Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
116 - 126
ثم ان المراد بالتصدق فی قولہم فی الاضاحی یتصدق بالثلث وقولہم یندب ان لا ینقص الصدقۃ عن الثلث، لیس ہو المعنی الاخص الاول، کیف، و قد اجمعوا علی اباحۃ الاباحۃ فی القربان، فلایمکن تعیین الاخص المنحصر فی التملیک ویتضح ذٰلک فی قولہ مجمع الانہر وغیرہ الجہات ثلث الاکل والادخار والتصدق ۲؎ ھ فاین الاطعام العام الغیر المخصوص بالتملیک المنصوص علیہ فی قولہ عز مجدہ واطعموا القانع والمعتر ۳؎۔
 اور یہ بات مجمع الانہر وغیرہ کے قول کے ملانے سے صاف ظاہر ہوجاتی ہے۔ چنانچہ صاحب مجمع فرماتے ہیں: ''قربانی کے مصرف کی تین حیثیت ہےـ: کھانا، جمع کرنا، صدقہ کرنا''
حالانکہ قرآن شریف میں کھلانے کا صریح ذکر ہے تو ظاہر ہے کہ یہ کھلانا جس میں اباحت کا فی ہوجاتی ہے صاحب مجمع نے لفظ صدقہ کہہ کر اس کو بھی مراد لیاہے۔
 (۲؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر  کتاب الاضحیہ     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۵۲۱)

(۳؎ القرآن الکریم     ۲۲ /۶۳)
وقد استدل فی الہدایۃ بالایۃ علی قول البدایۃ یستحب ان لاینقص الصدقۃ عن الثلث، قائلا ان الجہات ثلث الاکل و الادخار لما روینا والاطعام لقولہ تعالٰی و اطعموا القانع والمعتر وانقسم علیہا اثلاثۃ ۴؎ اھ
فلو کان المراد بالصدقۃ ہو المعنی الاخص لما انطبق الدلیل علی المدعی کما لا یخفی، واذ قد علمت ان الصدقۃ لہا اطلاقات وان لزوم التملیک انما ہو فی المعنی الاول وانہ غیر مراد ہہنا، وجب ان لایکون مرادا ایضا قولہم یتصدق بجلدہا فان التصدق ہہنا ہو عین التصدق فی قولہم یتصدق بالثلث یرشد ک الیہ تعلیل الہدایۃ بقولہ لانہ کجزء منھا فثبت ان لیس تصدق الجلد ممایقتصر علی التملیک حتی لو صنع منہ دلوا، ووقفہ علی بئر مسجد لیستسقی المتوضؤون جاز(عہ) قطعا فسقط الاحتجاج رأسا۔
اسی طرح صاحب ہدایہ نے صاحب بدایہ کے اس قول کی دلیل دی: ''صدقہ ثلث سے کم نہ ہونا چاہئے''

صاحب بدایہ کہتے ہیں: ''اس لئے کہ جہتیں تین ہیں: کھانا، جمع کرنا،یہ تو حدیث سے ثابت ہے۔ اور کھلانا، یہ قرآن سے ثابت ہے کہ محتاج کو کھلاؤ، تو تینوں کے لئے ایک ایک ثلث رکھا گیا''
اب اگر صاحب ہدایہ کے قول ''صدقہ ثلث سے کم نہ ہو'' میں لفظ صدقہ سے مراد وہ نہیں جس میں تملیک ضروری ہو،ا ور جب گوشت میں یہ ثابت ہوچکا تو حسب قول ہدایہ، ''کھال بھی قربانی ہی کا جزہے'' کھال کا بھی یہی حکم ہوگا کہ اس میں بھی تملیک ضروری نہ ہوگی مسجد میں پانی نکالنے کے لئے اس کا ڈول بن سکتاہے۔ القصہ ان لوگوں کا ہدایہ اور کافی وغیرہ سے استدلال ساقط ہے۔
عہ:  ای علی المفتی بہ من جواز وقف المنقول حیث تعورف وقد تعارف المسلمون وقف الدلو والرشاعلی اٰبارا لمساجد اھ ۱۲ منہ قدس  سرہ العزیز
یعنی مفتی بہ قول پر کہ منقول چیز کا وقف جائز ہے جب متعارف ہو اور بیشک مسلمانوں میں ڈول اور رسی وغیرہ مساجد کے کنوؤں کے لئے مروج ہے اھ ۱۲ منہ قدس سرہ العزیز (ت)
 (۴؎ الہدایۃ  کتاب الاضحیۃ     مطبع یوسفی لکھنؤ        ۴ /۴۴۸)
بقی انہ اذ لیس المراد الاول فای البواقی یراد وانما البینۃ علی من یدعی، نعم ان سألتنا التبرع، فنقول حدیث نبیشہ الخیر الہذلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ یہدینا الی مطلق الائتجار الحاصل بسائر وجوہ القرب، فلیکن المراد ہو المعنی الرابع،وہو الغالب فی الصدقات النافلۃ۔ علی ان قد بینا ان معنی المنع لیس ترک التصدق المامور بہ، فانہ غیر المامور بہ ہہنا رأسا بل المعنی قصد التمول المنہی عنہ فی کل ماتقرب بہ الی المولی سبحٰنہ وتعالٰی وہو لایتحقق فی شیئ من القرب، فلایضرنا عندالتحقیق ارادۃ شیئ من المعانی اصلا کما لایخفی علی من رزق العقل السلیم والفہم المستقیم، واﷲ سبحنہ بکل شیئ علیم، ہذا وجہ فی الجواب عن احتجاج ہذا الفاضل المستطاب
اب ایک رہ گیا،قربانی میں اگر صدقہ بمعنی اول مراد نہیں، تو بقیہ معانی میں سے کون سے معنی مراد ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے ہمیں تو تملیک والے صدقہ کی نفی سے کام تھا، جب یہ مراد نہیں تو صدقہ اور جس معنی میں مراد لیا جائے ہمارا مقصد حاصل ہے۔ مگر تبرعا ہم وہ بھی بتادیتے ہیں۔ حدیث حضرت نبیشہ ہذلی رضی اللہ تعالٰی عنہ میں ایتجار (کار ثواب) کا لفظ آیاہے جو تمام کارخیر کو عام ہے تو چوتھے معنی میں جو عام طور سے صدقات نفلیہ مراد ہوتے ہیں وہی مرادلینا صحیح ہوگا۔
علاوہ ازیں ہمار اکہنا ہے کہ قربانی میں قصد تصدق کی ممانعت ہے۔ نہیں قصد تمول کی ممانعت ہے تو جس قسم کے صدقہ کی نیت کرے قصد تمول نہیں پایاجائے گا اور صدقہ جائز ہوگا، اس لئے صدقہ کی جو قسم بھی مراد لے لو ہمیں کوئی ضرر نہ ہوگا۔
اقول: ثانیا مبناہ عن حصر السائغ فی الاوجہ الثلثہ ولا دلیل یدل علی الحصر، وعدم الذکر لیس ذکر العدم وہذا الامام القدوری مقتصرا فی مختصرہ علی شیئین التصدق وعمل آلۃ حیث قال ویتصدق بجلودہا اویعمل منہ آلۃ تستعمل فی البیت ۱؎ اھ فترک التبدل بما یبقی ایضا، فیظن کلامہ ہذا معارضہ لکلام من ثلث، وہذا المحقق الحلبی قال فی ملتقاہ وہو من متون المذہب المعتمدۃ کما نص علیہ العلامۃ الشامی، یاکل من لحم اضحیتہ ویطعم من شاء من غنی و فقیر، وندب ان لاینقص الصدقہ عن الثلث ۱؎ اھ فلم یذکر التبدل بالباقی فی مسئلۃ اللحم مع جوازہ قطعا علی المذہب الصحیح، وان اختیرماصححہ فی الظہیریۃ وغیرہا من جواز تبدل الماکول بالما کول کاللحم بالحبوب واللبون وغیرہ بغیرہ کالجلد بالکتاب والجواب لاعکسہ فی الصورتین فقد ترک ہذا الوجہ فی اللحم، وعلی کل فلم یحط، بکل ماہو سائغ، ونظائر ذٰلک ان تتبعت اعیاک عدہا کثرا واذلا حصر فلا ساغ لان یقال اذا انتفی الاخیران تعین الاول وقد لو حنا ببعض من ہذا فی مطاری کلامنا فی الوجہ السابق۔
