| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ) |
الجواب (۱) ان امور میں احکام عقیقہ مثل قربانی ہیں، اعضا سلامت ہوں، بکرابکری ایک سال سے کم کی جائز نہیں، بھیڑ ، مینڈھا چھ مہینہ کا بھی ہوسکتا ہے جبکہ اتنا تازہ وفربہ ہو کہ سال بھر والوں میں ملادیں تو دور سے متمیز نہ ہو۔ (۲) گوشت بھی مثل قربانی تین حصے کرنا مستحب ہے۔ ایک اپنا، ایک اقارب، ایک مساکین کا، اور چاہے تو سب کھالے خواہ سب بانٹ دے، جیسے قربانی، اور پکاکر کھلانا کچا تقسیم کرنے سے افضل ہے۔ (۳) حصہ ضروری کسی کا بھی نہیں، استحبابی حصہ میں تہائی اپنا رکھا گیا ہے۔ والدین کھا سکتے ہیں، اس کی ممانعت جو مشہورہے صحیح نہیں۔ (۴) دائی یعنی جنائی کو ایک ران دی جائے جبکہ وہ مسلمان ہو جاہلوں میں جو ہندو جنائیاں یا مس ڈاکٹریں بلائی جاتی ہیں یہ حرام ہے۔ حجام ، سقا، خاکروب، دھوبی کا کوئی خاص حق نہیں۔
(۵) پوست داموں کو بیچ کر اپنے صرف میں لانا منع ہے۔ اور قیمت میں مجرا کرنے کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ جانور پہلے خرید کر ذبح کرلیا اب پوست قصاب نے مول لے لیا، اس کے آتے ہوئے داموں میں یہ دام وضع کرلئے، یوں اپنے صرف کے لئے بیچنا گنا ہ ہوامگر جانور کی خریداری میں خلل نہ آیا دوسرے یہ کہ خریدتے وقت شرط کرلی کہ کھال اتنے کو تجھے لینی ہوگی، یہ سرے سے جانور کی خریداری ہی کو حرام وفاسد کردے گا ان پر فرض ہوگا کہ اس عقد کو فسخ کردیں، پھر از سر نو عقد صحیح سے اسے خرید کر عقیقہ میں ذبح کرے، ہاں بعینہ پوست کی جلد یا ڈول یا جانماز وغیرہ بناکر اپنے صرف میں لاسکتاہے۔ یوں ہی برتن کپڑے وغیرہ اشیاء کے عوض بیچ سکتا ہے۔ جو قائم رکھ کر استعمال میں آتی ہیں، نہ دام یا اناج وغیرہ جن کا استعمال ان کو فناکرنے سے ہوتا ہے۔ اور کارخیر میں دے دینااپنے صرف میں لانے سے افضل ہے۔
(۶) باپ اگر حاضر اور ذبح پر قادرہو تو اسی کا ذبح کرنا بہتر ہے کہ یہ شکر نعمت ہے۔ جس پر نعمت ہوئی وہی اپنے ہاتھ سے شکر ادا کرے وہ نہ ہو یا ذبح نہ کرسکے تو دوسرے کو قائم کرے یا کیا جائے ، اور جو ذبح کرے وہی دعا پڑھے عقیقہ پسر میں کہ باپ ذبح کرے دعا یوں پڑھے:
اَللّٰھُمَّ ہٰذِہٖ عَقِیْقَۃُ ابْنِیْ فُلاَنْ دَمُھَا بِدَمَہٖ وَلَحْمُھَا بِلَحْمِہٖ وَعِظْمُھَا بِعَظْمِہٖ وَجِلْدُھَا بِجَلدِہٖ وَشَعْرُھَا بِشَعْرِہٖ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہَا فِدَاءً لِابْنِیْ مِنَ النَّارِ ط بِسْمِ اﷲِ اَﷲ اَکْبَرْ۔
اے اللہ ! یہ میرے فلاں بیٹے کا عقیقہ ہے اس کا خون اس کے خون، اس کا گوشت اس کے گوشت اس کی ہڈی اس کی ہڈی، اس کا چمڑہ اس کے چمڑے اور اس کے بال اس کے بال کے بدلے میں ہیں، اے اللہ! اس کو میرے بیٹے کے لئے جہنم کی آگ سے فدیہ بنادے۔ اللہ تعالٰی کے نام سے، اللہ بہت بڑا ہے۔ (ت)
فلاں کی جگہ پسر کا جو نام رکھتا ہو لے دختر ہو تو دونوں جگہ اِبْنِیْ کی جگہ بِنْتِی،، اور پانچوں جگہ "ہ" کی جگہ "ھا" کہے اور دوسرا شخص ذبح کرے تو دونوں جگہ ابنی فلاں یا بنتی فلاں کی جگہ
فُلاَن اِبْنِ فُلاَں یا فُلاَنَہ بَنْتِ فُلاَنہ
