فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
117 - 126
مسئلہ ۲۹۴: از ریاست رامپور مدرسہ مطلع العلوم مرسلہ محمد امام الدین صاحب ۱۵ صفر ۱۳۳۶ھ
دیہات میں قبل از صلٰوۃ العید قربانی کرنا یا مرغ وغیر ہ ذبح کرنا درست ہے یانہیں۔ اور جزا ربغیر پوست کش کو قربانی کے چمڑے کی قیمت مل سکتی ہے یانہیں، اور میاں جی اور شاگرد جی بغیر طالب علم اس چمڑے کی قیمت کے مصرف ہوسکتے ہیں یا نہیں؟ اور اس قیمت کو مدرسہ ومسجد وغیرہ کے اسباب میں صر ف کرنا درست ہے یانہیں؟ اور قربانی کرنے والا اپنے ہاتھ سے مال یعنی چمڑے کی قیمت تقسیم کرسکتاہے یانہیں؟
الجواب
مرغ کی قربانی مکروہ وتشبہ بالمجوس ہے۔ نہ اس سے واجب اضحیہ ادا ہوسکتا ہے اور جائز قربانی شرعی وہ صبح ہی کرسکتے ہیں کہ ان پر نما ز عید نہیں، اجرت جزار میں اس کی قیمت دینا جائز نہیں کہ تمول ہے اور قربانی سے تمول ناجائز، اس چمڑے کا یہی حکم ہے۔ جو اصل کا کہ ادخار وایتجار دونوں جائز ہیں خواہ اس کی مشک بنوالے یا کتابوں کی جلدیں یا اسے مسجد یا مدرسہ دینیہ اہلسنت میں دے دے، یا بہ نیت مصارف خیر بیچ کر اس کی قیمت مصرف خیر میں صرف کرے خواہ اپنے ہاتھوں سے یا اور کے ہاتھوں سے۔ ہاں اگر اپنے لئے اسی داموں سے بیچا تو وہ دام خبیث ہیں اور ان کی سبیل تصدق، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۵: از سلون ضلع رائے بریلی مرسلہ محمد طہ صاحب ۴ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
کیا ارشادہے علمائے کرام کا اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ قربانی کی رسی وجھول صدقہ کرنا چاہئے۔ اور حسب ذیل حوالہ پیش کرتاہے۔ (۱) شرح وقایہ جلد اول۔ کتاب الحج۔ باب الاحصار، بیان احکام الہدی
(۲) عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح وقایہ (۳) درمختار جلد اول باب الہدی
(۴) ہدایہ جلد اول، کتاب الحج ، باب الہدی (۵) قدوری، باب الہدی (۶) تنقیح الضروری حاشیۃ قدوری
بکر کہتاہے کہ قربانی کی رسی وجھول صدقہ کرنے کی کتب فقہ میں کوئی دلیل نہیں، اور زید کے پیش کردہ حوالہ پر حسب ذیل اعتراض کرتاہے:
اول شرح وقایہ وہدایہ وغیرہ میں مسئلہ مبحوث عنہ کو باب الہدی میں بیان کیا ہے۔ حالانکہ یہ مسئلہ باب الاضحیہ سے تعلق رکھتاہے اس کے لئے دلیل کی ضرور ت ہے۔
دوم علی طریق التنزیل یہ ثابت بھی ہوجائے تو لفظ خطام جس سے زید نے اپنا مدعا ثابت کیا ہے تو کیا اس کے معنی کسی لغوی نے گراؤں یعنی رسی کے بیان کئے ہیں، ابن اثیر ابو عبیدہ کسی نے تصریح کی ہے۔ خطام کے معنی گراؤں کے ہیں۔
سوم کتاب عمدہ الرعایۃ نے خطام کے تصدق کرنے کے لئے ایک حدیث نقل کی ہے اور کہا کہ اس حدیث کی بخاری اور مسلم نے تخریج کی ہے۔ تو کیا اس روایت سے خطام کے تصدق کا حکم ثابت ہوتاہے ، فقط تام ہوا کلام بکر کا، بس دریافت طلب یہ ہے کہ زید کا قول صحیح ہے یا نہیں؟ اور بکر کے اعتراضات کے جوابات کیا ہیں؟
