Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
22 - 126
اسی میں ہے :
لکن اذا کان ہذ الجدک المسمی بالمسکنے قائما فی ارض وقف، فہو من قبیل مسألۃ البناء اوالغرس فی الارض المحتکرۃ لصاحب الاستبقاء باجرۃ مثل الارض حیث لاضرر علی الوقف وان ابی الناظر نظرا للجامنبی علی مامشی علیہ فی متن التنویر، وافتی بہ المؤلف تبعاللخیر الرملی، وقدمنا الکلام علیہ فی کتاب الاجارات، ولاینا فیہ مافی التجنیس من ان لصاحب الحانوت ان یکفلہ رفعہ، لان ذٰلک فی الحانوت الملک، والفرق ان الملک قد یمتنع صاحبہ عن ایجارہ، ویرید ان یسکنہ بنفسہ اویبیعہ، اویعطلہ بخلاف الموقوف المعد للایجار، فانہ لیس للناظر الا ان یوجرہ فایجارہ من ذی الید باجرۃ مثلہ اولی من ایجارہ من اجنبی لما فیہ من النظر للوقف ولذی الید ۱؎۔
لیکن یہ جدک جس کو سکنی کہتے ہیں اگر وقف زمین میں ہو تو ہو کرایہ کی زمین پر عمارت اور پودے لگانے کے مسئلہ کی طرح ہے ا سے اگر وقف زمیں کو ضرر نہ ہو تو اس کو مثلی اجرت کے ساتھ زمین کو باقی رکھنے کا حق ہوگا اگرچہ وقف کانگران انکا رکرے تاکہ دونوں جانب کی رعایت ہوسکے، متن تنویر کے بیان پر بناکرتے ہوئے اور اس پر مؤلف نے خیرالدین رملی کی اتباع میں فتوٰی دیا ہے اس پر ہم نے کتاب اجارات میں کلام کردیا ہے۔ اور یہ بیان تجنیس میں مذکور کے منافی نہیں کہ دکانوں کے مالک کو حق ہے کہ وہ تجاوزات کو اکھاڑنے پرمجبور کرے کیونکہ تجنیس کا یہ بیان نجی ملکیت کے متعلق ہے، وجہ فرق ہےکہ نجی مالک کبھی اپنی ذاتی رہائش یا فروخت یا فارغ رکھنے کے لئے کرایہ پر نہیں دینا چاہتا بخلاف وقف شدہ زمین کہ جس کو کرایہ پر دینے کے لئے ہی تیار کیاگیا ہے تو نگران کو کرایہ کے بغیر چارہ نہیں ہے تو کسی اجنبی کو دینے کی نسبت قابض کو مثلی اجرت دینا اس کے لئے بہتر ہوگا لہذا اس میں وقف اور قابض دونوں کی رعایت ہے۔ (ت)
(۱؎ العقود الدریہ    کتاب المساقات باب مشد المسکۃ     ارگ بازار قندہار افغانستان        ۲/ ۲۱۹)
فتاوٰی خیریہ کتاب المزارعۃ میں ہے :
لیس لصاحب التیمار رفع ایدیہم عنہا، و لاقلع اشجارہم، اذا المفوض الیہ من السلطان تناول الخراج ولیس لہ ملک فیہا حتی یملک نزع ید مزارعیہا الذین صارلم فیہا کردار بغرس للاشجار، والتصرف الکائن منہم فی سائر الاعصار ۲؎ ۔ باختصار،
  سرکاری زمین کے نگران کویہ حق نہیں ہے کہ وہ کرایہ داروں کو ان درختوں سے بے دخل کرے او رنہ ہی وہ درختوں کو کاٹ سکتاہے کیونکہ سلطان کی طرف سے اس نگران کو صرف خراج وصول کرنے کا اختیار ہے نہ کہ اس کو مالکانہ اختیارات ہیں تاکہ وہ مزارعین کا جن کا وہاں درخت لگانے میں دخل ہے ان کو  وہاں سے بے دخل کرے جبکہ ایسی زمینوں میں مزارعین کو درخت لگانے کا عام شہروں میں رواج ہے باختصار (ت)
 (۲؎ فتاوٰی خیریہ   کتاب المزارعۃ   دارالمعرفۃ بیروت   ۲/ ۱۶۷)
ردالمحتار کتاب الاجارہ میں قول مصنف:
لواستاجر ارض وقف، وغرس فیھا ثم مضت مدۃ الاجارۃ، فللمستاجر استبقاء ھا باجرالمثلی اذالم یکن فی ذٰلک ضرر ولو ابی الموقوف علیہم الاالقلع۔لیس لہم ذٰلک ۱؎۔
    اگر کسی نے وقف زمین کو کرایہ پرلے کر وہاں پودے لگائے پھر کچھ مدت اجارہ جاری رہا تو اس کو مثلی اجرت پر اس اجارہ کو باقی رکھنے کا حق ہے بشرطیکہ اس سے ضرر نہ ہو اور اگر نگران ان کو ہٹانے پر بضد ہو تو اس کو یہ حق نہیں۔ (ت) کے تحت فرمایا :
قید بالوقف لما فی الخیریۃ عن حاوی الزاھدی عن الاسرار من قولہ بخلاف مااذااستاجر ارضا ملکا، لیس للمستاجر ان یستبقیہا کذٰلک ان ابی المالک الاالقلع، بل یکلفہ علی ذٰلک، الا اذا کانت قیمۃ الغراس اکثر من قیمۃ الارض، فیضمن المستاجر قیمۃ الارض فیضمن المستاجر قیمۃ الارض للمالک، فیکون الاغراس والارض للغارس، وفی العکس یضمن المالک قیمۃ الاغراس فتکون الارض والاشجارلہ، وکذا الحکم فی العاریۃ ۲؎ اھ مافی الشامی۔
مصنف نے وقف کے ساتھ مقید اس سبب سے جس کو خیریہ نے حاوی الزاہدی سے اس نے الاسرار سے نقل کیا یہ قول کہ بخلاف جب وہ نجی ملکیت کو اجارہ پرلے تو مستاجر کو اس دخل کی بنا پر اس زمین کو باقی رکھنے کا حق نہیں ہے جبکہ ملک ان درختوں کو اکھاڑدینے پر مجبور کرے بلکہ مالک اس کو اس پر مجبور کرسکتاہے ہاں اگر درختوں کی قیمت زمین کی قیمت سے زائد ہو تو پھر مستاجر زمین کی قیمت کا ضمان مالک کو دے کر درختوں اور زمین کا خود مالک بن جائے گا، اور اگر معاملہ بالعکس ہو تو پھر مالک درخت اکھاڑ دینے کا ضامن بنے گا اور درختوں اور زمین کا مالک ہوجائے گا، اور عاریتا لی ہوئی زمین کاحکم بھی یہی ہے اھ شامی کا بیان ختم ہوا۔ (ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الاجارۃ باب مایجوز من الاجارۃ الخ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۷۳)

