Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
114 - 126
الثالث وربما یقطع النظر عن الفقر ایضا، فتشمل التملیک والاباحۃ للفقیر والغنی ، قال فی التوسط شرح سنن ابی داؤد الصدقۃ ماتصدقت بہ علی الفقراء ای غالب انواعہا کذلک فانہا علی الغنی جائزۃ عندنا یثاب بہ بلاخلاف ۲؎ اھ وقال فی ردالمحتار عن البحرالرائق الصدقۃ تکون علی الاغنیاء ایضا وان کانت مجازا عن الہبۃ عند بعضہم وصرح فی الذخیرۃ بان فی التصدق علی الغنی نوع قربۃ دون قربۃ الفقیر اھ و روی احمد والطبرانی فی الکبیر عن المقدام بن معد یکرب رضی اﷲ تعالٰی عنہ، قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انک مااطعمت زوجتک فہو لک صدقۃ وما اطعمت ولدک فہو لک صدقہ، وما اطعمت خادمک فہولک صدقۃ۔ ۲؎ ولہ فیہ عن ابی امامۃ الباہلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ماانفق الرجل فی بیتہ واہلہ وولدہ فہو لہ صدقۃ ۳؎۔
 (۳) صدقہ کا ایک اطلاق یہ ہے کہ تملیک واباحت اور فقیر وغنی، دونوں کو عام ہو، تو سط شرح ابوداؤد میں ہے:

''صدقہ یہ ہے کہ فقیروں کو دیا جائے (مطلب یہ کہ صدقہ میں عموما یہ ہوتاہے) ورنہ صدقہ ہمارے نزدیک مالدار کو بھی دینا جائزہے'' ردالمحتارمیں بحرالرائق سے منقول ہے: ''صدقہ مالداروں پر بھی ہوتا ہے کہ مجازا ہبہ کو صدقہ کہتے ہیں، اور ذخیرہ میں تشریح ہے کہ مالدار کا صدقہ فقیروں کے صدقہ سے کم ثواب والاہوتاہے۔

احمد وطبرانی نے کبیر میں مقدام بن معد یکرب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی : ''رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں جو بیوی کو کھلایا تو صدقہ، جو اولاد کو کھلایا تو صدقہ، جو خادم کو کھلایاوہ بھی صدقہ''

طبرانی میں ابوامامہ باہلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے: '' آدمی اپنے گھر میں جو کچھ اہل وعیال اور خادموں پر خرچ کرتاہے وہ سب صدقہ ہے۔''
 (۲؎ التوسط شرح سنن ابوداؤد)

(۱؎ردالمحتار         کتاب الوقف     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳ /۳۵۷)

(۲؎ المعجم الکبیر         حدیث ۶۳۴         المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت        ۲۰ /۲۶۸)

(۳؎المعجم الکبیر         حدیث ۷۴۷۶         المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت       ۸ /۱۱۲)
الرابع ربما تطلق حیث لاتملیک و لااباحۃ اصلا وانما ہو تصرف مالی قصد بہ نفع المسلمین کحفر الابار وکروی الانہار وبناء الربط والجسور والمساجد و المدارس وغیر ذلک وعن ہذا تقول انہا صدقات جاریۃ ومن ذٰلک قولہم فی الاوقاف صدقۃ مؤبدۃ وعلیہ جاء قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذ اتاہ سعد بن عبادۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فقال یارسول اﷲ امی ماتت فای الصدقۃ افضل ، قال سقی الماء، فحفر بئرا و قال ہذہ لام سعد ۱؎ کما اخرجہ احمد وابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ وابن حبان والحاکم عن سعد وابو یعلی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ فقد سمی سقی الماء بحفر البئر صدقۃ ومعلوم ان لاتملیک فیہ ولااباحۃ فان من شرطہا ان یکون الماء، فی ملک المبیح کما لایخفی علی احد وقد قال صدر الشریعۃ انہم لمالم یملکہ لاتصح اباحتہم ۔اھ
 (۴) اس اطلاق میں نہ تملیک ہے نہ اباحت، یہ ایک قسم کا تصرف مالی ہے جس سے مسلمانوں کو نفع پہنچانا مقصو د ہونا ہے۔ جیسے کنواں بنانا، نہریں تیار کرنا، مسافر خانے اورپل بنانا، مساجد اور مدرسوں کی تعمیر کرنا، اورانھیں امور خیر میں صرف کرنے کوصدقہ جاریہ کہتے ہیں: اور اوقات کو اسی معنی میں صدقہ موبدہ کہا جاتاہے۔ حدیث شریف میں ہے: ''حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس حضرت سعد ابن عبادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ آئے اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ) میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے تو کون سا صدقہ اسے مفید ہوگا؟ حضور نے فرمایا: لوگوں کوپانی سے سیراب کرنا، انھوں نے ایک کنواں کھدوادیا اور اعلان کردیا کہ یہ سعد کی ماں کے لئے ہے'' (احمد وابوداؤد ونسائی ابن ماجہ، حاکم، ابن حبان عن ابی یعلٰی عن ابن عباس)
تو اس حدیث میں پانی کی سیرابی کو صدقہ قراردیا جس میں نہ تملیک ہے نہ اباحت، کیونکہ اباحت کے لئے شرط یہ ہے کہ شیئ مباح مباح کرنے والے کی ملک ہو، صدرالشریعہ فرماتے ہیں: ''جب مال موقوفہ پر مالکوں کی ملک نہ رہی تو ان کی طرف سے اباحت بھی درست نہیں ''
 (۱؎ سنن ابوداؤد     کتاب الزکوٰۃ باب فضل سقی الماء     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۲۳۶)

