Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
23 - 126
وفی وقف الدر فی المنیۃ، حانوت لرجل فی ارض وقف، فابی صاحبہ ان یستاجر الارض باجر المثل، ان العمارۃ لورفعت تستاجر باکثر مما استاجرہ امربرفع العمارۃ وتوجر لغیرہ، والاتترک فی یدہ بذٰلک الاجر ومثلہ فی البحر ۲؎ اھ قال الشامی لان فیہ ضرورۃ، بحرعن المحیط، و ظاہر التعلیل ترکہا بیدہ ولوبعد فراغ مدۃ الاجارۃ لانہ لوا مر برفعہا لتوجر من غیرہ یلزم ضررہ، و حیث کان یرفع اجرۃ مثلہا لم یوجد ضرر لعلی الوقف، فتترک فی یدہ لعدم الضرر علی الجانبین ۳؎ الخ، و علی کل ، فلفظۃ الملک لامحل لہ ھناکما قدمناعن نفس حاوی الزاھدی عن الاسرار فضلا عن سائر معتمدات الاسفار۔
اوردرمختار میں منیہ سے منقول ہے کہ کسی شخص کی وقف زمین میں دکان ہو او وہ دکان والا مثلی اجرت پر آئندہ اجرت پر انکار کرے جبکہ عمارت اٹھادی جائے تو وہ زمین اس کی اجرت سے زیادہ اجارہ پر دی جاسکتی ہے تو ا س مستاجر کو اپنی عمارت اٹھالینے کا پابند کیا جائے اور وہ زمین غیر کو اجارہ پر دی جائے، ورنہ اسی اجرت میں اسی کے قبضہ میں رہنے دی جائے، اس کی مثل بحر میں ہے۔ اھ علامہ شامی نے فرمایاکیونکہ ا س میں ضرورت ہے۔ محیط سے بحر میں ہے اور علت کا ظاہر بتانا ہے کہ اس کے قبضہ میں رہنے دی جائے اگرچہ مدت اجارہ ختم ہوچکی ہو کیونکہ اگر اس کو عمارت اٹھانے کا پابند کیا او ر غیر کو دی جائے تو اس سے مستاجر کو ضرر ہوگا جبکہ اٹھادینے کے باوجود مثلی اجر ت نہ ملے تو وقف کو نقصان ہے لہذا اسی کے قبضہ میں رہنے دی جائے اس میں دونوں فریقوں کی رعایت ہے الخ اوربہر صورت حاوی الزاہدی کا وہاں ملک کو ذکر کرنا بے محل ہے جیسا کہ خود حاوی الزاہدی کی الاسرار سے نقل ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں چہ جائیکہ معتمد کتب کو ذکرکیا جائے۔ (ت)
(۲ ؎ درمختار     کتاب الوقف    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۷۵۔ ۳۸۴)

(۳؎ ردالمحتار    کتاب الوقف   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۳۹۱)
بالجملہ دیہات مملوکہ میں کاشتکار کے لئے کسی مدت میں حق قرار جسے آج کل حق موروثی کہتے ہیں شرعا ہر گز حاصل نہیں ہوتا۔ وہ صرف قانونی بات ہے تو اگر بے رضائے زمیندار بدعوی موروثی جبرا قابض ہے، یالگان اس کی مرضی سے کم دے، تو عنداللہ وہ کاشتکار ضرورظالم وغاصب وگنہگار ،ا ورحق العبد میں گرفتار ہے، یہاں اگر چہ قانونی مجبوری زمیندار کو عاجز رکھے مگر روز قیامت اللہ عزوجل کے حضور کاشتکار کو کوئی عذر نہ ہوگا،باایں ہمہ اگر زمیندار دعوٰی بے دخلی دائر کردے تو کاشتکار کے خرچہ پانے کا مستحق نہیں کہ مدعی کو خرچہ دلانابھی حکم شریعت کے بالکل خلاف ہے اگر چہ مدعی مظلوم ہی ہو،
عقود الدریہ میں ہے :
سئل فی رجل کفل اٰخر عند زید بدین معلوم ثم طالبہ زید بہ والزمہ بہ لدی القاضی ، فطلب زید ان یدفع لہ الرجل قدر ما صرفہ فی کلفۃ الالزام، فدفعہ لہ، ویرید الرجل مطالبۃ زید بماقبضہ من کلفۃ الالزام، فھل لہ ذٰلک، الجواب نعم ۱؎ اھ
