Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
25 - 126
جواب سوال دوم: جھوٹ بولنا حرام ہے، ہاں اپنا حق وصول کرنے یا اپنے اوپر ظلم دفع کرنے کے لئے پہلودار بات کی اجازت ہے۔ جس کا ظاہر کذب ہو اور باطن میں صحیح معنی مراد ہوں، وہ بھی اسی حالت میں کہ صدق محض سے وہ حق نہ ملے اور ظلم نہ ٹلے،ورنہ یہ بھی جائز نہیں،
درمختارمیں ہے:
الکذب مباح لا حیاء حقہ ودفع الظلم عن نفسہ، والمراد التعریض، لان عین الکذب حرام ۱؎۔
اپنے حق کو ثابت اور ظلم کو ختم کرنے کے لئے جھوٹ مباح ہے اس جھوٹ سے مراد تعریض ہے نہ کہ عین جھوٹ کیونکہ ٰیہ حرام ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار   کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۵۴)
ردالمحتارمیں ہے:
حیث ابیح التعریض لحاجۃ لایباح لغیرہا، لانہ یوہم الکذب ۲؎۔
جہاں کسی حاجت کی وجہ سے تعریض جائز ہے وہاں بغیر حاجت جائز نہیں، کیونکہ تعریض جھوٹ کا وہم پیدا کرتی ہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار   کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۷۵)
ہاں اگر ظلم شدید ایسا ہو کہ قابل برداشت نہیں، ضرر ایسا سخت ہے جس کا مفسدہ کذب کے مفسدہ سے بڑھ کر ہے اور ا س کا دفع بے کذب ناممکن ہو تو بمجبوری اجازت پاسکتاہے
لان الضرورات تبیح المحظورات
(کیونکہ ضروریات ممنوع چیزوں کو مباح کرتی ہیں۔ ت)
ردالمحتارمیں منقول :
ینبغی ان یقابل مفسدۃ الکذب بالمفسدۃ المترتبۃ علی الصدق فان کانت مفسدۃ الصدق اشد فلہ الکذب، وان بالعکس اوشک حرم ۳؎۔ وقد نقلنا القول فیہ فی فتاوٰنا، واﷲ تعالٰی اعلم۔
جھوٹ کے فساد اور صدق پر مرتب ہونیوالے فسا کا تقابل کیا جانا مناسب ہے اگر صدق پرمرتب فساد شدید ہو تو جھوٹ مباح، اور گر معاملہ بالعکس ہو یا دونوں صورتوں میں شک ہو توپھر کذب حرام ہے فیصلہ کن قول ہم نے اپنے فتاوٰی میں ذکر کیا ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۳؎ردالمحتار      کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع    داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۷۴)
مسئلہ ۵۴: ا زکرتولی مرسلہ حکیم رضا حسین خاں سلمہ، ۷ جمادی الآخرۃ۱۳۳۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مشترک گاؤں میںاگر ایک شریک بے اذن دیگر شرکاء خود کاشت کرے، تو جائز ہے یانہیں؟ اور دیگر شرکاء اس سے اپنے حصے کی لگان لیں گے یاکیا؟ بینوا توجروا
الجواب : زمین مشترک میں ایک شریک کا زراعت کرنا اگر باذن جمیع شرکاء ہے بلاشبہ رواہے، پھر جبکہ وہ زمین گاؤں کی ہے۔ اور دیہات کی زمین اجارہ ہی کےلئے ہوتی ہے تو جب تک تصریح نہ ہوجائے کہ لگان نہ لیا جائے گا، شرکاء کے حصے کا اس پر لگان آئے گا۔
لان الاتجارۃ من الشریک جائزۃ لعدم الشیوع فی المنافع الحادثۃ اذا کل تحدث علی مسلکہ امالملکہ اوللاجارۃ، بخلاف الاجارہ من احد شریکہ، اواجارۃ البعض من غیر الشریک حیث لاتجوز للشیوع کما فی الہدایۃ ۱؎ والدر ۲؎۔
تمام شرکاء کی طر ف سے اجارہ حاصل کرنا جائز ہے کیونکہ اب منافع میں شیوع نہ ہوگا کیونکہ پیدا ہونے والے تمام منافع اس کو اپنی ملکیت کی وجہ یااجارہ کی وجہ سے حاصل ہوں گے بخلاف جبکہ تمام شرکاء میں سے ایک یا بعض سے اجارہ کرے تو ناجائز ہوگا کیونکہ ا ن صورتوں میں شیوع پایاجائے گا، جیساکہ ہدایہ اور درمختار میں ہے۔ (ت)
 (۱؎ الہدایہ    کتاب الاجارۃ    باب الاجارۃ الفاسدۃ        مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳/ ۳۹)

(۲؎ درمختار   کتاب الاجارۃ    باب الاجارۃ الفاسدۃ       مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۷۷)
