فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
32 - 126
مسئلہ ۸۳: از شہر بریلی محلہ بہاری پور مسئولہ جناب مولوی نواب سلطان احمد خاں صاحب زید مجدہم بتاریخ ۴ صفر المظفر قدسی ۱۳۳۰ھ
بندوق سے ایک ہرن شکار ہوا، چونکہ اس وقت چاقو یا چھری موجودنہ تھے، تو ایک سوار کو گاؤں کی طرف چھری لینے کو دوڑا یا اتنے میں ہرن قریب مرنے کے ہوگیا، توایک زمیندار سے جو اتفاقیہ وہاں موجود تھا درانتی جس سے چارہ کاٹا جاتا ہے، دندانہ دار ہوتی ہے لی گئی، اور ایک مرد عادل مسلمان نے ذبح کیا، اس شکار کو کھا یاگیا، اس پر چند لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ایسے آلہ سے ذبح کیا ہوا حرام ہے۔ تو یہ اعتراض ان کا بجاہے یا بیجاہے؟ بینوا توجروا
الجواب: درانتی بھی آلات ذبح سے ہے، ردالمحتارکتاب الصیدمیں ہے:
لو نصب شبکۃ وکان بہا اٰلۃ جارحۃ کمنجل وسمی علیہ وجرحہ حل عندنا کما لو رماہ بہا ۱؎ انتہی مختصرا۔
اگر ایسا جال لگایا جس کے ساتھ کوئی آلہ جارحہ لگا ہوا ہو مثلا منجل، اور بسم اللہ پڑھی ہو اور آلہ نے اسے زخمی کردیا تو ہمارے نزدیک حلال ہوجائے گا ، جیسا کہ آلہ جارحہ پھینکنے کی صورت میں حلال ہوجاتاہے۔ انتہی مختصرا۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الصید داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۳۰۲)
تاج العروس شرح قاموس میں ہے:
المنجل کمنبر حدیدۃ ذات اسنان یقضب بہا الزرع وقیل ھو مایقضبہ العود من الشجر ۲؎۔
منجل بروزن عنبر، وہ ایک دانتوں والا لو ہے کا آلہ (درانتی) ہے، اس کے ساتھ فصل کو کاٹا جاتاہے۔اور بعض نے کہا کہ اس کے ساتھ دخت کی ٹہنی کاٹی جاتی ہے۔ (ت)
(۲؎ تاج العروس شرح القاموس باب اللام فصل النون داراحیاء التراث العربی بیروت ۸/ ۱۲۸)
مگر اس سے ذبح کر نا ممنوع وگناہ ہے کہ بے سبب ایذا ہے۔ جیسے کند چھری یا اس سے بھی زائد، ذبائح الہندیہ میں محیط امام سرخسی سے ہے:
الکلیلۃ یجوز الذبح بہا ویکرہ ۳؎۔
کند چھری سے ذبح جائز ہے اور مکروہ ہے۔ (ت)
(۳؎فتاوٰی ہندیۃ کتاب الذبائح الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۸۷)
لیکن ایسی صورت میں کہ جانور مرا جاتاہے اور اس کے سو اکوئی آلہ نہیں، اجازت بعید نہیں۔
فان الضرورات تبیح المحذورات ۴؎۔ وربما یفیدہ قول الدرالمختار کل تعذیب بلا فائدہ، مثل قطع الراس والسلخ قبل ان تبرد ای تسکن عن الاضطراب ۵؎ اھ فہذا وان کان تعذیبا فلا فائدۃ بل للضرورۃ۔
ضروریات مباح کردیتی ہیں ممنوعات کو، اور درمختارکا قول اس کےلئے مفید ہے کہ سر دہونے سے قبل یعنی اضطراب ختم ہونے سے قبل جانور کا سرکاٹنا اور جانور کی کھال اتارنا مثلا یہ بےفائدہ عذاب ہے اھ تویہ اگرچہ بے فائدہ عذاب دینا ہے لیکن ضرورت کی وجہ سے ہے۔ (ت)
(۴؎ الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۱۸)
(۵؎ درمختار کتاب الذبائح مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۸)