الجواب
انقیاد شتر کے لئے دو طریقے معمول ہیں، ایک یہ کہ وسط بینی کے گوشت یا ایک طرف کے نتھنے میں سوراخ کرکے تانبے ، چاندی، سونے کا حلقہ یا لکڑی یا بالوں کا بناہوا چھلا ڈالیں، اور مضبوط ڈور کا سرا اس میں اور دوسرے سرے میں رسی یا خود اس میں رسی باندھیں، اس حلقے کو برہ بضم موحدہ وفتح رائے مخففہ اور لکڑی کو خشاش بالکسر، اور فارسی میں مہار بالفتح، اور بالوں کے چھلے کو عربی میں میں حرامہ، اور سب کو زمام بالکسر، نیز اس ڈور کو زمام اور اس رسی کو کہ اس میں باندھی جاتی ہے مقود بالکسر، نیزاسے بھی عربی وفارسی میں زمام ومہار اور مجموع کو ہندی میں نکیل کہتے ہیں، یہ اس کے انقیاد کا اکمل طریقہ ہے اور اکثر نا قہائے سواری میں یہی مستعمل ہے۔ کہ بے اس کے انقیاد تام نہیں ہوتا، گرا دینے کا احتمال رہتاہے۔ دوسرا یہ کہ رسی کا حلقہ اس کے گلے میں قریب گوش ہار کی طرح ڈال کر منہ پر ناک کے قریب اس کا پھندا دیتے ہیں، عربی میں اسے خطام بالکسر، اور ہندی میں مہیر کہتے ہیں، نیز زمام بمعنی سوم بلکہ دوم بلکہ کبھی اول کوبھی خطام بولتے ہیں، تو خطام کے چار اطلاق ہوئے، مگر وہ رسی کہ گائے بھینس بکری کے گلے میں باندھی جاتی ہے۔ اسے خطام کوئی نہیں کہتا، نہ مادہ خطام اس کی مساعدت کرتاہے کہ وہ خطم بمعنی بینی سے ماخوذ ہے۔
نہایہ ابن اثیر ومجمع البحار میں ہے :
خطام البعیر ان یوخذ حبل من لیف اوشعر اوقطان فیجعل فی احدطرفیہ حلقۃ، ثم یشد فیہ الطرف الاٰخر حتی یصیر کالحلقۃ ثم یقلد البعیر ثم یثنی علی مخطمہ واما مایجعل فی الانف دقیقا فہو الزمام ۱؎۔
اونٹ کی خطام یہ ہے کہ کجھور کی چھال یا بالوں یا کائی سے رسی بناکر اس کے ایک طرف حلقہ بنایا جائے پھر اس میں دوسراکنارہ باندھا جائے تاکہ وہ حلقہ کی مثل ہوجائے، پھر اسے اونٹ کی گلے میں بارکی طرح ڈالا جائے پھر اس کو اونٹ کی ناک پر لپیٹ دیا جائے، اور وہ باریک رسی جوناک میں ڈالی جاتی ہے وہ زمام ہے۔ (ت)
(۱؎مجمع بحار الانوار باب الخاء مع الطاء تحت لفظ خطم مکتبہ دار الایمان المدینۃ المنورۃ ۲/ ۷۱)
(النہایۃ لابن اثیر باب الخاء تحت لفظ خطم المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا ریاض ۲ /۵۰)
فقہ باب۲۳ فصل ۳۶ میں ہے :
الخطام الحبل یجعل فی طرفہ حلقۃ ویقلد البعیر ثم یثنی علی مخطمہ ۔
خطام وہ رسی ہے جس کے ایک طرح حلقہ بناکر اونٹ کے گلے میں ہار کی طرح ڈالا جاتاہے۔ پھر اس کو اونٹ کی ناک پر لپیٹا جاتاہے۔ (ت)
مصباح منیر میں ہے :
خطام البعیر معروف وسمی بذٰلک لانہ یقع علی خطمہ ۳؎۔
اونٹ کی مہار معروف چیز ہے اس کا خطام اس لئے کہتے ہیں کہ اس کی ناک پر لگائی جاتی ہے۔ (ت)
(۳؎ المصباح المنیر الخاء مع الطاء تحت لفظ خطم مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۸۷)
