Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
18 - 126
مسئلہ ۳۴ تا ۳۸: از ریاست رامپور مسئولہ مفتی عبدالقادر خاں صاحب مفتی ریاست رام پور ۰ ۱ جمادی الاولٰی ۱۳۲۸ھ

مقدمہ فخر الدین خان بنام حیدر حسن خان ومسماۃ منور بیگم بنت محمد شفیع خاں میں مسل مع فتاوٰی مدخلہ بغرض ملاحظہ حاضر ہے، بعد ملاحظہ روئداد واظہارات گواہان سوالات ذیل کا جواب عطا ہو :

(۱) آیا جس حالت میں کہ شفیع کو اطلاع بیع ایسی جگہ پہنچی کہ در مشفوعہ سے قریب ہواور دار مشفوعہ پیش نظر ہو اس وقت شہود کے سامنے طلب واحد طلب مواثبت وطلب اشہا دونوں کی جگہ کافی ہوجائیگی یا دو طلب جدا گانہ کی حاجت ہے؟

(۲) صورت مذکورہ میں اگر ایک بار طلب کرکے وہاں سے اٹھ کر دار کے پاس شہود کو لے جائے اور ہنوز طلب ثانی نہ کرے، بلکہ اندر جاکر پردہ کراکر شہود کو اندرلیجا کر وہاں طلب دوم کرے تو یہ تاخیر موجب بطلان شفعہ ہوگی یا نہیں؟

(۳) گواہوں کے سامنے اگر طلب بروجہ شرعی کرلی او ریہ نہ کہا کہ گواہ ہوجاؤ، تو طلب اشہادمیں کوئی خلل ہے یانہیں؟

(۴) اگر طلب اول بروجہ کافی ایسے طورپر نہ کی کہ طلب اشہاد کے بھی قائم مقام ہوتی، اور پھر کاروائی مذکور ہ سوال دوم عمل میں لایا ۔ تویہ دلیل اعراض ومسقط شفعہ ہے یا اس قیاس پر کہ مصرواحد میں اقرب کو چھوڑکر ابعد کے پاس جانے سے حرج نہیں ہوتا شفعہ باطل نہ ہوگا؟

