Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
125 - 126
مسئلہ ۳۲۱: از شہر پونا جامع مسجد مسئولہ محمد ابراہیم صاحب بروز شنبہ ۲۸ ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین وحامیان شرع مبین کہ بچے کا عقیقہ کیا جائے لڑکے کے ماں باپ نانا، نانی، دادا، ماموں وغیرہ گوشت عقیقہ کا کھائیں یانہیں؟
الجواب

سب کھاسکتے ہیں، یہ مسئلہ لوگوں میں غلط مشہور ہے
کلواوتصدقوا وائتجروا ۱؎
 (کھاؤ، صدقہ کرو اور اجر کماؤ۔ عقود الدریہ میں ہے:
احکامہا احکام الاضحیہ ۲؎
 (عقیقہ کے احکام وہی ہیں جو قربانی کے احکام ہیں۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم
 (۱؎ صحیح مسلم     کتاب الاضاحی باب بیان ماکان من النھی عن لحوم الاضاحی     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۱۵۸)

(سنن ابی داؤد     کتا ب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی             آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۳۳)

(۲؎ العقود الدریۃ کتاب الذبائح                 ارگ بازار قندہار افغانستان     ۲/ ۲۳۳)
مسئلہ ۳۲۲: از کیمپ میرٹھ لال کرتی بازاربنگلہ سول سارجن مرسلہ شیخ احمد بخش ملازم کرنل ۲۸ ذی القعدہ ۱۳۲۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عقیقہ میں جانور کی ہڈی توڑنا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: توڑنے میں حرج نہیں، اور نہ توڑنا بہترہے۔
قال الشیخ المحقق فی شرح المشکوٰۃ انہ مذھب الامام مالک، والکسر مذہب الامام شافعی، قلت وقد صرح علمائنا ان مذہب عالم المدینۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ اقرب الی مذہبنا ویصار الیہ حیث لانص من اصحابنا کما فی ردالمحتار وغمزالعیون، قلت لاسیما فی مثل مانحن فیہ، فان الکسر لاینبغی عند مالک، ولو لم یکسر لم یعاقبہ الشافعی رضی اﷲ تعالٰی عن الائمۃ اجمعین۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
شیخ محقق علیہ الرحمۃ نے شرح مشکوٰۃ میں فرمایا کہ (ہڈی کا ) نہ توڑنا امام مالک کا مذہب ہے۔ اور توڑنا امام شافعی کا مذہب ہے۔ میں کہتاہوں ہمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ عالم مدینہ کا مذہب ہمارے مذہب کے زیادہ قریب ہے۔ جہاں ہمارے اصحاب سے کوئی نص موجود نہ ہو وہاں انہی کے مذہب کی طرف رجوع کیا جائے ، جیسا کہ ردالمحتاراور غمز العیون میں ہے۔ میں کہتاہوں خاص طور پر زیر بحث مسئلہ جیسے مسائل میں کیونکہ امام مالک کے نزدیک توڑنا مناسب نہیں،ا وراگر نہ توڑے تو امام شافعی اس پر عتاب نہیں فرماتے۔ اللہ تعالٰی ہمارے تمام اماموں پر راضی ہو، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۳: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عقیقہ کا گوشت والدین کو کھانا حرام ہے یا ناجائز ؟ بینوا توجروا
الجواب

جائز ہے اگر سب آپ ہی کھالیں جب بھی حرج نہیں
لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کلوا وادخروا ۱؎
 (نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ کھاؤ اور ذخیرہ کرو۔ ت)
 (۱؎ سنن ابی داؤد     کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۳۳)
ہاں بہتر یہ ہے کہ
''لا اقل بقدر ثلث ''
(کم از کم تہائی کو۔ ت) خیرات کردے، اور ایک ران دائی کا حق ہے۔ ایک ثلث عزیزوں قربیوں میں تقسیم کریں، ایک ثلث اپنے کھانے کے لئے،
بذٰلک ورد الحدیث واما جواز الاکل فان النسک انما یقوم باراقۃ الدم والتصدق باللحم خارج عنہ کالا ضحیۃ  والدم دم شکر لاجبر، وقد صرح العلماء کالشیخ فی اللمعات وغیرہ فی غیرہا ان العقیقۃ کالاضحیۃ فی جمیع الشرائط والاحکام، ومعلوم ان الاضاحی تقسم لحومہا اثلاثا ثلث طعمہ و ثلث ہدیۃ وثلث صدقۃ وہذا ایضا علی وجہ الاستحباب دون الوجوب حتی لو اکل الکل جاز فکذا العقیقۃ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اس پر حدیث وار دہے۔ لیکن کھانے کاجواز تو اس لئے ہے کہ عقیقہ تو جانور کا خون بہانے کے ساتھ ادا ہوجاتا ہے۔ اور گوشت کو صدقہ کرنا اس سے خارج ہے جیسا کہ قربانی میں ہوتاہے۔ اور عقیقہ کے لئے جانور ذبح کرنا بطور شکر ہے اس پر جبر نہیں علماء کرام نے صراحت فرمائی جیساکہ شیخ محقق نے لمعات میں اور دیگر ائمہ نے دیگر کتب میں فرمایا کہ بیشک عقیقہ تمام شرائط واحکام میں قربانی کی مثل ہے۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ قربانی کا گوشت تین حصوں میں تقسیم کیا جاتاہے ایک حصہ خود کھانے کے لئے دوسرا حصہ ہدیہ وتحفہ کے لئے اور تیسرا حصہ صدقہ کے لئے، اورا یسا کرنا بھی مستحب ہے نہ کہ واجب یہاں تک کہ اگرتمام گوشت خود کھالے تب بھی جائز ہے۔ لہذا ایسا ہی معاملہ عقیقہ میں ہوگا واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۲۴ و ۳۲۵: شیخ احمد حسین صاحب از مقام سید پور ڈاکخانہ وزیر گنج ضلع بدایوں

