Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
124 - 126
مسئلہ ۳۱۵: مرسلہ احمد شاہ خاں     از موضع نگریاسادات، ضلع بریلی

عید الاضحی کے روز عقیقہ کرنا جائز ہے یانہیں؟
الجواب

جائز ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۶: از مرسنیا تھانہ جہاں آباد ضلع پیلی بھیت مرسلہ شیخ مختار حسین صاحب ۶/ ربیع الاول شریف ۱۳۳۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں زید نے اپنے لڑکے کا عقیقہ کیا، سرکے بال منڈواکر چاندی وزن کرکے حجام کو دے دی، مسکین کو دینی چاہئے تھی، اور بکری کا سرحجام کو، اور ایک ران بھنگن کو، کہ وہی دائی تھی، اس طرح عقیقہ ہوا یا نہیں؟ جوانی یا بڑھاپے میں عقیقہ کرسکتاہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب

بھنگن یا کسی کافرہ کو جنائی بنانا سخت حرام ہے۔ نہ کافرہ کو ران دی جائے، اور بالوں کی چاندی مسکین کا حق ہے۔ نائی مسکین ہو تو مضائقہ نہیں، اصل حکم یہ ہے پھرجس نے اس کے خلاف کیا، بھنگن کو ران ، غنی نائی کو چاندی دی تو برا کیا، مگر عقیقہ ہوگیا، سری کے بارے میں کوئی خاص حکم نہیں ہے جسے چاہے دے، جس کا عقیقہ نہ ہوا ہو وہ جوانی بڑھاپے میں بھی اپنا عقیقہ کرسکتاہے ، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۷ تا ۳۱۹: از موضع خود مئو ڈاک خانہ بدو سرائے ضلع بارہ بنکی مرسلہ صفدر علی صاحب ۶/ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:

(۱) حکم ہے کہ عقیقہ میں سرنائی کو اور ران دائی جنائی کو دی جائے، فی زماننا جنائی اکثر چمارن یا ڈومن ہوتی ہے۔ اور ان کا مذہب ظاہر ہے تو کیا ان مذکور بموجب حکم جنائی کو جو چمارن ہے یا ڈومن ہے دی جائے۔

(۲) گوشت عقیقہ کا صاحب عقیقہ یا اس کے والد کے کھانے کی نسبت اکثر بزرگ تحریر فرماتے ہیں کہ درست ہے، اور بعض بزرگ تجویز فرماتے ہیں کہ مکروہ ہے۔ اورنہ کھانا انسب ہے۔ تو اب قطعی حکم معلوم ہونا چاہئے، کیا کیا جائے، جو طریقہ وسنت نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے خلاف نہ ہو، 

(۳) اکثر دیکھا گیا کہ لوگ بکرا منگا کر اور اس کو لڑکے یا لڑکی کے نام ذبح کرکے کچھ گوشت چیل، کوا کو کھلاتے ہیں، اور کچھ فقراء کو تقسیم کرتے ہیں، یہ فعل کس حد تک صحیح ہے؟
الجواب