(سنن النسائی     کتاب الوصایا فضل الصدقۃ عن المیت    نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ۲ /۱۳۳)

(مسند احمد بن حنبل حدیث سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ     المکتب الاسلامی بیروت        ۵ /۲۸۵ و ۶/ ۷)

(موارد الظمان الی زوائد ابن حبان کتاب الزکوٰۃ باب سقی الماء     المطبعۃ السلفیہ مکہ المکرمۃ    ص۲۱۸)
وقد نص علمائنا ان ماء البئر غیر مملوک لصاحبہا، ففی الہدایۃ البئر ونحوہا ماوضع للاحراز ولا یملک المباح بدونہ ۳؎۔ وفی فتاوی العلامۃ خیر الدین الرملی فی الولوالجیۃ وکثیر من الکتب لو نزح  ماء بئر رجل بغیر اذنہ حتی یبست لاشیئ علیہ (عہ) لان صاحب البئر غیر مالک للماء ۱؎ اھ فاذن لایکون الا تقربا الی اﷲ تعالٰی بتصرف فی مالہ لنفع المسلمین وعلی ہذا سائر القرب المالیۃ سواء فی دخولہا فی معنی الصدقۃ۔
اس طرح علماء نے تصریح فرمائی : کنویں کا پانی کنویں والے کی ملک نہیں''

ہدایہ میں ہے: ''کنواں اور اس کے مثل جو چیز یں ہیں قبضہ کرکے نہیں رکھی گئیں، اور قبضہ کے بغیر مباح پر ملک ثابت نہیں ہوتی۔''

فتاوٰی خیریہ، ولوالجیہ وغیرہ بہت سی کتابوں میں ہے: ''اگر کسی نے کسی کنویں کا پانی نکال کر کنواں خشک کردیا تو نکالنے والے پر کوئی تاوان نہیں اس لئے کہ کنویں والا پانی کا مالک نہیں''

تو یہ صدقہ اسی معنی پر ہے کہ اللہ کے تقرب کے لئے اپنا مال مسلمانوں کے نفع کے خاطر صرف کررہا ہے اور اس معنی میں سارے مالی کا رخیر صدقہ قرار دئے جانے میں برابر ہیں۔
عہ:  قلت ای لا ضمان لان الاتلاف صادف مباحا غیر مملوک لاحد اما التعزیر فینبغی ان یکون فیما یظہر اذا فعلہ لمحض الاضرار ولا ضرر ولاضرار فی الاسلام ۱۲ منہ
میں کہتا ہوں یعنی ضمان نہیں ہے کیونکہ یہ ایسی مباح چیز کا اتلاف ہے جس کا کوئی مالک نہیں ہے لیکن تعزیر مناسب ہوگی جبکہ وہ بطور ضرر رسانی ایسا کرے کیونکہ اسلام میں ضرروضرار کی ممانعت ہے ۱۲ منہ (ت)
 (۳؎ الہدایۃ      کتا ب احیا ء الموات      فصل فی المیاہ            مطبع یوسفی لکھنؤ    ۴ /۴۸۳)