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:

(۱) مردہ کے نام پر عقیقہ دیا جاسکتاہے یانہیں؟ اور بعض عالم یہ کہتے ہیں کہ مردہ کے نام پر قربانی کرنا درست ہے لہذا عقیقہ بھی درست ہے۔ اگر بچہ ہو کہ سات دن سے پہلےمرے تو کیا حکم ہے؟

(۲) ایک گائے سے تین یا چار یا سات لڑکی کا عقیقہ دے سکتاہے یانہیں؟
الجواب

(۱) مردہ کی طرف سے قربانی بلا شبہ جائز ہے اور عقیقہ شکر نعمت ہے بعد زوال نعمت اس کا محل نہیں، ولہذا اموات بلکہ ان کی طرف سے جواب تک پیدا نہ ہوئے قربانی ثابت ہے۔ اور عقیقہ بعد موت کہیں ثابت نہیں، جو بچہ سات دن سے پہلے مرگیا عقیقہ نہ کرنے سے جو الزام آتا کہ وہ شفیع ہوگا، یہاں نہ ہوگا کہ شرع نے جو اس کا وقت مقرر فرمایا اس سے پہلے اس کا انتقال ہوگیا، اور سات دن بعد مرا اور استطاعت تھی تو اس کی شفاعت کا استحقاق نہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔

(۲) دے سکتاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۶: ازشہربریلی مدرسہ اہلسنت مسئولہ مولوی اسیر الدین بنگالی یکے از طلباء مدرسہ مذکورہ ۲۴ محرم الحرام ۱۳۳۲ھ

بچہ نابالغ اگر قبل عقیقہ کے مرجائے تو بعد مرنے کے اگر عقیقہ کیا جائے تو ثواب عقیقہ کاملے گا یا

نہیں؟ اور یہ عقیقہ جائز ہے یانہیں؟
الجواب

بچہ کی موت کے بعدعقیقہ نہیں ہوسکتا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۷: مسئولہ محمد یعقوب علی خاں از مقام کٹہری ضلع گوڑ گاؤں ڈاکخانہ ڈھینہ اسٹیشن حاٹون بتاریخ ۱۴ ذی قعدہ ۱۳۳۳ھ

جو بچہ پیدا ہوا اور کسی سبب سے اس کی زندگی میں عقیقہ نہ ہوا تو بعد مرنے بچہ کے اس کے نام سے عقیقہ کرنا درست ہے یانہیں؟
الجواب

عقیقہ بعد موت پسر نہیں کہ وہ شکر ولادت ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۸ و ۳۲۹: از بریلی محلہ سوداگران مسئولہ سردار احمد صاحب     ۱۵ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:

(۱) مُردے کے نام سے عقیقہ دے سکتاہے یانہیں؟ اور بعض عالم کہتے ہیں کہ مردے کے نام پر قربانی کرنا درست ہے لہذا عقیقہ بھی درست ہے اگر بچہ پیدا ہو کے سات دن پہلے مرے تو کیا حکم ہے اور سات دن کے بعد مرے تو کیا حکم ہے۔ اور نر یعنی بکرا لڑکے کے لئے خاص ہے یا نہیں؟

(۲) ایک گائے سے تین یا چار سات لڑکے کا عقیقہ دے سکتاہے یانہیں؟ اور ایک گائے کے گوشت سے دو حصہ لے کر ایک لڑکے کا عقیقہ دیا جائے تو درست ہے یانہیں؟
الجواب

(۱) مُردے کا عقیقہ نہیں کہ وہ شکر ولادت ہے بخلاف قربانی کہ ایصال ثواب ہے۔ سات دن سے پہلے مرگیا تو ابھی عقیقہ کا وقت ہی نہ آیا تھا اور بعد کو مرا تو عقیقہ کیا، اس بچے کی شفاعت کا مستحق نہ ہوگا، اگر بلاوجہ باوصف استطاعت نہ کیا، افضل یہ ہے کہ پسر کے لئے دو نر ہوں  اور دختر کے لئے ایک مادہ کہ اس میں مقابلہ اعضا اکمل ہے۔ اور اگر نرومادہ میں عکس ہو جب بھی کوئی حرج نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔

(۲) ایک گائے میں ایک سے سات کا عقیقہ ہوسکتا ہے۔ اگر عقیقہ کے سوا دوسرا حصہ ایک یا دو یا کتنا ہی خفیف غیر قربت مثلا اپنے کھانے کی نیت کو رکھا تو عقیقہ ادا نہ ہوگا، ہاں اگر وہ حصے بھی قربت کے ہوں، مثلا ایک حصہ عقیقہ، ایک حصہ قربانی عید الاضحی تو جائز ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم
Flag Counter