اور اگر شرکاء کے خلاف مرضی زراعت کرے گا گنہ گاروغاصب ہوگا، پھر اگر اس کی زراعت سے زمین کو نقصان پہنچا تو حصص کے لئے اس نقصان کا تاوان دے گا، اور اگر کوئی نقصان نہ پہنچا تو کچھ نہ دے گا، اس صور ت میں لگان عائد نہیں ہوسکتا۔
لانہا وان کانت معدۃ للاستغلال فالشریک یتصرف فیہا بتاویل الملک، والتصرف بہ بتاویل العقد یمنع الاجر فی المعدبخلاف الوقف ومال الیتیم حیث یجب فیہما مطلقا کما بینہ فی الدرالمختار۳؎ وردالمحتار۴؎۔
کیونکہ اگر چہ وہ زمین کرایہ داری کے لئے تیار رکھی ہے تو شریک کا اس میں تصرف ملکیت کی تاویل سے ہے جبکہ عقد کی تاویل کرایہ داری والی چیز میں اجرت کے لئے مانع ہے بخلاف وقف اور مال یتیم کے ، کیونکہ ان میں اجرت لازم ہے۔ جیسا کہ درمختاراور ردالمحتارمیں یہ بیان کیا ہے۔ (ت)
 (۳؎ درمختار     کتاب الغصب     مطبع مجتبائی دہلی  ۲ /۰۹۔ ۲۰۸)

(۴؎ ردالمحتار       کتاب الغصب     داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۳۲)
اوراگر نہ شرکاء کا صریح اذن تھا نہ ممانعت، بلکہ ان سے بے پوچھے بطور خود اس نے زراعت کی تو اس میں حکم منقول ومنصوص تویہ ہے کہ اگر معلوم ہو کہ زراعت یا اس خاص زراعت سے زمین کو نقصان پہنچے گا، یا زراعت نہ کرنے سے زمین کی طاقت بڑھے گی، تو اس صور ت میں شرکاء سے بے پوچھے اس کا زراعت کرلینا صورت غصب میں داخل ہے، اور حکم وہی ہے کہ نقصان کاتاوان ہے، لگان کچھ نہیں،ا ور اگر معلوم ہے کہ زراعت سے زمین کو منفعت ہوگی، تو یہ صورت صورت اجازت میں داخل ہے کہ اگر چہ صراحۃ اذن نہ ہوا، مگر بوجہ منفعت دلالۃ اذن ہے۔ اس صورت میں بھی حکم یہ لکھتے ہیں کہ لگان دینا نہ آئے گا۔ ہاں شرکاء کو یہ اختیار ہوگا کہ اپنے اپنے حصوں کی قدر وہ بھی اتنی اتنی مدت تک اس کی زراعت کرلیں، مثلا دو شریک تھے، ایک ایک ثلث کا ثلث والے نے ایک سال زراعت کی، تو دو ثلث والا دو سال زراعت کرسکتاہے۔ اقول: مگر یہ حکم اس صورت کا ہے کہ زمین اجارہ کے لئے معدومعروف نہ ہو کہ اس صورت میں اگرچہ بوجہ منفعت دلالۃ اذن ہے مگر اذن عاریت واجارہ دونوں کو محتمل ہے۔ اور عاریت اقل ہے۔ تو وہی متعین ہے۔ اور اجارہ بلا دلیل ثابت نہیں ۔ لہذا اجر واجب نہ آیا، مگر جو زمین معدللاستغلال ہے۔ جیسے زمین دیہات اس میں ثبوت اذن بحکم اعداد وعہد بروجہ اجارہ ہی مانا جائے گا۔ جب تک صراحۃ نفی اجازت یا تصریح عاریت نہ کردیں
لان المعروف کالمشروط وھذا ظاہر جدا
(کیونکہ معروف چیز مشروط کی طرح ہے اور یہ بالکل واضح بات ہے۔ ت) تو یہ صورت مثل صورت اولٰی یعنی زراعت باذن صریح شرکاء ہوگی، اور لگان لازم آئے گا، اسے نہ مانئے تو بحال مفنعت اذن دلالۃ ثابت ہونا، اگر وہاں چل سکے جہاں کوئی مزارع موجود نہیں، تو آباد دیہات میں اس کا ثبوت سخت دشوار ہے کہ غیر شخص زراعت کرتا تو شریک دیگر کو اپنے حصہ کی اجرت ملتی، اورشریک نے خود کاشت کی، اور لگان دلائیں نہیں، صرف یہ اختیار دیں کہ اتنی مدت یہ بھی زراعت کرلے، اورممکن کہ یہ زراعت کے لئے آمادہ نہ ہو، اس کے اسباب نہ رکھتا ہو، اس کے کاموں کا متحمل نہ ہو، ان کی فرصت نہ پاتا ہو، تو اس کا حصہ بلا معاوضہ دوسرے کے تصرف میں رہا ، اس پر رضا واذن دلالۃ ماننا بہت مشکل ہے۔ بخلاف اس صورت کے کہ لگان لازم کریں کہ صریح نفع حاصل ہے یہ دونوں صورتیں علم کی تھیں، اور اگر کچھ نہ معلوم ہو کہ زراعت سے زمین کو مضرت پہنچے گی یا منفعت، اس کا حکم نہیں لکھتے، اقول: وہ صورت مضرت کے حکم میں ہے کہ دلالۃ ثبوت اذن بوجہ علم منفعت تھا جب یہ نہیں وہ نہیں، تو نہ ہوا مگر مطلقا بلااذن تصرف، اوریہی غصب ہے۔
وذٰلک لان الاصل فی التصرف فیما فیہ ملک لغیرہ الحظر الاباذنہ ولودلالۃ ولم یوجد ھوولاھی۔
اس لئے کہ قاعدہ یہ ہے کہ غیر کی ملک میں تصرف اس کی اجازت کے بغیر ممکن ہے اگر چہ وہ اجازت دلالۃ ہو، جبکہ یہاں کسی طرح اجازت نہیں۔ (ت)
Flag Counter