Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
31 - 126
مسئلہ ۷۸: از شہر گورکھپور محلہ اسمعیل پور مرسلہ محمد عبدالواسع صاحب حنفی ۳ ۲ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو شخص ذبیحہ کو ذبح کرتا ہو اور اس کے ساتھ دوسرا ایک او رجو شریک حال ہو کر ذبیحہ کے اعضاء پکڑے ہوئے ہے، اگر ذبحہ کرنے کے علاوہ یہ ایک اس کا شریک حال تکبیر نہ کہے تو کیا ذبیحہ حرام ہوجائے گا؟ یعنی کیا ذبح کرنے والا اور اس کے شریک حال دونوں کےلئے ذبح کے وقت تکبیر کہنا لازم وضروری ہے یانہیں؟
الجواب: ذبیحہ کاہاتھ پاؤں پکڑنے والا بندش کی رسی کی طرح ہے۔ اس پرتکبیر کچھ ضروری نہیں بلکہ وہ اہل تکبیر میں سے بھی ہونا ضروری نہیں، اگر مشرک یا مجوسی ہو جب بھی ذبیحہ میں فرق نہ آئے گا، وہ معین ذابح جس پر تکبیر کہنا ضرور ہے وہ ہے کہ ذابح کا ہاتھ ضعیف ہو تنہا اس کی قوت سے ذبح نہ ہوسکتاہو، یہ شخص نفس فعل میں اس کی امداد کرے اس کے ساتھ چھری پر ہاتھ رکھے اور ذبح دونوں قوتوں کے اجتماع سے واقع ہو ، اس حالت میں دونوں پر تکبیر لازم ہے۔ ایک بھی قصدا چھوڑے گا ذبیحہ مردار ہوجائے گا
لانہ اذا اجتمع المبیح والمحرم غلب المحرم
 (کیونکہ مباح کرنے والی اورحرام کرنیوالی دلیلیں جمع ہوں تو حرام کی دلیل کو غالب کیا جاتاہے۔ ت)
درمختارمیں ہے:
وتشترط التسمیۃ من الذابح حال الذبح ۱؎ اھ فدل علی عدم اشتراطہا من غیر الذابح۔
حالت ذبح میں ذبح کرنے والے کے لئے بسم اللہ پڑھنا شرط قرار دیا گیا ہے اھ تو یہ اس بات پر دلالت ہے کہ غیر ذابح کے لئے یہ شرط نہیں ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار    کتاب الذبائح    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۲۷)
ردالمحتارمیں ہے:
اذا کان الذابح اثنین فلو سمی احدہما و ترک الثانی عمدا حرم اکلہ کما فی التاترخانیۃ ۲؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
جب دو مل کر ذبح کریں توایک نے بسم اللہ پڑھی اور دوسرے نے قصدا ترک کی تو اس کا کھانا حرام ہے، جیسا کہ تاتارخانیہ میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم (ت)
 (۲؎ ردالمحتار    کتاب الذبائح        داراحیاء التراث العربی بیروت     ۵/ ۱۹۲)
مسئلہ ۷۹ و ۸۰: از چوہر کوٹ بارکھان ملک بلوچستان مرسلہ قادر بخش ۱۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ

چہ می فرمایند علمائے دیں دریں مسائل :

(۱) حکم ذبح فوق العقدہ نوشتہ شدہ بمن رسید، لیکن جناب اعلٰیحضرت فیصلہ ہانہ کردہ۔ ہمیں اختلاف دریں ملک بسیار ست، کسے می گوید کہ ہر چاررگ بریدہ شود، کسے می گوید کہ نہ، براہ کرم مولٰنا صاحب بکدام روایت قائل است، ہر چہ رائے مولوی صاحب واتفاق فتوٰی است، تحریر فرمایند تاکہ بر اں عمل درآمد کردہ باشد۔

(۲) بریتیم قربانی واجب ست یانہ؟
 (۱) علمائے دین کیا فرماتے ہیں ان مسائل میں :

(۱) فوق العقدہ (گھنڈی کے اوپر) ذبح کا حکم لکھا ہوامجھے ملا، لیکن جناب اعلٰیحضرت نے فیصلہ نہ فرمایا، اس ملک میں اس مسئلہ میں کثیر اختلاف ہے کوئی کہتاہے چاروں رگیں کٹی ہوئی ہونی چاہئیں، کوئی اس کے خلاف کہتاہے، برائے مہربانی مولوی صاحب جس روایت کے قائل ہوں اور جو رائے ہو اور فتوٰی کا جس پر اتفاق ہو وہ لکھیں تاکہ اس پر عمل کیا جائے۔ 

