فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
19 - 126
یہ محضر دار میں ہے، پھر فرمایا :
وعن ابی یوسف یشترط تسمیۃ المبیع وتجدیدہ، لان المطالبۃ لاتصح الا فی معلوم ۱؎۔
اور امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے مروی ہے کہ مبیع کانام اور اس کی حدود کا ذکر شرط قراردیا گیا ہے کیونکہ مطالبہ صرف معلوم چیز میں صحیح ہوتاہے ۔ (ت)
(۱؎ الہدایۃ کتاب الشفعۃ باب طلب الشفعۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۳۹۲)
یہ غیبت دار ومحضر احدالعاقدین میں ہے۔غایۃ البیان علامہ اتقائی میں مختصر امام کرخی رحمہ اللہ تعالی سے ہے :
یسمی الدار والارض والموضع ویحدو حتی یستوثق لنفسہ ۲؎۔
دار، زمین اور موضع کانام لے کر ذکر کرے اور اس کی حدود کو بیان کرے تاکہ اپنے لئے معاملہ کو پختہ کرلے۔ (ت)
(۲؎ غایۃ البیان )
اسی میں ہے :
قال القدوری فی شرح، وانما شرط ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی تسمیۃ المبیع والتحدید، لان المطالبۃ لاتصح الا فی معلوم، فاذا اشہد علی الطلب ولم یبین المطلوب لم یکن للمطالبۃ اختصاص بمبیع دون مبیع، ولایتعلق بہا حکم ۳؎۔
قدوری نے اپنی شرح میں ذکر کیا ہے کہ امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی نے بیع کانام اور اس کی حدود کو ذکرکرنا شرط قرار دیا ہے کیونکہ مطالبہ معلوم چیز میں ہی صحیح ہوتاہے تو جب اس نے طلب اشہاد کیا اور مطلوب کو نہ بیان کیا تو پھر مطالبہ کااختصاص کسی ایک مبیع سے نہ ہوسکے گا اور نہ ہی حکم کا تعلق اس سے ہوگا (ت)
(۳؎ غایۃ البیان)
یہاں جبکہ دار مشفوعہ سامنےحاضر تھی ، اشارہ ضرور تھا، اس کا ذکر مسل بھرمیں کہیں نہیں، لہذا حکم وہی چاہئے جوامام قدوری نے فرمایا :
لایتعلق بہا حکم
(نہ ہی حکم کا تعلق اس سے ہوگا۔ ت) ایسی مہمل طلب پر کوئی حکم نہیں ہوسکتا، دوسرا فتوٰی مدخلہ مدعی ملاحظہ ہوا، وہ صحیح نہیں اور اس پر کلام اسی فتوٰی فقیر سے واضح، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۹: از ریاست رامپور محلہ مسئولہ جناب غلام حبیب خاں صاحب عرف بدھن میاں صاحب ۲۹ ذی الحجہ ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس باب میں کہ زید وبکر ایک باغ میں نصف نصف کے شریک تھے، زید نے اپنا حصہ نصفی بدست خالد بیع کیا ، بکر بحق شفعہ دعویدار ہوا اور بکرنے گواہان طلب مواثبت واشہاد روبروئے عدالت پیش کیں، گواہان بکر کا بیان ہے کہ جس وقت مخبر نے حال مبیع کا ظاہر کیا تو بکر گھبراکر کھڑا ہوگیا ، اور فورا اس نے یہ کہا کہ جس قیمت واقعی کو نصف باغی بیع ہوا ہے اسی قیمت کو میں نے بحق شفعہ خود لیا، پس یہ امر یعنی بیھٹے سے کھڑے ہوکر طلب مواثبت کرنا داخل تاخیر ہے یانہیں، دوم یہ کہ بعد طلب مواثبت بکر کا چھڑی لینے گھر میں جانااور گھر میں سے فورا واپس آکر مشتری کے مکان پر جانا اور وہاں طلب اشہاد بجالانا شرعا تاخیر میں داخل ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: جہاں طلب اشہاد کو جانا تھا اس کے بعد اور شفیع کی حالت پرنظر کی جاجائے ، اگر یہ اتنی دور بے عصا کے نہ جاسکتا تھا تو چھڑی لینے کے لئے گھر میں جانا اور س کے ملنے پر فوراً آکر رواناہونا تاخیر نہیں، اگر چہ اس کی تلاش میں دس بیس منٹ ہوگئے ہوں کہ امورضرورت شرعا مستثنٰی ہیں،اور اگر تلاش دیر کے بعد کی یا مل جانے کے بعد بلاضرورت دیرلگائی یا سرے سے عصا کی حاجت ہی نہ تھی، صرف حسب عادت ہاتھ لینے کے لئے یہ دیر کی تو یہ ضرورتاخیر ہے اور داخل عذر نہیں، یہ طلب اشہاد میں تھا،رہا طلب مواثبت سے پہلے اس کا کھڑا ہوجانا اور بعد قیام الفاظ ملک اداکرنا، وہ مطلقا مسقط شفعہ وقاطع فورہے۔ بلکہ فور درکنار قیام سے مجلس بھی بدل گئی، تو روایت ضعیفہ پر بھی شفعہ کی گنجائش نہ رہی،
