فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
28 - 126
مسئلہ ۶۶: از سنبھل ضلع مرادآباد محلہ دہلی دروازہ مرسلہ محمد ظہیر الدین ۱۰ جمادی الاولٰی ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید زمیندار نے ایک کاشتکار کو اپنی اراضی بنابرکاشت بدیں شرط دس روپیہ لگان پر دی کہ پانچ روپیہ فصل خریف پر اور پانچ روپیہ فصل ربیع پر اد اکرتارہے ، بحالت عدم ادائے زر بقایا سوا یا یعنی بجائے ایک روپیہ کے سوا روپیہ لگان کا لیا جائے گا، وقت مقررہ پر لگان کے نہ ادا کرنے کی صورت میں فصل بہ فصل وسال درسال لگان میں زیادتی ہوتی رہے گی، یہ زیادتی لگان کے بمقابلہ اراضی کے کی گئی ہے۔ آیا یہ زیادتی لگان کی جائز ہے یا ناجائز داخل سود ہے؟
الجواب: یہ محض حرام وسود ہے بلکہ اس شر ط کی وجہ سے وہ اجارہ ہی فاسد وحرام ہوگیا،
فان الاجارۃ تفسد بالشرط الفاسد کالبیع بانہا احد السبعین
(کیونکہ فاسد شرط سے اجارہ فاسد ہوجاتا ہے جس طرح بیع فاسد ہوجاتی ہے کہ وہ سترمیں سے ایک ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۷: از سنگرام پور ڈاکخانہ خاص ضلع بدایون مسئولہ شیخ ضیا الدین جناب مولٰنا مولوی احمد رضاخاں صاحب!
بعد سلام علیک کے گزارش ہے کہ میرے قریب ایک موضع دھنوپورہ ہے۔ وہاں پر ٹھاکر دلاور سنگ زمیندار موضع مذکور کے ہیں، اس پر ایک ہزار روپیہ ۱۴/ آنے کے سود سے دیگر اشخاص کا قرض ہے۔ اب دلاور سنگھ ایک ہزار ہم سے بلاسود مانگتے ہیں، اور (صہ عہ) پختہ اراضی سیر واسطے پانچ سال بالعوض ایک ہزارروپے کے دیتے ہیں، بعد پانچ سال کے ان کی اراضی چھوٹ جائے گی، اورہمارا روپیہ بے باق ہوجائیگا، شرعا جائز ہے یاناجائز؟ اور اگر ناجائز ہے توکس طریقہ سے جائز ہوسکتی ہے؟ فقط زیادہ سلام
الجواب یہ صورت بلا شبہ جائزہے۔ زمیندار اپنی مملوکہ خالی زمین کو دوسرے کے رہن یا اجارے میں نہیں، ایک مدت معینہ پانچ برس کے لئے ایک اُجرت معینہ پر ہزار روپیہ پر اجارہ دیتا ہے اور باہمی رضا سے زر اجرت پیشگی دینا قرار پاتاہے۔ اس میں کچھ حرج نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۸: از موضع دیورنیا ضلع بریلی مسئولہ عنایت حسین صاحب ۲۹ رجب ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ایک اراضی کا لگان بندوبست میں (عہ۴/) مقرر ہوا، اب اس اراضی کی حیثیت (عا ۸/ )کی ہے کسی شخص نے مبلغ (مہ) پیشگی پانچ سال کا لگان اس وقت کی حیثیت سے ادا کرکے لی، اس طرح پر اس کا لینا جائز ہے یانہیں ؟ یاکسی شخص نے بجائے (عا ۸/) روپیہ کی شرح کے( عا) سے بھی
وہ جائز ہوسکتی ہے یانہیں ؟ اور اگر جائز ہوگی تو کن کن وجوہات سے جائز ہوگا۔
الجواب: بندوبست میں جو مقرر ہوا اس کی پابندی عاقدین پر لازم نہیں باہم زمیندار کا شتکار میں جس قدر پر رضامندی ہوجائے کم پر خواہ زائد پر۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۹: از موضع دیورنیا ضلع بریلی مسئولہ شرف الدین ومسیح الدین زمیندار ۳۰ رجب ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ کاشتکار کو اپنی موروثی اراضی مصدقہ بندوبست بشرح (عہ ۴/) بیگھہ خام کسی دوسرے شخص یعنی اپنے ذیلی کاشتکار کو مبلغ (مہ) لے کر پانچ سال کو پٹہ پر دینا جائز ہے یانہیں؟ اور یہ مبلغ پچاس روپے اسی میعاد پنجسالہ میں ذیلی کاشتکار کے وصول ہوجائیں گے اور (عہ ۴/) لگان زمیندار کو یہی ذیلی کاشتکار ادا کرے گا۔ مکرر یہ کہ شرح لگان مصدقہ بندوبست (عہ ۴/) لحاظ نہ کیا جائے خواہ بجائے (عہ ۴/ کے ۶/) باہم کاشتکار اصلی وذیلی طے ہو یا مبلغ (عا ۸/) یا اور کم وبیش ؟ بینوا توجروا
