Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
24 - 126
مسئلہ ۵۰ تا ۵۳ : از موضع نگلہ ہریر، تحصیل موانہ ڈاکخانہ بہلادور، ضلع میرٹھ مرسلہ سید اکبر علی ۳ شعبان ۱۳۲۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کاشتکار موروثی ہے اور لگان بحساب د و روپیہ فی بیگھ زمیندار کو اداکرتاہے۔ اور وہ زمین جو زیر کاشت موروثی زید ہے اصل میں (للعہ) فی بیگھ کے لگان کی ہے کیونکہ اس اراضی سے ملحقہ اور ہم حیثیت اراضی مبلغ (للعہ) فی بیگھ لگان پر کاشت کرائی جاری ہے اور دوسرے کاشت کار خوشی سے (للعہ) فی بیگھ لگان پر کاشت کرتے ہیں زمیندار کا بہت بڑا نقصان ہے اور کاشتکار مذکور زمیندار کے کہنے سے لگان میں اضافہ نہیں کرتا اور کہتاہے کہ شرعا نالش کردو، بعد ہوجانے ڈگری کے لگان زیادہ دوں گا، اور زمیندار خود تو اضافہ نہیں کرسکتا کیونکہ کاشت کار رضامند نہیں ، اور کچہری سے بچند وجوہ  ہونہیں سکتا۔ اس معاملہ میں وکلا سے بہت سے زیادہ تحقیق کرلی گئی ہے اگر کاشت کار لگان اس وقت جبکہ قانون نے اس پر واجب کیا ہے نہ اد ا کرے، اور زمیندار محض اپنے نقصان کی تلافی کی غرض سے لگان کے روپیہ پرسودلگادے اورکہہ دے کہ میں اپنے لگان میں لیتاہوں تو کچھ گناہ نہیں ہے۔ اس طریقہ سے کچھ تلافی نقصان ہوجائے گی۔
دوم یہ کہ اگر زمیندار کچہری میں ایک سچی بات کو چھپائے اور جھوٹی بات کو ظاہر کرے تو اپنے نقصان کی معمولی سی تلافی کرسکتاہے اور اراضی موروثی کا اس کے قبضہ سے نکل جانا بھی ممکن ہے۔ اس جھوٹی بات کو ظاہر کرنے سے جو زمیندار محض اپنے نقصان کی تلافی کی غرض سےکرتاہے کوئی گناہ ہوگا یا نہیں؟

سوم یہ کہ کاشتکار موروثی کا کوئی حق ہے یانہیں؟

چہارم یہ کہ شریعت مطہرہ کے نزدیک زمیندارکی مالی نقصان کی تلافی مال سےکیونکر ممکن ہے؟ فقط
الجواب : جواب سوال اول وسوم وچہارم: شرع مطہر کے نزدیک مملوک زمینوں میں جیسی عام دیہات کی زمینیں ہیں کہ زمیندار ان کے مالک ہیں، اصلا کبھی کسی طرح حق موروثی حاصل نہیں، شرعا زمیندار کواختیارہے کہ جب پٹہ کی میعاد ختم ہو،یا اگر کاشتکار سے کوئی میعاد معین نہ ٹھہری تو جس ختم سال پر چاہےکاشتکارسے کہہ دے کہ اب سے کاشت کرے چھوڑ دے مجھے زمین تجھ کو دینا منظور نہیں، اس کہنے سے وہ زمین سے شرعا بے تعلق ہوجائے گا، اور اسے حرام ہوگا کہ قبضہ نہ چھوڑے، اگرنہ چھوڑے گا غاصب ہوگا ، اور اس کے بعد سے عندالشرع اس پر وہی چارروپے بیگھ واجب ہوگا جو وہاں اس حیثیت کی زمینوں کی عام شرح ہے اگر نہ دے گا اوروہی دو روپے بیگھ ادا کرتارہے گا تو بحکم شرع وہ فی بیگھ دو روپے سال کا مدیون ہوتارہے گا، مثلا ایسی زمین پچاس بیگھے اس کی کاشت میں ہے تو زمیندار کے سو روپے سال ہمیشہ اس پر چڑھتے رہیں گے جب تک زمین نہ چھوڑے ،نیز زمیندار کو اختیار ہے کہ ختم میعاد یا صورت ثانیہ میں جس ختم سال پر چاہے اس سے زمین نکالنے کو نہ کہے، بلکہ یوں کہےکہ آج سے یہ زمین چارروپے یا دس روپے بیگھ ہے (جو وہاں اس زمین کی عام شرح ہورہی ہے خواہ اس قدرکہے یا اس سے کم یا