ہندیہ میں ہے :
طلب الاشہاد مقدربالتمکن من الاشہاد فمتی تمکن من الاشہاد عند حضرۃ واحد من ھذہ الاشیاء ولم یطلب الاشہاد بطلت شفعتہ نفیاللضرر عن المشتری، کذا فی محیط السرخسی ۱؎۔
طلب اشہاد کسی ایک کے پاس گواہ بنانے کی قدرت پر موقوف ہے تو جب کسی ایک کے پاس اس کو گواہ بنانے کی قدرت ہوئی اور اس نے طلب نہ کی تو اس کا شفعہ باطل ہوجائے گا تاکہ مشتری کے ضرر کو ختم کیا جائے، محیط سرخسی میں ایسے ہی ہے۔ (ت)
(۱؎فتاوی ہندیہ کتاب الشفعۃ الباب الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۷۲)
اسی میں ہے :
الشفیع اذا علم فی اللیل ولم یقدر علی الخروج والاشہاد الی کذا فی الحاوی فی الفتاوی ۲؎۔
جب شفیع کو خریداری کا علم رات کو ہو اور جاکر اشہاد کی طلب پر قاد رنہ ہوا الخ حاوی فی الفتاوی میں یوں ہے۔ (ت)
(۲؎فتاوی ہندیہ کتاب الشفعۃ الباب الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۷۳)
فتاوی امام اجل قاضی خاں میں ہے :
طلب المواثبۃ فوقتہ فور علم الشفیع بالبیع و روی ہشام عن محمد ۔ الی۔ یشترط الطلب فورالعلم اھ ۱؎ مختصرا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
طلب مواثبت کا وقت شفیع کو بیع کے علم کے فورا بعد ہے اور ہشام نے امام محمد سے روایت کی ہے کہ علم کے فورا بعد طلب کو شرط قرر دیا گیا ہے۔ اھ مختصرا واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الشفعۃ فصل فی الطلب مطبع نولکشور لکھنؤ ۴/ ۸۶۰)
مسئلہ ۴۰: از موضع شوپری تحصیل آنولہ ضلع بریلی مسئولہ واحد علی خاں ۱۷ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
ایک بڑے قطعہ اراضی میں جو صرف ایک زمیندار کی ملکیت ہے، اور بہت سے اشخاص بطور رعایا اس اراضی میں اپنے اپنے صرف لاگت سے مکان تیار کرکے رہتے ہیں، جب تک وہ آباد رہتے ہیں، ان سے زمیندار کچھ مزاحمت نہیں کرتا، اور بروقت بھاگ جانے یا اٹھ جانے کے اس ملبہ وغیرہ کا زمیندار مالک ہوجاتاہے، یا بروقت فروخت کڑی، تختہ، اینٹ وغیرہ زمیندار اس قیمت سے چہارم لیتاہے لیکن کسی باشندہ کو زمین فروخت کرنے کا اختیار نہیں ہے، ایسی حالت میں جب ایک باشندہ اپنا ملبہ وغیرہ کسی دوسرے باشندے کے ہاتھ فروخت کرے، توتیسرا شخص جو مبیعہ کے ملحق رہتاہے دعوٰی شفعہ کرتاہے، تو یہ دعوی اس کا صحیح ہے یاباطل، اورا گر مالک زمین زمیندار مذکورہ دعوٰی اپنے حق شفعہ کرے تو وہ کرسکتاہے یا نہیں؟
الجواب : جبکہ وہ زمین کا مالک نہیں، اور تنہا عملہ بیچتاہے۔ تو اس میں ہر گز حق شفعہ نہ جا ر کو ہے نہ مالک زمین زمیندار کو، درمختار میں ہے :
لاتثبت فی بناء ونخل بیعا قصدا ولومع حق القرار ۲؎ بالاختصار، واﷲ تعالٰی اعلم۔
عمارت اور درخت کی قصدا بیع میں شفعہ ثابت نہ ہوگا خواہ برقرار رکھنے کی شرط بھی رکھی ہو بالاختصار۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎درمختار کتاب الشفعۃ باب ماتثبت ھی فیہ اولا مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۱۴)