(۱؎ فتاوٰی خیریہ         کتاب احیاء الموات     فصل فی مسائل الشرب     دارالمعرفۃ بیروت    ۲ /۱۸۶)
وقد قال الامام فقیہ النفس قاضی خاں فی الخانیۃ قریۃ فیہا بئر مطویۃ بالاٰجر خربت القریۃ، وانقرض اہلہا وبقرب ہذہ القریۃ قریۃ اخرٰی فیہا حوض یحتاج الی الاٰجر فارادوا ان ینقلوا الاجر من القریۃ التی خربت ویجعلوہا فی ہذا الحوض، قالوا ان عرف بانی تلک البئر لا یجوز صرف الاٰجر الاباذنہ، لانہ عادالی ملکہ وان لم یعرف البانی قالوا الطریق فی ذٰلک ان یتصدق بہا علی فقیر ثم ذٰلک الفقیر ینفقھا فی ذٰلک الحوض لانہ بمنزلۃ اللقطۃ والاولی ان ینفق القاضی فی ہذا الحوض ولا حاجۃ فیہ الی التصدق علی الفقیر ۱؎ اھ
اطلاق نمبر ۴ کی دوسری مثال : امام  فقیہ النفس قاضیخان فرماتے ہیں:'' ایک دیہات میں پختہ کنواں تھا، دیہات اجڑ گیا اور کنواں معطل ہوگیا، اس کے قریب دوسرے دیہات والوں نے اس کی اینٹیں اپنے حوض میں لگانی چاہیں، اگر کنویں کابنانے والا موجود ہے تو اس سے اجازت لینی ضروری ہے کیونکہ تعطل کے بعد اینٹیں بانی کی ملک ہوگئیں، اور بانی کا پتہ نہ چلے تو وہ اینٹیں فقیر کو دے دی جائیں، اور وہ اپنی طرف سے اس کو حوض میں لگادے ، کیونکہ وہ اینٹیں اب لقطہ(گری پڑی چیز) کے حکم میں ہے۔ اور زیادہ بہتر یہ ہے کہ قاضی اپنے حکم سے اسے حوض میں لگادے اس طرح فقیر کو دینے والے حیلہ سے نجات مل جائے گی''
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں     کتاب الوقف     فصل فی الوقف المنقول الخ         نولکشور لکھنؤ        ۴ /۷۲۵)
وفی الہندیۃ عن الواقعات الحسامیۃ فیما اذا لم یعلم الغارس، الحکم فی ذٰلک الی القاضی ان رأی بیعہا وصرف ثمنہا الی عمارۃ المقبرۃ فلہ ذٰلک ۲؎ اھ وقال فی الخانیۃ قبلہ نبت الاشجار بعد اتخاذ الارض مقبرۃ فان علم غارسہا کانت للغارس وان لم یعلم فالرأی للقاضی ان رأی ان یبیع الاشجار وتصرف ثمنہا الی عمارۃ المقبرۃ فلہ ذلک، وتکون فی الحکم کانہا وقف ۳؎ اھ
قلت ای فی انہ مال مصروف الی وجوہ البر اما الوقف فلا لما فی الخانیۃ ایضا، رجل جعل ارضہ مقبرۃ وفیہا اشجار عظیمۃ، قال الفقیہ ابوجعفر رحمہ اﷲ تعالٰی وقف الاشجار لایصح فتکون الاشجار للواقف ولورثتہ ان مات ، وکذا البناء فی الدار التی جعلہا مقبرۃ ۱؎ اھ
عالمگیری اور واقعات حسامیہ میں ہے: ''اگر قبرستان میں درخت لگانے والے کا پتہ نہ چلے تو قاضی اپنی صوابدیدپراس کو بیچ کر اس کی قیمت قبرستان کی درستگی میں صرف کرسکتاہے'' خانیہ میں ہے:'' زمین کو مقبرہ بنانے کے بعد اس میں درخت اگ آئے، لگانے والا معلوم ہو تو وہ اسی کا ہے۔ اور لگانے والا معلوم نہ ہو تو رائے قاضی کی ہے اسے بیچ کر قبرستان کی مرمت میں لگاسکتاہے۔ اس کا حکم وقف ہی کا ہے''
مطلب یہ ہے کہ جس طرح وقف ایک ایسا مال ہے جو مصارف خیر کے لئے ہی ہے اسی طرح اس درخت کا مصرف بھی مصارف خیر ہیں، وہ درخت خود وقف نہیں ہوجاتا۔ اسی خانیہ میں ہے: ''ایک آدمی نے زمین مقبرہ کے لئے وقف کی جس میں درخت ہیں، فقیہ ابوجعفر کا فرمان ہے کہ چونکہ درختوں کا وقف صحیح نہیں اس لئے وہ درخت واقف کے ہوں گے، او روہ مرگیا تو اس کے ورثہ کی ملک ہوں گے، اور یہی حکم اس کمرہ کا ہے جو ایسے دار میں ہو جس کو مقبرہ کردیا گیا ہو۔''
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الوقف   الباب الثانی عشر         نورانی کتب خانہ پشاور    ۲ /۴۷۴)

(۳؎ فتاوٰی قاضیخان   کتاب الوقف     فصل فی الاشجار          نولکشور لکھنؤ        ۴ /۷۲۴)

(۱؎ فتاوٰی قاضی خاں     کتاب الوقف فصل فی المقابر والرباطات         نولکشور لکھنؤ        ۴ /۷۲۵)
Flag Counter