Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
27 - 126
مسئلہ ۵۷: از بنارس گرانٹ بازار مسجد نواب ٹونک مرسلہ محمد شفیع صاحب ۴ رجب المرجب ۱۳۳۶ھ

ایک زمیندار نے کاشت کار کو بخوشی ورضامندی اپنی بیس بیگھہ اراضی کا پٹہ دوامی لکھ دیا اس شرط پر کہ فی بیگھہ اڑھائی روپے لگان جس کا جملہ پچاس روپیہ ہوتاہے۔ اس قدر مالگزاری سال بسال ادا کیا کرو، اور ان اراضی کو چاہے خود کاشت کرو یا دوسروں سے کاشت کراؤ، مگر مال گزاری اس کی حسب تحریر مندرجہ تم سے ادا کریں گے، اگر قسط پر ادا نہ کروگے تو بنالش حق ادا کرنے کا ہم زمیندار کو ہوگا۔ اب کاشتکار ان اراضی کو خودہی کاشت کرتاہے،ا ور دوسروں سے بھی کاشت کراتاہے۔ اور جب دوسرے کاشتکار کے ساتھ بندوبست کرتاہے تو فی بیگھہ پانچ روپے لیتاہے اور جب بارہ برس گزر گیا تو وہ اراضی انگریزی کاغذات میں قانونا موروثی لکھی گئی، یعنی اب ان اراضیوں کو زمیندار زبردستی بے دخل کرنے کا مستحق نہیں، اگر بخوشی ورضامندی اپنی کاشت کار واپس کردے تو زمیندار  واپس کرسکتا ہے ، یا اگر مال گزاری کا شتکارنے ادا نہ کیا تو بنالش گورنمنٹ زمیندار کو بذریعہ ڈگری کاشتکار سے وصول کرا دے گا، اور اراضیوں کو بھی واپس کرادے گا، اگر کاشتکار بعد ڈگری زمیندار کے مال گزاری کچہری میں داخل کردیا، یا زمیندار کو دے کر رسید حاصل کیا تو پھر کاشت کار ان اراضیوں سے بے دخل نہ ہوگا بدستور قائم رہے گا، ایسی حالت میں کاشتکار کو کاشتکار شکمی سے نفع لینا شرعاجائز ہے یانہیں؟ اور کاشتکار جو خود کاشت کرتاہے اس کی پیداوار سے کھانا جائز ہے یانہیں؟ اگر زمیندار کاشت کار کو زبردستی بے دخل کرے تو کچہری میں استغاثہ کرنے کا حق شرعا پہنچتاہے یانہیں؟
الجواب : پٹہ دوامی شرع میں کوئی عقد لازم نہیں۔ہر سال تمام پر وہ عقد ختم ہوتا اور طرفین کی رضا سے نیا شروع ہوتاہے۔ ہر سال ختم ہونے پر شریعت مطہرہ کے نزدیک طرفین کو اختیار ہے کہ اس عقد سے باز رہیں، مملوک زمین مدت گزرنے سے شریعت کے حکم میں عقد لازم نہیں ہوتا یہ قانونی بات ہے شرعی حکم نہیں، اگر رضائے زمیندار ہے تو جب تک بھی ہے کاشت کار اس میں کاشت کرسکتاہے۔ اور دوسروں کو ذیلی بھی بناسکتاہے۔ مگر زرلگان جتنا خود ادا کرتا ہے اس سے زیادہ دوسرے سے نہیں لے سکتا، اگر لے گا مال خبیث ہوگا، مگر تین صورتوں میں، ایک یہ کہ لگان کی جنس بدل دے مثلا زمیندار سے روپے ٹھہرے ہیں، یہ ذیلی سے سونا یا نوٹ ٹھہرا ئے یا اس زمین میں کوئی مالیت کی چیز مثل کنویں کے اضافہ کرے یا اس زمین کے ساتھ دوسری زمین ملاکر مجموع کو ذیلی کاشت میں دے، مثلا ڈھائی روپے بیگھہ پر اس سےلی ہے۔ یہ ایک بیگھہ زمین اس میں اور شامل کرکے مجموع ۲۱ بیگھہ بلاتفصیل ذیلی کو ایک سوپانچ روپے پردے، یہ صورتیں جائز ہیں، اور اگر زمیندار کی رضامندی نہ ہو اور وہ اس سے زمین چھوڑ دینے کو کہے اوریہ موروثیت کے دباؤ سے جبراً نہ چھوڑے تو شریعت کے نزدیک گنہ گار ہوگا، اوراس میں جوتنا اس کو ناجائز، جو ناج پیدا ہوگا خباثت سے خالی نہ ہوگا، اور ذیلی کو دے گا تو وہ روپیہ بھی اس کے لئے ناجائز ہوگا اور اسے حکم ہوگا کہ زمیندار کو دے دے یا فقیروں پر تصدق کرے اور اول اولٰی ہے۔ جو شخص ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے حکم شریعت پر عمل کرنا چاہے، تو حکم یہ ہے ورنہ وہ جانے اور اس کا کام، واللہ تعالٰی اعلم۔
اللہم ارزقنا حسنا واسعا بحق مولانا محمد النبی الامی نبی الانبیاء والمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہ وصحبہ اجمعین ۔
اے اللہ ! ہمیں وسیع نیکی عطا فرما حضور نبی المرسلین ہمارے آقا محمد النبی الامی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وصحبہ اجمعین کے وسیلہ سے ۔ (ت)
مسئلہ ۵۸ تا ۶۱: از پنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ نعمت علی خان     ۱۴ ربیع الاول ۱۳۲۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:

(۱)کہ مالک کافر ہو یا مسلمان، رعایا اس کو بعض زمین کی مال گزاری دے اور بعض کی نہیں، اس کے لئے کیا حکم ہے۔ آیا وہ رعایا عنداللہ وعندالرسول ماخوذ ہوگا یا نہیں؟

(۲) جس زمین کی رعایا مال گزاری دیتی ہے اس میں درخت لگایا، اب اس درخت کے فروخت کرتے وقت مالک اس کی قیمت کا چوتھائی حصہ مانگتاہے۔ نہ دینے پر اللہ ورسول کے نزدیک ماخوذ تو نہیں ؟

(۳) کسی کھیت کے قریب مالک کی زمین غیر آباد ہے۔ رعایا نے اپنی زمین کے ساتھ اس غیر آباد زمین کو آبا کرلیا، تویہ جائز ہے یانہیں؟ 

(۴) ایک شخص کی زمین مثلا ۴ کٹھا ہے سروے ناپ نے غیر کی زمین لے کر ۵ کٹھا لکھ دیا ہے اب اس زمین کو وہ شخص اپنے تصرف میں لاسکتا ہے یانہیں؟ اگر تصرف میں لائے تو عنداللہ ماخوذ ہوگایانہیں؟
الجواب

(۱) جو مالگزاری مقرر ہوئی اسی کا نہ ادا کرنا ظلم وحرام ہے اگر چہ زمین والا کافر ہو۔
  قال اﷲ تعالٰی یا ایھاالذین اٰمنوا اوفوا بالعقود ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اے ایمان والو! عقود کو پورا کرو۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۵ /۱)
 (۲) مالک زمین کا اس درخت میں کچھ حق نہیں ، اس کا مانگنا ظلم ہے۔

(۳) جائز ہے جبکہ مالک کو لگان دے یا وہ معاف کردے۔
 (۴) اگر وہ کٹھا اس دوسرے کی ملک ہے تو بے اس کی اجازت کے غصب وحرام ہے۔ اور اگر وہ بھی کاشتکار ہے اور اس کے پٹے کی میعاد ابھی باقی ہے تو بےاس کی اجازت کے ناجائز ہے
لانہ ان لم یملک رقبتہا فقد ملک منفعتہا
 (اگرچہ اس کے رقبے کا مالک نہیں تو وہ اس کے نفع کا مالک ہے ۔ ت) اور اگر یہ بھی نہیں تو سابقاً یالاحقاً اجازت زمیندار درکارہے ۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۶۲ تا ۶۵: مسئولہ مولوی محمد رضاخاں سلمہ    ۲۳ جمادی الآخرہ ۱۳۳۳ھ

(۱) زید سے اس کی رعایا نے جس میں مسلم ومشرک دونوں ہیں بیس روپے ایک سال کے واسطے قرض مانگے اور لگان کھاتے کا جو قرض چاہ رہا ہے بیس روپے ہے۔ اس نے کہا کہ بیس روپے تم کو بلا سودی بغیر کسی نفع کے دئے جاسکتے ہیں، مگر تم کو اپنے کھاتے پر (معہ ۸/) سال بھر کے اضافہ کرنے ہوں گے، یہ صورت جائز ہے یانہیں؟

(۲) جن اسامیوں سے کہ بقایا پچھلی وصول کرنا خواہ وہ تمسک ہے یا معاہدہ زبانی ان سے ۳ / روپیہ یا چھ آنہ روپیہ اس صورت میں لینا اول اپنا اصلی مطالبہ لے لیا گیا تھا، پھر زید نے مشرک کاشتکار سے کہاکہ مطالبہ تیرا اداہوگیا اب تو بیع سلم کے اس قدر روپے اور ادا کرو یہ رقم لینا جائز ہوگی یا نہیں؟

(۳) اگرکاشت کار نے اپناحساب سمجھا تو وہ رقم جو زائد ہے اس کو حساب میں بتایا جاسکتاہے یانہیں؟

(۴) جو تمسکات کہ ۱۳۲۱ ف میں لکھے جاچکے ان کا وصول بھی اس طرح ہوسکتاہے یانہیں کہ تمھارا اصل مطالبہ ادا ہوگیا، اب اتنا بیع سلم کا دے دو، اگر دس روپے کسی مسلمان سے زائد لئے گئے او راس کا مطالہ صحیح او ل لے لیا اور ان دس روپوں کے عوض مسلم یا مشرک کو سیربھر گیہوں یہ کہہ کر دے دئے کہ ہم یہ گیہوں اتنے کو فروخت کرتے ہیں اور اس نے بخوشی لے لئے تو یہ جائز ہے؟ اگریہ جائز نہیں تو کیا صورت ہے کہ مال مشترک سے منتفع ہوں؟
الجواب

