جب نہ چیخے۔ ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب الانجاس داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۰۸)
(۲۲) یونہی نطفہ بھی حرام ہے خواہ نر کی منی مادہ کے رحم میں پائی جائے یا خود اسی جانور کی منی ہو، ردالمحتارمیں ہے:
فی البحروالتتارخانیۃ ان منی کل حیوان نجس ۳؎۔
بحر اور تتارخانیہ میں ہے کہ ہر حیوان کی منی نجس ہے۔ (ت)
(۳؎ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب الانجاس داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۰۸)
اب سات کے سہ گونہ سے بھی عددبڑھ گیا اور ہنوز اور زیادات ممکن وہ سات اشیاء حدیث میں آئیں، اور پانچ چیزیں کہ علماء نے بڑھائیں، اور دس فقیر نے زیادہ کیں، ان بائیس مسائل اور باقی فروع وتفاریع سب کی تفصیل تام وتحقیق تمام فقیر کے رسالہ