زمام اس باریک رسی کو کہتے ہیں جو اونٹ کی ناک میں ڈالی جاتی ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ وہ ایک ایسی رسی یا تسمہ ہے جس کے ساتھ اونٹوں کے سروں کو باندھا جاتاہے۔ (ت)
(۴؎مجمع البحار باب الزاء مع المیم مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ۲/ ۴۴۰)
مصباح منیر میں ہے :
قال بعضھم الزمام فی الاصل الخیط الذی یشد فی البرۃ اوفی الخشاش ثم یشد الیہ المقود ثم سمی بہ المقود نفسہ ۵؎۔
ان میں سے بعض نے کہا زمام اصل میں اس ڈوری کو کہتے ہیں جسے برہ (حلقہ) یالکڑی میں باندھا جاتاہے پھر اس میں مقود (رسی) کو باندھا جاتاہے پھر خود اس زمام کا نام مقود رکھا جاتاہے۔ (ت)
(۵؎ المصباح المنیر الزاء مع المیم تحت الزمام مصطفی البابی مصر ۱ /۲۷۴)
تاج العروس میں ہے :
الزمام ہو الحبل الذی یجعل فی البرۃ والخشبۃ قال الجوہری اوفی الخشاش ثم یشد فی طرفہ المقود وقدیسمی المقود زماما ۱؎۔
زمام اس رسی کو کہتے ہیں جس کو حلقہ یا لکڑی میں ڈالا جاتاہے۔ جوہری نے کہا یا اس کو خشاش (لکڑی) میں ڈالا جاتاہے پھر اس کے کنارے میں رسی باندھی جاتی ہے اور کبھی اس رسی کا نام زمام رکھا جاتاہے۔ (ت)
(۱؎ تاج العروس فصل الزاء من باب المیم داراحیاء التراث العربی بیروت ۸ /۳۲۸)
صراح میں ہے:
خشاش بالکسر چوب کہ دربینی شتر کنند وہر چہ از مس باشد آں رابرہ گویند، وآنچہ از موئے آں راخزامہ ۲؎۔
خشاش خاء کے کسرے کے ساتھ اس لکڑی کو کہتے ہیں جو اونٹ کی ناک میں ڈالی جاتی ہے پیتل کی جو شے اونٹ کی ناک میں ڈالتے ہیں اس کو برہ کہتے ہیں اگر وہ بالوں کی ہو تو اسے خزامہ کہتے ہیں۔ (ت)
(۲؎ الصراح من الصحاح باب الشین فصل الخاء مطبع مجیدی کانپور ص۲۵۷)
اسی میں ہے:
خطام بالکسر مہار ۳؎
(خطام کسرہ کے ساتھ مہار ۔ ت)
(۳؎الصراح من الصحاح باب المیم فصل الزاء مطبع مجیدی کانپور ص۴۶۸)
اسی میں ہے:
زمام بالکسر مہار درشۃ کہ در چوب بینی شتر بندند و بروئے مہاربند ند ۴؎۔
زمام کسرہ کے ساتھ مہار اور وہ دھاگہ جو اونٹ کی ناک میں ڈالی ہوئی لکڑی کے ساتھ باندھتے ہیں اور اس پر مہار باندھتے ہیں۔ (ت)
(۴؎الصراح من الصحاح باب المیم فصل الزاء مطبع مجیدی کانپور ۴۷۵)
مہار فتحہ کے ساتھ اس لکڑی کو کہتے ہیں جس کو اونٹ کی ناک میں ڈال کر اس پر ڈوری باندھتے ہیں۔ (ت)
(۵؎برہان)
قاموس میں ہے:
الخزامۃ ککتابۃ البرۃ ۶؎
(خرامۃ بروزن کتابتہ حلقہ کو کہتے ہیں۔ ت)
(۶؎ القاموس المحیط باب المیم فصل الخاء مصطفی البابی مصر ۴/ ۱۰۶)
تاج میں ہے:
وہی حلقۃ من شعر تجعل فی وترۃ انفہ یشد بہا الزمام کما فی الصحاح، وقال اللیث ان کانت من صفر فہی برۃ وان کانت من شعر فہی خزامۃ ۱؎۔
اور وہ (خزامہ) بالوں کے اس حلقہ کو کہتے ہیں جس کو اونٹ کی ناک کے بانسہ میں ڈال کر اس کے ساتھ رسی باندھی جاتی ہے جیسا کہ صحاح میں ہے۔ لیث نے کہا اگر وہ حلقہ پیتل کا ہوتو اس کو برہ اور اگر وہ بالوں کا ہے تو اس کو خزامہ کہاجاتاہے۔ (ت)
(۱؎ تاج العروس فصل الخاء من باب المیم داراحیاء الترا ث العربی بیروت ۸/ ۷۴۔ ۲۷۳)
سنن ابی داؤد میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے :
ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اھدی عام الحدیبیہ فی ہدایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جملا کان لابی جہل فی راسا، برۃ من فضۃ۔ وفی روایۃ من ذہب یغیظ بذٰلک المشرکین ۲؎۔
بیشک نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حدیبیہ والے سال قربانی کے لئے جو اونٹ روانہ فرمائے ان میں ایک اونٹ ابوجہل کا تھا جس کے سر (ناک) میں چاندی کا ایک چھلا تھا، ایک روایت ہے کہ سونے کا چھلا تھا، حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے مشرکوں کو جلانے کے لے ایسا کیا تھا۔ (ت)
