فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
113 - 126
اوما عقلت ماافاد العلامۃ البحر فی لقطۃ البحر، اذقال انما فسرنا الانتفاع بالتملک لانہ لیس المراد الانتفاع بدونہ کالاباحۃ ۲؎۔ اوما وقفت علی قول السید الشامی فی لقطۃ ردالمحتار ان التصرف علی وجہ التملک احتراز عن التصرف بطریق الاباحۃ علی ملک صاحبہا ۳؎ اھ اوما سمعت العلماء یصرحون فی غیر ما موضع ان المباح لہ انما یتصرف علی ملک المبیح لاحظ لہ من الملک اصلا، حتی لم یثبتوا لہ ملکا بعد زوال ملک المالک،
اسی طرح علماء کی تصریح ہے: ''جو چیز مباح کی وہ مباح کرنے والے کی ملک پر باقی رہتی ہے جس کے لئے مباح کی گئی، اس کو اس کی ملک سے کوئی تعلق نہیں رہتا'' _____''وہ تو یہاں تک فرماتے ہیں: ''مالک کی ملک زائل ہوجائے تب بھی ضروری نہیں کہ مباح لہ کی ملک ثابت ہو۔''
(۲؎ بحرالرائق کتاب اللقطۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ /۱۵۸)
(۳؎ ردالمحتار کتاب اللقطۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۲۱۔۳۲۰)
ایضا قال المولی زین بن نجیم فی شرح الکنز فان قیل المباح یستھلکہ المباح لہ علی ملک المبیع او علی ملک نفسہ، قلت اذا صار ماکولا زال ملک المبیع عنہ، ولم یدخل فی ملک احد ۴؎ اھ واثرہ عنہ العلامۃ الطحطاوی فی حاشیۃ الدر، ہذا وکم اسرد لک یاہذا من نقول الاسفار وہی فی الوفور والاستکثار ماتنتہی دون نقلہ الاعمار، وانا بحمداﷲ عالم بمناط غلطک، ومثارلغٖطک وسأنبہک علیہ عن قریب، ان شاء المولی القرب المجیب،
مولانا زین ابن نجیم شرح کنز میں فرماتے ہیں: ''مباح کو مباح لہ مباح کرنے والے کی ملک پر ہی ختم کرتاہے یا وہ چیز خود اپنے ہی ملک پرہوتی ہے کوئی اس کا مالک نہیں''
مطلب یہ ہے کہ جب مباح لہ نے اس چیز کو کھالیا تو وہ چیز مباح کرنے والے کی ملک سے نکل گئی، اور کسی کی ملک میں داخل نہیں ہوئی، حتی کہ کھانے والے کی ملک بھی نہ ہوئی یہی مطلب ہے ملک نفسہٖ کا، ان کا یہ قول ملا علی قاری نے اپنی کتاب حاشیہ درمیں پیش کیا، الغرض اگر میں نقل کرنے پر آؤں تو ایسی نصوص کا انبار لگ جائے، تو تملیک اور اباحت کے فرق کا اعلان کررہی ہیں۔
(۴؎ بحرالرائق باب الظہار فصل فی الکفارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴ /۱۰۹)
واما مااوہمت من اجزاء الاباحۃ فی الصدقات مطلقا فواضح البطلان عند کل من یعلم ان الزکاۃ وصدقۃ الفطر لاتغنی فیہما الاباحۃ علی المذہب الصحیح المفتی بہ، وقد قدمنا نصوص النقایۃ و التنویر والدر، وضابط الدرو شرح ملتقی الابحر، وسیأتی زیادۃ علی ذٰلک ان اراد المالک۔
وبالجملۃ کلام الرجل ککلام مدہوش من قرنہ الی قدمہ مخدوش ونحن اذا قد اوضحنا المرام وازحنا الاوہام بتوفیق ربنا الملک العلام، فلا علینا ان نقصر الکلام ونطوی بساط والرد الابرام والحمدﷲ ولی الانعام۔
اسی طرح اس کلام کا یہ ٹکڑا کہ''صدقات میں مطلقا اباحت کافی ہے'' یہ بھی غلط ہے۔ اتنی بات تو ہر آدمی جانتا ہے کہ زکوٰۃ اور صدقہ فطر میں اباحت کافی نہیں ہم نے اس بات کی جزئیات تنویر اور در سے پہلے نقل کئے، اور در کا ضابطہ بھی نقل کیا ، آئندہ مزید تفصیل کریں گے تو اس قائل کا کلام ازتا پامخدوش ہی مخدوش ہے اور ہمیں مزید رد کی ضرورت نہیں۔
تذلیل جلیل: قال العبد الذلیل بعد ہذا وقفت علی تحریر اٰخر لبعض جلۃ العصر من افاضل اہل السنۃ جنح فیہ نحو ماجنح اولئک القوم، وحکم ان لا بدہہنا من التملیک متمسکا بما تعریبہ حکم جلود الاضاحی ان یتصدق بہا اوینتفع بہا بنفسہ اویستبدلہا بما ینتفع بہ مع بقاء کالغربال والسجادۃ وغیرہما ففی صورۃ التصدق لا بدمن التملک ۱؎ اھ حاصلہ معربا۔
اقول: ہذا کلام کما تری لایکاد یرجع الی طائل، فان لزوم التملیک فی التصدق لایستلزم لزومہ فی التقرب ولم یلم کلامکم بایجاب التصدق ہہنا عینا ونفی سائر وجوہ التقرب شیئا فالصغری المطویۃ ہی التی کانت محتاجہ الی البیان وقد طویتموہا و طویتم الکشح عن بیانہا فاختل البرہان، وکان ملحظ ہذا الفاضل ومحط نظرہ ان حکم الجلود اذا کان دائرا بین الاشیاء الثلثۃ، وبالبیع بالدراہم ولو لاجل التقرب انتفی الاخیران، فتعین الاول، وہو لابد فیہ من التملیک ہذا غایۃ مایقال فی تقریر کلامہ، علی حسب مرامہ ھنأہ ربہ بلطفہ واکرامہ فالاٰن۔
ایک سنی عالم کا فتوٰی: البتہ علمائے اہلسنت میں سے بھی ایک بزرگ نے اس قسم کی بات کہی جو گنگوہی صاحب سے مذکور ہوئی، ان کا کلام یہ ہے: ''قربانی کی کھال کاحکم یہ ہے کہ اس کا صدقہ کیا جائے یا اس کو خود استعمال کیا جائے، یا اس کو باقی رہنے والی چیز سے بدلا جائے، جیسے چھلنی، مصلی وغیرہ، تو تصدق کی صورت میں تملیک ضروری ہے''
انھوں نے اپنے کلام سے نہ تو یہ ثابت کیا کہ کھال کا صدقہ واجبہ ہے۔ نہ یہ ثابت کیا کہ اس کو کسی او ر کارثواب میں نہیں لگایا جاسکتا، حالانکہ یہی دلیل کا صغرٰی ہے۔ بے اس کے ثبوت کے دلیل ہی بیکار ہے۔ ان بزرگ کی غلطی کی بناء یہ ہے کہ انھوں نے یہ سمجھا کہ قر بانی کی کھال صدقہ کرنے بعینہٖ اس سے انتفاع حاصل کرنے یا باقی رہنے، والی چیز سے استبدال میں منحصر ہے۔ اورجب بعینہٖ انتفاع اور استبدال بالباقی کی صورت نہ پائی گئی، تو تصدق معین ہوگیا، اور اس میں تملیک ضروری ہے (اللہ تعالٰی انھیں اپنے لطف سے نوازے) یہ ان کے کلام کی انتہائی توجیہ ہے۔
اقول: وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق، اعلم ان للصدقۃ اطلاقات: الاول اخصہا تملیک المال من الفقیر مجانا، فخرج الاعارۃ والاباحۃ وہدیۃ الغنی، والاقراض وہذا ہوالمراد فی الزکوٰۃ وصدقۃ الفطر، وبہذا المعنی یقال ان الصدقۃ لابدفیہا من التملیک وحینئذ لاتدخل فیہا الکفارات لجواز الاباحۃ فیہا قطعا (عہ) ۔ ولذا قال فی ظہار التنویر، صحت الاباحۃ فی طعام الکفارات والفدیۃ دون الصدقات والعشر ۱؎ اھ قال السیدان الفاضلان احمد الطحطاوی ومحمد الشامی (قولہ دون الصدقات) ای الزکوٰۃ وصدقۃ الفطر ۲؎ اھ فانظر کیف اخرج الکفارات من الصدقات۔
