فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
21 - 126
کتاب المزارعۃ
(مزارعت کا بیان)
مسئلہ ۴۶ تا۴۹ : مسئولہ محمد مبارک اللہ از پیلسپانہ ضلع مرادآباد ۲۶ رجب ۱۳۲۹ھ
(۱) شرع شریف کے نزدیک کا شتکار کوئی حق موروثیت جیسے قانون انگریزی کے اندر ہے کہ جو شخص بارہ سال سے زائد ایک زمین کو کاشت کرے تو زمیندار کو پھر کوئی مجاز بیدخلی وغیرہ کا نہیں رہتا، حاصل ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو خیر اور حق۔
(۲) نہیں تو یہ کاشتکار حلف تلف اور مظالم ہے یانہیں؟
(۳) اور اس وقت یہ کاشتکار جو زمین کو نہیں چھوڑتا ہے، اور لگان حیثیت زمین سے کم دیتاہے، اور زمیندار بحیثیت قانون انگریزی دعوٰی سے مجبور ہے، تو یہ کاشکتار متبع قانون انگریز ی کا اور مقدم ومرجح قانون کاحکم شریعت پر ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو اس کا کیاحکم ہے؟ اور یہ ظالم اور زمیندار مظلوم ہوایا نہیں؟
(۴) اور اگر کوئی زمیندار بعد انکار کاشتکار کے دعوٰی بے دخلی مجبورا دائر کرے تو صرف اس کا جو کچھ کچہری میں ہوا اس کے لینے کا مستحق ہے یانہیں؟
الجواب : مجرد مرور مدت سے کچھ نہیں ہوتا اگرچہ بیس برس کاشت کرے، جب مدت اجارہ ختم ہوگئی شرعا
اس سے نکال کر دوسرے کو دینا مطلقا جائز ہے خواہ زمین مملوکہ ہو، یا موقوف، یا سلطانی،
ردالمحتارمیں اوائل بیوع میں ہے :
امامجرد وضع الیدعلی الدکان ونحوہا و کونہ یستاجرہا عدۃ سنین بدون شیئ مماذکر (اویاتی) فہو غیر معتبر، فللموجر اخراجہا من یدہ اذا مضت مدۃ اجارتہ وایجارھا لغیرہ کما اوضحناہ فی رسالتنا تحریر العبارۃ ۱؎۔
مثلا دکان پرخالی قبضہ رکھنا، اورکئی سال سے اجارہ پر لیاہونا مذکورہ یا آیندہ ذکر ہونے والی اشیاء کے بغیر ہوتو وہ غیر معتبرہے تو اجارہ پر دینے والے کو مدت اجارہ ختم ہونے کے بعد قبضہ کو چھڑانے اور دسرے کو اجارہ پر دینے کا حق ہے جیسا کہ ہم نے اسے اپنے رسالہ تحریر العبارۃ میں واضح کردیا ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۷)
ہاں اگر زمین ناقابل زراعت تھی اس نے اسے بنایا کمایا، اس میں چوگزی وغیرہ کھودے یا اس میں اپنی دوسری زمین سے لاکر مٹی بچھائی یا پیڑ لگائے یا کوئی عمارت بنائی،
پہلی کو کراب، اور دوسری کو دھوم کہتے ہیں اور اس میں اپنی کسی ملکیت کا اضافہ کیا مثلا مٹی ڈالی، یا پودے لگائے دالان اور قبہ بنایا اور اگر یہ تصرفات دکانوں میں کئے تو اسے جدک یا کدک ، یا مشد مسکد کہتے ہیں، اور دیگر اطلاقات بھی یہاں ہےں جیسا کہ عقود الدریہ کے باب مساقاۃ اور ابن عابدین کے بیوع سے معلوم کئے جاسکتے ہیں۔ (ت)
تواگر وہ زمین مملوکہ نہیں بلکہ سلطانی ہے یعنی میت المال کی، جسے یہاں سرکاری کہتے ہیں، یاوقف ہے توالبتہ ان کاروائیوں سے اس کے لئے حق قرار ثابت ہوگا کہ بلاوجہ شرعی وہ زمین کبھی اس کے قبضہ سے نہ نکالی جائے گی، اور وہ مرجائے تو اس کا بیٹا ا س کے قائم مقام ہوگا۔ مع تفاصیل مذکورہ فی الفقہ،
