Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
29 - 126
مسئلہ ۷۲: از شہر کہنہ بریلی ۹ ذی الحجہ ۱۳۱۶ھ

ایک مولوی صاحب آئے ہیں، وہ کہتے ہیں
بسم اللہ واللہ اکبر لا الہ الا اللہ اللہم منک ولک
کہنا چاہئے
بسم اللہ اللہ اکبر
بغیر واؤ کے جو رائج ہورہا ہے مکروہ ہے۔ اس میں کیا حکم ہے ؟ بینوا توجروا
الجواب : بغیر واؤ کے مستحب ہے۔ اسے مکروہ کہنا صحیح نہیں، بلکہ تنویر الابصاروغیرہ میں واؤ بڑھانے کو مکروہ فرمایا، بہر حال بلا واؤ کے خالی از کراہت وپسندیدہ ومستحب ہونے میں کلام نہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۳: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص ذبح کرتاہے دوسرا پاؤں یا سر ذبیحہ کا پکڑے ہے دونوں پر بسم اللہ ضرور ہے یا ذابح کو کافی ہے؟ اور اگر مددگار نے بسم اللہ ترک کی قصدا یا یہ مددگار کوئی کافر ہندو وغیرہ تھا، تو ذبیحہ حلال رہا یا مردار ہوا؟ بینوا توجروا
الجواب: اصل ذابح پر تکبیر کہنی لازم اور اسی کی تکبیر کا فی ہے۔ سریا پاؤں پکڑنے والے کی تکبیر کی اصلا حاجت نہیں نہ اس کا کافر مشرک ہونا کچھ مضر۔
فان الذبح انما ہو قطع العروق لا الاخذ بالراس والقوائد کما لایخفی۔
ذبح جانو ر کی رگوں کے کاٹنے کا نام ہے جانور کے سروپاؤں پکڑنے کا نام نہیں، جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ (ت)

ہاں اگر ایک نے دوسرے کو نفس ذبح میں مدد دی، مثلا زید ذبح کر تا ہے عمرو نے دیکھا اس کا ہاتھ ضعیف ہے ذبح میں دیر ہوگی اپنا ہاتھ بھی چھری پر رکھ دیا اور دونوں نے مل کر چھری پھیری تو بیشک دونوں میں جوکوئی قصدا تکبیر نہ کہے گا جانور حرام ہوجائے گا، یونہی اگر ان میں کوئی کافر مشرک تھا تو بھی ذبیحہ مردار ہوگیا،
فی الدرالمختار تشترط التسمیۃ من الذابح۱؎ وفیہ عن الخانیۃ ارادۃ التضحیۃ فوضع یدہ من یدالقصاب فی الذبح و اعانہ علی الذبح، سمی کل وجوبا فلو ترکھا احد ھما، اوظن ان تسمیۃ احد ہما تکفی حرمت ۲؎الخ، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم بالصواب۔
درمختار میں ہے کہ ذبح کرنے والے پر بسم اللہ پڑھنا لازم ہے اور اس میں خانیہ سے ہے قربانی کرتے ہوئے اپنا ہاتھ قصاب کے ہاتھ کے ساتھ ذبح میں رکھا اور ذبح میں مدد کی تو ہر ایک بسم اللہ پڑھے، تو اگر ایک نے نہ پڑھا یا خیال کیا کہ ایک کا پڑھنا کافی ہے تو جانور حرام ہوگا الخ،
واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم بالصواب (ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الذبائح    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۲۸)

