Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
34 - 126
وما اﷲ بغافل عما تعملون ۳؎۔ واﷲ لایحب الفساد ۴؎۔
اللہ تعالٰی غافل نہیں اس سے جو تم کرتے ہو، اور اللہ تعالٰی فساد کو پسندنہیں فرماتاہے۔ (ت)
 (۳؎ القرآن الکریم      ۲/ ۸۵)(۴؎ القرآن الکریم      ۲/ ۲۰۵)
پس صورت مستفسرہ میں وہ ذبیحہ قطعا حلال ہے، اور اس فقیر اور اس کے ساتھ والوں نے لحم مذکی کھایا  نہ مردار، فقہائے کرام نے خاص اس جزئیہ کی تصریح فرمائی کہ مثلا مجوسی نے اپنے آتشکدے یامشرک نے اپنے بتوں کے لئے مسلمان سے بکری ذبح کرائی اور اس نے خدا کا نام پاک لے کر ذبح کی بکری حلال ہے۔ کھائی جائے،
فتاوٰی عالمگیری وفتاوٰی تاتارخانیہ و جامع الفتاوٰی میں ہے:
مسلم ذبح شاۃ المجوسی لبیت نارہم، اوالکافر لالہتہم توکل، لانہ سمی اﷲ تعالٰی ۵؎۔
مسلمان نے مجوسی کی بکری اس کے اتشکدہ کے لئے یا کافر کی بکری ان کے بتوں کےلئے اللہ تعالٰی کے نام سے ذبح کی تو وہ کھائی جائے کیونکہ مسلمان نے اللہ تعالٰی کے نام کو ذکر کیا ہے۔ (ت)
 (۵؎ فتاوٰی ہندیۃ     بحوالہ التتارخانیہ عن جامع الفتاوی کتاب الذبائح     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۲۸۶)
البتہ مسلمان کے لئے اس صورت میں کراہت لکھتے ہیں، ہندیہ میں عبارت مذکورہ کے بعد ہے:
ویکرہ للمسلم ۱؎
 (مسلمان کے لئے کراہت ہے۔ ت) ظاہر ہے کہ مسلمان کو ایسا فعل کرنا نہ تھا کہ اس میں بظاہر گویا اس کافر کا کام پورا کرنا اور اس کے زعم میں اس کے قصد مذموم کا آلہ بننا ہے، اگر چہ حقیقت امر بالکل اس کے مباین ہے کما لایخفی (جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ ت) بالجملہ اس مسئلہ میں حق یہ ہے کہ یہاں صرف وقت ذبح قول ونیت ذابح کااعتبار ہے۔ اگر ذابح مسلم نے اللہ ہی کے لئے ذبح کیا اور وقت ذبح اللہ ہی کا نام لیا تو ذبیحہ قطعا حلال ۔ اگر چہ مالک نے کسی کے نام پر مشہور کررکھا ہو۔
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ         کتاب الذبائح     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۲۸۶)
قال اﷲتعالٰی ومالکم ان لا تاکلوا مما ذکر اسم اﷲ علیہ ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: تمھیں کیا ہوا کہ تم اللہ تعالٰی کے نام پر ذبیحہ کو نہیں کھاتے۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم        ۶ /۱۱۹)
یوں ہی کتابی کا ذبیحہ، اگر وقت ذبح خالص نام خدالے۔
قال تعالٰی طعام الذین اوتوا الکتب حل لکم ۳؎۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
اللہ تعالی نے فرمایا: اہل کتاب کا طعام تمھارے لئے حلال ہے، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۳؎القرآن الکریم              ۵/۵)
مسئلہ ۸۸:  کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ میں کہ کھال مذبوح حلال مثل گائے، بھینس، بکری، مرغ وغیرہ کے حلال ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: مذبوح حلال جانور کی کھال بیشک حلال ہے۔ شرعا اس کا کھانا ممنوع نہیں اگر چہ گائے ، بھینس بکری کی کھال کھانے کے قابل نہیں ہوتی۔