(۱) سرنائی کو دینے کا نہ کہیں حکم نہ ممانعت ، ایک رواجی بات ہے۔ جنائی کو ران دینے کاحکم، البتہ حدیث ہے، مگر کافرہ سے یہ کام لینا حرام ہے۔ کافرہ سے مسلمان عورت کو ایسے پر دے کا حکم ہے جیسے مرد سے کہ سوا منہ کی ٹکلی اور ہتھیلیوں اور تلووں کے کچھ نہ دکھائے، نہ کہ خاص جنائی کا کام۔
مجتبٰی شرح قدوری وتنویر الابصار ودرمختارمیں ہے:
الذمیۃکالرجل الاجنبی فی الاصح فلا تنظر الی بدن المسلمۃ ۱؎۔
اصح قول کے مطابق ذمیہ عورت اجنبی مرد کی طرح ہے لہذا وہ مسلمان عورت کے بدن کو نہ دیکھے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار     شرح تنویر الابصار     بحوالہ مجتبٰی کتاب الحظرولاباحۃ     فصل فی النظر     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۴۲)
غایۃ البیان میں ہے:
لیس للمؤمنۃ ان تتجرد بین یدی مشرکۃ اوکتابیۃ ۱؎۔
مومنہ عورت کو مشرکہ یا کتابیہ عورت کے سامنے ننگا ہونا جائز نہیں۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار         کتاب الحظروا لاباحۃ فصل فی النظر     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۳۸)
سراج الوہاج ، نصاب الاحتساب وشرح الدر للعلامۃ اسمعیل وشرح ہدیہ ابن العماد للعارف عبدالغنی وردالمحتار میں ہے:
لایحل للمسلمۃ ان تنکشف بین یدی یھودیۃ اونصرانیۃاومشرکۃ الا ان تکون امۃ لہا ۲؎۔
مسلمان عورت کو یہودی، نصرانی یا مشرک عورت کے سامنے ننگا ہونا حلال نہیں سوائے اس کے کہ وہ اس کی لونڈی ہو۔ (ت)
(۲؂ردالمحتار         کتاب الحظروا لاباحۃ فصل فی النظر     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۳۸)
پھر اگر کسی نے اپنی حماقت سے اس گناہ کا ارتکاب کیا،
او کان صحیح الاضطرار الیہ
 (یا اس کی طرف شدید مجبوری ہو۔ ت) تو اس کو ران وغیرہ کچھ نہ دیں کہ کافروں کا صدقات وغیرہ میں کچھ حق نہیں، نہ اس کو دینے کی اجازت، غایہ سروجی وبحرالرائق ودرمختاروغیرہا میں ہے:
اما الحربی ولومستأمنا فجمیع الصدقات لایجوز لہ اتفاقا ۳؎۔
لیکن کافر حربی اگر چہ مستامن ہو اس کو تمام صدقات دینا بالاتفاق ناجائز ہے۔ (ت)
 (۳؎ درمختار    کتاب الزکوٰۃ باب المصرف     مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۱۴۱)
درایہ میں ہے:
صلتہ لا تکون برا شرعا۔ ولذا لم یجز التطوع الیہ ۴؎۔
اس کے ساتھ صلہ رحمی شرعی طور پر نیکی نہیں ، یہی وجہ ہے کہ اس پر احسان کرنا جائز نہیں۔ (ت)
 (۴؎ ردالمحتار بحوالہ معراج الدرایۃ   کتاب الزکوٰۃ          داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۶۸)
(۲) عقود الدریہ وغیرہا کتب میں تصریح ہے کہ
احکامہا احکام الاضحیہ ۵؎
 (عقیقے کے احکام وہی ہیں  جو قربانی کے۔ وہی تین حصے اس میں مستحب ہیں ۔ ایک اپنا، ایک عزیزوں دوستوں کا، ایک مسکینوں کا، خود بھی کھائے، ماں باپ  بھی کھائیں، ممانعت بے اصل ہے۔
(۵؎ العقود الدریۃ   کتاب الذبائح    ارگ بازار قندھار افغانستان    ۲/ ۲۳۳)
 (۳) مساکین کو دیں، چیل، کوؤں کو کھلانا کوئی معنٰی نہیں رکھتا، یہ فاسق ہیں، او ر کوؤں کی دعوت رسم ہنود ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۰: ۲۹ ربیع الاول شریف ۱۳۳۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض لوگ عقیقے کے جانور کی استخوان توڑنا اور گوشت کے ساتھ پکانے کو عدم جواز کہتے ہیں، اور جواز کی دلیل چاہتے ہیں، اور استخوان اور پوست زمین میں دفن کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب

ہڈیاں توڑنے میں کوئی حرج نہیں، ناجائز کہنے والا دلیل بیان کرے، کہاں سے ناجائز کہتاہے۔ یہ شافعیہ کے یہاں ہے۔ وہ بھی مستحب طور پر نہ کہ واجب کہ توڑنا ناجائزہو ، خود بلا دلیل ناجائز کہہ دینا اور جواز پر الٹے دلیل مانگنا حماقت ہے۔ اور استخوان خالی دفن کریں، پوست دفن کرنا گناہ ہے۔ کہ مال کو ضائع کرنا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter