فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
120 - 126
اول تو ظاہر کہ ہدی کے لئے محل خاص ہے یعنی حرم محترم اس کے غیر میں ہدی کو ذبح ونحر نہیں کرسکتے۔
قال اﷲ تعالٰی ثم محلہا الی البیت العتیق ۱؎ وقال تعالٰی ہدیا بلغ الکعبۃ ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا پھر ان (ہدی کے جانوروں) کا پہنچنا ہے اس آزاد گھر تک۔ اور اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ ہدی ہو کعبہ تک پہنچی۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲۲/ ۳۳) (۲؎القرآن الکریم ۵/ ۹۵)
اور قربانی ہر جگہ ہوسکتی ہے۔ تو ہدی میں بہ نسبت اضحیہ خصوصیت خاصہ ہے اگر چہ اصل مقصود یعنی تقرب باراقۃ دم میں مساوی ہیں، لہذا کیا مستبعد کہ اصل اجزائے متقرب بہ یعنی لحم وجلد میں حکم یکساں ہو اور زوائد ومضافات کی طرف جو سرایت صاحب خصوص میں ہوئی، اضاحی میں نہ ہو، ولہذا بدائع وہدایہ وکافی وغیرہا میں حدیث ہدی سے دربارہ لحم وجلد اضحیہ استناد کیا اور جلال وخطام اضحیہ کا کسی نے ذکر نہ کیا، حالانکہ حدیث ہدی میں چاروں حکم موجود تھے، اضحیہ میں ان پر دو اقتصار اور ان دو کا ترک اور اس ترک واقتصار پر اتفاق کتب آخر کس لئے۔
دوم یہ کہ وہ جھولیں معمولی سردی وغیرہ کی جھولیں نہ تھیں جو اپنے موسم پر ہر پالے ہوئے جانور کے لئے بنائی جاتی ہے اگر چہ وہ گاڑی میں جوتنے کے بیل ہوں وہ خاص شتران ہدی کے لئے بنتیں اور روانگی حرم کے وقت ان پر ڈالی جاتی ہیں، اور ان کے لئے ان کا بنانا سنت ہے۔ تقلید واشعار کی طرح شعائر اللہ ہدی کی علامت ہوتی ہے۔ ہدنہ ہدی کے گلے میں نعلین وغیرہ یا بٹے ہوئے قلادے ڈالتے اور بالتخصیص اونٹوں پر قلادے کے ساتھ جھولیں بھی ڈالتے ۔ اور ان کے کوہان میں خفیف نیزہ مار کر خون نکالتے یہ ان کے ہدی ہونے کی علامتیں تھیں۔
علمائے کرام نے فرمایا: ان جھولوں کا اپنی حیثیت تمول کے مناسب ہونا مستحب ہے۔ ہدی بھیجنے والاجیسی استطاعت رکھتاہو ویسی ہی بیش قیمت جھولیں بنائے کہ مساکین کا زیادہ نفع اور شعائر کی زیادہ تعظیم ہو سیدنا عبداللہ بن عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہما ان پر بیش بہا کپڑوں کی جھولیں ڈالتے اور مدینہ طیبہ سے باہر نکل کر اتار کرتہہ کرکے رکھ چھوڑتے، عرفہ کے دن پھر پہناتے اور بعد نحر انھیں کعبہ معظمہ کا غلاف کرتے جب سے بیت مکرم کا غلاف مستقل تیار ہونے لگا انھیں مساکین پر تصدق کرتے۔
علماء فرماتے ہیں کہ راتوں کو یہ جھولیں اتار کر رکھ لی جائیں کہ کانٹوں سے ان میں کھونتا نہ لگے ان میں سے کون ساحرف قربانی کی معمولی جھولوں پرصادق ہے کہ یہ ان کے معنی میں ہوں۔
امام اجل ابو زکریا نووی قدس سرہ شرح صحیح مسلم میں زیر حدیث مذکور فرماتے ہیں:
فی ہذا الحدیث فوائد کثیرۃ منہا استحباب سوق الہدی وانہ یتصدق بلحومہا وجلودہا وجلالہا و انہا تجلل واستحبوا ان یکون جلا حسنا، قال القاضی التجلیل سنۃ وہو عند العلماء مختص بالابل وہو مما اشتھر من عمل السلف قالوا ان یکون بعد الاشعار لئلا یتلطخ بالدم قالوا ویستحب ان تکون قیمتہا نفاستہا بحسب حال المہدی، وکان بعض السلف یجلل بالوشی وبعضہم بالحبرۃ وبعضہم بالقباطی والملاحف والازر، قال مالک اما الجلل فتنزع فی اللیل لئلا یخرقہا الشوک قال واستحب ان کانت الجلال مرتفعۃ ان لایجللہا حتی یغدوالی عرفات ان کانت بثمن یسیر فمن حین یحرم یجلل ۱؎ (ملخصا)
اس حدیث میں بہت سے فائدے ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں قربانی کے جانوروں کے گوشت، چمڑوں اور جھلوں کو صدقہ کیا جائے، اوریہ کہ ان جانوروں کو جھل پہنائی جائے، اور مشائخ نے اس بات کو مستحب قرار دیا کہ وہ جھل عمدہ ہو۔ قاضی نے کہا کہ جھل پہنانا سنت ہے۔ اور علماء کے نزدیک وہ اونٹوں کے ساتھ مختص ہے اور یہ اسلاف کا مشہور عمل ہے۔ مشائخ نے کہا کہ ا شعار یعنی کوہان میں نیزہ مارکر خون نکالنے کے بعد جھل پہنائی جائے تاکہ وہ خون میں لتھڑ نہ جائے، نیز انھوں نے کہا کہ جھل کا قیمت وعمدگی میں قربانی روانہ کرنے والے کی حیثیت کے مطابق ہونا مستحب ہے۔ بعض اسلاف منقش کپڑوں بعض یمنی چادروں، بعض مصر کے بنے ہوئے قیمتی کپڑوں۔ لحافوں اور عمدہ چادروں کی جھلیں پہنایا کرتے تھے، امام مالک نے فرمایا۔ جھلوں کو رات کے وقت اتار لیا جائے تاکہ کانٹے انھیں پھاڑ نہ دیں، اورفرمایا مجھے یہ پسند ہے کہ اگر جھلیں گراں قیمت ہوں تو عرفہ کے دن عرفات کی طرف روانگی سے قبل نہ پہنائے اور اگر وہ کم قیمت والی ہو تو احرام باندھتے وقت ہی پہنادے (ملخصا) (ت)
(۱؎ شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم کتاب الحج باب الصدقۃ بلحوم الہدایا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۴۔ ۴۲۳)
امام علامہ عینی عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں:
الجلال جمع جل وہو الذی یطرح علی ظہر الحیوان من الابل والفرس والحمار والبغل وہذا من حیث العرف، و لکن العلماء قالوا ان التجلیل مختص بالابل من کساء ونحوہا قال ابن بطال کان مالک وابوحنیفۃ والشامی یرون تجلیل البُدن ۲؎۔
جلال جل کی جمع ہے۔ او روہ اس شیئ کو کہتے ہیں جو اونٹ، گھوڑے، گدھے اور خچر وغیرہ جانوروں کی پشت پر ڈالی جاتی ہے۔ یہ عرف کے اعتبار سے ہے۔ لیکن علماء نے فرمایا کہ کپڑے وغیرہ جھل پہنانا صرف اونٹ کے ساتھ مختص ہے۔ ابن بطال نے کہا کہ امام ابوحنیفہ امام مالک اور امام شافعی رحمہم اللہ تعالٰی ہدی کے جانوروں پر جھل ڈالنے کو جائز سمجھتے تھے۔ (ت)
(۲؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب المناسک باب الجلال للبدن ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۱۰/ ۴۴۔۴۵)
امام جلیل ابوالبرکات نسفی کافی شرح وافی میں فرماتے ہیں:
فان کانت بدنۃ قلدہا بمزادۃ اونعل والتقلید احب من التجلیل لان التقلید ذکر فی القراٰن قال اﷲ تعالٰی ولا القلائد ولا ذکرللتجلیل فیہ، وان کان کلاہما ثابتا بالسنۃ لان ہدایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کانت مقلدۃ مجللۃ ولانہ قد تجلل البدنۃ لا علی وجہ التقرب بخلاف التقلید ۳؎۔
اگر ہدی کا جانور (اونٹ یا گائے) ہو تو اس کو چمڑے یا نعل کا ہار پہنادے اور ہار پہنانا جھل پہنانے سے زیادہ پسندیدہ ہے کیونکہ ہارپہنانے کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے ولا القلائد (اور نہ وہ جنھیں ہار ڈالے گئے) اور جھل پہنانے کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہے اگر چہ دونوں سنت رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ہدی کے جانوروں کو ہار اور جھل پہنائے گئے تھے اور اس لئے بھی کہ جھل کبھی بلانیت تقرب پہنائے جاتے ہیں بخلاف ہارپہنانے کے (کہ یہ بنیت تقرب ہی ہوتاہے) ۔ (ت)
(۳؎ الکافی شرح الوافی)
مؤطا شریف میں ہے:
مالک عن نافع ان عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کان یجلل بدنۃ القباطی و الانماط والجلل، ثم یبعث بہا الی الکعبۃ فیکسوہا ایاہا، مالک انہ سأل عبداﷲ بن دینار ماکان عبداﷲ بن عمر یصنع بجلال بدنہ حین کسیت الکعبۃ عن الکسوۃ۔ قال کان یتصدق بہا ۱؎۔
حضرت امام مالک نے حضرت نافع سے روایت کیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالٰی عنہما ہدی کے جانور کو مصری چادروں، اونی کپڑوں اور حلوں کی جھلیں پہناتے پھر ان جھلوں کو کعبہ شریف بھیج کر غلاف کعبہ بناتے، امام مالک سے مروی ہے حضرت عبداللہ بن دینار سے پوچھا گیا کہ جب کعبہ شریف کو مستقل کپڑے کا غلاف پہنایا جانے لگا تو حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما اپنے قربانی کے جانوروں کی جھلوں کو کیا کرتے تھے تو انھوں نے کہا وہ ان کو صدقہ کردیتے تھے۔ (ت)
(۱؎ مؤطا الامام مالک کتاب الحج باب العمل فی الہدی حین یساق میر محمد کارخانہ کراچی ص۴۰۰)
ابن المنذر نے بطریق اسامہ بن زید نافع سے روایت کی:
ان ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کان یجلل بدنہ الانماط والبرود والحبر حتی یخرج من المدینۃ ینزعہا فیطویہا، حتی یکون یوم عرفۃ فیلبسہا ایاہا حتی ینحرہا ثم یتصدق بہا، قال نافع وربما دفعہا الی بنی شیبۃ ۲؎۔
بیشک حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما اپنے بدی کے جانوروں کو اونی کپڑوں ، دھاری دار اور منقش یمنی چادروں کی جھلیں پہناتے تھے یہاں تک کہ وہ جانور جب مدینہ منورہ سے نکلے تو آپ ان جھلوں کو اتارلیتے اور لپیٹ کر رکھ دیتے ، جب عرفہ کا دن آتا پھر وہ جھلیں جانوروں کوپہنادیتے، جب انھیں ذبح فرماتے پھر جھلیں اتارلیتے بعد ازاں ان کو صدقہ کردیتے، حضرت نافع نے کہا کہ بعض اوقات بنی شیبہ کی طرف بھیج دیتے۔ (ت)
(۲؎ شرح الزرقانی علی المؤطا بحوالہ ابن منذر کتاب الحج دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۳۲۷)
(فتح الباری بحوالہ ابن المنذر کتاب المناسک باب الجلال للبدن دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۴۳۹)