(۲) یتیم پر قربانی واجب ہے یانہیں؟
الجواب

(۱) اجماع ائمہ ماست کہ اگر سہ رگ بریدہ شود ذبیحہ حلال ست، وایں معنی بمشاہدہ یا رجوع باہل خبرت تواں دریافت، ہمیں درفتوٰی سابقہ نوشتہ شدہ وہمیں است فیصلہ علامہ شامی وردالمحتار، وانچہ یکبار برائے امتحان مشہور فقیر شد آنست کہ بذبح فوق العقد نیز رگہا بریدہ مے شود۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱) ہمارے ائمہ کرام کا اجماع ہے کہ اگر تین رگیں کٹ گئی ہوں تو ذبیحہ حلال ہے،یہ معیار شاہدہ سے یا ماہر سے دریافت کریں، پہلے فتوٰی میں یہی لکھا گیا تھا اور یہی فیصلہ علامہ شامی کا ردالمحتارمیں

ہے اور ایک بار اس فقیر نے بطور امتحان مشاہدہ کیا تو فوق العقدہ سے بھی تمام رگیں کٹی ہوئی تھیں، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۱ : از سرال ڈاکخانہ بشندور تحصل وضلع جہلم مرسلہ حافظ سجاد شاہ ۱۸ شعبان ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عقدہ مذبوح بطرف صدر ہوجائے توکیا حکم ہے،
قال عینی وذکر  العقدۃ لافی کلام اﷲ و لافی کلام رسول اﷲ عزوجل وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۱؎۔
علامہ عینی رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایا عقدہ (گھنڈی) کاذکر اللہ عزوجل اور سول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے کلام میں موجود نہیں ہے۔ (ت)
 (۱؎ البنایۃ فی شرح الہدایۃ         کتاب الذبائح    المکتب الامدادیۃ مکہ المکرمہ  ۴/ ۱۳۷)
اس مسئلہ میں تردد ہے۔
الجواب: کم از کم تین رگیں کٹنا لازم ہے، اگر عقدہ طرف را س رہا اور تین سے کم رگیں کٹیں مردار ہوگیا اور عقدہ طرف صدررہا اور ذبح بین اللبہ واللحیین ہوااور تین رگیں کٹ گئیں حلال ہوگیا،
ھو التحقیق الذی لایحل العدول عنہ
 ( یہی تحقیق ہے اس سے عدول نہ چاہئے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۲: از مدرسہ اسلامیہ عربیہ ریلوی ہمایوں پوسٹ پٹ میاں تعلقہ شکار پور ضلع سکھر مسئولہ محمد محسن علی ہاشمی مدرس اول ۸ شوال ۱۳۳۵ھ

چہ مے فرمایند علمائے عظام دریں مسئلہ کہ مذبوح فوق العقعدہ حلال ست یاحرام ؟ بینوا توجروا
کیا فرماتے ہیں علمائے عظام اس مسئلہ کہ فوق العقدہ ذبح کیا ہوا جانور حلال ہے یا حرام؟ بینوا توجروا (ت)
الجواب :قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الذکاۃ مابین اللبۃ واللحیین ۲؎۔ ولا شک ان مافوق العقدۃ مما یلیہا بین المحلین وکلام التحفۃ والکافی وغیرہما یدل علی ان الحلق یستعمل فی العنق کما فی ابن عابدین فتحریر العلامۃ عندی ما افادہ فی ردالمحتار اذ قال والتحریر للمقام، ان یقال ان کان بالذبح فوق العقدۃ حصل قطع ثلثۃ من العروق، فالحق ماقالہ شراح الہدایۃ تبعا للرستغفنی والا فالحق خلافہ اذا لم یوجد شرط الحل باتفاق اہل المذہب ، ویظہر ذٰلک بالمشاہدۃ اوسوأل اہل الخبرۃ فاغتنم ہذا المقال ودع عنک الجدال ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
حضو رصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ذبح لبہ اور دو جبڑوں کے درمیان ہے اور شک نہیں کہ مافوق العقدہ ان دونوں کے درمیان سے متصل ہے اور کافی اور تحفہ وغیرہما کاکلام دلالت کرتاہے کہ حلق کا استعمال گردن پر ہوتاہے جیسا کہ ابن عابدین کے کلام میں ہے تو علامہ ابن عابدین کا فیصلہ کن کلام میرے نزدیک معتبر ہے جس کا انھوں نے ردالمحتار میں افادہ کیا جب انھوں نے فرمایا: تحریر مقام یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ فوق العقدہ ذبح میں اگرتین رگوں کا کٹنا پایا گیا تو حق وہ ہے جو شراح ہدایہ نے رستغفنی کی اتباع میں کہا ورنہ حق اس کے خلاف میں ہے کیونکہ تین رگیں نہ کٹنے کی صورت میں اہل مذہب کی متفقہ شرط حلال ہونے کی نہ پائی گئی اور یہ معیار مشاہدہ یا ماہرین سے پوچھنے پر معلوم کیا جاسکتاہے ، اس مقالہ کو غنیمت سمجھو اور تنازع ختم کرو، واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۲؎ نصب الرایۃ لاحادیث الہدایہ    کتاب الذبائح     المکتبۃ الاسلامیہ ریاض        ۴/ ۱۸۵)

(۱؎ ردالمحتار     کتاب الذبائح    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۱۸۷)
Flag Counter