پھر اگر رگیں کٹنے سے پہلے جانور میں مذبوح کی حیات سے زیادہ حیات باقی تھی جب تو بالاتفاق حلال ہوگیا، اور اس کا کھانا بے تامل روا، اور اس پر اعتراض محض باطل وبے جا، اور اگر آلہ کند تھا اور بہت سختی کرنی پڑی کہ اکثر رگیں کٹنے سے پہلے ہی دانتوں کی رگڑوں، صدموں سے اس کی روح فنا ہوگئی یا رہی تو صرف اتنی ہی رہی جو بعد ذبح ہوتی ہے کہ فقط موت کا تڑپنا باقی ہوتا ہے۔ اس کے بعد دو چار پہر جی نہیں سکتا، تو اس صورت میں یہاں کہ اور کوئی آلہ ملتا ہی نہ تھا اختلاف علماء ہے بعض فرماتے ہیں حرام ہوگیا، کہ ذکوٰۃ اختیاری یعنی رگوں کے کاٹنے سے اس کی موت نہ ہوئی، بلکہ سبب موت قطع عروق سے پہلے ہی متحقق ہولیا، اور بعض نے کہا حلال ہے جب آلہ میسر نہ تھا یہ بھی ایک زکوٰۃ اضطراری کی شکل میں آگیا ، اور رجحان موجود ہ جانب حرمت ہی پایا جاتاہے۔ اور اسی میں احتیاط ،
نقل المصنف ان من التعذر مالو ادرک صیدہ حیا او اشرف ثورہ علی الہلاک وضاق الوقت عن الذبح اولم یجد اٰلۃ الذبح فجرحہ حل فی روایۃ ۱؎۔
مصنف نے نقل کیا متعذر صورتوں میں یہ کہ شکار کو زندہ حالت میں پایا یا وہ موت کے قریب تھا، اور ذبح کرنے والے کو وقت کی تنگی تھی یا ذبح کا آلہ نہ پایا تو ایسی صورت میں اگر زخمی کردیا تو حلال ہوگا یہ ایک روایت ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الذبائح مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۹)
ردالمحتارمیں ہے:
الاولی ان یقول فی قولہ لان نقلہ المصنف عن القنیۃ معزوا الی بعض المشائخ وقال البعض الاٰخر لایحل اکلہ الا اذا قطع العروق ۔ افادہ ط ۲؎۔
روایت کی بجائے ایک قول کہنا مناسب ہے کیونکہ اس کو مصنف نے قنیہ سے بحوالہ بعض مشائخ نقل کیا ہے اور بعض دیگر نے کہا اس کا کھانا حلال نہیں جب تک اس کی رگیں نہ کاٹ دے، اس کا افادہ علامہ طحطاوی نے کیا۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۹۳)
اورہندیہ کی عبارت یہ ہے:
اشرف ثورہ علی الہلاک ولیس معہ الا مایجرح مذبحہ ولو طلب اٰلۃ الذبح لایدرک ذکاتہ فجرح لایحل، الا اذا قطع العروق قال القاضی عبدالجبار یحل ان جرحہ کذا فی القنیۃ ۱؎۔
جانور موت کے قریب ہے اور ذبح کرنیوالے کے پاس صرف ایسی چیز ہے جو ذبح والے مقام کو زخمی کرسکتاہے، اور اگر وہ ذبح کاآلہ تلاش کرے تو جانور مردار ہوجائے ایسی صور ت میں مقام ذبح کو زخمی کردینے سے حلال نہ ہوگا جب تک اس کی رگوں کو کاٹ نہ دے، قاضی عبدالجبار نے کہا ہے اگر زخمی کردیا جس سے موت واقع ہوئی تو حلال ہے یوں قنیہ میں ہے۔ (ت)
تنویر الابصارودرمختار وردالمحتار کتاب الصید میں ہے:
ان ادرکہ الرامی والمرسل حیا ذکاہ وجوبا، فلوترکہا حرم، وکذا یحرم لو عجز عن التذکیۃ (بان لم یجد اٰلۃ او لایبقی من الوقت مایمکن تحصیل الالۃ والا ستعداد للذبح) لان العجز عن التذکیۃ لایحل الحرام ۲؎ اھ ملتقطا۔ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم ۔
کتا چھوڑنے والے یا تیر مارنے والے نے شکار کو زندہ پایا تو اس کو ذبح کرنا واجب ہے اگر نہ کیا تو حرام ہوگا اور یونہی اس صور ت میں ذبح کرنے سے عاجز رہا تو بھی حرام ہوگا، عجز کی صورت یہ کہ ذبح کاآۤلہ نہ پائے یا اتنا وقت نہ پایا کہ آلہ حاصل کرسکے یا ذبح کی استعداد نہ پائے ، کیونکہ عجز حرام کوحلال نہیں کرتا اھ ملتقطا۔
واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم (ت)
(۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الصید مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۳)
(ردالمحتار کتاب الصید داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۳۰۳)