فی الدرالمختار اذا ماذکیت شاۃ فکلہا ÷ سوی سبع ففیہن الوبال ، فحاء ثم خاء ثم غین ÷ ودال ثم میمان وذال ۴؎ انتہی فالحاء الحیاء وھو الفرج، والخاء الخصیۃ، والغین الغدۃ، والدال الدم المسفوح، والمیمان المرارۃ والمثانۃ، والذال الذکر۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
درمختارمیں ہے جب بکری ذبح کی گئی تو سات اجزاء جن میں وبال ہے کے ماسوا کو کھاؤ، ساتھ یہ ہیں: ح، پھرخ، پھر غ، اور د، پھر دو میم، اور ذ انتہی حا حیاء کی وہ شرگاہ، خاء خصیہ کی، غین غدود کی، دال دم مفسوخ کی، اور دومیم مرارہ (پتہ) اور مثانہ، اور ذال ذکر ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۴؎ درمختار      مسائل شتی    مطبع مجتائی دہلی  ۲ /۳۴۹)
مسئلہ ۸۹:  کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بدن حیوان ماکول اللحم میں کیا کیا چیزیں مکروہ ہیں؟ بینوا توجروا
الجواب سات چیزیں تو حدیثوں میں شمار کی گئیں: (۱) مرارہ یعنی پتہ (۲) مثانہ یعنی پھکنا (۳) حیاء یعنی فرج (۴) ذکر (۵) انثیین (۶) غدہ (۷) دم یعنی خون مسفوح۔
اخرج الطبرانی فی المعجم الاوسسط عن عبداﷲ بن عمرو ابن عدی ۔ والبیہقی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یکرہ من الشاۃ سبعا المرارۃ والمثانۃ والحیاء والذکر والانثیین والغدۃ والدم وکان احب الشاۃ الیہ مقدمہا ۱؎۔
طبرانی نے معجم الاوسط میں عبداللہ بن عمرو اور ابن عدی سے اور بیہقی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ذبیحہ جانور کے سات اجزاء کو مکروہ فرماتے تھے  سات یہ ہیں: مرارہ (پتہ) مثانہ، حیاء (شرمگاہ) ذکر، خصیے، غدود اور خون، اور آپ کوبکری ذبیحہ کا مقدم حصہ پسند تھا۔ (ت)
 (۱؎ المعجم الاوسط        حدیث ۹۴۸۶     مکتبۃ المعارف ریاض    ۱۰ /۲۱۷)
ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: خون تو حرام ہے کہ قرآن عظیم میں اس کی تحریم منصوص ، اور باقی چیزیں میں مکروہ سمجھتاہوں کہ سلیم الطبع لوگ ان سے گھن کرتے ہیں اور انھیں گندی سمجھتے ہیں، اور اللہ تعالٰی فرماتاہے
ویحرم علیہم الخبائث ۲؎
یہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان پر سب گندی چیزیں حرام فرمائیگا،
 (۲؎ القرآن الکریم      ۷ /۱۵۷)
حاشیہ طحطاوی میں ہے:
قال ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ اما الدم فحرام بالنص واکرہ الباقیۃ لانہا مما تستخبثہ الانفس ۱؎۔ قال اﷲ تعالٰی ویحرم علیہم الخبٰئث ۲؎۔
امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا لیکن خون تو وہ حرام ہے  قرآنی نص سے ثابت ہے اور باقی کو میں مکروہ تحریمہ سمجھتاہوں کیونکہ ان سے نفوس نفرت کرتے ہیں اور جبکہ اللہ تعالٰی نے فرمایا ویحرم علیہم الخبائث (ت)
 (۱؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار    مسائل شتی        دارالمعرفۃ بیروت    ۴ /۳۶۰)

(۲؎ القرآن الکریم    ۷ /۱۵۷)
اسی طرح ینابیع میں ہے کما سیأتی (جیسا کہ عنقریب آئے گا۔ ت) اور مختار ومعتمدیہ ہے کہ کراہت سے مراد کراہت تحریمی ہے یہاں تک کہ امام ملک العلماء ابوبکر مسعود کا شانی قدس سرہ نے بلفظ حرمت تعبیر کی۔
عالمگیری میں ہے:
اما بیان مایحرم اکلہ من اجزاء الحیوان سبعۃ الدم المسفوح والذکر و الانثیان والقبل والغدۃ والمثانۃ والمرارۃ ۳؎۔