(۲؎درمختار    کتاب الاضحیۃ   مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۳۵)
مسئلہ ۷۴: ۱۳ صفر ۱۳۳۲ھ: چہ  فرمایند علمائے دیں اندریں مسئلہ کہ بہنگام ذبح کردن حیوان وذابح سوئے کدامے بایداستاد، وراس حیوان کدام جانب می کند، استقامۃ اشاعت ست کہ بوقت ذبح حیوان سروی بجنوب می کند وچہرہ ذابح بقبلہ مے کندخلاصہ آنکہ اگر بجانب شمال وجنوب ومشرق شدہ ذبح سازد ، پس چہ حکم دارد، آیا کہ جائزمے شود یا بدعت، اگر بدعت شود کدام بدعت، وکدام اولی ست ؟ مع ادلہ تصریحا تحریر فرمایند۔ بینوا توجروا
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ حیوان کو ذبح کرتے ہوئے حیوان کا سر کس طرف ہونا چاہئے اور ذبح کرنے والا کس جانب کھڑا ہو، مشہور ہے کہ ذبح کے وقت جانور کا سر جنوب کی طر ف اور ذبح کرنے والا رو بقبلہ ہو، خلاصہ یہ ہے کہ جنوب ، شمال اور مشرق کی طرف ہو کر ذبح ہوا تو کیاحکم ہے، کیا جائز ہوا یا بدعت ہوئی، اگر بدعت ہے تو کون سی، او رکون سی جانب اولٰی ہے؟ دلائل کے ساتھ صراحۃً تحریر فرمایاجائے۔ بینوا توجروا(ت)
الجواب: سنت متوارثہ آن ست کہ روئے خود و روئے ذبیحہ ہر دو سوئے قبلہ کند، وسر ذبیحہ در بلاد ما کہ قبلہ سوئے مغرب ست جانب جنوب بود تاذبیحہ بر پہلو چپ خودش خوابیدہ باشد، وپشت او جانب مشرق، تاروئے سمت قبلہ بود، وذابح پائے راست خود برصفحہ راست گردنش نہادہ ذبح کند، اگر توجہ یا توجیہ بہ قبلہ ترک کند مکروہ است، او راگر بر پہلوئے راستش خواباند نزد بعض اجلہ ائمہ مالکیہ حرام گردد، خوردنش روانبود پس احتراز ازاں مناسب ومؤکد ترشد خروجا عن الخلاف، احمد ودارمی و ابوداؤد وابن ماجہ از جابر  رضی اللہ تعالٰی عنہ روای قال ذبح النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یوم الذبح کبشین اقرنین املحین موجوأین، فلما وجہہما قال انی وجہت وجہی للذی فطر السموٰت والارض ۱؎۔ الحدیث۔ وبخاری ومسلم اسامی(عہ) وابن ماجہ از انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ آوردند قال ضحی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بکبشین املحین، فرأیتہ واضعاقدمہ علی صفائحہما یسمی ویکبر فذبحہما بیدہ ۲؎۔
سنت یہ چلی آرہی کہ ذبح کرنے والا اور جانور دونوں قبلہ رو ہو، ہمارے علاقہ میں قبلہ مغرب میں ہے اس لئے سر ذبیحہ جنوب کی طرف ہونا چاہئے تاکہ جانور بائیں پہلوں لیٹا ہو اور اس کی پیٹھ مشرق کی طر ف ہو تاکہ ا س کا منہ قبلہ کی طرف ہوجائے، اور ذبح کرنے والا اپنا دایاں پاؤں جانورکی گردن کے دائیں حصہ پر رکھے اور ذبح کرے اور خود اپنا یا جانور کا منہ قبلہ کی طرف کرنا ترک کیا تو مکروہ ہے، اگر جانور دائیں پہلو لٹایا تو بعض اجلہ ائمہ  مالکی کے نزدیک حرام ہوجائیگا اور ا س کاکھانا جائز نہ ہوگا، لہذا اس سے پرہیز میں تاکید ہے تاکہ خلاف سے بچایا جائے، احمد دارمی، ابوداؤد اورابن ماجہ نے حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے قربانی کے روز دو خصی، چتکبرے، سینگوں والے دُنبے ذبح فرمائے، آپ نے جب ان کو قبلہ رولٹا یا تو آپ نے یہ دعا پڑھی، انی وجہت وجہی للذی فطر السموت والارض الحدیث۔ بخاری ومسلم، دارمی اور ابن ماجہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا انھوں نے کہا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے وہ چتکبرے،موٹے دنبے ذبح فرمائے تومیں نے دیکھا کہ آپ نے اپنا  پاؤں مبارک جانو رکی گردن کے ساتھ والے حصہ پر رکھا اور بسم اللہ پڑھی اورتکبیر کہی تو دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح فرمایا،
عہ:  ہکذا فی الاصل لعلہ ''الدارمی''
 (۱؎ سنن ابی داؤد     کتاب الضحایا باب مایستحب من الضحایا     آفتاب عالم پریس لاہور        ۲/ ۳۰)

(۲؎ صحیح البخاری         کتاب الاضاحی باب من ذبح الاضاحی بیدہ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۳۵۔ ۸۳۴)

(صحیح مسلم        کتاب الاضاحی باب من ذبح الاضاحی بیدہ     قدیمی کتب خانہ کراچی  ۲/ ۱۵۶)
امام عینی درعمدۃ القاری فرمود، فالتکبیر مع التسمیۃ مستحب وکذا وضع الرجل علی صفحۃ عنق الاضحیۃ الایمین واما التسمیۃ فہی شرط ۱؎۔
امام عینی نے عمدۃ القاری میں فرمایا بسم اللہ کے ساتھ تکبیر مستحب ہے اور یوں قربانی کے جانور کی گردن کے دائیں پہلو پر پاؤں رکھنا مستحب ہے لیکن بسم اللہ پڑھنا شر ط ہے،
 (۱؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری     کتاب الاضاحی باب من ذبح الاضاحی بیدہ     ادارۃالطباعۃ المنیریۃ بیروت    ۲۱/ ۱۵۵)
وہمدرانست قال ابن القاسم الصواب ان یضجعہا علی شقہا الایسر، وعلی ذٰلک مضی عمل المسلمین ،فان جہل فاضجعہا علی الشق الاخر لم یجز اکلہا ۲؎۔ درتنویر الابصار کرہ ترک التوجہ الی القبلۃ ۳؎۔ دردرمختار ست  لمخالفتہ السنۃ ۴؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اور اسی میں ہے ابن قاسم نے فرمایا بہتر یہ ہے کہ جانور کو بائیں پہلو لٹایا جائے مسلمانوں کا یہی طریقہ جاری ہے اگر جہالت کی اور جانور کو دوسرے پہلو لٹایا تو کھانا جائزنہ ہوگا۔ تنویر الابصارمیں ہے کہ قبلہ کی جہت کا ترک مکروہ ہے۔ درمختارمیں ہے کہ یہ سنت کے مخالف ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۲؎عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری   کتاب الاضاحی باب من ذبح الاضاحی بیدہ  ادارۃالطباعۃ المنیریۃ بیروت  ۲۱/ ۵۵، ۱۵۴)

(۳؎ درمختار شرح تنویر الابصار         کتاب الذبائح            مطبع مجتبائی دہلی        ۲/ ۲۲۸)

(۴؎درمختار شرح تنویر الابصار         کتاب الذبائح            مطبع مجتبائی دہلی      ۲/ ۲۲۸)
Flag Counter