اجارہ پرلینے والے نے وقف زمین میں تعمیر کی یا پودے لگائے تو اس کو اس زمین میں برقرار رہنے کا حق ہوگا اور اس کو ''کردار'' کہتے ہیں اس کرایہ دار کو مثلی اجرت پر باقی رکھنے کا حق ہوگا۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ بحوالہ جامع الفصولین والقنیۃ والخلاصۃ وغیرہا کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۷۹)
خیریہ میں ہے :
وقد صرح علمائنا بان لصاحب الکردار حق القرار، وھو ان یحدث المزارع والمستاجر فی الارض بناء، اوغرسا، اوکبسا بالتراب باذن الواقف او باذن الناظر، فتبقی فی یدہ ۲؎۔
اورہمارے علماء نے تصریح کی ہے کہ ''کردار'' والے کو برقرار رہنے کا حق ہے اور ''کردار'' یہ ہے کہ مزارع یا مستاجر زمین میں کوئی تعمیر کرے یا پودے لگائے یا مٹی بھرے، واقف یا متنظم کی اجازت سے ایسا کیا ہو تو اس کو قبضہ برقرار رکھنے کا حق ہے۔ (ت)
(۲؎فتاوٰی خیریہ بحوالہ جامع الفصولین والقنیۃ والخلاصۃ وغیرہا کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۷۹)
عقود الدریہ میں ہے :
اذا کان لوقف جامع ارض سلیخۃ معطلۃ غیر صالحۃ للزارعۃ ، فاذن متولی الوقف لزید، بحرثہا، وصلاحہا، وکبسہا، و زراعتہا لیدفع قسمہا لجہۃ الوقف ففعل زید ذٰلک کلہ ثبت لہ حق القرار ، فیہا تبقی بیدہ باجر مثلہا، اوبان یؤدی قسمہا المتصارف لجہۃ الوقف المذکور ۳؎۔
اگر وقف زمین افتادہ معطل جو زراعت کے قابل نہ ہو تو وقف کے متولی نے زید کو آباد کرنے اور درست کرنے ، مٹی ڈالنے اور کاشت کرنے کی اجازت دی کہ وہ وقف کی مدمیں حصہ دے تو زید نےیہ تمام کاروائی کردی تو اس کو زمین پر قرار کا حق حاصل ہوگا اور مثلی اجرت پر اسی کے قبضہ میں رہے گی، اور وہ متعارف حصہ وقف کی مد میں دیتارہے گا۔ (ت)
(۳؎ العقود الدریۃ کتاب المساقات باب مشد المسکۃ ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۲۲)
ہاں اس کے سبب وقف پر اندیشہ ہو، یا اجرت نفس زمین کی بڑھ جائے، اور یہ اضافہ پر راضی نہ ہو، تو بیدخل کردیا جائے گا، یونہی اگر تین سال زمین معطل چھوڑ دے گا اس کا حق قرارجاتارہے گا،
بیوع ردالمحتارمیں ہے :
فی اوقات الخصاف حانوت اصلہ وقف و عمارتہ لرجل، وھو لایرضی ان یستاجر ارضہ باجر المثلی، قالو ان کانت العمارۃ بحیث لو رفعت یستاجر الاصل باکثر مما یستاجر صاحب البنا، کلف رفعہ، ویؤجر من غیرہ، والایترک فی یدہ بذٰلک الاجر ۱؎ اھ یفید انہ احق من غیرہ حیث کان مایدفعہ اجر المثل۔
خصاف کے باب اوقات میں ہے کہ دکان کی زمین وقف ہے اور اس کی عمارت کسی شخص کی ہے اور وہ اس زمین کی مثلی اجرت پر راضی نہیں ہوتا توعلماء نے فرمایا کہ متولی کو چاہئے کہ اگر عمارت اٹھائی جاسکتی ہو تو زمین کسی دوسرے کو پہلے کی نسبت زیادہ اجرت پر دے دے اور پہلے کو عمارت اکھاڑنے پر مجبور کرے اور دوسرے کو اجرت پر دے دے، اور اگر عمارت اکھاڑنا ممکن نہ ہو تو پہلے کے پاس اسی اجرت پررہنے دے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۶)