مسئلہ ۴۱: از شہر بریلی فراشی محلہ مسئولہ مقصود علی خاں ۶ محرم ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید بعمر ۱۷ سال ہے، وہ شرائط شفعہ طلب کرسکتاہے یا نہیں؟ اور اس کو اختیار طلب شفعہ کا شرعا حاصل ہے یانہیں؟ بینو توجروا
الجواب : شفعہ طلب کرسکتاہے اور اگر اس انتظارمیں کہ مجھے طلب کااختیار ہے یانہیں طلب نہ کیا تو اب نہیں کرسکتا
لفوات المواثبۃ
(مواثبت کے فوت ہونے کی وجہ سے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۲: از موضع ریونڈ، ڈاک خانہ مونڈہ ضلع مرادآباد مسئولہ محمد اسمعیل خاں کارندہ ۱۴ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفیتان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عمرو نے اپنا مکان زید کے ہاتھ فروخت کیا، زید اس مکان میں خریدار کانہ تو شفعہ کررکھتا تھا اورنہ اس مکان پر قابض ہے اور نہ اس کے پاس کرایہ پر ہے بخلاف زید کے بکر کا مکان عمرو کے اس مکان فروخت شدہ کے درمیان دیوار کے نیچے واقع ہے۔ ایک درمیانی دیوارعمرو کے مکان اور بکر کے مکان کو قطع کرتی ہے۔ بکر اس کا شفیع ہے اور کچھ ماہ پیشتر سے یہ مکان بکر نے کرایہ پرلے کر قبضہ کررکھاہے۔ اور اس نے جامع مسجد کے پیش امام صاحب اور اکثر مسلمانوں کے روبرو اس زید والے مکان کے خریدلینے کا اعلان کیا ہے۔ زید والے مکان میں کئی حصہ دار ہیں، منجملہ ان حصہ داروں کے کہ جو آپس میں بھائی بہن کارشتہ رکھتے ہیں ایک حصہ دار کا معاہدہ ہوچکا ہے کہ مکان بکر کو دیا جائے گا اور اطمینان کے لئے پیشتر بذریعہ کرایہ نامہ قبضہ کرایا گیا ہے، زید نے یہ مکان جامع مسجد کے لئے چندہ فراہم کرکے خرید کیا ہے۔ جامع مسجد اس مکان سے چارمکان درمیان میں دے کر واقع ہے، مسجدنہ تو بکر کے مقابلہ میں شفعہ رکھتی ہے، نہ مسجد کے کسی صرف کا یہ مکان ہے۔ سنا جاتا ہے کہ ایک صاحب نے کہ اپنا مکان جامع مسجد کی بلا قیمت دیتے ہیں، یہ شرط کی ہے کہ اگر وہ مکان جو بکر کے پاس بطور کرایہ کے ہے، اور جس میں وہ شفیع ہے بطورقیمت مسجد کے نام خریدلیا جائے گا تو میں بھی بلاقیمت مکان دے دوں گا۔ غالبا بکر کی ایذا رسانی اور تکلیف مد نظر رکھتے ہوئے یہ شرط لگائی گئی ہے، بکر کو اول تو مکان دیا بھی نہیں جاتا اور اگر بکر اہت دینا گوارا کیا جاتاہے تو قیمت بےحدا ضافہ کرکے دینا بیان کیا جاتاہے۔ بکر اضافہ قیمت کو بالکل گوارانہیں کرتا او وہ ہر گز اس بات پر رضامند نہیں ہےکہ کچھ بھی اضافہ دے، ایسی صورت میں کیا مسجد کو ایسی خریداری جائز ہے، اور زید کا اصلی قیمت سے اضافہ لینا کس حد تک داخل حسنات ہوگا۔ اور زید کو ایسا کرنے میں کچھ ثواب مل سکتا ہے جبکہ مکان کے شفیع کا حق باطل کیا جاکر مکان خریدا جائے، اور پھر مسجد کی منفعت کے لئے قیمت اصلی سے زائد بڑھا کر دینا گوارا کیا جائے ، باہم مسلمانوں میں اس بارے میں اتفاق نہیں، اکثر اس مکان کی خریداری کے خلاف ہیں کیونکہ مسجد ایک سوکئی روپیہ کی مقروض ہے وہ ادا ہونا چاہئے، پھر شامیانہ ادھر میں پڑے ہیں جس کے نہ ہونے سے نمازیوں کو تکلیف ہے، ایک مکان عین مسجد کے فرش پر واقع ہے۔ اس کو خریدنہیں کیا جاتاہے۔ اس عمرو والے مکان سے پہلے کچھ دن ایک مکان اور مسجد کے سامنے کا فروخت ہوگیا وہ نہیں خریدکیا گیا مسجد کے بعض ممبران کی رائے اس مکان کی خریداری کی نہیں، مسجد کے پیش امام کو معلوم تھا کہ یہ مکان بکر نے خریداری کی نیت سے کرایہ پر لیا ہے۔ او ربکر کو تنگی مکان کی سخت تکلیف ہے۔ جواب براہ کرم پشت عریضہ ہذا پر مہر وغیرہ سے مرتب فرماکر مرحمت فرمایا جائے، جواب کے لئے پتہ یہ ہوگا: بمقام موضع ریونڈ ڈاکخانہ مونڈہ، ضلع مرادآباد ، ڈیرہ زمیندارمیں پہنچ کر محمد اسمعیل خاں کارندہ کو ملے۔