(۵) طلب اول کے جو الفاظ مدعی وشاہدان نے بیان کئے ہیں آیا وہ کافی ووافی ہیں جن سے وہی طلب قائم مقام طلبین ہوجائیگی یا نہیں؟ بالآخر حکم اخیر مطلوب ہے کہ اس روئداد مسلم کی رو سے شفعہ ثابت ہے یا ساقط؟ بینوا توجروا۔
الجواب: کاغذات ملاحظہ ہوئے، پہلے تین سوالوں کا وہی جواب ہے جو قبل ملاحظہ مسل لکھا گیا تھا، شرع مطہر نے دو باتیں لازم فرمائیں، ایک طلب بفور علم، دوم اس طلب کا بتعیین مطلوب بائع یا مشتری یا مشفوع کے سامنے ہونا طلب دوم کی اتنی ہی حقیقت ہے خاص اس لفظ کی کہ گواہ ہوجاؤ، کچھ حاجت نہیں، نہ یہ کہناداخل حقیقت اشہاد ہے۔ اشہاد اعطائے ماخذ ہے یعنی دوسرے کے لئے اپنے تصرف پر تحصیل شہادت، اور بدیہی ہے کہ حصول شہادت کے لئے شاہد کے سامنے صرف وقوع درکار ہے۔ نہ کہ متصرف اسے اشہاد باللسان بھی کرے ، یہاں تک کہ اگر متصرف بعدتصرف شاہد کو شہادت سے منع بھی کردے، اصلا موثر نہیں،
فتح القدیر میں ہے :
الاتفاق علی ان من سمع اقرار رجل، لہ ان یشہد علیہ بما سمع منہ، وان لم یشہدہ بل ولو منعہ منہ الشہادۃ بما سمع منہ ۱؎۔
     اس پراتفاق ہے کہ جس نے کسی شخص کا اقرار سنا تو واس کو یہ حق ہے کہ اس کی سنی بات پر گوہی دے اگر چہ اقرار کرنے والا اس کو گواہ نہ بنائے بلکہ وہ گواہی سے منع کرے تو بھی گواہی دے سکتاہے۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر     کتاب الشہادات    باب الشہادۃ علی الشہادۃ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶/ ۵۲۷)
اور جب حصول شہادت بے اس قول کیے گوہ ہوجاؤ ثابت ہے، تو جو تصرف متصرف بمشہد شہود اس لئے کرے کہ وہ شاہد ہوجائیں، قطعا وہ شاہد ہوجائیں گے، اور قطعا ان کے لئے اس وصف شہادت کا حصول اس نےچاہا۔ اور اسی کے فعل مذکورہ سے یہ وصف ان کو حاصل ہوا، تو بلاشبہ اس نے دونوں کے لئے تحصیل شہادت کی، اور اسی قدر حقیقت اشہاد ہے،
قال اﷲ تعالٰی واشہد واذا تبایعہم ۱؎
خرید وفروخت کرتے وقت اشہاد کرلو،
وقال اﷲ تعالٰی واشہدواذوی عدل منکم ۲؎
جب طلاق دو  یا رجعت کرو اپنے میں سے دو ثقہ کوگواہ کرلو۔ عالم میں کوئی اس کا قائل نہیں کہ عقود وفسوخ میں گواہ کرتے وقت متصرف کا زبان سے یہ کہنا ضرور ہےکہ گواہ ہوجاؤ، بلکہ طلب دوم خواہ اول کسی میں نفس وجود شہود ہی ضرور نہیں،
کما نصوا علیہ فی البدائع والخانیۃ والمحیط واشار الیہ فی الہدایۃ وغیرہا
 (جیسا کہ اس پر بدائع، خانیہ اور محیط کی نصو ص ہیں اور ہدایہ وغیرہ میں اس کی طرف اشارہ ہے۔ ت)
 (۱؎ القرآن الکریم    ۲/ ۲۸۲)	(۲؎القرآن الکریم    ۶۵/ ۲)
بلکہ مقصود شرع وہی دوباتیں ہیں ایک طلب فوری، دوسری محضر، اور الثلثۃ میں طلب بتعیین ، اکثر یہ ہوتاہے کہ شفیع کو خبر بیع وہاں پہنچی ہے کہ عاقدین ومبیع سے کچھ حاضر نہیں، ناچار دو طلبوں کی حاجت ہوئی کہ محضر کا انتظار کرے تو فوری جاتاہے۔ اور فقط فور پر قانع ہو توو محضر نہیں، اور جب خبیر عین محضر میں پہنچی تو تعداد طلب کی اصلا حاجت نہیں، طلب واحدہی دونوں کا کام دے گا۔
لاجتماع الفور والمحضرمعا والمسئلۃ دوارۃ فی الکتب وقد ذکر نا بعض نصوصہا ، ولا تنس ماقدمنا من معنی الاشہاد ومن حقیقۃ طلب الاشہاد کیلا تزل من ظاھر کثیر من العبارات۔
فوریت اور حاضری دونوں کے اجتماع کی وجہ سے، جبکہ یہ مسئلہ کتب میں عام دائر ہے اور ہم نے بعض کتب کی نصوص ذکر کردی ہیں اور ہمارا بیان معنی اشہاد اور طلب کی حقیقت کو نہ بھولنا تاکہ تو بہت سی کتب کی ظاہر عبارات سے نہ پھسلے (ت)

جواب سوال چہارم صورت مستفسرہ میں ضرور شفعہ باطل ہوجائے گا، اور قریب کہ چھوڑ کر بعید کی طرف جانے سے استناد محض باطل وخرط القتاد ، مصرواحد میں اس کا جواز اس صورت میں ہے کہ بعید تک جانے میں قریب پر گزرنہ ہو، اور اگر راہ میں قریب پرگزرااور اسے چھوڑکر بعید کی طرف گیا، قطعا شفعہ باطل ہوجائے گا۔اور یہ ضرور دلیل اعراض ہے۔
محیط، سرخسی، بزازیہ، خانیہ، ہندیہ وغیرہا عامہ کتب میں ہے :
لو کان الکل فی مکان حقیقۃ وطلب من ابعدھا وترک الاقرب جاز، فکذا ھذا الا ان یصل الی الاقرب ویذھب الی الابعد فحنیئذ تبطل ۱؎۔
اگریہ تمام امور برمحل پائے جائیں اور بعید جگہ والے کو طلب کرے اور قریب والے کو چھوڑ دے، تو جائز ہے تویہ بھی ایسے ہے ہاں اگر قرب پر پہنچ کر ابعد کی طرف جائے تو اس وقت شفعہ باطل ہوجائے گا۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعۃ الباب الثانی         نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۱۷۲)
اوریہاں یہی ہوا، بیرون دربھی اشہاد کرسکتا تھا، اور اسے چھوڑ کر اند رگیا، اور پردہ کرایا، اور شہود کولے گیا، اس وقت طلب کی، تو یہ اقرب پر گزر کر ابعد کی طرف جانا ہوا، او ریہ ضرور مبطل شفعہ ہے۔

