Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
33 - 126
مسئلہ ۸۴ و ۸۵: از ڈیرہ اسمٰعیل خاں ملک وزیر ستان چھاؤنی ٹانک پوسٹ کرگٹی ورکس کمپنی مرسلہ مولوی اکبر حسین صاحب اسٹون ۲۶۰۴      ۱۳رمضان ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں: لوہے کی پتی کی  چھری بنی ہو، نہ اس میں دستہ ہو نہ دستہ کی جگہ پر کوئی سوراخ ہو، اس سے ذبح کرنا درست ہے یانہیں؟ یہ جگہ فیلڈ ہے اور گرمی بہت سخت اور دھوپ میں کام کرنا پڑتاہے۔ یہاں روزہ رکھنا چاہئے یانہیں؟
الجواب: اگر اس میں کسی طرف دھار رکھی گئی ہو جیسے چھُری میں، تو دھار سے ذبح جائز ہے، اور دھار نہ ہوتو ذبح ناممکن اور جانور مردار ہوجائے گا،
نص علیہ الامام النسفی فی الکافی
(اس پر امام نسفی نے کافی میں نص فرمائی ہے۔
اگر دھوپ میں کام کرنے کے ساتھ روزہ ہوسکے اور آدمی مقیم ہو مسافر نہ ہو تو روزہ فرض ہے اور اگر نہ ہوسکے روزہ رکھنے سے بیمار پڑ جائے، ضرر قوی پہنچے، تو مقیم غیر مسافر کو ایسا کام کرنا حرام ہے۔ اگر ترک پر قدرت نہ ہو اور کسی طرح نہ ممکن ہو قضا رکھے، واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۸۶: از سرنیا ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۲ رجب ۱۳۳۱ھ

کوئی جانور دیوار سے دب گیا، گردن مٹی سے دب گئی، تو کس ترتیب سے ذبح کرے؟
الجواب: اگر اندیشہ ہے کہ نکالنے تک اس کا دم نکل جائے گا، تو جہاں چاہے تکبیر کہہ کر خون نکال دے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۷: مرسلہ مولانا مولوی محمد وصی احمد صاحب محدث سورتی پیلی بھیت ۱۴ ذی الحجہ ۱۳۰۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک بھنگی نے ظاہر کے نام کا بکرا مانا، اسے ایک فقیر مسلمان نے بھنگی کے گھر جاکر ذبح کیا اور اس کا کلیجہ نکال کر بھونا، اور اس فقیر کے ہمراہ چار مسلمان اور تھے، پانچوں نے کھایا، فقیر کافر ہوا یامسلمان رہا؟ مرتکب حرام ہوا یا نہیں؟ اور بقیہ آکلین کاکیا حکم ہے؟ اور یہ ذبیحہ حلال ہے یاحرام؟ مثل میت ہے یا ا س سے کچھ اوترتا؟ اور جو اس ذبیحے کو حلال بتائے وہ برتقدیر حرمت کافر ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: ذابح اگر غیر خدا کے نام پرذبح کرے یعنی وقت ذبح جس طرح تکبیر کا حکم ہے یہ غیر خدا کانام لے مثلا بسم اللہ کی جگہ باسم فلاں کہے تو ذبیحہ قطعا حرام ،
قال اﷲ تعالٰی وما اہل بہ لغیر اﷲ ۱؎
 (اللہ تعالٰی نے فرمایا: جس کو غیراللہ کے نام پر ذبح کیاگیا ۔ ت)
 (۱؎ القرآن الکریم            ۲/ ۱۸۳)
اسی طرح اگر مسلمان (عہ) کلمہ گو نے اس ذبح سے غیر خدا کی عبادت کا قصد کیا اور اہل اسلام اراقۃ دم لوجہ اللہ سے جس طرح کا تقرب اللہ جل جلالہ کی طرف چاہتے ہیں ، اس نے اس ذبح سے اسی نوع کا تقرب غیر خدا کی طرف چاہا، تو بھی حرمت ذبیحہ میں کلام نہیں ، اگر چہ اس پر زبان سے خالص تکبیر ہی کہی ہو کہ جب اس نے غیر خدا کو معبود قرار دیا یا اس ذبح سے اس کی عبادت کا قصد کیا مرتد ہوگیا اور مرتد کا ذبیحہ حلال نہیں،
عہ:  خصصت الکلام بالمسلم لان المشرک لاتحل ذبیحتہ مطلقا وان سمی اﷲ تعالٰی وقصد بہ التقرب الیہ وحدہ وعزوجل والکتابی تحل ذبیحتہ اذا سمی اﷲ تعالٰی وحدہ وان قصد بہ التقرب الی غیرہ تعالٰی، قال النیشاپوری فی تفسیرہ قال مالک والشافعی وابوحنیفۃ و اصحابہ، اذا ذ بحوا علی اسم المسیح فقد اہلوا بہ لغیر اﷲ فوجب ان یحرم، واذا ذبحوا علی اسم اﷲ فظاہر اللفظ یقتضی الحل ولا عبرۃ بغیر اللفظ ۱؎ اھ وقال فی الہندیۃ عن البدائع لو سمع منہ یعنی من الکتابی ذکر اسم اﷲ تعالٰی لکنہ عنی باﷲ تعالٰی وعزوجل المسیح علیہ السلام قالوا توکل الااذانص فقال بسم اﷲ الذی ہو ثالث ثلثۃ فلا یحل الخ ۲؎۔ اقول: والسرفیہ مااشرنا الیہ ان الکتابی لایخرج بہذا عن کونہ کتابیا فتحل اذا جرد التسمیۃ ﷲ تعالٰی کما ان المشرک لایخرج عن الاشراک بتجرید التسمیۃ فلا تحل وان سمی اﷲ تعالٰی اما المسلم لیخرج بہذا القصد عن الاسلام فلا تحل ہکذا ینبغی ان یفہم ہذا المقام ۱۲ منہ قدس سرہ العزیز۔
