الجواب
گاؤ و شتراز ہفت بچہ بسندہ کند وبز گوسفند جزیک راکفایت نیست، کما فی الاضحیۃ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
گائے اور اونٹ سات بچوں کی طرف سے کافی ہے۔ جبکہ بھیڑ اور بکری ایک سے زیادہ بچوں کے لئے کفایت نہیں کرتیں، جیسا کہ اضحیہ میں ہے: واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۹۷: از چتوڑ گڑھ اودے پور میواڑ مرسلہ نور محمد ولد عبدالحکیم چھینہ ۵ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے عقیقہ کیا اور اس کے چمڑے کی قیمت کرکے قبل وصول قیمت کے اتنے ہی روپے کا اپنے پاس سے سامان منگواکر کھانا پکوا کر کچھ کھانا اباحۃً
اپنے مکان پر فقراء اور مساکین پر اور کچھ تملیکاً ان پر صرف کردیا، نیز قیمت چمڑہ کے علاوہ اس گوشت میں زائد سامان شامل کرکے گھروالوں نے بھی کھایا، اور بلا امتیاز غنی وفقیر اپنے خویش واقارب کو بھی کھلایا، حالانکہ عقیقہ کے چمڑے کے داموں کا فروخت کرنا، یا اشیائے مستہلکہ کے ساتھ مبادلہ کرنا، اپنے تصرف میں لانے کے لئے ناجائز ہے تو اس شخص نے قیمت کی اشیائے مستہلکہ خریدیں، وہ مساکین پر تصدق کیں، اس کے بعد جب اس نے چمڑے کا دام لے کر اس کا تصرف کرنا ناجائز سنا تو ابھی تک کہ چمڑہ کے دام نہیں لئے تھے اسی روز بیع چمڑہ فسخ کرکے قیمت سے انکار اور اس کے مبادلہ میں اشیائے غیر مستہلکہ از قسم پارچہ یا ظروف لینا مقرر کیا،
اندریں صورت اس شخص کا چمڑا کی قیمت کرکے بلا اخذ ثمن اپنے داموں سے منگواکر پکواکر مساکین پرتصدق کرنا اور اس میں زائد سامان پکوا کر خویش واقارب کا کھلانا، اور اس کے بعد اس کے ناجائز ہونے کے خیال سے بیع فسخ کرکے اب اس کا مبادلہ کرنا جائز ہوا کہ نہیں؟
بینوا بسند الکتاب توجروا عند اللہ یوم الحساب
الجواب
چرم قربانی سے تمول ممنوع ہے فقراء پر صرف ممنوع نہیں۔
لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کلوا وادخروا وائتجروا ۱؎۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ کھاؤ، ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو۔ (ت)
(۱؎ سنن ابوداؤد کتاب الضحایا باب حبس الاضاحی آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۳)
(کیونکہ یہ صدقہ کرنے کی مثل قربت ہے۔ ت)
(۲؎ تبیین الحقائق کتاب الاضحیہ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ بولاق مصر ۶/ ۹)
وہ اگر فقراء کے لئے بیچنا اور اسی قیمت میں اور دام ڈال کر کھانا فقراء اور گھروالوں کے لئے پکاتا تو برا کرتا کہ تصدق وتمول کا خلط بلا تمیز تھا، لیکن وہ قیمت ہنوزنہ لی تھی، اپنے ذہن سے اس کے بدلے اور روپیہ لے کر اس کا معاوضہ سمجھا، یہ اس کی جہالت تھی لیکن اس سے اس کھانے میں کوئی خبث نہ آیا اور نہ گھر والوں کے کھانے میں کچھ حرج ہوا، وہ دونوں اس کے خاص اپنے مال تھے، اسے اختیار تھا کہ جہاں چاہے صرف کرے، مگر وہ نیت کہ قیمت چرم قربانی میں فقراء کے لئے یہ کھانا اس کا عوض نہیں ہوسکتا اگر روپے کے عوض بیچتا وہ روپے امور تقرب میں ہی صرف کرنے ہوتے، اب کہ وہ بیع فسخ کردی، اور اشیائے باقیہ سے بدلا اس تبدیل سے ثیاب وظروف جو حاصل کئے، مباح الاستعمال ہیں، مگر تصدق کی نیت سے عدول ہوا، اور یہ مکروہ ہے۔ لہذا مناسب یہ ہے کہ اسے قربات وفقراء ہی پر صرف کردے۔