باختصار وکتب المولی المنقح رحمہ اﷲ تعالٰی ہامشہ لایلزم بکلفۃ الالزام۔  ایک مقروض شخص نے دوسرے شخص کو زید کے معلوم قرضہ کا کفیل بنایاپھر زید نے اس کفیل پر قرض کا لزوم بنانے کے لئے اس کفیل کو قاضی کے ہاں طلب کرایا تو قاضی کے ہاں کفیل پر الزام ہوگیا تو اب زید اپنے مقروض شخص سے قاضی کے ہاں الزام کے خرچہ کامطالبہ کرے اور وہ خرچہ زید کو دے دے ا ور اب وہ مقروض شخص زید سےخرچہ کی دی ہوئی رقم کا واپس لینے کے لئے مطالبہ کرے تو کیا اس کو واپس لینے کےلیےمطالبہ کا حق ہے۔ الجواب، ہاں حق ہے اھ اس کے حاشیہ پر تنقیح کرنیوالے حضرت نے لکھا کہ الزام کی کاروائی کاخرچہ لازم نہیں کیا جاسکتا۔ (ت)
(۱؎العقود الدریۃ    کتاب الکفالۃ     ارگ بازار قندہار افغانستان        ۱/ ۳۰۸)
ہاں اگر زمیندار اس سے کہہ دے کہ آئندہ سے اس زمین پر اتنی لگان تجھے دینی ہوگی، اور کاشتکار نہ اضاہ کرے نہ زمین چھوڑے بلکہ خاموش رہے اور زراعت کئے جائے،تو اس کا وہ سکوت ہی شرعا قبول ٹھہرے گا اور اس دن سے وہی لگان اس پر لازم ہوگی، مگر زمیندار اس سے وصول نہیں کرسکتا۔ تو یہ خرچہ کی رقم اس آتے ہوئے میں وصول کرلے کہ اس کالینا قانونا بنام خرچہ ممکن ہے، اور شرعا بوجہ اضافہ جائز ہے۔
درمختارمیں ہے :
السکوت فی الاجارۃ رضا وقبول، فلو قال للساکن اسکن بکذا والا فانتقل اوقال الراعی لارضی بالمسمی بل کذا، فسکت، لزم ماسمی ۱؎۔
عقد اجارہ میں سکوت رضا اور قبول قررپاتاہے تو اگر مالک نے کرایہ دار رہائشی کو کہا، ''اتنے معاوضہ پر رہائش رکھنی ہو تو ٹھیک ہے ورنہ یہاں سے منتقل ہوجاؤ، یا نگران نے اسے کہا میں مقررہ معاوضہ لینے پر راضی نہیں بلکہ اتنا چاہتاہوں توکرایہ دا رخاموش رہا تو اس پر مالک کاذکر کردہ لازم ہوجائے گا۔ (ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الاجارہ مسائل شتی عن الاجارۃ   مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۸۶)
ردالمحتارمیں ہے :
فی التتارخانیۃ، اکتری دارا سنۃ بالف فلما انقضت قال ان فرغتہا الیوم والا فہی علیک کل شہر بالف، والمستاجر مقرلہ بالدار، فانہ نجعل فی قدر ماینقل متاعہ باجر المثل، وبعد ذٰلک بما قال المالک ۲؎۔
تاتارخانیہ میں ہے سالانہ ایک ہزار کرایہ پر مکان دیا سال ختم ہونے پر اس نے کرایہ دار کو کہا اگر توآج مکان فارغ کردے تو بہتر ورنہ ماہانہ کرایہ ایک ہزار تجھ پر لازم ہو گا جبکہ کرایہ دار مکان کی ملکیت کا معترف ہے تو ا س کو سامان منتقل کرنے کی مدت مثلی اجرت پر ہم تسلیم کرینگے اور اس کے بعد مالک کے قول کے مطابق ادا کرے گا۔ (ت)
 (۲؎ردالمحتار   کتاب الاجارہ مسائل شتی عن الاجارۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۵۶)
اسی طرح اگر خود زمین کی لگان بڑھ گئی وہ اوراس کے گردوپیش کی مینیں پہلے ایک روپیہ بیگھہ تھیں، اب مثلا دو روپے بیگھ ہوگئیں، اور اس کی مدت اجارہ ختم ہوگئی، اور مالک نے اضافہ چاہا، تو اس پر بھی شرعا دو روپے کی شرح لازم ہوگی، اگر چہ نہ صرف سکوت بلکہ کاشتکار صراحۃ انکار کرتارہا ہو،