جس قدر چاہے زیادہ، مثلا سوروپے بیگھ ہزاروپے بیگھ) اگر کاشت کا راپنے زعم پر کہ یہ بغیر چارہ جوئی قانونی کیا کرسکتاہے خاموش رہا اور کاشت کی ، تو جتنا اس نے کہہ دیا تھا اس پر دین ہورہے گا، اوراگر وہ سکوت نہ کرے بلکہ رد کردے ،مثلا کہے میں تووہی دو روپے دوں گا زیادہ نہ دوں گا، تو یہ پھر اپنے کلام کا اعادہ کردے یہاں تک کہ وہ خاموش ہورہے اور دیکھے کہ نہیں چپتا تو کہہ دے مجھے تجھ کو دینا منظور نہیں، اس کے بعد کاشت کرے گا، و ہی عام شرح مثلا چار روپے اس پر لازم آئیں گے، ان طریقوں سے یہ تو ہوگا نہیں کہ زمیندار قانونا د وروپے بیگھ سے زائد لے سکے، جب تک باضابطہ اضافہ نہ کرائے جو ہزار دقتیں رکھتاہے۔ نہ یہی ممکن کہ زمیندار اس بناء پر کہ شرعا اس کے اجارہ سے نکل گئی اسے خودبے دخل کردے اور نہ صرف قانونا بلکہ عندالشرع بھی زمیندار کو جائز نہ ہوگا کہ شرع مطہر ایسی بات کے لئے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے یا ذلت کے لئے پیش کرنے کی سخت ممانعت فرماتی ہے تو ایسی صورت کاہر جرم قانونی اس عارض کی وجہ سے خود جرم شرعی اور گناہ ہے، ان طریقوں سے یہ نفع ہوگا کہ جب کا شتکار عندالشرع اس کا مدیون ہولیا اور وہ دین قانونا وصول ہو نہیں سکتا، تو کاشتکار سے جو رقم قانونا وصول کرسکے، اور شرعا وہ رقم ناواجب ہو اسے قانونی ذریعہ کے نام  سے وصول کرے اور اپنے اسے آتے ہوئے میں مجرا کرلے جبکہ یہ رقم اس قدر دین سے زائد نہیں مثلا کاشت کار پر لگان یا اضافہ یا بیدخلی یا کسی قسم کی کوئی نالش کرے جس کی حاجت زمینداروں کو اکثر پڑتی ہے، او وہ نالش ڈگری ہو تو شرعا مدعی کو اگرچہ حق پر ہو مدعا علیہ سے خرچہ لینا جائز نہیں، یہ خرچہ لے اور اسے اپنے دین مین محسوب سمجھے یا زمینداریوں میں اکثر معمول ہے کہ کاشتکار وں سے لکڑی، آپلا بھس وغیرہ اُگھائی لیتے ہیں، یا ہل بیل گاڑی سبیل وغیرہ میں، او ریہ شرعا جائز نہیںِ ان کو وصول کرے اور اس میں مجرا لے لکڑی وغیرہ قیمت کے اعتبار سے او ر بیل

وغیرہ اجرت کے لحاظ سے یونہی اگر قسط چوکنے سے یالگان تقاوی وغیرہ پر سود کا نام کرے اور سود کی نیت نہ ہو بلکہ اسی دین میں وصول کرے تو یہ رقم بھی شرعا اس کے لئے مال حرام نہ ہوگی، مگر اس سے احتراز یوں لازم ہے کہ شرع نے جس طرح بُرے کام سے منع فرمایا بُرے نام سے بھی منع فرمایا، اور اپنے آپ کو بلاضرورت شرعیہ مطعون کرنا مسلمانون کو اپنی غیبت وبدگوئی میں مبتلا کرنا شرعا منع ہے۔ سو دکے نام لگانے سے لوگ اصل حقیقت کونہ جانیں گے، اور اسے معاذاللہ سودخو رکہیں گے، بد نام کریں گے، یہ کس کس کو اپنی نیت اور معاملہ کی اصل حالت بتاتا پھرے گا، ایسی بات سے احتراز چاہئے بخلاف خرچہ اُگھائی، سہیل بیگار معمولی ورائج اشیاء کے کہ عوام ان پر مطعون وبدنام نہ کریں گے، غرض کاشتکار کہ شرعا ناجائز قبضہ رکھے مدیون بنانے کے وہ طریقے ہیں اور اپنے مالی نقصان کی تلافی کی یہ صورتیں، بغیر ان طریقوں کے صرف اس وجہ سے کہ گرد وپیش کی زمینوں کی شرح بڑھ گئی ہے۔ کاشت کار پر دو روپے بیگھہ سے زیادہ کچھ واجب نہ ہوگا، ا وریہ زیادہ لے گا تو ناواجب لے گا، اس مجمل بیان کو خوب سمجھ لینا چاہئے کہ اس میں شرعی اطاعت بھی رہے اور قانونی رعایت بھی اور مالی حفاظت بھی اور ان اصول و مسائل سے آج کل کے بہت ذی علم بھی غافل ہیں عوام تو عوام، اب ہم بعض عبارات ذکرکریں کہ تفصیل موجب تطویل۔
