Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
121 - 126
اقول اور اس پر ایک دلیل واضح یہ ہے کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حجۃ الوداع شریف میں سو (۱۰۰) اونٹ ہدی بھیجے، ان پر جھولیں تھیں کہ بحکم اقدس بعد نحر تصدق کی گئیں کما تقدم عن صحیح البخاری (جیسا کہ صحیح بخاری سے گزرا _____ ت) حجۃ الوداع شریف کھلی بہار کے موسم میں تھا، فقیر نے حساب کیا ۹ / ذی الحجہ ۱۰ ؁ہجریہ روز جمعہ کو چھٹی مارچ (عہ) ۶۳۲؁ء تھی۔ ولہذا علماء اسے ماہ تحویل حمل میں بتاتے ہیں،
عہ:  یعنی اس وقت کی تعبیر میں ورنہ آغاز سن عیسوی کے حساب سے دسویں مارچ تھی، جیسا کہ ہم نے اپنے ایک رسالہ متعلقہ ''تحقیق سال عیسوی'' میں ثابت کیا ۱۲ منہ قدس سرہ۔
صحیح بخاری میں خطبہ حجۃ الوداع ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دہم ذی الحجہ کو ارشاد فرمایا:
الزمان قد استدار کہیئتہ، یوم خلق اﷲ السمٰوٰت والارض، وفیہ قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ای شہر ہذا قلنا اﷲ ورسول اعلم۔ قال الیس ذوالحجۃ، قال فای یوم ہذا  قلنا اﷲ ورسول اعلم، قال الیس یوم النحر ۱؎۔
زمانہ اس دن کی ہیت پر گردش کررہا ہے جس دن اللہ تعالٰی نے زمین وآسمان پیدا فرمایا تھا۔ اسی میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہی ہے کہ یہ کون سا مہینہ ہے۔ ہم (صحابہ) نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا : یہ کون سا دن ہے ، ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا : کیا یہ یوم النحر نہیں ہے۔ (ت)
 (۱؎ صحیح البخاری         کتاب المغازی باب حجۃ الوداع     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۶۳۲)
امام ابن حجر نے فتح الباری کتاب بدء الخلق میں۔ پھر امام قسطلانی نے ارشاد الساری میں نقل کیا کہ یہ ارشاد اقدس تحویل حمل کے مہینے میں تھا:
حیث قال زعم یوسف بن عبدالملک فی کتابہ تفضیل الازمنۃ ان ہذہ المقالۃ صدرت من النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی شہر مارس، وہو ادار بالرومیۃ وہو برمہات بالقبطیۃ وفیہ یستوی اللیل والنہار عند حلول الشمس برج الحمل ۱؎۔
جہاں فرمایا کہ یوسف بن عبدالملک نے اپنی کتاب تفصیل الازمنہ میں کہا ہے بیشک رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی یہ گفتگو مارچ کے مہینے میں صادر ہوئی جس کانام رومی میں اُدار اورقطبی برمہارت ہے۔ اور اس مہینہ میں سورج کے برج حمل میں حلول کرنے کے وقت رات اور دن برابر ہوتے ہیں۔ (ت)
 (۱؎ فتح الباری شرح صحیح البخاری         کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین         دارالمعرفۃ بیروت    ۶/ ۲۱۱)

(ارشا د الساری            کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین      دارالکتاب العربی بیروت    ۵/ ۲۵۵)
اقول مرادیہ ہے کہ اس مہینے میں تحویل حمل ہوتی ہے نہ یہ کہ اس دن تحویل حمل تھی، ہم نے زیج (عہ)  الغ بیگی سلطان اور زیج (1)اجد بہادر خانی اور دو زیجوں سے نصف النہار حقیقی مکہ معظمہ دہم ذی الحجہ ۱۰ ؁ہجریہ مطابق یازدہم(2) ذی الحجہ وسطیہ روز شنبہ کی تقویم شمس نکالی دونوں سے حوت کے اکیسویں درجے میں آئی اول سے حوت کے بیس درجے سینتیس دقیقے انتالیس ثانیے، دوم سے بیس درجے چھتیس دقیقے پچاس ثانیے بلا شبہہ اس تقویم کا موسم ان ملکوں خصوصا مکہ معظمہ اور اس کے قریب العرض شہروں میں نہایت معتدل موسم ہوتاہے۔ نہ رات کو برف نہ دن کو لو، نہ برسات کی مکھیاں، تو جن حاجات کے لئے جھولیں ڈالتے ہیں،ان کا اصلا نام ونشان نہ تھا، لاجرم یہ جھولیں وہ نہ تھیں بلکہ خاص تعظیم شعائر اللہ کےلئے تھیں، تو معمولی جھولیں کسی طرح ان کے معنی میں نہیں۔
20_7.jpg
سوم یوں کہ خطام ہدی وہ شیئ ہے کہ اسے سبیل اللہ میں لے جاتی اور حرم محترم میں پہنچاتی ہے۔ تو قربانی کی رسیاں اس کے برابر نہیں ہوسکتیں، اور گائے بھینس کی جھولوں رسیوں میں اور بھی فرق ہے۔ شتر نحر کیا جاتاہے اس کا ایک پاؤں باندھ کر تین پاؤں سے کھڑا رکھ کر سینہ پرنیزہ مارتے ہیں جل وخطام دونوں وقت نحرا س سے جدا کرنے کی حاجت نہیں، گائے بھینس لٹا کر ذبح کی جاتی ہے۔ اس وقت ان کی رسی کھول لیتے ہیں، اور اگر جھول تھی، وہ بھی اتار لیتے ہیں، تو وقت تقرب الی اللہ رسی اور جھول ان کے بدن سے جدا ہوتی ہے۔ اور شتر کے بدن سے متصل تو یہ زیر تقرب آتی ہے، اور وہ نہیں گر باوصف انفضال بھی حکم تصدق سرایت کرے تو اس کھونٹے کے بھی تصدق کا حکم ہو جس سے وہ جانور بندھا تھا، اور اس ناند اور طشت کا بھی جس میں اسے کھانا پانی دیا گیا تھا، بلکہ اس مکان کا بھی جس میں وہ بندھا تھا، اور اس کا کوئی قائل نہیں، عمدۃ القاری وفتح الباری شروح وصحیح بخاری وغیرہما میں تصدق جلال ہدی کی یہ وجہ نقل کی فرمائی کہ اس پر اہلال لوجہ اللہ واقع ہوا۔
حیث قالوا قال المہلب لیس التصدق بجلال البُدن فرضا وانما صنع ذٰلک ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما لانہ ارادان لایرجع فی شیئ اہل بہ ﷲ ولا فی شیئ اضیف الیہ ۱؎۔
جہاں انھوں نے فرمایا مہلب نے کہا ہے کہ قربانی کے جانوروں کی جھلوں کو صدقہ کرنا فرض نہیں، سیدنا حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے تو محض اس لئے ایساکہا کہ آپ اللہ تعالٰی کے لئے ذبح کئے ہوئے اور اس کی طرف منسوب کئے ہوئے جانوروں کی کسی شیئ کی طرف رجوع نہیں کرنا چاہتے تھے (ت)
 (۱؎ عمدۃ القاری     شرح صحیح البخاری     کتا ب المناسک باب الجلال للبدن     ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت  ۱۰/ ۴۵)