الجواب: کاشتکار کو جائز نہیں کہ جو زمین اس کے پاس جتنے لگان کو ہے اس سے ایک پیسہ زائد پرذیلی کو دے، جتنا زیادہ مقرر کرے گا اسے لینا ناجائز ہوگا، مگر تین صورتوں میں جائز ہے:
(۱) اس کے ساتھ اپنے پاس سے اور کوئی چیز ملا کر دونوں کو مجموعۃ زیادہ پر دے۔
(۲) اس زمین کو کنواں کھود کریا اور کام نفع کا بڑھاکر کرایہ پر دے۔
(۳) کرایہ کی جنس بدل دے، مثلا اس کے پاس دس روپے سال پر ہے یہ ذیلی کو ایک اشرفی کرائے پردے یاجتنی اشرفیاں ٹھہریں یو نہی نوٹ یا پیسہ یا اکنیاں، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۰: از ضلع سکھر سندھ ڈاکخانہ ڈھرکی مقام بھرچونڈی شریف درگاہ عالیہ سلسلہ قادریہ مسئولہ خدا بخش صاحب ۲۳ رمضان ۱۳۳۹ھ چہار شنبہ
بخدمت عظامی منزلت شمس الشریعت حضرت مولٰنا صاحب سلمہ ربہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ انگریزی قانون کے مطابق جو شخص پانچ برس متواتر اپنی غیر آباد زمین کا محصول (یعنی خراج) نہیں دیتا وہ زمین اس کی ملک سے نکل کر گورنمنٹ کی ہوجاتی ہے کہ بعد دس برس گزرنے کے بغیر رضامندی شخص مذکور کے دوسرے کو دے دیتے ہیں۔ آیا زمین مذکورہ بالا بموجب شرع شریف مالک کی ملک سے نکل کر گورنمنٹی بنتی ہے یا نہیں؟ اور اس زمین کا لینا درست ہے یانہیں؟ اگر کسی نے خریدی ہو تو واپس دے یا نہیں؟ اگر دے تو جو خرچ اس زمین پر کیا ہے اس سے واپس لے یا نہیں؟ نیز یہ کہ اگر مشتری مالک کو دے جب بھی گورنمنٹ اس کو نہیں دیتی بغیر درخواست کے، اور درخواست بسبب مفلسی کے وہ نہیں دیتا۔ بینوا توجروا
الجواب: شریعت میں اس وجہ سے زمین ملک مالک سے نہیں نکل سکتی، اس کا خریدنا ناجائز ہوگا، اور خرید لی تو مالک کو واپس دینا واجب ہوگا، اور جو قیمت وغیرہ دینے میں خرچ ہو وہ مالک سے واپس نہیں لے سکتا ،
لانہ ھو المضیع لمالہ
(کیونکہ اس نے اپنا مال ضائع کیا۔ ت) اس پر حکم شرعی یہ ہے یہ بجالائے اگرچہ اس کے کرنے کو گورنمنٹ تسلیم نہ کرے۔ اس کا الزام اس پر نہ ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
کتاب الذبائح
(ذبح کابیان)
مسئلہ ۷۱: شہر بریلی محلہ ابراہیم پورہ مسئولہ از عزیز الدین ۳ شوال ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ ذبیحہ بعد غروب آفتاب وقبل طلوع آفتاب مکروہ ہے یانہیں؟ اور اگر مکروہ ہے تو کس طرح ہوگا، اور اگر ایسے ہی وقت مذکور میں بلی کسی پرند یا مرغ کو ہلاک کرے، اورذبح کچھ تھوڑا خون ذبیحہ فورا یا کچھ دیر بعد دے، تو اس کے واسطے کیا حکم ہے؟ آیا ذبیحہ جائز ہوگیا یانہیں؟ اور وہ ذبیحہ اگر جائز ہوگیا تو وہ بھی مکروہ ہے یا نہیں؟ اور اگر مکروہ ہے تو کیسا؟ بینوا توجروا
الجواب: رات کو ذبح کرنا اندیشہ غلطی کے باعث مکروہ تنزیہی خلاف اولٰی ہے۔ اور ضرورت واقع ہو مثلا صبح کے انتظار میں جانور مرجائے گا تو کچھ کراہت نہیں
لانہ الاٰن مامور بہ حذرا عن اضاعۃ المال اھ
(کیونکہ مال کے ضائع ہونے کے خطرہ کی بناء پر وہ اب اس کا مامور ہے ۔ اھ ت) پھر کراہت اس فعل میں ہے ذبح اگر صحیح ہوجائے ذبیحہ میں کچھ کراہت نہیں لتبین ان الغلط لم یقع (واضح ہوجانے پر کہ غلطی نہ ہوئی۔ ت)
درمختار میں ہے :
کرہ تنزیہا الذبح لیلا لاحتمال الغلط ۱؎۔
غلطی کے احتمال کی وجہ سے رات کو ذبح کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔ (ت)
(۱؎. درمختار کتاب الاضحیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۲)
حرمت حلت کا مدا رخون نکلنے نہ نکلنے پر نہیں، بلکہ یہ ثابت ہونا چاہئے کہ وقت ذبح جانور زندہ تھا ،ا گر یہ معلوم ہو اور خون اصلانہ دے حلال ہے، اور اگرنہ ثابت ہو اور خون زندہ کا سادے تو بعض دفعہ کہیں رکا ہوا خون کچھ دیر بعد مردے کے بھی نکلتا ہے جانور حلال نہ ہوگا، حیات کی علامت یہ ہے کہ جانور تڑپے یا منہ آنکھ بند کرے یا پاؤں سمیٹے یا اس کے بدن کے بال کھڑے ہوجائیں،
درمختارمیں ہے:
ذبح شاۃ مریضۃ فحرکت وخرجت الدم حلت والا لاان لم تدرحیاتہ عندا لذبح و ان علم حیاتہ حلت مطلقا۔ وان لم تتحرک ولم یخرج الدم، ذبح شاۃ لم تدرحیاتہا وقت الذبح، ان فتحت فاہا لاتوکل ، وان ضمتہ اکلت، وان فتحت عینہا لا توکل، وان ضمتہا اکلت، وان مدت رجلہا لاتوکل، وان قبضتہا اکلت، وان نام شعرہا لا توکل ، وان قام اکلت، وہذا کلہ اذا لم تعلم الحیاۃ وان علمت وان قلت اکلت مطلقا بکل حال زیلعی ۲؎۔
مریضہ بکری کو ذبح کیا تو اس نے حرکت کی اور خون نکلا حلال ہوگئی، ورنہ نہیں، یہ جب ہے کہ ذبح کے وقت اس کا زندہ ہونا مشکوک ہو اور اگر زندہ ہونا یقینی ہو تو مطلقا حلال ہوگی اگر چہ اس نے حرکت نہ کی اور نہ خون جاری ہوا ہو، اگر ذبح کے وقت زندہ ہونا مشکوک ہو تو ذبح کرنے پر اس نے منہ کھولا تو نہ کھا یا جائے اور اگر اس وقت منہ بندکیا تو کھا لیا جائے گا یوں اگر اس نے آنکھیں کھول رکھیں تو نہ کھایا جائے اور اگر بند رکھیں تو کھایا جائے، اگر ٹانگیں دراز رکھیں نہ کھایا جائے اگر سمٹ لیں تو کھایا جائے اگر اس کے بال کھڑے نہ ہوئے تو نہ کھایا جائے اور کھڑے ہوں تو کھایا جائے یہ سب اس صورت میں ہے جب ذبح کے وقت زندہ ہو نا یقینی نہ ہو اوراگر زندہ ہونے کا یقین ہو تووہ مطلقا کھانا جائز ہے خواہ کسی حال میں ہو، زیلعی (ت)
(۲؎درمختار کتاب الذبح مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۰)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ اوخرج الدم ای کما یخرج من الحی، قال فی البزازیۃ وفی شرح الطحطاوی خروج الدم لایدل علی الحیاۃ الا اذ اکان یخرج کما یخرج فی الحی عندا لامام وھو ظاہر الروایۃ ۱؎ (باختصار) واﷲ تعالٰی اعلم۔
اس کا قول کہ خون نکلے یعنی جس طرح زندہ سے نکلتاہے بزازیہ میں کہا، اور شرح طحطاوی میں ہے۔ خون نکلنا زندہ ہونے کی دلیل صرف اس صورت میں ہے کہ اس طرح نکلے جس طرح زندہ سے نکلتا ہے امام اعظم رحمہ اللہ تعالٰی کے مذہب میں اور وہی ظاہروایت ہے۔ (باختصار) ۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۹۶)