مزید توضیح: جیسا کہ ہم اوپر ذکر کرآئے ہیں کہ اس عالم اہلسنت کی غلط فہمی کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ سمجھا کہ مصارف قربانی کی صرف تین جہتیں ہیں حالانکہ اس پر کوئی دلیل نہیں، اگر کسی مصنف نے صرف تین ہی ذکر کیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ زائد نہیں، کہ عدم ذکر، ذکر عدم وجود کو مستلزم نہیں، امام قدوری نے تو اپنی مختصر میں دو ہی جہت کا ذکر کیا : ''کھال کا صدقہ کردیا جائے یا گھریلو استعمال کے لئے کوئی چیز بنالی جائے'' تو انھوں نے باقی رہنے والی چیز سے استبدلال والی شق چھوڑ دی، تو کیا ان کے کلام کو تین شق ذکر کرنے والوں کے کلام کے معارض سمجھا جائے، حضرت ابراہیم حلبی نے فرمایا: ''قربانی کا گوشت کھائے اور مالدار اور فقیر جس کو چاہے کھلائے، اور صدقہ تہائی حصہ سے کم نہ کرے''۔
تو انھوں نے بھی تبدیل بالباقی والی شق چھوڑدی حالانکہ مذہب صحیح پر یہ جائز ہے۔ اور ظہیریہ میں تو گوشت کو ماکولات جیسے غلہ اور مغزیات کے ساتھ بدلنے کی بھی اجازت دی اور جلد کو کتاب اور چمڑے کی تھیلی کے ساتھ اس کا الٹا نہیں، تو ایک یہ صورت بھی متروک ہوگئی، تو قربانی میں جن جن امور کی اجازت ہے سب کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے۔ اور جب حصرواحاطہ نہیں تو یہ کہنا صحیح نہیں کہ جب دو قسمیں متحقق نہ ہوئیں تو تیسری متعین ہے۔
(۱؎ مختصرا لقدوری     کتاب الاضحیہ     مطبع مجیدی کانپور    ص۲۵۹)

(۱؎ ملتقی الابحر         کتا ب الاضحیہ     مؤسسۃ الرسالۃ بیروت    ۲ /۲۲۴)
واقول:  ثالثا ان ابتیم الاالحصر فنبئونی فلا یجوز اھداء غنی، و لیس من الثلثۃ ، اولایجوز الاعارۃ من فقیر اوملی ولیس منہا اولا یجوز البیع بالدراہم للتصدق ولیس البیع للتصدق عین التصدق فاذبقیت ہذہ فلیکن البیع بہا لاجل التقرب ایضا من البواقی،
اسی طرح مالدارکو ہدیہ کرنا جائز اور فقیر کو عاریۃً دینا ناجائز ہے یہ دونوں صورتیں بھی تو ان تینوں میں شامل نہیں کیا صدقہ کی نیت سے دراہم کے بدلے بیع جائز نہیں، حالانکہ بیع کرنا صدقہ کرنانہیں ہے تو جب اس کار ثواب کے لئے بیع جائز تو دوسرے کار ثواب کےلئے کیوں جائز نہ ہوگی۔