(فتح الباری            شرح صحیح البخاری     کتا ب المناسک   دارالمعرفۃ بیروت        ۳/ ۴۳۹)
اس اہلال سے اگر تلبیہ مرادہو جب تو ظاہر ہے کہ قربانی پر لبیک کہاں اور اگر تکبیر وقت نحر مرادہو یہ بھی ان اشیاء کو شامل نہ ہوگا جو وقت نحر وذبح اس کے بدن پر نہ تھیں۔

اقول: اور اول اولٰی ہے کہ حکم جل وخطام کی نسبت آیا، قماط جس سے اونٹ کا ایک پاؤں باندھتے ہیں اور حجۃ الوداع شریف میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے سو کے سو اونٹ یو ں ہی نحر فرمائے، ۶۳ بدست انور، ۳۷ بدست امیرالمومنین حیدر، ان رسیوں کے تصدق کاحکم کہیں نہ آیا،

حالانکہ ضرور وقت نحر بدنوں کے بدن پر تھیں، بلکہ وہی طریقہ مسنونہ نحر کی ضامن ہوئیں،
صحیحین میں زیاد بن جبیر سے ہے:
رأیت ان عمر اتی علی رجل قد اناخ بدنتہ ینحر قال ابعثہا قیاما مقیدۃ سنۃ محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۱؎۔
میں نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کو دیکھا آپ  ایک ایسے مرد کے پاس آئے جو اپنے اونٹ کو بٹھا کر نحر کر رہا تھا، انھوں نے فرمایا اس کو کھڑا کرکے باندھو یہ حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سنت ہے۔ (ت)
 (۱؎ صحیح البخاری         کتاب المناسک باب نحر الابل المقیدۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱/ ۲۳۱)

(صحیح مسلم         کتاب الحج باب استحباب نحر الابل قیاما معقولا قدیمی کتب خانہ کراچی       ۱/ ۴۲۴)
عمدۃ القاری میں ہے:
مقیدۃ معناہ معقولۃ برجل وھی قائمۃ علی الثلاث ۲؎۔
مقیدہ کامعنی ہے کہ رسی سے اس کا ایک پاؤں باندھا ہو اہو اور وہ تین پاؤں پر کھڑا ہو۔ (ت)
بالجملہ اگر کوئی اپنا گھر تصدق کردے اور اس پر قادر ہو، ممانعت نہیں، کلام اس میں ہے کہ قربانی کی جھولیں ، رسیاں تصدق کرنے کا حکم ہے۔ اس کا کہیں ثبوت نہیں، نہ حدیث میں نہ فقہ میں،
ومن ادعی فعلیہ البیان
(جو دعوٰی کرے دلیل بیان کرنا اس پر لازم ہے۔ ت) ولہذا آج تک مسلمانوں میں کہیں اس کا رواج مسموع نہیں، البتہ اگر کوئی شخص تعظیم ضحایا کے لئے ان پر جھولیں ڈالے اور انھیں حسب حثیت مزین وبیش بہا کرے۔ اور اس سے شعائر اسلام کی زینت اور فقرائے مسلمین کی منفعت چاہے تو ضرور اسے ان جھولوں کے تصدق کا حکم دیا جائے گا۔ اور اس سے بازر ہنا اسے شنیع ہوگا کہ اللہ عزوجل سے وعدہ کرکے رجوع نہ ہو،
کما بینا فی فتاوٰنا وباﷲ التوفیق
(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا اور توفیق اللہ تعالٰی کے ساتھ ۔ت ) واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الحج باب نحر الابل المقیدۃ     ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت    ۱۰/ ۵۰)
Flag Counter