Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
126 - 126
مسئلہ ۳۳۰: ہادی حسین صاحب  از شہر بریلی محلہ ذخیرہ ۳۰ جمادی الاولٰی ۱۳۳۹ھ

علمائے کرام اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ زید وہندہ کے آپس میں ناجائز تعلق تھا، ہندہ کو اس ناجائز تعلق کی وجہ سے حمل رہا، افشائے راز کے باعث زید وہندہ کا باہم نکاح کردیا، اب ہندہ نے وضع حمل کیا، زید اس کا عقیقہ کرنا چاہتاہے۔ آیایہ عقیقہ درست ہوگا اورگوشت یا طعام عزیز واقرباء کو کھانا مباح ہوگایانہیں اور نکاح زید صورت مسطورہ میں صحیح ہے یانہیں؟ علاوہ ازیں زید کوئی کام بھی آئندہ اس مولود کا مثل ختنہ ومکتب وغیرہ کے کرے، اس میں شرکت دینا اور شرینی اور طعام دعوت ان امور کی لینا اور کھانا اعزا کو جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب

سائل کے بیان سے معلوم ہوا کہ عورت کنواری تھی اور بچہ نکاح کے کوئی دو مہینے بعد پیدا ہوا، ایسی صورت میں زید اگر جانتا ہے کہ واقع میں یہ حمل نکاح سے پہلے کا ہے تو اسے اس کا عقیقہ کرنے کے کوئی معنی نہیں کہ عقیقہ شکر نعمت ولادت ہے اور بچہ کی ولادت زانی کے لئے نہیں ہوتی صرف ماں کے لئے۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم للعاہر الحجر ۱؎۔
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا زانی کے لئے پتھر ہے۔ (ت)
 (۱؎ صحیح البخاری         کتاب المحاربین باب للعاھر الحجر     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۱۰۰۷)

(صحیح البخاری       کتاب الاحکام باب من قضی لہ بحق اخیہ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۱۰۶۵)

(صحیح مسلم         کتاب الرضاع باب الولد للفراش الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱/ ۴۷۰ و ۴۷۱)
اس کا عقیقہ اگر کرے تو اس کی ماں کرے، اس میں شرکت میں حرج نہ ہوگا، اور ختنہ اور شادی اگر زید بھی کرے تو حرج نہیں اور شرکت بھی جائز ہوئی جبکہ کوئی محذور شرعی نہ ہو، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۱ تا ۳۳۳: مسئولہ مولوی رحیم بخش صاحب حنفی قادری رضوی از آرہ شاہ آباد مدرس فیض الغرباء بروز پنجشنبہ بتاریخ ۷/ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ

(۱) قیاس عقیقہ قربانی پر صحیح ہے یانہیں؟ اگر صحیح ہے تو ان دونوں کا جامع علت مشترکہ کیا ہے؟ 

(۲) قربانی کی طرح عقیقہ میں شرکت جائز ہے یانہیں؟

(۳) سات لڑکیوں یا تین لڑکے اور ایک لڑکی کے نام سے ایک گائے عقیقہ کرسکتے ہیں یانہیں؟
الجواب

عقیقہ میں بھی شرکت اسی طرح جائز ہے جیسے قربانی میں جبکہ سب کی نیت خالص لوجہ اللہ ہو۔ اگر ایک کی نیت بھی قربت کی نہ ہوگی اور باقی سب تقرب چاہیں گے کسی کی قربت ادانہ ہوگی کہ وہ سب گوشت ہوگیا۔
لان اﷲ تعالٰی لا یقبل الشرکۃ واغنی الاغنیاء عن الشرکۃ لہ ولغیرہ فکلہ لغیرہ۔
ا س لئے کہ اللہ تعالٰی شرکت کو قبول نہیں فرماتا اور وہ تمام اغنیاء شرکت سے بڑاغنی ہے اورجو اس کے لئے اوراس کے غیر کے لئے (مشترک) ہو تو وہ سب اس کے غیر کے لئے ہے۔ (ت)

عقیقہ اور قربانی دونوں اراقت دم لوجہ اللہ ہیں اور اسی کلیہ میں داخل کہ:
ماکان لہ ولغیرہ فہو لغیرہ وماکان خالصا لہ فہولہ۔ وان تعددت الوجوہ ولذا جاز التصدق علی فقیرین بالاشتراک ولامشاع، ان المقصود وجہ اﷲ تعالٰی وہو واحد بخلاف الھبۃ۔
جوکچھ اس کے لئے اور اس کے غیر کے لئے (مشترک) ہے تو وہ اس کے غیر کے لئے ہے اور جو خالص اس کی رضا کے لئے ہے تو وہ اس کے لئے ہے۔ اگر چہ وجوہ تقرب متعد د ہوں، اسی واسطے دو فقیروں پر بلا تقسیم مشترکہ طورپر صدقہ کرنا جائزہے کیونکہ مقصود اللہ تعالٰی کی خوشنودی ہے اور وہ ایک ہی ہے بخلاف ہبہ کے (ت)

لہذا حاجت قیاس نہیں فان المندرج تحت العمومات غیر مسکوت عنہ لیقاس (کیونکہ جو شے عمومات کے تحت درج ہو وہ مسکوت عنہ نہیں ہوتی تاکہ قیاس کیا جائے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۴: از قصبہ امریا ڈاک خانہ امر یا پاس محمد اکبر یارخاں     بروز چہار شنبہ بتاریخ ۱۳/ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو بچہ لڑکا یا لڑکی پیدا ہو کر ہفتہ سے کم یا ہفتہ بھر کی عمر یا ہفتہ سے زائد میں انتقال ہوااب ان کے والدین کو ان مردہ بچوں کا عقیقہ چاہئے یانہیں؟ اور ہفتہ سے کم عمر میں مرے ان کا عقیقہ کیا جائے یا نہیں؟ اور قربانی بھی ان بچوں کی جانب سے ہوتی یانہیں؟ اور والدین جو انتقال کرچکے ہوں ان کی جانب سے کرنا جائز ہے یانہیں؟ اس کی بابت جو جوابات ہوں واضح طور پر تحریر فرمائے جائیں سخت ضرورت ہے۔ جواب جہاں تک ممکن ہو بہت جلد اور ہفتہ کی عمر سے زائد جہاں تک حد ہو اپنی صغر سنی میں، اس کے واسطے کیاحکم ہے۔ اور وہ بچے جن کے ذکر ہوا عقیقہ نہ کرنے میں مواخذہ کریں گے یانہیں؟ اگر عقیقہ کردیا جائے تو شفاعت برووز حشر کرادیں گے یانہیں؟ فقط
الجواب

جو مرجائے کسی عمر کا ہو اس کا عقیقہ نہیں ہوسکتا، بچہ اگر ساتویں دن سے پہلے ہی مرگیا تو اس کے عقیقہ نہ کرنے سے کوئی اثر اس کی شفاعت وغیرہ پرنہیں کہ وہ وقت عقیقہ آنے سے پہلے ہی گزر گیا عقیقہ کا وقت شریعت میں ساتواں دن ہے سات دن سے پہلے مرجانا درکنار، حدیث میں ہے کہ کچا حمل جو گر جاتاہے وہ روز قیامت اپنا نال کھنیچتا ہوا آئے گا اور اپنے ماں باپ کے لئے (جبکہ وہ دنیا سے ایمان کے ساتھ گئے ہوں) مولٰی عزوجل سے ایسا جھگڑا کرے گا جیسے قرضخواہ اپنے قرضدا ر سے، یہاں تک کہ حکم ہوگا کہ او کچے بچے، اپنے رب سے جھگڑنے والے! اپنے ماں باپ کا ہاتھ پکڑ لے اور جنت میں لے جا ۱؎۔
(۱؎ سنن ابن ماجہ     ابواب الجنائز         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۱۶ٌ)
ہاں جس بچے نے عقیقہ کا وقت پایا یعنی سات دن کا ہوگیا اور بلاعذر باوصف استطاعت اس کا عقیقہ نہ کیا اس کے لئے یہ آیا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کی شفاعت نہ کرنے پائے گا۔
حدیث میں ہے:
الغلام مرتہن بعقیقتہ ۲؎
لڑکا اپنے عقیقہ میں گروی ہے۔
 (۲؎الجامع الصغیر     حدیث ۵۸۱۹     دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۲/ ۳۵۹)
تیسیر میں ہے:
یعنی اذالم یعق عنہ فمات طفلا لا یشفع فی ابویہ ۳؎۔
یعنی اگر بچے کا عقیقہ نہ کیا گیا ہو اور وہ بچپن میں مرگیا تو وہ اپنے والدین کی شفاعت نہیں کرے گا۔ (ت)
 (۳؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث مذکور کے تحت     مکتبہ الامام الشافعی ریاض     ۲/ ۱۶۵)
اشعۃ اللمعات میں ہے:
امام احمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مے گوید معنی آنست کہ فرزند محبوس وممنوع ست از شفاعت، درحق والدین تاعقیقہ او را ند ہند، واعتماد برقول آں امام اجل ست وظاہرآن ست کہ وی شنیدہ است از سلف کہ معنی ایں ست ۴؎۔
امام احمد علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ بچے کا جب تک عقیقہ نہ کیا جائے اس کو والدین کے حق میں شفاعت کرنے سے روک دیا جاتا ہے اور اعتماد اس عظیم الشان امام کے قول پر ہے اور ظاہر یہ ہے کہ امام موصوف نے اسلاف سے سنا ہوگا کہ اس کا معنی یہ ہے۔ (ت)
 (۴؎ اشعۃ اللمعات     کتا ب الصید باب العقیقہ الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳/ ۴۸۲)
جو بچہ قبل بلوغ مرگیا اور اس کاعقیقہ کردیا تھا، یا عقیقہ کی استطاعت نہ تھی یا ساتویں دن سے پہلے مرگیا ان سب صورتوں میں وہ ماں باپ کی شفاعت کرے گا جبکہ یہ دنیا سے باایمان گئے ہوں اس بارے میں متواتر حدیثیں ہیں، قربانی جو اپنے نابالغ بچہ کی طرف سے بعض کے نزدیک واجب ہے وہ اس کی زندگی ہی میں ہے بعد مرگ کسی کے نزدیک لازم نہیں، ہاں ان کی طر ف سے کرے تو ان کو ثواب پہنچے گا، یونہی ماں باپ کی طرف سے بعد موت قربانی کرنا اجر عظیم ہے اس کے لئے بھی اور اس کے والدین کے لئے بھی۔
وھو سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
نوٹ:  بیسویں جلد باب العقیقہ پر ختم ہوئی ، اکیسویں جلد کاآغاز کتاب الحظر والاباحۃ سے ہوگا۔
Flag Counter