لیکن یہ بیان کہ حیوان کے اجزاء میں سے جن کا کھانا حرام ہے وہ سات ہیں: بہنے والا خون، ذکر، خصیے، شرمگاہ ، غدود، مثانہ اور پتہ (ت)
 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ    بحوالہ البدائع کتاب الذبائح البا ب الثالث نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۲۹۰)
تنویر الابصار میں ہے:
کرہ تحریما من الشاۃ سبع ، الخ ۴؎
بکری کے سات اجزاء مکروہ تحریمی ہیں الخ (ت)
 (۴؎ درمختار شرح تنویر الابصار     مسائل شتی             مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۳۴۹)
درمختار میں ہے:
وقیل تنزیہا والاول اوجہ ۵؎۔
بعض نے کہا مکروہ تنزیہی ہیں جبکہ پہلا قول زیادہ معتبر ہے۔ (ت)
 (۵؎درمختار شرح تنویر الابصار     مسائل شتی             مطبع مجتبائی دہلی  ۲ /۳۴۹)
ردالمحتارمیں ہے:
وہو ظاہر اطلاق المتون الکراہۃ۶؎۔
یہی ظاہر ہے کہ متون نے کراہت کو مطلق ذکر کیا۔ (ت)
 (۶؎ ردالمحتار        مسائل شتی    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۴۷۷)
مغنی المستفتی عن سوال المفتی میں ہے:
المکروہ تحریما من الشاۃ سبع ۷؎ الخ۔
بکری کے سات اجزاء مکروہ تحریمی ہیں۔ (ت)
(۷؎ مغنی المستفتی عن سوال المفتی)
یہ تو سات  بہت کتب مذہب، متون وشروح وفتاوٰی میں مصرح اور علامہ قاضی بدیع خوارزمی صاحب غنیہ الفقہاء وعلامہ شمس الدین محمد قہستانی شارح نقایہ وعلامہ محمد سیدی احمد مصری محشی درمختار وغیرہم علماء نے دو چیزیں اور زیادہ فرمائیں (۸) نخاع الصلب یعنی حرام مغز اس کی کراہت نصاب الاحتساب میں بھی ہے (۹)گردن کے دو پٹھے جو شانوں تک ممتد ہوتے ہیں، اور فاضلین اخیرین وغیرہما نے تین اور بڑھائیں (۱۰) خون جگر (۱۱) خون طحال (۱۲) خون گوشت یعنی دم مسفوح نکل جانے کے بعد جو خون گوشت میں رہ جاتاہے۔
بحرالمحیط میں ہے:
الغدد والذکروالانثیان والمثانۃ و العصبان اللذان فی العنق والمرارۃ والقصید مکروہ ۱؎ اھ ملخصا۔
غدود، ذکر، خصیے، مثانہ، گردن کے دو پٹھے، پتہ، پیٹھ کاگودا مکروہ ہیں اھ ملخصا (ت)
 (۱؎ جامع الرموز بحوالہ المحیط    کتاب الذبائح    مکتبہ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۳/ ۳۵۱)
جامع الرموز میں اس کے بعد ہے:
وکذا الدم الذی یخرج من اللحم والکبد والطحال ۲؎۔
یوں ہی وہ خون جو گوشت، جگر اور تلی سے نکلے (ت)
 (۲؎جامع الرموز بحوالہ المحیط    کتاب الذبائح    مکتبہ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران      ۳/ ۳۵۱)
ذبائح الطحطاوی میں ہے:
الذکر والانثیان والمثانۃ والعصبان اللذان فی العنق والمرارۃ تحل مع الکراہۃ، وکذا  الدم  الذی یخرج من اللحم والکبد والطحان دون الدم المسفوح، وھل الکراہۃ تحریمیۃ اوتنزیہیۃ قولان ۳؎۔
ذکر، خصیے، مثانہ، گردن کے دو پٹھے، پتہ کراہت کے ساتھ حلال ہیں، اسی طرح وہ خون جو گوشت، جگر اور تلی سے نکلے جو بہنے والے خون سے بچا ہوا ہو ، اور کیا یہ کراہت تحریمی یا تنزیہی دو قول ہیں (ت)
(۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الذبائح    دارالمعرفۃ بیروت        ۴/ ۱۵۷)
اسی میں مسائل شتی میں ہے:
و زید نخاع الصلب ۴؎
 (اور مزید پیٹھ کا گودا۔ ت)
 (۴؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    مسائل شتی     مکتبہ عربیہ کوئٹہ        ۴/ ۳۶۰)
Flag Counter