وبالجملۃ فلا دلیل یظہر علی عدم جواز البیع لاجل القرب ولا علی وجوب التملیک اذا فعل ذٰلک بل الدلیل ناطق بخلافہ فان المانع انما ہو قصد التمول وہذا بمعزلہ عنہ، والمسوغ کما تبین بکلام التبیین قصد القربۃ وہذا، فلنقتصر علی ہذا القدر، حامدین لربنا فی الورد والصدر، ہذا ماظہر لفہمی القاصر وفکری الفاتر ومعاذاﷲ ان ابری نفسی من الخطأ والزلل واصر علی رائی بعد وضوح الخلل وسبحن اﷲ الیش انا والیش رأیی وانما النقص بضاعتی والخطأصنا عتی، والجھل صفتی والعجزسمتی فان اصابت فبتوفیق ربی، ولہ الحمد فی کل اٰن وحین، وان اخطأت فبشوم ذنبی واسأل التوبۃ ارحم الراحمین، والحمدﷲ العزیز الوہاب، والصلاۃ والسلام علی النبی الاواب والہ وصحبہ خیر آل واصحاب واذا انتھت الرسالۃ بحمدی ذی الجلالۃ وددت ان اسمیہا بعلم لطیف، یکون علما علی عامۃ التالیف، کما ہو دأبی فی جمیع التصانیف وقد جاءت بحمداﷲ تعالٰی مختصرۃ ومع الاختصار مطہرۃ مظہرۃ، فناسب ان اسمیہا، ''الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ'' وکان ذٰلک ضحوۃ الخمیس للیلۃ بقیت من ذی القعدۃ الحرام سنۃ الف وثلثمائۃ وسبع من ہجرۃ المولی سید الانام افضل الصلاۃ واکمل سلام واجمل تحیۃ من الملک المنعام علیہ وعلی آلہ وصحبہ الکرام علی مراللیالی والایام، والحمد ﷲ ذی الجلال والاکرام کتبہ العبد المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
المختصر کوئی ایسی دلیل نہیں جس سے کار ثواب کے لئے بیچنا منع ہو اور اس کا تصدق بطور تملیک ہونا ثابت ہو اور جس چیز کو ممانعت پر دلیل قائم ہے وہ بیع بقصدتمول ہے۔ اور ان دونوں میں بون بعید ہے۔ اور قربانی کے اجزاء سے قصد تقرب جائز ہے۔ اور یہ بیع اسی لئے ہے۔ اس لئے اس کے جائز ہونے میں شبہ نہیں۔
اب ہم اس پر بس کرتے ہیں، اور ابتداء وانتہا میں اپنے رب کی حمد کرتے ہیں، میں اپنے نفس کو خطا ولغزش سے بری نہیں گردانتا اور خلل ظاہر ہونے کے بعد میں اپنی رائے پر اصرار بھی نہیں کرتا، سبحان اللہ ! میں کیا اور میری رائے کیا، نقصان ہی میری پونجھی ہے اور خطا شان بندگی، لاعلمی میری صفت اور عاجزی میرانشان اگر یہ ٹھیک ہو تو میرے رب کی توفیق سے ہے۔ اور اسی کے لئے ہر دم تعریف، اور غلط ہو تو میرے گناہوں کی برائی، میں اللہ کی جناب میں توبہ کرتاہوں اور اس کی حمد بجالاتاہوں، اور اس کی حمد پر یہ رسالہ ختم ہوا۔
اس کا ایک لطیف نام (جس سے میرے طریقہ کے مطابق کتاب کا بھی سن تالیف بھی ظاہر ہو) کی تلاش ہوئی تو اس کا نام "الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلو دالاضحیۃ"  رکھا، اور یہ پنجشنبہ کے روز چاشت کے وقت ۲۹ ذوالحجہ ۱۳۰۷ ھ میں ہوا۔ اور نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور ان کے آل واصحاب پر ہزارووں سلام، جب تک رات دن گزرتے ہیں۔
والحمدللہ رب العالمین۔
Flag Counter