غایۃ البیان علامہ اتقانی شرح ہدایہ میں شرح مختصر الکرخی للامام القدوری رحمہم اللہ تعالٰی سے ہے۔
جواز الاشراک بعد الشراء للاضحیۃ محمول علی ان ملکہ لا یزول بالشراء الا انہ یکرہ لانہ قد وعد وعدا فلا ینبغی ان یرجع فیہ ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
قربانی کے لئے جانور خریدنے کے بعد اس میں دوسرے کو شریک کرنے کا جائز ہونا اس بات پر محمول ہے کہ خریداری کے سبب سے اس کی ملکیت زائل نہیں ہوئی، مگر ایسا کرنا مکروہ ہے کیونکہ اس نے ایک وعدہ کیا ہے جس سے رجوع کرنا مناسب نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۹۸ و ۲۹۹: ۱۴ جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱) زید نے عقیقے کے لئے دو راسیں خریدیں، بائع کہتاہے میرے قیاس میں یہ راس ساڑھے دس مہینے کی ہے دوسری میں شبہہ ہے، بظاہر فربہ ہیں، ان کی قربانی درست ہے یانہیں؟
(۲) قصاب سے عقیقے کے لئے ایک بکری خریدی، وہ کہتاہے سال بھر کی ہے۔ مگر دیکھنے سے اس کی حالت اس قابل نہیں ، سال بھر کا بچہ جو دانت توڑتاہے وہ اس نے ابھی نہ توڑے، تو اس صورت میں اس کا عقیقہ کیا جائے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
(۱) سال بھر سے کم کی بکری عقیقے یا قربانی میں نہیں ہوسکتی، اگر مشکوک حالت ہے تو وہ بھی ایسی ہی ہے۔ کہ سال بھر کی نہ ہونا معلوم ہو
لان عدم العلم بتحقق الشرط کعلم العدم
(کیونکہ شرط کے متحقق ہونے کا عدم علم اس کے عدم تحقق کے علم کی طرح ہے۔ ت) خصوصا بائع کا بیان کہ وہ اس سے زیادہ آگاہ ہے۔ اور سال بھر سے کم کی ظاہر کرنے میں اس کا کوئی نفع نہیں بلکہ اس کا عکس متوقع ہے کہ جب مشتری اپنے مطلب کی نہ جانے گا نہ لے گا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲) جبکہ سال بھر کامل ہونے میں شک ہے تو اس کا عقیقہ نہ کریں، اور قصاب کا قول یہاں کافی نہیں کہ بکنے میں اس کا نفع ہے۔ اور حالت ظاہر اس کی بات کو دفع کررہی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۰ تا ۳۱۰: کیا حکم ہے شرع مطہر ہ کا دربارہ عقیقہ کے:
(۱) جانور ذبح کئے جائیں ان کی عمر کیا ہونا چاہئے،ا ور اگر کسی عضو میں نقصان رکھتے ہوں وہ کام میں آسکتے ہیں یانہیں؟
(۲) گوشت کی تقسیم کس طرح کی جائے، آیا کھانا پکاکر کھلوانا افضل ہے یا گوشت کا تقسیم کردینا؟
(۳) گوشت میں کوئی حصہ والدین کا بھی ہے یانہیں؟
(۴) دایہ کسی عضو کی مستحق ہے اور حجام وسقہ وخاکروب دھوبی وغیرہ؟
(۵) پوست کے دام قیمت جانور میں مجراکرنا اور خانگی خرچ میں ملانا جائز ہے یانہیں کیا طریقہ افضل ہے؟
(۶) اور جانور ذبح کس کو کرنا چاہئے؟ اور دعائے عقیقہ کس طرح اور کس کو پڑھنا چاہئے؟
(۷) ہڈیاں توڑنا چاہئے یانہیں، اور دفن کرنا چاہئے یانہیں؟
(۸) مدت اور روز عقیقہ کیا ہونا چاہئے؟
(۹)لڑکے اور لڑکی کے عقیقے میں تعداد جانوروں کی دو دو ایک ہونی چاہئے یا ایک ایک؟
(۱۰) اجرت قصاب کی داموں میں مجرا ہوسکتی ہے یانہیں؟
(۱۱) اگر دو جانور ہوں تو ان کی سری وپائے ایک حجام کو ، ایک سقہ کو دی جاسکتی ہے یادونوں حجام کو؟ بینوا توجروا