Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
115 - 126
ومعلوم ان حکم اللقطۃ ھو التصدق الا ان یکون الملتقط فقیرا، فیصرف الی نفسہ وہو ایضا من باب التصدق من المالک، بل قال فی الدرالمختار عن العمدۃ وجد لقطۃ وعرفہا ولم یر ربہا فانتفع بہا لفقرہ ثم ایسر یجب علیہ، ان یتصدق بمثلہ ۲؎ اھ وان کان المختار خلافہ کما فی البحر والنہر، عن الولوالجیۃ والہندیۃ وجامع الرموز عن الظہیریۃ قلت لان الصدقۃ اصابت محلہا فلا تتغیر بتغیر حالہ کفقیر اخذ الزکوٰۃ ثم ایسرلیس علیہ ردھا، وبالجملۃ الحکم ھہنا التصدق وقد نصوا علی جوازصرفہ الی عمارۃ المقبرۃ واصلاح الحوض، ومن ذٰلک مافی الرحمانیۃ عن الاجناس اذا خرب مسجد ولا یعرف بانیہ وبنی اھل المسجد مسجد ا آخر ثم اجمعوا علی بیعہ، واستعانوا بثمنہ فی ثمن المسجد الاٰخر فلا باس بہ، وہذا قول محمد خلافا لابی یوسف فانہ مسجد ابدا عندہ ۳؎ اھ وفی السراجیۃ مسجد عتیق لایعرف بانیہ خربت فاتخذ بجنبہ مسجد اخر، لیس لاہل المسجد ان یبیعوہ ویستعینوا بثمنہ فی مسجد اٰخر عند ابی یوسف خلافا لمحمد وعلیہ الفتوٰی ۱؎۔ وذلک ان المسجد اذا خرب والعیاذ باﷲ واستغنٰی عنہ یعود عند محمد الی ملک البانی، کما فی التنویر وغیرہ فاذا لم یعرف بانیہ صار لقطۃ، وقد قال الامام محمد ح صرفہ الی مسجد اخر فعلم ان التصدق الماموربہ فی اللقطۃ ہو بہذا المعنی الرابع الداخل فیہ الصرف الی المقابر والحیاض والمساجد وہذا الا طلاقات کلہا فقہیۃ کما ترٰی۔
تو جب ہمچوں قسم کی اشیاء کاحکم لقطہ کاہوا تو یہ بات صاف ہوگئی کہ اس کا حکم صدقہ کرناہے۔ ہاں پانے والا فقیر ہو تو اپنے او پر خرچ کرے کہ یہ بھی صدقہ ہے۔ بلکہ درمختار میں عمدہ سے نقل کیا کہ فقیر نے لقطہ پایا اور اس کو اپنے اوپر خرچ کیا، پھر مالدار ہوگیا تو اس کا صدقہ کرے، اگر چہ فتوٰی اس کے خلاف ہے۔
(بحر ونہر عن الولوالجیہ وجامع الرموز من الظہیریۃ)
میں کہتاہوں قرین قیاس بھی یہی ہے کہ صدقہ اپنے محل کو پہنچ گیا، تو حالت کے بدلنے سے اس کا حکم نہیں بدلے گا، جیسے فقیر مال زکوٰۃ کھاتا رہا اب مالدا ر ہوگیا تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ جتنی زکوٰۃ کھائی سب واپس کر اور فقیر وں پر صدقہ کر۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ ایسے مال کاحکم صدقہ کا ہے اور اسی کو عمارت مقبرہ اور اصلاح حوض میں صرف کا حکم دیتے ہیں،
رحمانیہ کا جزئیہ ہے: ''مسجد ویران ہوگئی جس کے بانی کا پتہ نہیں اور لوگوں نے دوسری مسجد بنالی، پھر ان کی رائے ہوئی کہ ویران مسجد بیچ کر اس کی قیمت اس مسجد میں لگائیں، تو امام محمد کے نزدیک اس میں حرج نہیں، اور قاضی ابویوسف کے نزدیک وہ ایسانہیں کرسکتے کہ وہ ہمیشہ مسجد ہی رہے گی ''
سراجیہ میں ہے: ''پرانی مسجد جس کے بانی کا پتہ نہیں وہ ویران ہوگئی لوگوں نے اسی کے قریب دوسری مسجد بنالی، تو قاضی ابویوسف کے نزدیک ویران مسجد کا سامان بیچ کر آباد مسجدمیں نہیں لگا سکتے، اور امام محمد کو اس میں اختلاف ہے۔ اورفتوٰی قاضی ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی کے قول پر ہے''
اس کی وجہ وہی ہے کہ مسجد ڈھے کر ناقابل استعمال ہوگئی اور لوگ مستغنی ہوگئے، تو امام محمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے نزدیک اس کا مالک بانی ہوجاتاہے۔ اور جب بانی کا پتہ نہ چلے تو وہ لقطہ ہوگئی، اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ اس کو دوسری مسجد کی تعمیر میں صرف کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ 