(۱) یہاں کے مشرکین کے ساتھ یہ صورت جائز ہے مسلمان کے ساتھ حرام ہے کہ یہ قرض سے نفع لینا ہے، اور حدیث میں ہے:
کل قرض جرمنفعۃ فہو ربا ۱؎۔
قرض کے ذریعہ جو نفع حاصل کیا جائے وہ سو د ہے۔
 (۱؎ کنز العمال         حدیث ۱۵۵۱۶    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت    ۶ /۲۳۸)
خلاصہ میں ہے:
القرض بالشرط حرام والشرط لغو بان یقرض علی ان یکتبہ بہ الی بلد کذا لیوفی دینہ ۲؎ اھ کذا (عہ) فی الدرالمختار ۳؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
قرض کے ساتھ شرط لگانا حرام ہے اور شرط لغو قرار پائے گی، مثلا یوں کہ اس شرط پر قرض دوں گاکہ مجھے لکھ دے کہ قرضہ فلاں شہر سے وصول کرلوں اھ درمختار میں یوں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
عہ:  فی الاصل درمختار میں ہے والمراد ان عبارۃ الخلاصۃ فی الدرالمختار    عبدالمنان الاعظمی
 (۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی     کتاب البیوع      الفصل الخامس        ۳ /۵۴۔ ۵۳)

 (۳؎ درمختار بحوالہ خلاصۃ الفتاوی کتاب البیوع    فصل فی القرض    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۴۰)
(۲) یہاں کے مشرکین کے ساتھ اگرابتداءً معاہدہ کاشت اس صورت پرکیا جائے کہ یہ زمین مثلا اتنے سال کےلئے روپے بیگھہ پر تمھیں دی، اگر کسی فصل یا سال تمام پر (جو باہم ٹھہر جائے) بقایارہے گی تو سوائی یا ڈیوڑھی یا دونی (جو قرار پائے) اس زمین کی اجرت متصورہوگی ۔ تو حسب قرار ادا لے سکتا ہے۔ اور اگر پہلے معاہدہ صرف روپے بیگھہ پر ہوا، اور باقی ٹوٹنے کے بعد باقی میں اس سے زیادہ کیا چاہے تو یہ حرام ہے کہ خلاف معاہدہ ہے۔
قال اﷲ یایھاالذین اٰمنوا اوفوا بالعقود ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا اے ایمان والو! عقود کو پورا کرو۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم  ۵ /۱)
اور اگر باقی میں زیادہ نہ لے بلکہ اس سے صاف کہہ دے کہ باقی پوری ادا ہوگئی اس کا تم پر کچھ نہ رہا، مگر وقت پر ادا کرنے کا اتنا حرجہ دے، تو یہاں کے مشرکین سے جائز، چاہے اس کا فرضی نام بیع سلم رکھے واللہ تعالٰی اعلم۔ 

(۳) پہلی صورت میں کہ وہ داخل معاہدہ تھی حساب میں بتائی جاسکتی ہے۔ اور دووسری صورت میں اس کا حساب سے ادا کرنا لازم ہوگا، یعنی یوں کہے گا کہ بقایا لگان تو تجھ پر اس قدرہے۔ اور بوجہ تاخیر اتنا بیع سلم کادینا ہوگا ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۴) ہاں ہوسکتا ہے جبکہ مزارع یہاں کا مشرک ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ مسلمان سے مطلقاً ناجائز، اور فرض ہے کہ اسی کے وہ روپے اسے واپس دے وہ نہ رہا ہو اس کے ورثہ کو دے، ان کا پتہ نہ چلے تو اس کی طرف تصدق کرے بخوشی کا لفظ بے معنی ہے بغیردباؤ کے ناممکن ہے کہ کوئی دس روپے کے بدلے سیر بھر گیہوں پر راضی ہو، اور اگریہاں کا مشرک ہے اور اس سے قید معاہدہ پر زیادہ لیا گیا تو وہ بھی حسب بیان جواب دوم ناجائز ہے گیہوں کایہ معاملہ اس سے کرنا فضول ہے کہ یہ دس روپے بروجہ خبیث آئے، اس مشرک کی ایسی رضا سے وہ خبیث نہ جائے گا کہ وہ دباؤ کی رضا ہے نہ کہ حقیقۃ، اور حقیقۃ بھی ہو تو اس پر مواخذہ حق اللہ کا ہے کہ خلاف حکم کیا، بلکہ سیر بھر گیہوں کسی مسلما ن محتاج کے ہاتھ جتنے کو وہ بخوشی راضی ہو بیع کرے پھر وہ روپیہ بہ نیت تصدق مال خبیث اس محتاج کو دے، پھر اس سے گیہوں کے زرثمن میں لے ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter