فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
26 - 126
جامع الفصولین فصل ۳۳ بحث ''انتفاع بمشترک'' میں ہے :
یغرم الزارع لشریکہ نقصان نصف الارض لوانتقصت لانہ غاصب فی نصیب شریکہ (مز) وعن مز رحمہ اﷲ تعالٰی ، لوغاب احدھما فلشریکہ ان یزرع نصف الارض، ولو ارادالزراعۃ فی العام الثانی زرع النصف الذی کان زرعہ، ویفتی بانہ لو علم ان الزرع ینفع الارض ولاینقصہا فلہ ان یزرع کلہا، ولو حضرا الغائب فلہ ان ینتفع بکل الارض مثل تلک المدۃ، لرضا الغائب فی مثلہ دلۃ، ولو علم ان الزرع ینقصہا او الترک یتفعہا ویزیدھا قوۃ فلیس للحاضر ان یزرع فیہا شیئا اذا الرضا لم یثبت ھنالک کذا، (قفظ) ۱؎۔
ایک شریک نے زمین کی کاشت کی تو وہ دوسرے شریک کے نصف حصہ کے نقصان کا ضمان دے گا۔بشرطیکہ کاشت سے زمین کو نقصان ہو کیونکہ وہ اپنے شریک کے نصف کا غاصب ہے (مز) اور مز رحمۃ اللہ تعالٰی سے مروی ہے کہ اگر ایک شریک غائب ہو تو دوسرے شریک کو نصف زمین کاشت کرنے کا اختیار ہے۔ اور اگر دوسرے سال بھی زراعت کرنا چاہے تو اسی حصہ کو کاشت کرے، اور فتوٰی یہ ہے کہ اگر معلوم ہو کہ زراعت زمین کے مفید ہے نقصان دہ نہیں ہے تو تمام زمین کو کاشت کرے اور غائب شریک آجائے تو اس کو حق ہوگا کہ وہ بھی اتنی ہی مدت کل زمین کو اپنے کاشت کرے یہ ا س لئے کہ مفید ہونے کی صورت میں غائب کی دلالۃ رضا ہے۔ اور اگر معلوم ہو کہ کاشت زمین کے لئے نقصان دہ ہے۔ یاترک زراعت مفید ہے اور زمین کے لئے مزید قوت کا بعث ہے تو پھر حاضر شریک کو کوئی چیز کاشت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، کیونکہ نقصان کی صورت میں دوسرے شریک کی رضا ثابت نہیں ہے۔ یوں''قفظ'' میں ہے۔ (ت)
(۱؎ جامع الفصولین الفصل الثالث والثلاثون اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۳۹)
ردالمحتار کتاب الغصب میں ہے :
نقل (ای فی تنویر البصار) اولا عن العمادیۃ عن محمد (فذکر ماقدمنا عن الجامع قال) ثم نقل عن ''القنیۃ'' ان الحاظر لایلزمہ فی المالک المشترک اجر، ولیس للغائب استعمالہ بقدر تلک المدۃ لان المہایاۃ بعد الخصومۃ، قال وبینہما تدافع الا ان یفرق بین الارض و الدار، وھو بعید اوانہما روایتان، ثم نقل عن الخانیۃ ان مسئلۃ الدار کمسئلۃ الارض، وان للغائب ان یسکن مثل ماسکن شریکہ، وان المشائخ استحسنوا ذٰلک و ھکذا روی عن محمد وعلیہ الفتوی ۱؎۔
تنویر الابصارمیں اولا عمادیۃ سے بحوالہ امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نقل کیااور جامع الفصولین سے ہمارے نقل کردہ کے موافق ذکر کیا، پھر انھوں نے قنیہ سے یہ نقل کیا کہ حاضر شریک پر مشترکہ ملکیت میں کوئی اجرت لازم نہیں ہوتی اور غائب کو اتنی مدت زمین کو استعمال کرنے کا اختیار نہیں ہے کہ کیونکہ بدلہ کا لین دین قاضی کے ہاں خصومت کے بعد ہتاہے اور کہا کہ ان دونوں منقولہ عبارتوں میں اختلاف ہے الایہ کہ زمین اور دار کا فرق قائم کیا جائے اور یہ بعید ہے یا یہ کہا جائے یہ دو مختلف روایتیں ہیں اس کے بعد انھوں نے خانیہ سے نقل کیا کردار کا مسئلہ اور زمین کا مسئلہ ایک ہے کہ مکان میں بھی شریک غائب کو اتنی مدت سکونت کا حق ہے جتنی مدت حاضر شریک سکونت پذیر رہا ہو، اور اس کو مشائخ نے پسند فرمایا ہے اور امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی سے بھی اسی طرح منقول ہے، اوراسی پر فتوٰی ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۳۲۔ ۱۳۱)
نیز جامع الفصولین میں بعد عبارت مذکورہ ہے :
(فص) سکن دار مشترکۃ بغیبۃ شریکہ لایلزمہ اجر حصتہ ولو معدۃ للاستغلال (الی قولہ) علل فی (ذ) بانہ سکن بتاویل الملک فلا اجر (واقعۃ الفتوی) زرع ارضا بینہ وبین غیرہ ھل لشریکہ ان یطالبہ بربع اوثلث بحصۃ نفسہ کما ھو عرف ذٰلک الموضع، اجیب بانہ لایملک ذٰلک یغرمہ نقصان نصیبہ فی الارض لو انقصت ۲؎۔
(فص) ایک شریک مشترکہ مکان میں دوسرے کی غیر موجودگی میں سکونت پذیر رہا تو اس پر کوئی اجرت لازم نہ ہوگی اگرچہ مکان کرایہ داری کے لئے تیار کیا ہو، ان کا بیان اس قول تک کہ (ذ) میں اس کی علت یہ بیان کی گئی کہ وہ ملکیت کی تاویل پر سکونت پذیر ہوا ہے تو اجرت لازم نہ ہوئی، واقعۃ الفتوٰی میں ہے کہ اپنی اور غیر کی مشترکہ زمین میں کاشت کرے تو کیا دوسرے شریک کو اس سے ربع یاثلث کرے تو کیا دوسرے شریک کو اس سے ربع یاثلث کا اپنے حصہ کے طور پر مطالبہ کا حق ہے جیسا کہ وہاں معروف ہے جواب دیا گیا کہ دوسرے شریک کو یہ حق نہیں ہے، ہاں اگر زمین کو کاشت سے نقصان ہوا تو اس کو اپنے نصف کے نقصان کا ضمان لینا رواہوگا۔ (ت)
(۲؎جامع الفصولین الفصل الثالث والثلاثون اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۳۹)
اقول: یہ ہے کہ وہ ح کم کہ اس صورت زراعت بے اطلاع کا شرکاء پر کتب میں مذکور ہے ، مگر یہ احکام عرف کے ساتھ دائر ہیں، اور یہاں دیہات میں عموما صرف دئر وسائریہ ہے کہ زمین کا اجارہ پراٹھنا ہی منفعت جانتے ہیں اور اس کا پڑا رہنا ہی نقصان سمجھتے ہیں کہ وہ صرف معدللاجارہوتے ہیں اس کے بعد اس پر کوئی نظر نہیں ہوتی کہ زراعت اس کے لئے نفع ہے یا ترک، تو یہاں یہ صورت صورت اولٰی یعنی اذن دلالۃ میں منحصر ہے، اور بوجہ اعداد اجر لازم، مگر کوئی خاص زراعت ایسی فرض کی جائے کہ زمیندار اس پر راضی نہ ہوتے ہوں اور اسے مضرارض جانتے ہوں تو وہ مستثنٰی رہے گی، اس تقریر پر دربارہ دیہات خلاصہ حکم یہ ہے کہ شریک کو زراعت کرنا مطلقا جائز اور حصہ شرکاء کا لگان مطلقا لازم ہے، مگر اس صورت میں کہ دیگر شرکاء نے صراحۃ منع کردیا ہو۔ یا کوئی ایسی زراعت کرے جس سے زمین بگڑتی ہو، اور زمیندار اس پر راضی نہ ہوتے ہوں، ان دونوں صورتوں میں نقصان زمین کا تاوان دے گا اگر واقع ہو، اور لگان نہ آئے گا، اور شرکاء نے صراحۃ بلا لگان اجازت دی، تو لگان نہیں، اور زراعت جائزہے
ہذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی
(یہ میری طرف سے ہے اور علم حق میرے رب کے پاس ہے۔ ت) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۵: مسئولہ حمد سید علی صاحب طالب العلم از کانپور مسجد حاجی بدنو شطرنجی محل ۱۴ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
ملک بنگالہ میں ظاہرا ملک تین قسم پر منقسم ہے:
اول ملک شاہی
دوم ملک زمینداری
سوم ملک رعیتی
رعایا زمیندار کو خراج دیتے ہیں، اور زمیندار بادشاہ کو، بادشاہی اصل مالک زمین کا ہے، اور بالکل تصرفات کا اختیار رکھتاہے۔ زمین (عہ) بادشاہ کے تحت میں زمین کا مالک ہے۔ اور زمیندار کے تصرفات بادشاہ کے تصرفات کے تابع ہیں، اور رعیت زمیندار کے تابع ہے، زمیندار رعایا کو زمین ومکان میں جتنے تصرفات کے لئے حکم دیتاہے ، اسی کا اس کو اختیار ہوتاہے زیادہ نہیں اس حالت میں کوئی رعیت دوسری رعیت کے پاس اگر اپنی رعیتی زمین کو بیچے تو قیمت کے فی تولہ چارآنہ حساب سے (یا کم وبیش) زمیندار کی سرکارمیں نذرانہ دینا ہوتاہے مثلا زید اگر اپنی رعیتی زمین کو عمرو کے پاس قیمت دو سو روپے بیچے، اور عمرو دو سو روپے دے کر قبالہ کرلے، اور زید وعمرو میں خریدوفروخت ہوگیا،تو اب عمرو زمیندار کے سرکارمیں فی تولہ چار آنہ کے حساب سے دو سو کی نذر پچاس روپے علاوہ خراج کے جب تک ادانہ کرے گا تب تک خریدی ہوئی زمین کی بابت زید کے نام کو خارج کرکے عمرو کے نام کو اپنے دفتر میں ثابت نہ کرے گا، عمرو کو اس زمین پر تصرف کرنے نہ دے گا، پس نذر مذکور علاوہ خراج کے زمیندار کو لینا شرعا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا بالدلائل (دلائل کے ساتھ بیان کرکے اجر حاصل کیجئے۔ ت)
عہ: فی الاصل کذالک لعلہ ''زمیندار''
الجواب: جو زمیندار آباواجداد کے وقت سے وراثۃً مالک زمین چلے آتے ہیں یا جس نے ایسے مالکوں سے بیع وہبہ وغیرہ کسی عقد صحیح شرعی سے ملک حاصل کی وہ زمیندار اس زمین کا شرعاً مالک ہے اب یہ زمین جو ایک کاشتکار نے دوسرے کے ہاتھ بیع کی اس بیع سے اگر وہ خریدنے والا کاشتکار اس زمین کا مالک مستقل نہیں سمجھا جاتا بلکہ زمیندار کو نذرانہ دینے کے بعد بھی کاشت کارہی سمجھا جاتاہے تو یہ بیع محض باطل ہے۔
کاشت کار اول نے جو ثمن کاشتکار دوم سے لیا وہ اس کے لئے ناجائز ہے۔ اس پر واجب ہے کہ کاشتکار دوم کو واپس دے، اور یہ نذرانہ کہ زمیندار کو دیا جائے گا کہ سال اول اجرت زمین میں اضافہ تصور کیا جاتا تو زمیندار کو جائز ہوتا، مگر ظاہراً وہ اضافہ نہیں سمجھاجاتا۔ بلکہ پہلے کاشتکار کی جگہ دوسرے کو قائم کرنے کی رشوت تو یہ زمیندار کو بھی جائز نہیں، ہاں جبکہ کاشتکار اول اس اجارہ سے دوسرے کے لئے دست بردار ہوچکا،اور زمیندار نے دوسرے کو مستاجر قبول کرلیا تو یہ دوسرا شرعاً مستاجر ہوگیا خراج کہ زمیندار اس سے لے گا زمیندار کو حلال ہے۔ظاہراً صورت یہی واقع ہوتی ہوگی، نہ یہ کہ کاشتکار کی بیع بیع شرعی سمجھی جائے اور کاشتکار دوم زمین کا مالک مستقل قرار پائے، اور اگر بالفرض کہیں ایسا ہو اور کاشتکار اول کا دوسرے کے ہاتھ بیچنا بیع فضول ہو اور زمیندار کا اس نذرانہ پر قبول کرنا زر ثمن میں اضافہ اور بیع کی اجازت ہے۔ تو وہ روپیہ جو کاشتکار اول کو ملا برضائے زمیندار اس کے لئے حلال ہے۔ اور وہ نذرانہ کہ زمیندار نے لے لیا اس کے لئے جائز ہے۔ مگر اب جو خراج زمیندار اس کا شت کار دوم سے لے گا یہ حرام وباطل ہے کہ اس تقدیر پر کاشت کار دوم زمین کامالک مستقل ہوگیا، غیر مالک کا مالک سے خراج لینا کیا معنی، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۶: از شہر بریلی محلہ فراشی ٹولہ مرسلہ مقصود علی خاں ۲۷ ذیقعدہ ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ اگر زمیندار بٹائی کے کھیت کو خواہ وہ کفار کی کاشت میں ہو یا مسلمان کاشتکار ہو،چار اشخاص اہل ہنود یا مسلمان کے بیچ اس بٹائی کے کھیت کی کنکوت کرادے اور کاشت کار جو زمین کی کاشت کرتا ہو اس سے کہہ دے کہ اگر تجھ کو یہ تخمینہ منظور ہو تو اس کو کاٹ لے۔ اور زمیندار کا حصہ جو طے پایا ہو دے دینا، اور اگر منظور نہ کرے تو اس تخمینہ کو منسوخ کردے، ایسی صورت میں جبکہ کاشتکار بھی تخمینہ منظور کرلے تو یہ تخمینہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اور اس کی کمی بیشی کا مواخذہ ہوگا یا نہیں؟ جبکہ زمیندار کو اگر اس تخمینہ سے بیشی ہو تو اس کا کچھ خیال یعنی بیشی کا نہ ہو، اور اگر اس تخمینہ سے کم ہو تو زمیندار پرکا شتکار کا مواخذہ جبکہ وہ تخمینہ منظور کرچکا ہو۔ ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : کنکوت باطل ہے، شرعا اس کا کچھ اعتبار نہیں، نوے من تخمینہ ہوا اور زمیندار کاشتکار دونوں نے منظور کرلیا، اور آدھے پر بٹائی ہے۔ تو اگر سو من پیدا ہوا زمیندار کے پابچ من کا شتکار پر اور رہے۔ اسے جائز نہیں کہ پچاس من کی جگہ پچپن من خود لے اور پینتالیس من زمیندار کو دے، اور اگر اسی من پیدا ہو تو زمیندار کا حق صرف چالیس من ہے پانچ من زیادہ لینا اسے حرام ہے۔ ورنہ مسلمان کاشتکار کے حق میں ماخوذ رہے گااس کی باطل منظوری کہ برخلاف مقتضائے عقد وبے اذن شرع ہے۔ کچھ معتبر نہیں،
ہدایہ میں ہےـ:
من اشتری زیتا علی ان یزنہ بظرفہ، فیطرح عنہ مکان کل ظرف خمسین رطلا، فہو فاسد وان اشتری علی ان یطرح بوزن الظرف جاز۔ لان الشرط الاول لایقتضیہ العقد، والثانی یقتضیہ ۱؎۔
اگر کسی نے اس شرط پر زیتون خریدا کہ میں اپنے پیمانہ سے ناپ کروں گا اور اس ہر پیمانہ پر پچاس رطل کاٹوں گا، تویہ عقد باطل ہے۔ اور اگر اس شرط پر خریدا کہ پیمانہ کے وزن برابر شمار ہوگا تو عقد جائز ہوگا کیونکہ پہلی شرط عقد سے لاتعلق ہے جبکہ دوسری شرط عقد کے موافق ہے۔ (ت)
(۱؎ الہدایہ کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۶۱)
ہاں ہندو کاشتکار سے اس کی مرضی ومنظوری کی بناء پر اگر ایسے زیادہ مل جائے تو حرج نہیں،
لجواز ان یاخذ منہم بغیر غدر ولو بعقد ان وقع بین مسلمین کان فاسدا کما بیناہ فی بیوع فتاوٰنا، واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ ہندوؤں سے غدر کے بغیر جو ملے لینا جائز ہے اگرچہ وہ ایسے عقد کے ذریعہ ملے جو مسلمانوں میں ہو تو فاسد قرار پائے جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی کے بیوع میں بیان کیا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)