(۲؎ ردالمحتار    کتاب الاجارۃ باب مایجوز من الاجارۃ الخ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۱۹)
اقول: واستنثناءہ مااذا اکانت قیمۃ الغراس اکثر مبنی علی مسألۃ غصب الساحۃ بالمھملۃ وفیہا معترک عظیم، والارجع عندنا انہ لایتملک الارض کرھا وان کانت قیمۃ بنائہ وغرسہ اکثر، لقول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لیس لعرق ظالم حق ۱؎۔
اقول: (میں کہتاہوں) اس کا درختوں کی قیمت کازمین کی قیمت سے زائد ہونے کو مالک کے اختیار سے مستثنٰی کرنا یہ خالی زمین کو غصب کرنے پر مبنی ہے اس میں عظیم معرکہ آرائی ہے جبکہ ہمارے ہاں ارجح یہ ہے کہ مستاجر زمین کا جبراً مالک نہیں بن سکتا اگر چہ عمارت اور پودوں کی قیمت زمین سے زائد ہو کیونکہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ظالمانہ دخل کا کوئی حق نہیں ہے۔ (ت)
 (۱؎ جامع الترمذی   ابوب الاحکام باب احیاء ارض الموات     امین کمپنی دہلی        ۱/ ۱۶۶)

(سنن الکبرٰی للبیہقی     کتاب الغصب       دارصادر بیروت    ۶/ ۹۹)