میں نے مسلمان کو خاص ذکر کیا کیونکہ مشرک اگرچہ اللہ وحدہ تعالٰی کے نام اور اسی کاتقرب حاصل کرنے کے لئے ذبح کرے تب بھی اس کا ذبیحہ حلال نہ ہوگا، اور اہل کتاب (یہودی یا عیسائی) اگر اللہ تعالٰی کے نام پر ذبح کرے تو اس کا ذبیحہ حلال ہوگا اگر چہ وہ غیر اللہ کے تقرب کے لئے ذبح کرے۔ علامہ نیشاپوری نے اپنی تفسیر میں فرمایا کہ امام مالک، شافعی، ابوحنیفہ او ران کے اصحاب نے فرمایا کہ اگر عیسائی مسیح کے نام پر ذبح کریں تو اس نے یقینا غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا، لہذا ضروری ہے کہ وہ ذبیحہ حرام ہو۔ اور اگر وہ اللہ تعالٰی کے نام پر ذبح کریں تو ظاہر الفاظ کے اعتبارپر وہ ذبیحہ حلال ہوگا اورغیر لفظ کا اعتبار نہ ہوگا اھ، ہندیہ میں فرمایا کہ بدائع میں ہے کہ اگر کتابی عیسائی سے ذبح کے وقت اللہ تعالٰی کا نام سنا لیکن اس نے اللہ تعالٰی سے مراد مسیح علیہ السلام کو لیا توفقہاء نے فرمایا کہ اس کا ذبیحہ کھایا جائے گا جب تک کہ صریح الفاظ میں یوں نہ کہے اللہ کے نام سے جو تین میں سے تیسرا ہے۔ اگر صریح طور پر ایسے کہے تب حرام ہوگا الخ اقول: (میں کہتاہوں) اس میں نکتہ یہ ہے جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے کہ عیسائی وکتابی خالص اللہ تعالٰی کا نام لینے اور مراد مسیح علیہ السلام لینے پر کتابی ہونے سے باہر نہ ہوگا، لہذا اس کا ذبیحہ حلال جس طرح مشرک خالص اللہ تعالٰی اور اسی کا تقرب مراد لینے سے شرک سے باہر نہ ہوگا لہذا اس کا ذبیحہ حلال نہ ہوگا جبکہ مسلمان غیر اللہ کا تقرب وعبادت مراد لینے پر اسلام سے باہر ہوجاتاہے لہذا وہ ذبیحہ حلال نہ ہوگا، اس مقام کو یوں سمجھنامناسب ہے ۱۲ منہ قدس سرہ العزیز (ت)
 (۱؎ غرائب القرآن (تفسیر النیسابوری)     تحت آیۃ ۲/ ۱۷۳    مصطفی البابی مصر     ۲/ ۷۲)

(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ    کتاب الذبائح الباب الاول     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۲۸۵)
مگر نازلہ مسئولہ سائل  ان صورتوں سے بری ہے کہ یہ تو یقینا معلوم کہ کوئی کلمہ گو ذبح کرتے وقت بسم اللہ کی جگہ باسم ظاہر ہر گز نہیں کہتا، نہ زنہار کسی مسلمان پر یہ گمان ہوسکتا ہےکہ وہ غیر خدا کی عبادت چاہے اور ظاہر واہر بھنگیوں وغیرہم کفا رکے باطل معبودان کو معاذاللہ معبود قرار دے ، تو لاجرم اس نے اللہ ہی کے نام ذبح کیا اور عبادت غیر خدا کا خیال بھی اس کے دل میں نہ آیا، بلکہ اصلا اس پر بھی کوئی دلیل نہیں کہ اس کی جان دینے سے فقیر مسلم اس معبود باطل کی مجرد تعظیم (جومثل تعظیم اہل دنیا بوجہ غناء انحائے تعظیم الہٰی سے نہیں ہوسکتی) منظور رکھی ہو، کہ مسئلہ ذبح عند قدوم الامیرکو اس سے تعلق ہوسکے، انصاف یہ ہے کہ اس طرح کے فقیروں کو صرف اپنے کھانے سے غرض ہوتی ہے، کافر بلاکر لے گیا انھوں نے تکبیرکہہ کر بطور مسلمانان ذبح کیا اور اپنے کھانے کے قابل کردیا، اس کے سوا انھیں دوسری نیت فاسد ہ کا مرتکب جاننا مسلمان پر نری بدگمانی ہے جو بنص قطعی قرآن حرام۔
قال اﷲ تعالٰی یایھا الذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو کہ کچھ گمان گناہ ہیں۔
 (۱؎ القرآن الکریم                ۴۹/ ۱۲)
وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایاکم والظن فان الظن اکذب ۱؎ الحدیث، رواہ الائمۃ مالک والبخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
 (رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا) گمان سے دور رہو کہ گمان سے بڑھ کر کوئی بات جھوٹی نہیں الحدیث (اس کو ائمہ مالک، بخاری، مسلم، ابوداؤد اور ترمذی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
 (۱؎ صحیح البخاری        کتاب النکاح باب لایخطب علی خطبۃ اخیہ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۷۷۲ و ۸۹۶)

(صحیح مسلم     کتاب البروالصلۃ باب تحریم الظن         قدیمی کتب خانہ کراچی   ۲/ ۳۱۶)

(جامع الترمذی ابواب البروالصلۃ باب ماجاء فی ظن السوء        امین کمپنی دہلی        ۲/ ۲۰)
اور دل کے ارادے پر حکم کرنا خصوصا ایسا کہ صراحۃً خلاف ظاہر وموہوم مضمحل بلکہ محض غلط باطل ہے، بیشک جرم عظیم ہے۔
قال اﷲ تعالٰی ولاتقف مالیس لک بہ علم ان السمع والبصروالفواد کل اولئک کان عنہ مسئولا ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: بے یقین بات کے پیچھے نہ پڑ بیشک کان ،آنکھ، دل سب سے سوال ہوناہے (ت)
 (۲؎ القرآن الکریم     ۱۷/ ۳۶)
وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم افلاشققت عن قلبہ حتی تعلم أقالہا ام لا ۳؎ اخرجہ مسلم عن اسامۃ بن زید رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
 (رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا) تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھا کہ دل کے عقیدے پر اطلاع پاتا (اس کو مسلم نے اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیاہے۔ ت)
 (۳؎ صحیح مسلم کتاب الایمان باب تحریم قتل الکافر بعد قولہ لا الٰہ الا اللہ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۶۸)
سیدی عارف باللہ احمد زروق روح اللہ تعالٰی روحہ فرماتے ہیں:
انما ینشؤا الظن الخبیث عن القلب الخبیث ۴؎ ذکرہ سیدی عبدالغنی النابلسی فی الحدیقۃ الندیۃ۔
خبیث گمان خبیث دل سے نکلتا ہے۔ (اس کو سیدی عبدالغنی النابلسی نے حدیقۃ الندیۃ میں ذکر کیا ہے۔ ت)
 (۴؎ الحدیقۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ الخلق الرابع والعشرون         مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۲/ ۸)
تفسیر کبیر میں فرمایا:
انما کلفنا بالظاہر لابالباطن فاذا ذبحہ علی اسم اﷲ وجب ان یحل ولا سبیل لنا الی الباطن ۱؎۔
ہم ظاہر کے مکلف میں باطن کے نہیں، تو جب اس نے اللہ تعالٰی کے نام پر ذبح کیا تو ضرور حلال ہوگا، ہمیں اس کے باطن کی طرف راہ نہیں ہے۔ (ت)
(۱؎ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) تحت آیۃ ۲/ ۱۷۳            المطبعۃ البہیۃ مصر    ۵/ ۲۳)
منیہ وذخیرہ وشرح وہبانیہ ودرمختار وغیرہ میں ہے:
انا لانسیئ الظن بالمسلم انہ یتقرب الی الادمی بہٰذاالنحر ۲؎۔
ہم مسلمان پر بدگمانی نہیں کرتے کہ اس نے اس ذبح سے کسی آدمی کا تقرب چاہا ہے۔ (ت)
 (۲؎ درمختار        کتاب الذبائح             مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۳۰)
دیکھو ائمہ دین وعلماء معتمدین کیونکر صاف تصریحیں فرماتے ہیں کہ ہمیں باطن کی طرف کوئی راہ نہیں ، ظاہر پر عمل کاحکم ہے۔ جب مسلمان نے خدا کانام لے کر ذبح کیا واجب ہوا کہ ذبیحہ حلال ہو، ہم مسلمان پر بدگمانی نہیں کرتے کہ اس نے ذبح سے آدمی کی طرف تقرب چاہاہو، جبکہ فقہائے عدول کے یہ اقوال خدا اور رسول کے وہ ارشاد ، تواب سوئے ظن پر بنا نہ کرے گا مگر خبیث الباطن کج نہاد،
Flag Counter