لیکن قابل غور امر یہ ہے کہ شرح میں صدقہ کا اطلاق متعدد چیزوں پر ہوتاہے۔
(۱) تملیک المال من الفقیر''
اس صورت میں عاریۃ ۔ اباحۃ، ہدیہ غنی، قرض وغیرہ سب صدقہ سے نکل گئے، اور صدقہ فطر اور زکوٰۃ میں لفظ صدقہ سے یہی مراد ہوتی ہے اور اسی صدقہ کے لئے کہا جاتاہے کہ ا س میں تملیک ضروری ہے۔ تو صدقہ کفارہ اگر چہ صدقہ واجب ہے لیکن اس معنی میں وہ صدقہ نہیں کیونکہ اس میں اباحت بھی جائز ہے۔
تنویر میں ہے: ''کفارہ اور فدیہ کے صدقہ میں اباحت جائز ہے۔ صدقات اور عشر میں نہیں۔''
لفظ صدقہ کی تفسیر میں شامی اور طحطاوی نے کہا: ''صدقات سے مراد زکوٰۃ اور صدقہ فطر ہے'' یہاں کفارہ صدقہ واجبہ ہونے کے باجود صدقات سے خارج ہے۔
عہ: ای فی نوع الطعام منہا اما الکسوۃ فی کفارۃ الیمین فلا تکفی فیہا الاباحۃ کما فی البحر وغیرہ فلیحفظ ہذا المراد، وانا اقول: خروج الکسوۃ ضروری فان الاباحۃ انما تکون ماینتفع بہ باستھلاکہ کالماکولات و المشروبات والکسوۃ لیس ہذا کمالایخفٰی والحاصل ان عندی فرقا بین الاباحۃ والاعارۃ مطلقا، واﷲ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ قدس سرہ العزیز
یعنی ان اقسام میں سے طعام میں اباحت ہے۔ لیکن کفارہ یمین میں لباس میں اباحت کافی نہیں ہے لیکن جیسا کہ بحر وغیرہ میں ہے تواس مراد کو محفوظ رکھو اقول: (اور میں کہتاہوں) لباس کا خروج یہاں ضروری ہے کیونکہ اباحت صرف ایسی چیز میں ہوسکتی ہے جس کو ہلا ک کرکے انتفاع حاصل کیا جائے جیسے ماکولات و مشروبات جبکہ لباس ایسی چیز نہیں ہے جیساکہ مخفی نہیں ہے۔ حاصل یہ کہ میرے نزدیک اباحت اور عاریۃ دینے میں فرق ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ قدس سرہ العزیز (ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الطلاق باب الکفارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۵۱)
(۲؎ ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الطلاق باب الکفارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۸۴)
(حاشیہ الطحطاوی کتاب الطلاق باب الکفارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۲۰۲)
الثانی تمکین الفقیر من المال مجانا وھنا یقطع النظر عن التملیک ویکتفی باطلاق الانتفاع۔ والتصرف والاستھلاک الصادق بہ وبالاباحۃ وبہذا المعنی تشمل الکفارات فتعد من الصدقات الواجبۃ کما قال القہستانی والشامی وغیر ہما فی مصرف الزکوٰۃ '' انہ ہو مصرف ایضا لصدقۃ الفطر والکفارۃ والنذر وغیر ذٰلک من الصدقات الواجبۃ ۱؎ اھ وبہ علم ان ہذین المعنین لایتعدا ھما الواجب من الصدقات والخلط بینہما کانہ ھوالذی حد ذٰلک الرجل الوھابی ان جعل الاباحۃ من التملیک، وذٰلک انہ رأی فی الفتح مایقصر الصدقۃ علی التملیک ورأی فی ردالمحتار مانقلنا اٰنفا وہو یفیدان الکفارۃ ایضا من الصدقات وقد نقل العبارتین فی فتواہ فأظن انہ نظم منہا شکلا و استنتج منہ ان الکفارۃ لابد فیہا من التملیک وکان داریا ان الاباحۃ تسوغ فیہا، فلم یتمالک نفسہ ان حکم بکون الاباحۃ قسما من التملیک لانہ اضطربت لدیہ الاقوال۔ وضاق علیہ میدان المجال، ولم یدرالتفصی عن الاشکال الابایداء ہذا المحال، ولم یعرف المسکین فرق المحال، وان تغیر الاوسط یہدم الاشکال فان التی یجب فیہا التملیک ہی الصدقۃ بالمعنی الاخص الوارد فیہا لفظ الایتاء او الاداء او مایؤدی مؤادہما، والکفارات لیست من الصدقات بہذا المعنی، فلا شکل ولا اشکال، والحمدﷲ المہین المتعال علی انہ ان قطع النظر عن ہذا التحقیق النفیس الانیس الدقیق، فکان السبیل ان یقال باستثناء الکفارات من حکم وجوب التملیک کما فعل الفاضل القہستانی حیث قال تحت قول النقایۃ تصرف تملیکا یستثنی منہ اباحۃ الکفارۃ ۱؎ اھ لا ان یرتکب مثلک ہذا المحال، وباﷲ العصمۃ عن الزلل و الضلال ہذا ماوعدناک فلنعد الی شرح اطلاقات الصدقۃ۔
(۲) ''فقیر کو مال پر قابو دے دینا'' یہاں تملیک سے قطع نظر ہوتی ہے۔ اوریہ انتفاع ، تصرف اور
استہلاک سبھی صورتوں کو شامل ہوتاہے جو تملیک اور اباحت دونوں صورتوں میں ہوسکتاہے صدقہ اس معنی میں کفارہ پر بولاجاتاہے۔ جو صدقہ واجبہ سے ہے اس کو لینے کا اہل وہی ہے جو زکوۃ کا اہل ہے۔
چنانچہ قہستانی وشامی وغیرہ نے کہا: ''جو فقیر مصرف الزکوٰۃ ہے وہی صدقہ فطر، کفارات اورنذر وغیرہ کا مصرف ہے۔''
صدقہ کے یہ دونوں معنی صدقات واجبہ میں ہی متحقق ہونگے، شاید اسی بات نے اس وہابی آدمی کو یہ جرأت دلائی کہ اس نے اباحت کو بھی تملیک میں شمار کیا کہ انھوں نے فتح القدیر میں دیکھا ''صدقہ کے لئے تملیک ضروری ہے'' اور ردالمحتار کی بھی نقل شدہ عبارت میں دیکھا کہ کفارہ بھی صدقات میں سے ہے۔ یہ دونوں عبارتیں اس نے اپنے فتوٰی میں نقل کی ہیں اور اس سے قیاس ترتیب دے کے یہ نتیجہ نکالا کہ کفارہ کے لئے بھی تملیک ضروری ہے اور یہ جان ہی رہے تھے کہ کفارہ میں اباحت ہے۔ تو اس فیصلہ میں اپنے نفس پر قابو نہ پاسکے کہ اباحت بھی تملیک کا ہی ایک حصہ ہے کیونکہ اقوال انھیں مضطر ب نظرآئے اور ان میں تطبیق دے نہ پائے تو یہ محال بات بول دی اور قیاس ترتیب دیتے ہوئے انھیں یہ پتہ نہ چلا کہ حد اوسط مکرر نہ ہونے سے نتیجہ غلط ہوتا ہے، فتح القدیر کی عبارت
''الصدقۃ یجب فیہ التملیک''
میں صدقہ سے مراد صدقہ خاص بمعنی اول ہے۔ اور
''الکفارات تجوز فیہ الاباحۃ''
کا صدقہ ہونا بمعنی ثانی ہے۔ حالانکہ قہستانی ان کی راہ کشادہ کرچکے تھے، وہ فرماتے ہیں
''انہ تصرف تملیکا یستثنی منہ الکفارات''
صدقات واجبہ میں تملیک ضروری ہے لیکن کفارہ اس سے مستثنٰی ہے۔
(۱؎ ردالمحتار بحوالہ اقہستانی کتاب الزکوٰۃ باب المصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۸)
(۱؎ جامع الرموز کتاب الزکوٰۃ فصل مصرف الزکوٰۃ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۲ /۳۸۔۳۳۷)