جوا ب سوال پنجم بیان مدعی وگواہان مدعی کے ملاحظہ سے جو کچھ نظرفقہی میں واضح ہوتاہے۔ ان الفاظ کا ناکافی ہوناہے۔ حاضر کی تعیین اشارہ سے ہوتی ہے اور غائب کی تسمیہ سے کہ دار میں ذکر حدودہے۔ کتب علماء انھیں احد الوجہین سے مالامال ہیں، اور تصریح ہے کہ مجہول کی طلب صحیح نہیں ۔
خلاصہ وجیز امام کردری میں ہے :
یستحق بطلب وہو نوعان مواثبۃ وقد ذکرہ اشہاد ھوان یشہد قائلا اطلبہا اوعبارۃ یفہم منہا طلب الدارویذکر الحدود ۲؎۔
شفعہ کا استحقاق طلب سے ہوتاہے اور طلب دو قسم ہے ایک طلب مواثبت جس کا ذکر انھوں نے کردیا ہے اور دوسری قسم طلب اشہاد ہے، وہ یہ کہ میں شفعہ طلب کررہاہوں، یاکوئی اور عبارت جس سے جس مکان کی طلب سمجھی جائے، کہہ کر گواہ بنائے اور مکان کے حدودبھی ذکر کرے۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی بزازیہ  علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الشفعۃ باب طلب الشفعۃ نورانی کتب خانہ پشاور     ۶/ ۱۶۳)
محیط سرخسی وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
انمایصلح طلب الاشہاد بحضرۃ المشتری او البائع والمبیع فیقول عند حضرۃ واحد منہم، ان فلانا اشتری ھذہ الدار ودارا ویذکر حدودھا الاربعۃ ۳؎ الخ۔
  مشتری یا بائع یا مبیع کے پاس یوں کہے فلاں نے یہ مکان خریدا اور اس کی حدود اربعہ کو ذکر کرے تو طلب درست ہوگی الخ (ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ  کتاب الشفعۃ الباب الثانی         نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۱۷۲)
فتاوٰی ذخیرہ ونتائج الافکا رمیں ہے :
صورۃ ھذا الطلب ای یحضر الشفیع عند الدار ویقول ان فلانا اشتری ھذا الدار اویحضر المشتری ویقول ھذا مشتری من فلان داراالتری حدودہا کذا الخ اوالبائع ویقول ھذا باع من فلان دارا التی حدودہا کذا الخ ۱؎ ۔
  اس طلب اشہاد کی صورت یہ ہے کہ شفیع اس مکان کے پاس حاضر ہوکر کہے کہ تحقیق فلاں نے یہ مکان خریدا ہے یا مشتری کے پاس حاضر ہوکر کہے کہ اس نے فلاں حدود اربعہ والا مکان خریدا ہے یا بائع کے پاس حاضر ہوکر کہے اس نے فلاں حدود ولا مکان فروخت کیا ہے۔ الخ (ت)
 (۱؎ نتائج الافکار فی کشف الرموز  والاسرار     تکملہ فح القدیر کتاب الشفعۃ والخصومۃ فیہا        مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۸/ ۳۱۱)
فتاوٰی قاضیخاں میں ہے :
صورۃ طلب الاشہاد ان یقول الشفیع للمشتری حین لقیہ اطلب منک الشفعۃ فی دار اشتریتہا من فلان التی احد حدودہا کذا  والثانی کذا  الثالث کذاوالرابع کذا (الی قولہ) ولابد ان یبین انہ شفیع بالشرکۃ اوبالجوار، اوفی الحقوق ، ویبین الحدود لتصیر الدار معلومۃ ۲؎۔
طلب اشہاد کی صورت یہ ہے کہ شفیع جب مشتری کے پا س آئے تو کہے میں تجھ سے اس مکان کا شفعہ طلب کرتاہوں جو تو نے فلاں شخص سے خریدا ہے۔ اور جس کی حدود میں سے ایک یہ ہے دوسری یہ اور تیسری یہ، اور چوتھی یہ ہے (اس کے قول) اور ضروری ہے کہ وہ بیان کرے کہ میں شرکت کی بناء پر شفیع ہوں یا پڑوس کی بنا پر شفیع ہوں یا حقوق میں شرکت کی بناء پر شفیع ہوں، اور حدود کو بیان کرے تاکہ مکان متعین ہوجائے۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی قاضی خاں    کتاب الشفعۃ فصل فی الطلب      نولکشور لکھنؤ        ۴/ ۸۶۲)
ہدایہ میں ہے:
صورۃ ھذا الطلب، ان یقول ان فلانا اشتری ھذا الدار ۳؎ الخ،
اس طلب اشہاد کی صور ت یہ ہے کہ فلاں نے یہ مکان خریدا ہے الخ (ت)
 (۳؎ الہدایۃ    کتاب الشفعۃ   باب طلب الشفعۃ  مطبع یوسفی لکھنؤ  ۴/ ۳۹۱)
Flag Counter