فی ردالمحتار عن الخیریۃ عن الحاوی عن الاسرار اذا استاجر ارضا ملکا لیس للمستاجر ان یستبقیہا کذلک ان ابی المالک الا القلع بل یکلفہ علی ذلک ۱؎۔
  ردالمحتار میں ہے خیریہ سے ہے انھوں نے حاوی سے بحوالہ الاسرار نقل کیا کہ اگر کسی نے کسی نجی ملکیت کو اجارہ پرلیا تو مستاجر کو حق نہیں کہ اس کو اپنے لئے باقی رکھےجس طرح سرکاری زمین کو باقی رکھ سکتاہے جبکہ مالک اس کو اپنے تجاوزات ختم کرنے پر مصر ہو بلکہ مالک ا س کو پابند بناسکتاہے۔ (ت)
 ( ۱؎ ردالمحتار    کتاب الاجارۃ باب مایجوز من الاجارۃ الخ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۱۹)
درمختارمیں ہے :
قال للسالکن اسکن بکذا اوالا فانتقل، فسکت،لزم مایسمی ۲؎۔
جب مالک نے کرایہ دار کو کہا اگر رہنا ہو تو اتنے معاوضہ پر رہو ورنہ منتقل ہوجاؤں تو اس پر کرایہ دار خاموش رہا تو مالک کا ذکر کردہ معاوضہ اس پر لازم ہوجائیگا (ت)
 (۲؎ درمختار    کتاب الاجارۃ    مسائل شتی من الاجارۃ   مطبع مجتائی دہلی        ۲/ ۱۸۶)
اسی میں ہے:
یجب اجر المثل فی المعد للاستغلال ۱؎۔
کرایہ حاصل کرنے کے لئے مخصوص شدہ زمین کی مثلی اجرت لاز م ہوگی۔ (ت)
 (۱؎ درمختار   کتاب الغصب     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۹۔۲۰۸)
اسی میں ہے :
الاصل ان المستحق بجہۃ اذا وصل الی المستحق بجہۃ اخری اعتبر واصلا بجہۃ مستحقہ ان وصل الیہ من المستحق علیہ والافلا، وتمامہ فی جامع الفصولین ۲؎۔
       مستحق کو اس کااستحقاق کسی دوسرے طریقہ سے بھی ملے تو وہ استحقاق کے طریقہ پر ہی متصور ہوگا بشرطیکہ اس کو مدیون کی جانب سے پہنچے، ورنہ نہیں اس کی تمام بحث جامع الفصولین میں ہے۔ (ت)
 (۲؎ درمختار   کتاب البیوع باب البیع الفاسد  مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۸)
ردالمحتارمیں ہے :
اذا لم یمکنہ الرفع للحاکم فاذا ظفر بمال مدیونہ لہ الاخذ دیانۃ، بل لہ الاخذ من خلاف الجنس ۳؎۔
جب اس کوحاکم کئے ہاں پیش کرناممکن نہ رہے تو جب اپنے مدیون کا مال ہاتھ لگے تو دیانۃ اس کو لینا جائز ہے بلکہ حق کی جنس کے خلاف بھی مال ملے تو لینے کا حق ہے۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار  کتاب السرقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۲۰۰)
اسی میں ہے:
الفتوی الیوم علی جواز الاخذ عندالقدرۃ من ای مال کان ۴؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
آج کل فتوٰی یہ ہے کہ مدیون کے کسی بھی مال پر قدرت پائے تو لینا جائز ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۴؎ ردالمحتار    کتاب الحجر          داراحیاء التراث العربی بیروت     ۵/ ۹۵)
Flag Counter