(سنن ابی داؤد         باب احیاء الموات        آفتاب عالم پریس لاہور     ۲/ ۸۱)
درمختارمیں ہے:
فان مضت المدۃ فلعہا وسلمہا فارغۃ الا ان یغرم لہ الموجر قیمۃ البناء و الغرس مقلوعا ویتملکہ، قال فی البحر، افاد انہ لایلزمہ القلع ولو رضی المؤجر بدفع القیمۃ، لکن ان کانت تنقص یتملکہا جبرا علی المستاجر ولافبر ضاہ ۲؎۔
        اگر مدت اجارہ ختم ہوگئی ہو تو مستاجر اپنے دخل کو ختم کرتے ہوئے درختوں کو اکھاڑ کر خالی زمین مالک کو واپس کرے مگر یہ کہ اگر مالک اکھڑے درختوں اور تعمیر کی قیمت کوبرداشت کرکے خود ان کا مالک بن جائے ، بحرمیں فرمایا کہ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ مستاجر کو درخت اکھاڑنا لازم نہیں اگر ملک قیمت دینے کو تیارہو لیکن اگر درخت اکھاڑنے سے زمین کو نقصان ہو تو پھر مالک جبرا درخت لے سکے گا ورنہ مستاجر کی رضا سے درختوں کا مالک بن سکے گا (ت)
 (۲؎ درمختار    کتاب الاجارۃ باب مایجوز من الاجارۃ  مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۷۳)
ردالمحتارمیں ہے :
قولہ مقلوعافی الشرنبلالیۃ، ای مامورا مالکہما بقلعہما وانما فسرناہ بکذا، لان قیمۃ المقلوع ازید من قیمۃ المامور بقلعہ، لکون المؤنۃ مصروفۃ للقلع کذا فی الکفایۃ ۱؎ اھ۔
 ماتن کا قول ''اکھڑے ہوئے درختوں کی قیمت'' شرنبلالی نے فرمایا: یعنی درختوں اور تعمیر کے مالک کو اکھاڑنے کے حکم ر جو قیمت ہو، ہم نے یہ تفسیر اس لئے کی ہے کہ کبھی کھڑے درختوں کی قیمت اکھاڑنے کے حکم والی قیمت سے زائد ہوتی ہے کیونکہ اکھاڑنے کا خرچہ بھی ان پر پڑتاہے، کفایہ میں یوں ہے۔ (ت)
(۱؎ردالمحتار     کتاب الاجارۃ باب مایجوز من الاجارۃ الخ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۱۹)
اقول: وبماذکر نا تبین ان ماوقع فی حاوی الزاھدی من قولہ، یثبت حتی القرار فی ثلثین سنۃفی الارض السلطانیۃ والملک، وفی الوقف فی ثلث سنین ۲؎ الخ فہو وان حملہ فی العقود الدریۃ علی الکردار، حیث قال المراد بہ (ای بحق القرار) الاعیان المتقومۃ لامجرد الامر المعنوی، ویدل علی ذٰلک قولہ فی البزازیۃ لاشفعۃ فی الکرداری ای البناء ویسمی بخرار زم حق االقرارلانہ نقلی ۳؎ اھ مع ان فی ھذا الحمل ایضا کلاما عندی لان حق القراربمعنی الکردار لایتوقف علی مرور الاعصار، وانما مبناہ علی النظر للجانبین ورفع الضرار، کما تقدم وفی اجارۃ الخیریۃ لہ ا لاستبقا ء حیث لاضرر علی الجہۃ (ا ی جہۃ الوقف) ولزوم الضرر علی الغارس وانت علی علم ان الشرع یابی الضرر خصوصا والناس علی ھذا، وفی القلع ضرر علیہم وفی الحدیث الشریف عن النبی المختار صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاضرر ولاضرار فی الاسلام ۱؎ اھ
اقول : (میں کہتاہوں) ہمارے ذکر کردہ سے واضح ہواکہ حاوی الزاہدی کے اس قول کہ سرکاری اور ملکیتی زمین میں تیس سال قبضہ اور قف کی زمین میں تین سالہ قبضہ سے حق القرار ثابت ہوجاتاہے اس میں کلام ہے اس حق القرار کو اگر چہ عقود الدریہ میں کردار پر محمول کیا ہے جہاں انھوں نے کہاہے کہ اس سے یعنی حق القرار سے مرادقیمتی سامان (اعیان) مرا دہے نہ کہ صرف معنوی معاملہ، اس پر اس کا قول کہ بزازیہ میں ہے کہ تعمیر شدہ کرداری میں شفعہ نہیں ہےجس کو خوارزم میں حق القرار کہتے ہیں،کیونکہ یہ منقولہ چیز ہے اھ جبکہ میرے نزدیک اس معنی پر حمل میں بھی کلام ہےکیونکہ حق القرار بمعنی کردار کس مرور زمانہ پر موقوف نہیں ہے اس کی بنیاد تو صرف فریقین کی رعایت اور دفع ضر رپر ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے اور خیریہ کے باب الاجارہ میں ہے مستاجر کو قبضہ باقی رکھنے کااختیار ہے جب وقف کی جہت کو ضررنہ ہو اور پودے لگانے پر لزوم ضررمیں حرج بھی نہ ہو، اور آپ کو معلوم ہے کہ شریعت ضرر کو برداشت نہیں کرتی خصوصا جب عوام مبتلا ہوں جبکہ درخت اکھاڑنے میں ضرر ہے۔ حدیث شریف میں حضور نبی مختار صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے ''اسلام میں ضرر دینا اور ضررمیں مبتلا روانہیں ہے'' اھ
 (۲؎ العقود الدریۃ بحوالہ حاوی الزاہدی کتا ب المساقات      باب مشد المسکۃ    ارگ بازار قندھار افغانستان    ۲/ ۲۱۸)

(۳؎العقود الدریۃ بحوالہ حاوی الزاہدی کتا ب المساقات باب مشد المسکۃ    ارگ بازار قندھار افغانستان    ۲/ ۲۱۸)

(۱؎ فتاوٰی خیریہ         کتاب الاجارۃ     دارالمعرفۃ بیروت     ۲/ ۱۳۱)
Flag Counter