Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
30 - 126
مسئلہ ۷۵: از شہر لاہور مرسلہ انوارالحق تحصیل چونیاں روز جمعہ ۲ ۱ذی الحجۃ الحرام ۱۳۳۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جس طرح ذابح پر تسمیہ پڑھنا ضروری ہے اسی طرح معین ذابح پر تسمیہ پڑھنا ضروری ہے یانہیں؟ اور معین ذابح کس کو کہتے ہیں؟
الجواب : معین ذابح سے یہی مراد ہے کہ ذابح کا ہاتھ کمزور ہو، ذبح میں دقت دیکھے تو دوسرا اس کے ساتھ چھری پر ہاتھ رکھ کر دونوں مل کر ہاتھ پھیریں، اس صورت میں دونوں پر تکبیر واجب ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی قصدا تکبیرنہ کہے گا، ذبیحہ مردار ہوجائے اگر چہ دوسرا تکبیر کہے، دیوبندی قول محض غلط وجہالت ہے۔ تکبیر ذابح پر لازم فرمائی گئی ہے، اور ہاتھ پاؤں پکڑنا ذبح نہیں، ہاتھ پاؤں پکڑنے والا مثل رسی کے وہی کام دے رہا ہے جو ایک رسی دیتی ہے۔ اس پر تکبیرلازم ہونا درکنار، اگر مجوسی یا بت پر ست ہاتھ پاؤں پکڑے گا ذبیحہ میں خلل نہ آئے گا، تنویر الابصارمیں تھا:
تشترط التسمیۃ ۵؎
(بسم اللہ پڑھنا شرط ہے۔ ت) درمختارمیں اس طرح کی شرح فرمادی :من الذابح ۶؎ (ذبح کرنے والے سے۔ ت)
 (۵؎درمختار شرح تنویر الابصار         کتاب الذبائح            مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۲۸)

(۶؎درمختار شرح تنویر الابصار         کتاب الذبائح            مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۲۸)
ردالمحتارمیں فرمایا:
شمل ما اذا کان الذابح اثنین فلو سمی احد ہما وترک الثانی عمدا حرم اکلہ ۱؎۔
جب ذبح میں دو شخص شریک ہوں تو بسم اللہ پڑھنا دونوں پر شرط ہے۔ اگر ایک نے پڑھا اور ایک نے پڑھنا ترک کیا یا یہ خیال کیا کہ ایک کا پڑھنا کافی ہے کھانا حرام ہوگا۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار    کتاب الذبائح     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۱۹۲)
درمختارمیں خانیہ سے ہے:
فوضع یدہ مع یدا لقصاب فی الذبح و اعانہ علی الذبح، سمی کل وجوبا فلو ترکہا احدہما وظن ان تسمیۃ احدہما تکفی حرمت ۲؎۔
ذبح کرنے میں معاون نے قصاب کے ساتھ اپنا ہاتھ بھی ذبح میں چھری پررکھا تو دونوں بسم اللہ بطور وجوب پڑھیں، ایک نے نہ پڑھادوسرے نے ترک کیا یا ایک کے پڑھنے کو کافی جانا، جانورحرام ہوگا۔ (ت)
 (۲؎ درمختار     کتاب الاضحیۃ     مطبع مجتبائی دہلی        ۲/ ۳۳۵)
شرح نقایہ علامہ برجندی میں ہے:
یشترط تسمیۃ من اعان الذابح بحیث وضع یدہ علی المذبح کما وضع الذابح حتی لو ترک احدہما التسمیۃ لایحل، ذکرہ فی فتاوی قاضی خاں ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ذبح میں معاون نے اپنا ہاتھ قصاب کے ساتھ چھری پر رکھا تو دونوں کا بسم اللہ پڑھنا شرط ہے ، اگر ایک نے بسم اللہ کو ترک کیا تو حلال نہ ہوگا۔ اس کو فتاوٰی قاضیخاں میں ذکر کیا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۳؎ شرح النقایۃ للبرجندی     کتاب الذبائح     نولکشور لکھنؤ        ۳/ ۱۹۱)
مسئلہ ۷۶: مرسلہ بھولا گھمیار دکاندار سیہراؤں، ڈاکخانہ پٹی، تحصیل قصور ضلع لاہور ۱۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین حنفیہ اس مسئلہ میں کہ ذبح کے وقت جس بکرے کی گھنڈی سر کی طرف ایک چھلہ دار بھی نہ رہے وہ عندالشرع حلال ہے یاحرام؟ بینوا توجروا
الجواب : اس مقام میں تحقیق یہ ہے کہ ذبح میں گھنڈی کا اعتبار نہیں، چاروں رگوں میں سے تین کٹ جانے پر مدارہے۔ اگر ایک یا دو رگ کٹی حلال نہ ہوگا اگرچہ گھنڈی سے نیچے ہو، اور اگر چاروں یا کوئی سی تین کٹ گئیں تو حلال ہے اگر چہ گھنڈی سے اوپر ہو،
ردالمحتار میں ہے:
ان کان بالذبح فوق العقدۃ حصل قطع ثلثۃ من العروق فالحق ماقالہ شراح الہدایۃ تبعا للرستغفنی والا فالحق خلافہ، اذلم یو جد شرط الحل باتفاق اہل المذہب، ویظھر ذٰلک بالمشاہدۃ اوسوال اہل الخبرۃ، فاغتنم ہذا المقال ودع عنک الجدال ۱؎ ۔ وھو تعالٰی اعلم۔
اگر گھنڈی سے اوپر ذبح میں چار میں سے تین رگیں کٹ گئیں جو ہدایہ کے شارحین نے رستغفنی کی اتباع میں کہا وہ حق ہے ورنہ حق اس کے خلاف ہے کیونکہ اہل مذہب کی متفقہ شرط برائے حلت نہ پائی گئی یہ معیار مشاہدہ سے ظاہر ہوگا یا ماہرین سے پوچھنے پر ظاہرہوگا اس مقالہ کوغنیمت سمجھوا ور جھگڑا ختم کرو واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار         کتاب الذبائح     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۱۷۸)
مسلہ ۷۷: از چوئی زیریں مسجد کلاں ضلع ڈیرہ غازی خاں مرسلہ جناب عبداللہ صاحب ۱۲ رمضان ۱۳۳۵ھ