اسی کے وقف میں ہے :
حیث کان یدفع اجرۃ مثلہا لم یوجد ضرر علی الوقف فتترک فی یدہ فلومات کان لورثتہ الاستبقاء الااذا کان فیہ ضرر علی الوقف بوجہ ما، بان کان ھو او وارثہ مفلسا، اوسئی المعاملۃ، اومتغلبا یخشی علی الوقف منہ اوغیر منہ او غیر ذٰلک من انواع الضرر ۲؎۔
اگر مستاجر مثل اجرت دیتاہے اور وقف کو ضرور نہ ہو تو اسی کے پاس رہنے دی جائے اور اگروہ فوت ہوجائے تو اس کے ورثاء کو باقی رکھنے کا حق ہوگا ہاں اگر وقف کو کسی طرح اس میں ضررہو مثلا دکان بوسیدہ ہے اور ورثاء مفلس ہوں یا وہ لاپرواہ ہو یا وہ غلبہ پانےکی کوشش میں ہوں اس سے وقف کو خطرہ ہو یا کوئی کسی قسم کا ضرر ہو تو واپس لے (ت)
(۲؎ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۹۱)
ان سے کرایہ دار کی بنائی عمارت کے متعلق سوال ہوا کہ وہ کریہ دارتین سال سے اپنی مرضی پر دکان کو چھوڑ رکھے بغیر عذر شرعی کے تو کیا اس سے عمارت پر اس کا حق ختم ہوجائے گاَ؟ جواب یہ ہے کہ ہاں اس سے اس عمارت پر مبنی حق ختم ہوجائے گا، جیسا کہ خیرالدین رملی اور شیخ اسمعیل نے یہ فتوٰی دیاہے اور معروضات سے اس کی مثل آئیگا (ت)
(۱؎ العقود الدریۃ کتاب المساقات باب مشد المسکۃ ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/ ۲۲۲)
اور اگر زمین مملوک ہے۔ جیسے عام دیہات کی زمین کہ زمیندار کی ملک ہوتی ہے تو اس میں شرعا ہر گز کبھی کسی طرح کاشت کار کو حق قرار ثابت نہ ہوگا اگر چہ اس نے اس میں باغ بھی لگایا، عمارت بھی بنائی ہو، جب اجارہ یعنی اس کے پٹہ کی مدت ختم ہوگئی زمیندار کو اختیار ہوگا کہ زمین اس سے نکال لے اور اس کے درخت وعمارت کی نسبت اسے حکم دے کہ زمین خالی کردے اور درختوں کے کاٹنے عمارت کے کھودنے میں زمین کا زیادہ نقصان دیکھے تو کٹنے کھودنے کے بعد جو قیمت ان درختوں اور عمارت کی ہو اس سے کٹوانے کھدوانے کی اجرت مجرا کرکے کاشتکار کو دے دے، اور پیڑاو رعمارت خود لے لے، اور اگر کاشت کار سے کوئی مدت معین نہیں ٹھہری، یونہی سال بسال کاشت کرتا ہے تو ہر ختم سال پر زمیندار کو زمین خالی کرانے اور آئندہ اسے زراعت کی ممانعت کردینے کا اختیار ہوگا اگرچہ کاشت کرتے پچاس برس گزر گئے ہوں،
عقود ریہ میں ہے:
قال فی التجنیس رجل اشتری من رجل سکنی لہ فی حانوت رجل اخرمرکبا بمال معلوم لصاحب الحانوت ان یکلف المشتری رفع السکنی وان کان علی المشتری ضررلانہ شغل ملکہ ۲؎۔
تجنیس میں فرمایا کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کی دکان میں رہائشی اتنظام کررکھا تھا تو اس رہائشی شخص سے کسی تیسرے شخص نے اس کا وہ رہائشی انتظام خرید لیا کچھ مال کے بدلے قبضہ لیا تو دکان کے مالک کو حق ہے کہ وہ اس مشتری کو رہائش اٹھانے پر مجبور کردے اگر چہ مشتری کو ضرر بھی ہوکیونکہ مشتری نے اس کی ملکیت کو مشغول کررکھاہے۔ (ت)
(۲؎العقود الدریۃ کتاب المساقات باب مشد المسکۃ ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۲۱۸)