20_5.jpg
الجواب : قبل بیع شفیع کا کوئی حق نہیں، نہ پہلے سے اس کے پاس کرایہ پر ہونا ۔ یا اس کا اعلان کرنا کہ میں اس مکان کو خریدوں گا۔ یا پیشتر کسی حصہ دار سے معاہدہ ہوجانا، اسے کوئی ترجیح دے سکتاہے ، بعد بیع خبر پاتے ہی اگر طلب مواثبت وطلب اشہاد بجالائے تو اس وقت ان کا حق ثابت ہوتاہے ۔ اور اس حالت میں اسے اضافہ کی کیا ضرورت، جنتے کو بیع ہوا اتنے ہی میں لے گا، یہاں سوال میں یہ ہے کہ بکر سے اضافہ مانگتے ہیں اور وہ اضافہ پر راضی نہیں ،یہ اگریوں ہے کہ وہ طلب مذکور بجانہ لایا، یا اس کے بعدخریدنا چاہا، اور اضافہ پر راضی نہ ہوا تو اس کا کوئی حق نہ رہا، اور اسے نہ دینا اصلا حکم نہیں ۔ اور دوسرے کا شفیع نہ ہونا اسے کچھ فائدہ نہ دے گا جبکہ خود اس کا شفعہ نہ رہا، باقی جو باتیں سوال میں لکھی ہیں کہ دوسرے نے اس مکان کی خریداری پر اپنا مکان مفت دینے کوکہا، یا مسجد پر قرض ہے، یا شامیانے ادھوری ہیں یا قریب کا مکان پہلے بکا، نہ خریدا، اب موجود ہے، اسے نہیں لیا جاتا،بعض ممبروں کی رائے اس کی خریداری کی نہ تھی، امام کو بکر کاارادہ معلوم تھا، بکر کو مکان کی تکلیف ہے، سب بے علاقہ باتیں ہیں، چندہ چندہ دہندوں کی ملک رہتاہے۔ اگر انھوں نے سپرد متولی مسجد نہ کردیا تھا اس سے پہلے مکان مول لےکر نذر مسجدکیا،جب تویہ سوال ہی متعلق نہیں کہ اصل قیمت سے زیادہ لینے میں کوئی گناہ ہوا، خریدار کو اختیارہے جتنے پر چاہے رضا دے
قال اﷲ تعالٰی الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ۱۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: مگر یہ کہ کوئی سودا تمھاری باہمی رضامندی کاہو۔ (ت)
(۱؎ لقرآن الکریم ۴/ ۲۹)
او ر اگر سپرد متولی مسجد کردیا، متولی نے اصل قیمت سے زائد کو خریدا، توا گر زیادت فاحش ہے اور اس میں کوئی مصلحت نہیں راجعہ مسجد کی نہیں، تو بیشک وہ گنہ گار ہوا اور تاوان مسجد کو دے گا۔ یا بیع فسخ کی جائے گی، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۳ : از ضلع شاہجہان پور ڈاکخانہ جگرام پور گورہ رائے پور مسئولہ علی حسن خاں صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زمین بیچنے کا ارادہ کیا توعمرو کو کہلا بھیجا، عمرو نے کل تین ہزار روپیہ اس زمین کا لگایا، زیادہ سے انکار کیا اس پر بکر کے ہاتھ زید نے اپنی زمین مذکورہ فروخت کردی پانچ ہزار پر، اب عمرو بذریعہ حق شفعہ اس زمین کو لینا چاہتاہے، دونوں کایعنی عمرو بکرکا زید کی زمین سے دہرا ملا ہے، اور عمرو نے بیع زمین مذکور کے وقت سے بہت روز کے بعد اپنی ناخوشی ظاہر کی، ایسی صورت میں عمرو کو حق شفعہ اس زمین مبیع کا حاصل ہے ۔ اور بیع اول باطل ہوجائے گی یا اس کے برعکس؟ بینوا توجروا
الجواب : بیع سے پہلے عمرو کاخریداری سے انکار کردینا اس کے حق شفعہ کو ساقط نہیں کرتا ، اگر بکر کے ہاتھ بیع کی خبر سنتے ہی عمرو طالب شفعہ ہوا اور اپنی طلب پر گواہ حسب قاعدہ کرے تو اسے دعوٰی شفعہ پہنچتاہے۔ اور اگر دیر کے بعد ناراضی ظاہر کی اور طالب شفعہ ہوا تو اس کا حق ساقط ہوگیا، واللہ تعالٰی اعلم۔