لانہ لما تمت اجارتہ، وطلب المالک الزیادۃ فابی صار غاصبا والارض معدۃ للاستغلال، ولیس للمزارع تاویل ملک لعدمہ ولاعذر لانتہائہ، فیجب علیہ باجرۃ المثل، وھی الاٰن ربیتان۔
  کیونکہ جب کرایہ داری کی مدت ختم ہوگئی ہو اور مالک زائد کرایہ طلب کرتاہو تو مستاجر کے انکار کردینے کے بعد رہائش غاصبانہ ہوگی جبکہ زمین کرایہ حاصل کرنے کے لئے ہی مختص ہے اور مزارع کو ملکیت کابھی عذر نہیں کیونکہ وہ مالک نہیں اور نہ ہی مدت اجارہ کے ختم ہونے میں عذر ہے تو اس پر مثلی اجرت کا کرایہ لازم ہوگا جوکہ اب د وروپیہ (مثلا ) ہے (ت)
درمختار میں ہے :
منافع الغصب لاتضمن عندنا، الا فی ثلث، فیجب اجر المثل ان یکون المغصوب وقفا اومال یتیم، اومعداللاستغلال، الا فی المعد للاستغلال اذا سکن بتاویل ملک، او عقد فلا شیئ علیہ ۱؎ اھ ملتقطا۔
غصب کے منافع ہمارے نزدیک قابل ضمان نہیں ہیں سوائے تین مواقع کے ایک یہ کہ مغصوب وقف ہو تو اس کی مثلی اجرت لازم ہوگی، دوسرا یہ کہ وہ مغصوبہ چیز یتیم کا مال ہو، تیسرایہ کہ وہ چیز کرایہ حاصل کرنے کے لئے مختص ہو، ہاں اگر ملکیت کی تاویل سے اس کرایہ والی زمین میں رہائش پذیر ہو تو پھر اس پرکوئی ضمان لازم نہ ہوگا اھ ملتقطا (ت)
(۱؎ درمختار     کتاب الغصب    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۹۔ ۲۰۸)
تو بنام خرچہ جو کچھ ملے اس اجافہ میں جو شرعا اس پر لازم ہوچکا وصول کرلے لانہ ظفر بجنس حقہ (کیونکہ وہ اپنے حق کی جنس پر قابض ہوا۔ ت)
ردالمحتارمیں ہے :
اذالم یمکنہ الرفع للحاکم ، فاذا اظفر بمال مدیونہ، لہ الاخذر دیانۃ، بل لہ الاخز من خلاف الجنس علی ما نذکرہ قریبا ۲؎۔
   جب حاکم کے ہاں پیش کرناممکن نہ رہے تو جب اپنے مدیون کے مال پر کامیابی پالے تو قبضہ میں لے لے۔ یہ اس کو دیانۃ اجازت ہوگی بلکہ اس کو اپنے حق کی جنس کے خلاف بھی اس کا مال ملے تو قبضہ کرلے جیسا کہ ہم عنقریب ذکرکریں گے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار     کتاب السرقۃ  داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۲۰۰)
اور اگر اجارہ کی کچھ مدت مقرر نہ کی یوں ہی سال بسال کاشت کرتا چلا آتاہے۔ جب تو ختم ہرسال پر زمیندار کواختیارات مذکورہ حاصل، اور احکام مذکورہ نافذہ ہیں، کہ اس سے ہر سال پر نیا اجارہ منعقد ہوتاہے
کما اشرناالیہ
(جیسا کہ ہم نے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے)۔
درمختارمیں ہے:
اٰجرحانوتا کل شہر بکذا، صح فی واحد فقط واذا تم الشہر، فلکل فسخہا بشرط حضور الاٰخر فسخہا بشرط حضور الاٰخر لانتہاء العقد الصحیح ، وفی کل شہر سکن فی اولہ صح العقد فیہ ایضا ۱؎ الخ باختصار
ایک دکان کسی معینہ معاوضہ پر ماہانہ اجرت پر دی تو صرف ایک ماہ کا یہ اجارہ صحیح ہوگا اور جب مہینہ ختم ہوجائے تو دونوں میں سے ہر ایک فریق کو اس کے فسخ کااختیار ہوگا بشرطیکہ دوسرا فریق وہاں موجود ہو، کیونکہ صحیح عقد ختم ہوگیا ہے اور جس مہینہ کی ابتداء میں وہاں رہائش پذیر رہا اس مہینہ کے اجارہ کا عقد بھی صحیح قرار پائے گا الخ باختصار (ت)