جناب حضرت مولٰنا وبالفضل اولٰنا، جناب شمس العلماء ومفتی العصر سلامت، حضور انور، مذبوحہ فوق العقدہ کامسئلہ جو اختلاف میں ضبط ہے، آں صاحب مہربانی فرماکر مرجح قول کو بدلائل تحریر فرماکر دستخط فرمادیں، تکلیف سے بالکل عفو کریں۔
الجواب : اس مسئلہ پر تحقیق وقول فیصل یہ ہے کہ ذبح فوق العقدہ سے اگر چاروں یا تین رگیں کٹ گئیں ذبح ہوگیا، جانور حلال۔ اور اگر صرف د وہی کٹیں حلقوم ومری نیچے رہ گئے، ذبح نہ ہوا، او ر جانور مردار، یہ بات دیکھنے سے معلوم ہوسکتی ہے، خود پہچان نہ ہو تو پہچان والوں کے بیان سے۔
ردالمحتارمیں ہے:
والتحریر للمقام ان یقال ان کان بالذبح فوق العقدۃ حصل قطع ثلثۃ من العروق، فالحق ماقالہ شراح الہدایۃ تبعا للرستغفنی والا فالحق خلافہ، اذ لم یوجد شرط الحل باتفاق اہل المذہب، ویظہر ذٰلک بالمشاہدۃ او سوال اہل الخبرۃ فاغتنم ہذا المقال، ودع عنک الجدال ۲؎ اھ وفیما کتبت علیہ فان قلت سیأتی عن البدائع ان الاوداج متصلۃ من القلب بالدماغ ، فیحصل فریہا بالذبح فوق العقدۃ ایضا لامحالۃ، ولاشک ان ذٰلک بین اللبۃ والحیین، فیجب الحل، قلت سنذکرھناک ان المراد ثمۃ بالاوداج الودجان اذھما المتصلان من الدماغ الی القلب لا الحلقوم والمری ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مقام کی وضاحت یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ اگرگھنڈی سے اوپر ذبح میں تین رگیں کٹ گئی ہوں تو شراح ہدایہ نے رستغفنی کی اتباع میں جو کہا وہ حق ہے ورنہ حق اس کے خلاف ہے کیونکہ اہل مذہب کی متفقہ شرط برائے حلت نہ پائی گئی، یہ معیار مشاہدہ سے یا ماہرین کے بتانے پر ظاہر ہوگا اس مقالہ کو غنیمت سمجھو اور جھگڑا ختم کرو اھ، اس پر میں نے حاشیہ میں نے لکھا اگر تجھے اعتراض ہوکہ بدائع سے عنقریب نقل ہوگا کہ اوداج رگیں دل ودماغ سے متصل ہوتی ہیں توگھنڈی سے اوپر ذبح کرنے میں لازماً یہ رگیں کٹ جائیں گی اور اس میں شک نہیں کہ یہ جبڑوں اور لبہ کے درمیان میں ہے۔ تو گھنڈی سے اوپر ذبح میں حلال ہوجانالازمی ہے۔ میں جواب میں کہوں گا کہ وہاں اوداج سے دو دوجان رگیں مراد ہیں کیونکہ یہ دونوں دل تا دماغ متصل ہوتی ہیں، باقی دو یعنی حلقوم اورمری مراد نہیں ہیں،
واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)؎
 (۲؎ردالمحتار         کتاب الذبائح     داراحیاء التراث العربی بیروت   ۵/ ۱۸۷)

(۱؎ جدالممتار علی ردالمحتار)
Flag Counter