تاج العروس میں ہے :
قال ابن شمیل ھو کل حبل یعلق فی حلق البعیر ثم یعقد علی انفہ کان من جلد اوصوف اولیف اوقنب ۴؎۔
ابن شمیل نے کہا خطام ہراس رسی کوکہتے ہیں جسے اونٹ کے گلے میں لٹکا یاجاتا ہے پھر اس کی ناک پر گرہ لگادی جاتی ہے چاہے وہ رسی چمڑے کی ہو یا اون کی ہو یا کھجور کی چھال کی ہو یا سن کی ہو۔ (ت)
(۴؎ تاج العروس فصل الخاء من باب المیم داراحیاء التراث العربی بیروت ۸/ ۲۸۲)
جامع الرموز میں ہے :
( خطام) ہو حبل یجعل فی عنق البعیر ویثنی علی اٰنفہ ۵؎۔
(اس کی خطام) وہ رسی ہے جس کو اونٹ کی گردن میں ڈال کر اس کی ناک پر لپیٹ دیا جاتاہے۔ (ت)
(۵؎ جامع الرموز کتاب الحج فصل الاحصار مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱/ ۴۳۸)
قاموس میں ہے:
الخطم من الدابۃ مقدم اٰنفہا وفمہا۔ والخطام کل ما وضع فی انف البعیر لیقاد بہ ۱؎۔
چارپائے کا خطم اس کی ناک اور منہ کے اگلے حصے کو کہتے ہیں،ا ور خطام اس شے کو کہتے ہیں جو اونٹ کی ناک میں ڈالی جاتی ہے۔ تاکہ اس کے ذریعے اونٹ کو کھینچا جاسکے۔ (ت)
(۱؎ القاموس المحیط فصل الخاء من باب الجیم مصطفی البابی مصر ۴ /۱۰۹)
تاج میں ہے:
کذا فی المحکم ۲؎
(محکم میں یوں ہی ہے۔ ت)
(۲؎ تاج العروس فصل الخاء من باب الجیم داراحیاء التراث العربی بیروت ۸ /۲۸۲)
بحرالرائق میں ہے :
الخطام ہو الزمام وہو ما یجعل فی انف البعیر ۳؎۔
خطام زمام ہی ہے اور یہ اسی شیئ کو کہتے ہیں جو اونٹ کی ناک میں ڈالی جاتی ہے۔ (ت)
(۳؎ بحرالرائق کتا ب الحج باب الہدی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۷۲)
درثمین میں ہے:
الخطام الحبل الذی یقاد بہ البعیر ۴؎۔
خطام وہ رسی ہے جس کے ذریعے سے اونٹ کو چلایا جاتاہے۔ (ت)
(حدیث میں وار دہونے والے الفاظ) اس کی خطام یا اس کی زمام دونوں ہم معنی ہیں، شک اس کی تعیین میں ہے۔ اور خطام خاء کے کسرہ کے ساتھ اس دھاگے کو کہتے ہیں جس میں بر ہ نامی حلقے کو باندھا جاتاہے او راس کے کنارے میں رسی باندھی جاتی ہے۔ (ت)
عہ : ای فی حدیث البخاری فی کتاب العلم عن ابی بکرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ذکر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قعد علی بعیرہ وامسک انسان بخطامہ اوبزمامہ ۵؎۔ الحدیث ۲ ۱ منہ قدس سرہ العزیز
یعنی امام بخاری نے کتاب العلم میں ابوبکرہ سے حدیث بیان کی ہے انھوں نے ذکر فرمایا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنے اونٹ پر بیٹھے اور ایک آدمی نے اونٹ کی نکیل کو تھام رکھاتھا، الحدیث ۱۲ منہ قدس سرہ العزیز (ت)
(۵؎ صحیح البخاری کتاب العلم باب من قعد حیث ینتہی بہ المجلس قدیمی کتب خانہ کرا چی ۱/ ۱۶)
(۱؎ مجمع البحار باب الخاء مع الطاء مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ۲ /۷۲)