تو معلوم ہوا کہ صدقہ کا یہ اطلاق اسی چوتھے معنی میں ہے اور اس کا مقابر ، حوض اور مسجد میں صر ف کرنا صدقہ ہی ہے حالانکہ نہ یہاں تملیک نہ اباحت، نہ مالدار نہ فقیر، اور یہ بھی واضح ہو کہ یہ سارے اطلاقات فقہیہ ہیں۔
 (۲؎ درمختار         کتاب اللقطۃ             مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۳۶۶)

(۳؎ رحمانیہ)

(۱؎ فتاوٰی سراجیہ     کتاب الوقف باب اجارۃ الوقف وبیعہ         نولکشور لکھنؤ        ص۹۳)
الخامس قد یتوسع فیقطع النظر عن قید المال ایضا، ویطلق علی کل نفع للغیر بایصال الخیر اودفع الضیر کیفما کان ومن ذٰلک حدیث تکرار الجماعۃ المروی فی جامع الترمذی وغیرہ الارجل یتصدق علی ہذا فیصلی معہ ۱؎ وقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کل سلامٰی من الناس علیہ صدقۃ کل یوم تطلع فیہ الشمس تعدل بین الاثنین صدقۃ بینہما، وتعین الرجل علی دابتہ فتحمل علیہا او ترفع لہ علیہا متاعہ صدقۃ والکلمۃ الطیبۃ صدقۃ ودل الطریق صدقۃ وتمیط الاذی عن الطریق صدقۃ ۲؎۔ اخرجہ احمد والشیخان عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ،
 (۵) کبھی صدقہ سے مال ہونے کی قید بھی ختم کردیجاتی ہے اور مطلقا غیر کو نفع پہنچانے، اور اس سے ضرر دفع کرنے کو صدقہ کہا جاتاہے۔ اس کی مثال وہ حدیث ہے کہ منفرد کے ساتھ مل کر جماعت کرنے کا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان الفاظ میں حکم دیا:
''الارجل یتصدق علی ہذا فیصلی معہ
کوئی اس پر صدقہ کرے اس کے ساتھ ملک کر نماز پڑھے''

یوں ہی سرکار فرماتے ہیں: ''آدمی کے ہر جوڑ پر ہر دن صدقہ ہے۔ تو دو آدمیوں کے بیچ انصاف کرنا صدقہ ہے، آدمی کو جانور پر سوار ہونے میں مدد دینا صدقہ ہے۔ آدمی کا بوجھ لاد دینا صدقہ ہے۔ اچھی بات صدقہ ہے۔ راستہ بتانا صدقہ ہے۔ راستہ سے کوڑا کرکٹ دورکردینا صدقہ ہے۔
 (احمد ومسلم و بخاری عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ)
 (۱؎ سنن ابو داؤد         کتاب الصدقات باب فی المجمع فی المسجد مرتین     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۸۵)

(جامع الترمذی     ابواب الصلوٰہ     باب ماجاء فی الجماعۃ فی مسجد الخ    امین کمپنی کراچی    ۱ /۳۰)

(۲؎ صحیح البخاری        کتاب الجہاد با ب من اخذ بالرکاب ومخوہ         قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۴۱۹)

(صحیح مسلم         کتا ب الزکوٰۃ باب بیان ان اسم الصدقۃ یقع علی کل نوع من المعروف قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۲۵)

(مسند احمد بن حنبل     مسندا بوہریرہ                 المکتب الاسلامی بیروت    ۲/ ۳۱۶)
وقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مامن رجل مسلم یصاب بشیئ فی جسدہ فیتصدق بہ الارفعہ اﷲ بہ درجۃ وحط عنہ خطیئتہ ۳؎۔ اخرجہ احمد والترمذی وابن ماجۃ عن ابی الدرداء واحمدوالضیاء نحوہ عن عبادۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما باسناد صحیح۔
یونہی یہ حدیث شریف : ''آدمی کے جسم میں تکلیف ہو تو جو اس پر صدقہ کرے اور مدد کرے تو اللہ تعالٰی اس کا درجہ بلند کرے گا اور گناہ معاف کرے گا
(احمد، ترمذی، ابن ماجہ عن ابی الدرداء، احمد وضیاء نحوہ عن عبادۃ باسناد صحیح)
 (۳؎ جامع الترمذی     ابواب الدیات    باب ماجاء فی العفو         امین کمپنی دہلی        ۱ /۱۶۷)

(سنن ابن ماجہ        ابواب الدیات  باب العفو فی القصاص         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۹۷)

(مسند احمد بن حنبل     بقیہ حدیث ابی الدرداء            المکتب الاسلامی بیروت    ۶ /۴۴۸)
السادس قدیستقصی فی التوسع فیقطع النظر عن الغیر ایضا ویطلق علی کل فعل حسن محمود فی الشرع فانہ ان لم یکن تصدقا علی غیرہ، فتصدق علی نفسہ، ومن ذٰلک قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی حدیث ابی ہریرۃالمار کل خطوۃ تخطوہا الی الصلٰوۃ صدقہ ۱؎۔ وجاء فی حدیث کل تکبیرۃ صدقۃ۲؎۔
 (۶) اور کبھی لفظ صدقہ بھی توسع کی انتہا ہوجاتی ہے کہ ہر فعل محمود ومشروع کو صدقہ کہتے ہیں کہ دوسرے پر صدقہ نہ ہو تو اپنے پر توہے۔

''مسجد کی طرف بڑھنے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ ہر تکبیر صدقہ ہے۔
 (۱؎ صحیح البخاری         کتاب الجہاد         قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۴۰۴ و ۴۱۹)

(صحیح مسلم         کتاب الزکوٰۃ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۳۲۵)

(۲؎ صحیح مسلم      کتاب الصلٰوۃ المسافرین   قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۲۵۰ و   کتاب الزکوٰۃ ۱/ ۳۲۴)
وقد قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کل معروف صدقۃ ۳؎ اخرجہ احمد والبخاری واٰخرون عن جابر واحمد ومسلم وابوداؤد عن حذیفۃ والطبرانی فی الکبیر عن ابن مسعود والبیہقی فی الشعب عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم، زاد عبد بن حمید والحاکم، وصححہ فی حدیث جابر ہذا وما انفق المسلم من نفقۃ علی نفسہ واہلہ کتب لہ بہا صدقۃ ۴؎۔
ہر نیکی صدقہ ہے۔
 (احمد وبخاری و آخرون عن جابر، احمد، ومسلم،ابوداؤد ،عن حذیفہ طبرانی فی الکبیر عن ابن مسعود ، بیہقی عن ابن عباس)
عبدابن حمید وحاکم نے اس حدیث میں اتنا اضافہ کیا اور حاکم نے اس کی تصحیح کی: ''مسلمان نے اپنے اور اہل وعیال کے لئے جو خرچ کیا اس پر صدقہ کا ثواب ملے گا''
 (۳؎ صحیح البخاری         کتا ب الادب    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۸۹۰)

(صحیح مسلم       کتا ب الادب    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۳۲۴)

(سنن ابوداؤد       کتا ب الادب    قدیمی کتب خانہ کراچی        ۲ /۳۲۰)

(مسند احمد بن حنبل    ۵ /۳۹۷       والمعجم الکبیر حدیث ۱۰۰۴۷ و۱۰۴۱۲     ۱۰/۱۱۰ و ۲۳۲)

(۴؎ المستدرک للحاکم     کتاب البیوع     دارالفکربیروت    ۲ /۵۰)
وتتمہ حدیث المقدام المقدم ذکرہ وما اطعمت نفسک فہو لک صدقۃ ۱؎ اتقن ہذا فلعلک لاتجدبیان تلک الاطلاقات الا فی ہذہ الوریقات واﷲ سبحانہ واہب العطیات۔
نمبر ۳ میں ذکر کی ہوئی حدیث مقدام ابن معدیکرب رضی اللہ تعالٰی عنہ کا تتمہ یہ ہے: '' اورجو خود کھایا صدقہ ہے''

ان اطلاقات کو خوب ذہن نشین کرلیں، شائد کہ اس تحریر کے علاوہ اس تفصیل سے نہ ملے،اب صرف یہ فیصلہ رہ جاتاہے۔ کہ قربانی کے سلسلہ میں جس صدقہ کاذکر آیا ہے وہ ان اطلاقات میں سے کسی اطلاق کے تحت آیا ہے۔ تو یہ طے ہے کہ نمبر اول مرا دنہیں ہے۔ کیونکہ اس پر اجماع ہے کہ قربانی کے گوشت کو بطور اباحت کھلاسکتے ہیں تو اس معنی پر محمول کرنا صحیح نہ ہوگا جس میں تملیک ضروری ہے
 (۱؎ المعجم الکبیر   حدیث ۶۳۴      المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت        ۲۰ /۲۶۸)
Flag Counter