کہے۔ بچے کو اس کے باپ کی طرف نسبت کرے۔ (۷) ہڈیاں توڑنے میں حرج نہیں، اور نہ توڑنا بہتر ہے، اور دفن کرنا افضل ہے۔ (۸) عقیقہ ساتویں دن افضل ہے۔ نہ ہوسکے تو چودھویں، ورنہ اکیسویں ، ورنہ زندگی بھر میں جب کبھی ہو، وقت دن کا ہو۔ رات کوذبح کرنا مکروہ ہے۔ (۹) کم سے کم ایک تو ہے ہی، اور پسر کے لئے دو افضل ہیں، استطاعت نہ ہو تو ایک بھی کافی ہے۔ (۱۰) گوشت بنانے کی اُجرت داموں میں مجرا کرسکتاہے۔ (۱۱) سرے پائے خود کھائے خواہ اقرباء مساکین جسے چاہے۔ خواہ سب حجام یا سب سقا کو دے دے شرع مطہر نے ان کا کوئی خاص حق اس میں مقرر نہ فرمایا۔ فقط۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۱ تا۳۱۴: از پچروکھی ضلع گیا ڈاکخانہ اکبر پور مسئولہ سید محمد ولی عالم کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: (۱) چلہ کے اندر عقیقہ کرنا جائز ہے یاتاخیر؟(۲) ایک خصی سے عقیقہ ہوگا یانہیں؟ (۳)گوشت عقیقہ کا آباؤ اجداد کو کھانا چاہئے یانہیں؟(۴) ہڈی مذبوح کی توڑنا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب (۱) عقیقہ ولادت کے ساتویں روز سنت ہے۔ اور یہی افضل ہے۔ ورنہ چودھویں دن، ورنہ اکیسویں دن۔ (۲) خصی عقیقہ اور قربانی میں افضل ہے۔ (۳) عقیقہ کا گوشت آباء واجداد بھی کھاسکتے ہیں مثل قربانی اس میں بھی تین حصے کرنا مستحب ہے۔ (۴) اس کی ہڈی توڑنے کی ممانعت میں علماء تفاولا نہ توڑنا بہتر جانتے ہیں، پسر کے عقیقہ میں دو جانور افضل ہیں اور ایک بھی کافی ہے اگر چہ خصی نہ ہو،
عقود الدریہ میں ہے:
قال فی السراج الوہاج اذا ارادان یعق عن الولد یذبح عن الغلام شاتین وعن الجاریۃ شاۃ ولو ذبح عن الغلام شاۃ جاز لان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عق عن الحسن والحسین رضی اﷲ تعالٰی عنہما کبشا کبشا، ولوقدم الذبح قبل یوم السابع او اخرعنہ جاز الا ان یوم السابع افضل والمستحب ان یفصل لحمہا ولایکسر عظمہا تفاولا بسلامۃ اعضاء الولد، ویاکل ویطعم ویتصدق ۱؎۔
السراج الوہاج میں فرمایا کہ جب کوئی شخص اپنی اولاد کا عقیقہ کرنا چاہے تو لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کرے، اگر لڑکے کی طرف سے ایک بکری ذبح کی تب بھی جائز ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہما کی طرف سے ایک ایک مینڈھے کا عقیقہ کیا، اگر عقیقہ ساتویں دن سے پہلے کرے یا ساتویں دن کے بعد کرے تب بھی جائز ہے مگر ساتویں دن کرنا افضل ہے بچے کے اعضاء کی سلامتی کے لئے نیک فالی کے طور پر مستحب یہ ہے کہ گوشت ہڈیوں سے الگ کرلیا جائے اور ہڈیوں کو توڑا نہ جائے، خود کھائے، دوسروں کو کھلائے اور صدقہ کرے۔ (ت)
(۱؎ العقود الدریۃ کتاب الذبائح ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۳۲ و ۲۳۳)
اسی میں ہے:
وحکمہا کاحکام الاضحیہ ۲؎
(عقیقہ کا حکم قربانی کے احکام کی طرح ہے)
(۲؎العقود الدریۃ کتاب الذبائح ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۳۳)
ردالمحتارمیں ہے:
فی البدائع افضل الشاء ان یکون کبشا املح اقرن موجوء ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
بدائع میں ہے افضل قربانی یہ ہے کہ مینڈھا چتکبرا، سینگوں والا اور خصی ہو، واللہ تعالٰی اعلم (ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الاضحیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۱۱)