(۲؎ سنن ابی داؤد کتاب المناسک باب فی الہدی آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۴۴)
مرقاۃ میں ہے :
(فی راسہ) ای انفہ فان البرۃ حلقۃ من صفر ونحوہ تجعل فی لحم انف البعیر وقال الاصمعی فی احد جانبی المنخرین لکن لما کان الانف من الراس قال فی راسہ علی الاتساع ۳؎۔
(اس کے سر میں) یعنی اس کی ناک میں کیونکہ برہ پیتل یا اس جیسی کسی شے کے ایسے حلقہ کو کہتے ہیں جو اونٹ کی ناک کے گوشت میں ڈالا جاتاہے اور اصمعی نے کہا کہ وہ اونٹ کے نتھنوں کے ایک طرف ڈالا جاتاہے لیکن ناک چونکہ سرہی کا حصہ ہے اس لئے راوی حدیث نے بطور مجاز کہا کہ اس کے سرمیں حلقہ تھا۔ (ت)
(۳؎ مرقاۃ المفاتیح کتاب المناسک الفصل الثانی المکتبۃ الحبیبہ کوئٹہ ۵/ ۵۲۸)
مجمع البحارمیں طیبی سے ہے:
جعلہ فی الرأس اتساعا ۴؎
( اس حلقہ کو سرمیں قرار دینا بطور مجاز ہے۔ ت)
(۴؎ مجمع البحار الانوار باب الباء مع الرائ مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ۱/ ۱۷۸)
سلمہ بن سحیم کی حدیث میں ہے:
ان صاحبا لنارکب ناقۃ لیست بمبراۃ فسقط فقال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم غرر بنفسہ ۱؎۔
ہمارا ایک ساتھی بغیر نکیل کے اونٹنی پر سوار ہوا اور گرگیا، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے خود کوہلاکت میں ڈالا۔ (ت)
(۱؎ النہایۃ لابن اثیر باب الباء مع الراء المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا ریاض ۱ /۱۲۲)
''وہ اونٹنی مبراۃ نہیں تھی'' کا معنی یہ ہے کہ اس کی ناک میں برہ (حلقہ) نہیں تھا کہا جاتاہے کہ میں نے اونٹنی کو حلقہ ڈالا تو وہ مبراۃ (حلقہ والی )ہوگئی (ت)
(۲؎النہایۃ لابن اثیر باب الباء مع الراء المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا ریاض ۱ /۱۲۲)
عمدۃ الرعایۃ میں ہے کہ خطام کی تفسیر زمام گردن بعیر کی اگر چہ کلمات اہل فن سے جداہے۔ مگر معنی سوم زمام پر بجا ہے۔ اور اس سے ہر رسن گردن سمجھنا خطا ہے۔ اس میں زمام گردن نہیں بلکہ رسن اور زمام بے تعلق بینی صادق نہیں، حدیث کہ اس میں صحیح بخاری ومسلم کی طرف نسبت کی ۔ جس میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا:
تصدق بجلالہا وبخطمہا، ولا تعطی اجرۃ الجزار منہا ۳؎۔
قربانی کے جانور کی جھلوں اور باگوں کو صدقہ کردیا جائے اور اس میں سے کچھ بھی قصاب کو بطور اجرت نہ دیا جائے۔ (ت)
(۳؎ عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح الوقایۃ کتاب الحج باب الہدی المکتبہ الرشیدیہ دہلی ۱ /۳۶۴)
غلط صریح ہے۔ نہ صحیح بخاری میں اس کا کہیں نشان نہ صحیح مسلم میں، نہ بحیثیت الفاظ نہ بحیثیت مضمون، صحیح بخاری میں بدنہ بدی کی جھول تصدق کرنے کی حدیث پانچ جگہ روایت کی ۔
باب الجلال للبدن ۔ باب التصدق بجلود البدن، باب بتصدق بجلال البدن، باب الوکالۃ۔ باب الایوتی الجزار من الہدی شیئا
اور صحیح مسلم میں ایک ہی جگہ پانچ سندوں سے ذکر کی، دسویں جگہ نہ ان الفاظ کا پتہ ہے۔ نہ اس پورے مضمون کا ، موضع اول وخامس میں بخاری کے لفظ امیر المومنین مولا علی کرم اللہ وجہ الکریم سے ہیں:
امرنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان اتصدق بجلال البدن التی نحرت وبجلودہا ۱؎۔
رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مجھے قربانی کے ان جانوروں کی جھلوں اور چمڑوں کو صدقہ کرنے کاحکم دیاجن کو ذبح کیا گیا تھا۔ (ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب المناسک باب الجلال للبدن قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۳۰)