Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
119 - 126
دوم میں:
امرنی فقسمت لحومہا ثم امرنی فقسمت جلالہا وجلودہا ۲؎۔
رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا  تو میں نے قربانی کے جانوروں کا گوشت تقسیم کردیا پھر آپ نے مجھے حکم دیا  تو میں ان کے جھلوں کو تقسیم کردیا۔ (ت)
 (۲؎ صحیح البخاری       باب لایعطٰی الجزار من الہدی شیئا     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۶۳۲)
سوم میںـ:
ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم امرہ ان یقوم علی بدنہ وان یقسم بدنہ کلہا لحومہا وجلودہا وجلالہا ۳؎۔
بیشک نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ وہ قربانی کے جانوروں کے پاس کھڑے ہوجائیں اور ان کا گوشت جھل اور چمڑے سب تقسیم کردیں۔ (ت)
 (۳؎ صحیح البخاری      باب التصدق بجلود الہدی     قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۳۲)
چہارم میں:
اہدی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مائۃ بدنۃ فامرنی بلحومہا فقسمتہا ثم امرنی بجلالہا فقسمتہا، ثم بجلودہا فقسمتہا۔۴؎
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے قربانی کے لئے سو اونٹ بھیجے اور مجھے حکم دیا کہ میں ان کا گوشت تقسیم کروں تومیں نے کردیا، پھر مجھے ان کی جھلوں کو تقسیم کرنے کا حکم دیا تو میں نے کردیا، پھر مجھے ان کے چمڑوں کو تقسیم کرنے کا حکم دیا تو میں نے کردیا، (ت)
 (۴؎ صحیح البخاری      یتصدق بجلال البدن          قدیمی کتب خانہ کراچی۱/ ۲۳۲)
صحیح مسلم میں تین سندوں سے:
امرنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان اقوم علی بدنہ وان اتصدق لحمہا و جلودہا واجلتہا ۵؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں قربانی کے پاس کھڑا ہوجاؤں اور ان کے گوشت ، چمڑوں اور جھلوں کو تقسیم کردوں (ت)
(۵؎ صحیح مسلم        کتاب الحج باب الصدقۃ بلحوم الہدایا وجلودہا وجلالہا  قدیمی کتب خانہ کراچی۱/ ۴۲۳)
اور دو سندوں سے
مثل لفظ سوم بخاری وزادفی المساکین ۱؎
 (یہ لفظ زیادہ کئے کہ مسکینوں میں تقسیم کرو۔ ت) ان میں کہیں ذکر خطام نہیں، یہ مضمون صحیحین پر بیشی ہے۔ اور نسبت الفاظ میں غلطی یہ کہ صیغہ امر جس طرح عمدۃ الرعایۃ میں مذکور صحیحین بلکہ متداولہ حدیث میں کہیں نہیں، جیسا کہ لامع ارشاد الساری وشرح مؤطا سے ظاہر،
 (۱؎ صحیح مسلم     کتاب الحج باب الصدقۃ بلحوم الہدایۃ وجلودہا الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۴۲۴)
علامہ قسطلانی نے فرمایا:
قال صاحب الکواکب وفیہ انہ لا یجوز بیع الجلال ولا جلود الہدایا والضحایا کما ہو ظاہر الحدیث اذ الامر حقیقۃ فی الوجوب اھ، وتعقبہ فی اللامع فقال فیہ نظر فذٰلک صیغۃ افعل لا لفظ امر ۲؎۔
صاحب کواکب نے کہا اس میں یہ ہے کہ قربانی کے جانوروں کی جھلوں اور کھالوں کی بیع جائز نہیں جیساکہ حدیث کا ظاہرہے کیونکہ امر حقیقتاً وجوب کے لئے ہے۔ اھ اور لامع میں اس کا تعاقب کرتے ہوئے فرمایا کہ اس میں نظر ہے اس لیے کہ جو امر وجوب میں حقیقت ہے وہ صیغہ اِفعل ہے نہ کہ لفظ امر۔ (ت)
 (۲؎ ارشاد الساری شرح صحیح البخاری باب الجلال للبدن         دارالکتب العربی بیروت    ۳/ ۲۲۲)
شرح علامہ زرقانی میں ہے:
فیہ استحباب التجلیل والتصدق بذٰلک الجل ولفظ امر لا یقتضی الوجوب لان ذلک فی صیغۃ افعل لالفظ امر ۳؎ اھ و رأیتنی کتبت علی ہامش الارشاد مانصہ اقول: لیس قول امر الاحکایۃ امرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الا ان یقال یمکن ان یکون حکایۃ من مثل علیک التصدق۔
اس میں قربانی کے جانوروں پر جھل ڈالنے اور اس جھل کو صدقہ کرنے کا استحباب ثابت ہوتاہے۔ اور لفظ امروجوب کاتقاضا نہیں کرتا کیونکہ وجوب کا متقاضی  تو صیغہ افعل ہے نہ کہ لفظ امر اھ مجھے یادپڑتاہے کہ میں نے ارشاد کے حاشیہ پر لکھا جس کی عبارت یہ ہے اقول: (میں کہتاہوں) اس کا امر کہنا محض حکایت ہے امر رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی، مگر یوں کہا جاسکتاہے کہ ممکن ہے یہ حکایت ہو
علیک بالتصدق
 (تجھ پر لازم ہے۔ ت) جیسے الفاظ سے۔ (ت)
 (۳؎ شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالک     کتاب الحج        المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی القاہرہ    ۲/ ۳۲۷)
ذکر خطام کے لئے فقیر نے جتنی کتب حدیث اپنے پاس ہیں سب کی مراجعت چاہی، بارہ کتابیں دیکھی تھیں، پھر خیال آیا کہ درایہ امام حافظ الحدیث ابن حجر عسقلانی دیکھی جائے، اس میں ضرور اس سے تعرض فرمایا ہوگا اسے دیکھا تو انھوں نے صاف فرمایا:
لم ار فی شیئ من طرفۃ ذکر الخطام ۱؎۔
میں نے اس حدیث کے کسی طریق میں ذکر خطام نہ دیکھا۔
 (۱؎ الدرایۃ فی تخریج احادیث الہدایۃ     کتاب الحج باب الہدی     المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل    ۲/ ۵۴)
بالجملہ صحیحین کی طرف سے اس کی نسبت لفظا ومعنی ہر طرح غلط ہے۔ ہاں ہدایہ باب الہدی میں حدیث انھیں الفاظ سے مذکور اور کتاب الاضحیہ میں بلفظ:
تصدق بجلالہا وخطا مہا ولا تعط اجر الجزار منہا شیئا ۲؎۔
قربانی کے جانوروں کی جھلوں اور باگوں کو صدقہ کر اور اس میں سے کچھ بھی قصاب کو بطور اجرت مت دے۔(ت)
 (۲؎ الہدایۃ          کتاب الاضحیۃ         مطبع یوسفی لکھنؤ    ۴/ ۴۴۸)
اسی طرح کافی امام نسفی باب الہدی میں یہی لفظ دوم ہیں:
الالفظۃ الاجر ۳؎
(سوائے لفظ ''اجر'' کے ۔ ت) نیز بدائع امام ملک العلماء کتاب الاضحیہ میں۔
الا لفظۃ شیئا ۴؎
 (سوائے لفظ ''شیئا'' کے۔ ت)
 (۳؎ کافی شرح الوافی) (۴؎ بدائع الصنائع     کتاب التضحیۃ فصل وامابیان مایستحب الخ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۵/ ۸۱)
اقول:  تو حدیث ضرور کہیں مروی ہوئی، اور حافظ (ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ )کا اسے نہ دیکھنا نہ ہونے پر دلیل نہیں، امام محقق علی الاطلاق نے فتح میں دو حدیثیں مذکور مشاع ذکر کرکے فرمایا:
قصور نظر نا اخفاہما عنا ۵؎۔
ہماری نظر کے قاصر ہونے نے ان دونوں کو ہم سے مخفی رکھا۔ (ت)
 (۵؎ فتح القدیر)
یونہی حافظ الشان نے باوصف اس وسعت اطلاع کے نفی نہ فرمائی، یہ ائمہ کے ساتھ علماء کرام کا ادب ہے بخلاف جہال زمانہ یعنی غیر مقلدین کہ کرمک سنگ سے بڑھ کر وقوف نہیں، اورائمہ پر سلب مطلق کے دعوے
ولا حو ل ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم۔
تو حدیث مذکور میں صدقہ خطام کا عنداللہ حکم ہے مگر وہ حدیثا وفقہاً صرف جلال وخطام شتران ہدی کے بارے میں ہے۔ قربانی کی گائے بکریوں کی جھولوں اور ان کے گلے کی رسیوں کا ذکر درکنار، جہاں تک نظر کی جاتی ہے شتران اضحیہ کے جلال وخطام کا بھی کہیں ذکر نہیں، اب رہا قیاس، وہ مجتہد سے خاص، اس کا کسے اختیار، اور دلالۃ النص اقول اس کی بھی گنجائش نہیں نہ اضحیہ من کل الوجوہ معنی ہدی میں ہے۔ نہ یہ جھولیں ان جلال سے نہ گلے کی رسیاں اس خطام کے مثل۔
Flag Counter