(۱؎ درمختار   کتاب الاجارۃ الاجارۃ الفاسدۃ   مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۷۸)
بالجملہ یہ قاعدہ کلیہ نفسیہ جلیلہ حفظ کرنے کا ہے کہ جب کسی کا دوسرے پر کچھ آتاہو۔ یا ا س سے لینے کاشرعا حق رکھتاہو، اور اپنے اس حق تک قانونا نہ پہنچ سکتاہو۔ تو اس کے وصول کے لئے کسی ایسے امر کا ارتکاب جو قانونا ناجائز ہے ہو،ا ورجرم کی حد تک پہنچے شرعا بھی ناجائز ہوگا کہ ایسی بات کے لئے جرم قانونی کا مرتکب ہو کر اپنے آپ کو سزااور ذلت کے لئے پیش کرنا شرعا بھی روانہیں۔
قال تعالٰی لا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ ۲؎،
وقد جاء الحدیث عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ینہی المومن ان یذل نفسہ ۳؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اپنے ہاتھوں ہالاکت میں نہ پڑو، اور حدیث شریف میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے کہ آپ نے مومن کو اپنا نفس ذلت میں ڈالنے سے منع فرمایا ہے۔ (ت)
 (۲؎ القرآن الکریم    ۲/ ۱۹۵)

(۳؎ مسند اما احمد بن حنبل ترجمہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ     دارالفکر بیروت    ۵/ ۴۰۵)
مگر جب کوئی ایسا ذریعہ پائے کہ قانونا کوئی رقم اس سے وصول کرسکے تو اجازت ہے کہ اس نیت جائزہ سے اسے لے اگر  چہ قانونا کسی دوسرے نام سے ملے
، فان الشیئ اذا اوصل الی مستحقہ من المستحق علیہ، جعل واصلا من الجہۃ         التی یستحقہ،کما فی الدرالمختار ۴؎،وقدقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انما  الاعمال بالنیات  وانما  الکل امری مانوی ۵؎۔
تو بیشک جب مستحق کو اپنے مدیون کی کوئی چیز ہاتھ لگے تو اس کو استحقاق کے طریقہ پر پہنچنا تصور کیا جائیگا جیسا کہ درمختارمیںمذکور ہے۔ حالانکہ حضو ر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: اعمال کا اعتبار نیت پر ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کا ثمرہ ہے۔ (ت)
 (۴؎ درمختار     کتاب البیوع باب البیع الفاسد   مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۸)

(۵؎ صحیح البخاری   باب کیف کان بدء الوحی الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲)
اور یہ ضرور ہے کہ شرعی اجازت سے آگے نہ لے، مثلا سو روپے آتے تھے تو سو یا سو سے کم لے سکتاہے زیادہ جائز نہیں، او ریہ بھی لحاظ رہے کہ شرع مطہر جس طرح بُرے کام سے منع فرماتی ہے یونہی برے نام سے ، تو ایسے ذریعہ سے بچے جس میں اگرچہ یہ اپنی نیت کے سبب لیتا آتا،یا ایک شیئ مباح لیتا ہو جس میں اس پر مواخذہ نہیں مگر وہ ظاہری ذریعہ ایساہو جس سے بدنامی ہو، لوگ اسے مرتکب حرام سمجھیں، غیبت کریں، جیسے سود کا نام، تو اس سے بھی بچے اور صبرکرے، واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter