Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
112 - 126
اقول: دلنا کلامک ھذا علی تعیین الشق الاخیر من الشقوق الثلثۃ المارۃ فی قولی، یا لیث شعری فعر فنا بتردیدک ان لیس کل بیع بمستھلک تمولا عندک، وانک مائزبین التمول وغیرہ، وان بدلت التقرب بالتصدق جہلامنک، او تجاہلا مع علمک ان الکلام فی سائر القرب، دون التصدق فاذن لااجد لاحتجاجک بکلام الکافی مثل، الا کمن ادعی ان من صلی اثم سواء کانت صلاتہ ﷲ تعالٰی اولغیرہ واحتج علیہ بقولہ عزوجل
''قل یایھا الکفرون o لا اعبد ماتعبدونo''۲؎
فان کان الدلیل یتم بان یکون اخص من المدعا مع عدم المساس بالجزء المقصود منہ المتنازع فیہ اصلا، فلااری احد امن المبطلین یعجز عن اقامۃ الف دلیل علی دعواہ ہذا احتجاجک بالکافی ، اما التمسک بکلام البدر فبرأک اﷲ من ان تنقص درجۃ عمن یدعی وجود اللیل البہیم مُسبل الاستار یحتج علیہ بو جود الشمس فی وسط السماء بازعۃ تبھر الابصار۔
قال ''فقد اتضح بہاتین الرواتین وجوب التصدق واذا وجب الصدقۃ فکونہا صدقۃ واجبۃ واذا وجب الصدقۃ فکونہا صدقۃ واجبۃ واضح بنفسہ فلا یکون مصرفہا الامصرف الصدقۃ الواجبۃ کما ہو ظاہر، فلا یجوز صرف الی بناء المساجد والمدارس ۱؎ اھ بالتعریب۔
 الغرض اس کلام سے اب سمجھ میں آیا کہ بات وہی آخری ہے کہ اس شخص کے نزدیک ضد مخالف سے استدلال جائز ہے۔ اس استدلال کی کیفیت ایسی ہی ہے جیسے کوئی کہے عبادت خدا کی ہو یا غیر کی سب ناجائز ہے۔ دلیل اس کی قرآن عظیم میں ہے۔ لااعبد ماتعبدون تو ماتعبدون دیکھا ہی نہیں لا اعبد سے استدلال کردیا، اسی طرح صاحب کافی کی عبارت تو بیع تمول کو ممانعت میں ہے اور آپ نے مطلقا بیع حرام کردی،
یہ تو عبارت کافی سے استدلال کاحال ہے۔ اور عینی سے استدلال کی حالت تو اور ردی ہے۔ اس لئے کہ وہ نص کرتے ہیں کہ اس کا تصدق اس لئے واجب ہے کہ مال خبیث اور یہ صورت بیع تمول کے سوا اور کسی صورت میں ہوہی نہیں سکتی، تو آپ کا اس عبارت سے استدلال اندھیری رات کے ثبوت میں سورج  پیش کرنے کے مرادف ہے اس شخص نے کہا ، کافی اور عینی کی عبارتوں سے ثابت ہوگیا کہ اس کھال کے دام کا تصدق واجب ہے۔ تو وہ صدقہ واجبہ ہوا، اور اس کا مصرف وہی ہے جو صدقہ واجبہ کا مصرف ہے تو اسے مسجد یا مدارس کی تعمیر میں صرف نہیں کرسکتے۔
 (۲؎ القرآن الکریم        ۱۰۹/ ۱و ۲)
اقول: ان ارید الوجوب عند التمول فنعم، والا کلام فیہ، او عند التقرب فلا ولا کرامۃ وای اثرلہ فی دلیلک فما ثبت بہما لانزاع فیہ، وما فیہ النزاع لم یثبت بہما، وان کان بحسبک ان یقع فی کلام الاصحاب لفظ وجوب التصدق فی ای مسئلۃ من ای باب ، فنعم لدعواک فی کل کتاب دلائل عدد الرمل والتراب۔
گنگوہی صاحب کی اس عبارت کا اگر یہ مطلب ہے کہ ان عبارتوں سے یہ ثابت ہے کہ بیع تمول کے لئے ہے تو قیمت کا صدقہ واجب ہے، تو یہ بات صحیح ہے۔ بیشک اگر بقصد تمول بیع کی تو اس کا تصدق واجب ہے۔ اور اگریہ مطلب ہے کہ کسی کار ثواب کی غرض سے بیع کیا تب بھی تصدق واجب ہے۔ تو یہ بات ان دونوں عبارتوں سے ہر گز ثابت نہیں اور اگر آپ کے استدلال کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ یہ عبارت میں صدقہ واجبہ کا لفظ مل جائے، چاہے جس باب اور جس بیان میں ہو تو یہ دونوں عبارتیں ہی کیا ہیں، ہر کتاب میں آپ کے مدعا پر سیکڑوں دلیلیں موجود ہیں،
قال والصدقۃ مطلقا لابد فیہا من التملیک سواء کان اباحۃ اوتملیکا تاما ۲؎۔

اقول: یالیتک اذلم تہتد الی الصواب قنعت۔ بما من قبل صنعت، ونفسک عن الاسترسال منعت، ولکنک اجبت ان تزید فی الطنبور نغمۃ، وفی الشطر نج بغلۃ فابتدعت القول بان الاباحۃ من التملیک وانہا تجزی فی الصدقۃ مطلقا، فجعلت القسیم قسما، والضد ندا مع ان کلمات العلماء، فی مسائل الاباحۃ غیر قلیۃ ولاخفیۃ بل دوارۃ فی کثیر من ابواب الفقہ، منہا الطہارات، ومنہا الزکوٰۃ، ومنہا الطلاق، ومنہا اللقطۃ ومنہا الہبۃ، ومنہا الکراہیۃ وغیر ذٰلک وہذا شرح الوقایہ للامام الجلیل صدر الشریعۃ اول کتاب نتدراسہ فی الفقہ۔ افاد فیہ رحمہ اﷲ تعالٰی فی اول کتاب الطہارات من باب التیمم، ان القدرۃ ثبت بطریق الاباحۃ، وبطریق التملیک فان قال صاحب الماء لجماعۃ من المتیممین لیتوضأ بہذا لماء ایکم شاء، والماء یکفی لکل واحد منفرد اینتقض تیمم کل واحد لثبوت القدرۃ لکل واحد علی الانفراد، اما اذا قال ہذا الماء لکم وقبضوا لا ینتقض تیممہم لانہ یبقٰی علی ملک الواہب ولم تثبت الاباحۃ لانہ لما بطل الہبۃ بطل مافی ضمنہا ۱؎ اھ ملخصا ونحوہ فی الفتح والبحر وغیرہا، فانظر کیف باینوابینہا، واسمع کیف اثبتوا الاباحۃ لکل منفرد بقول المالک لیتوضأ بہ ایکم شاء، مع بداہۃ انہ لاتثبت بقولہ ہذا شیئ من الملک لکل منہم، ولا لاحدہم افما کنت درست ہذا اوما دریت ولا وعیت ضابطالہم، ان ماشرع بلفظ اطعام وطعام جاز فیہ الاباحۃ، وما شرع بلفظ ایتاء واداء شرط فیہ التملیک ۲؎۔ کما فی ظہار الدر ومجمع الانہر وغیرہما فافتح العین، ہل ہما قسیمان اواحدہما قسم من الاخر۔
اس شخص نے کہا: ''صدقہ میں مطلقا تملیک واجب ہے عام ازیں کہ بطور اباحت ہو یا بطور تملیک۔''

آدمی کو صحیح بات نہ معلوم ہو تو جتنا ہو چکا اسی پر صبر کرنا چاہئے اور دراز لسانی سے پرہیز کرنا چاہئے، لیکن آپ نے تو ایک نئے سر کا اضافہ کرنا چاہا، اور شطرنج کے کھیل میں گدھے کو بھی داخل کردیا کیونکہ یہ بات بالکل غلط ہے کہ اباحت بھی تملیک کا ایک حصہ ہے، اور صدقہ واجبہ تملیکیہ میں بھی اباحت سے کام چل جائے گا، افسوس کہ اس کلام میں قسیم کوقسم اور ضد کو شریک بنادیا گیا حالانکہ ان دونوں کی تفریق کے بیان میں کتابوں کے ابواب بھرے پڑے ہیں، ابواب طلاق ولقطہ وہبہ کراہیہ وغیرہ میں کثرت سے یہ مسائل ہیں۔
ہم لوگ فقہ میں جو اول کتاب امام صدرالشریعۃ کی شرح وقایہ پڑھاتے ہیں اس میں کتاب الطہارۃ کی ابتداء میں ہی لکھتے ہیں: ''پانی پر قدرت اباحت سے بھی حاصل ہوجاتی ہے اور تملیک سے بھی توپانی والے نے ایک پوری جماعت سے اگر یہ کہا تم میں سے جو چاہے اس پانی سے وضو کرے،اور پانی کسی ایک کے وضو بھرتھا۔ پوری جماعت کا وضو ٹوٹ جائے گا کیونکہ علی سبیل الانفراد سب کی قدرت ثابت ہوگئی، اور اگر یوں کہا کہ اس پانی پر تم سب قبضہ کرلو تو تیمم نہ ٹوٹے گا، کیونکہ اتنا پانی جب سب کو ہبہ کیا اور تقسیم نہیں کیا تو ہبہ مشاع ہونے کی وجہ سے وہ ہبہ باطل ہوا اور کسی کے لئے اباحت ثابت نہ ہوئی، ایسا ہی فتح اور بحر وغیرہ میں ہے۔ تملیک اور اباحت کا فرق اس عبارت سے روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پہلی صورت میں اباحت ثابت فرماتے ہیں اور دوسری صورت جو ہبہ اور تملیک کی طرح ہے۔ اس میں اباحت کی نفی فرماتے ہیں، اگر دونوں ایک ہی ہوتے تو ایک کا ثبوت اور دوسرے کی نفی کیسے ہوتی، در اور مجمع الانہر میں ایک مشہور ومعروف ضابطہ مصرح ہے: ''مالک نے کسی کھانے کی چیز کی اجازت لفظ ''اطعام'' سے دی کہ ''اسے فلاں کو کھلادو'' تو اس میں اباحت کافی ہے۔ اور جس کو ''ایتاء'' سے اجازت دے کہ '' اسے فلاں کو دے دو'' تو اس میں تملیک ضروری ہے۔'' تو آنکھ کھول کر دیکھ لیجئے کہ تملیک واباحت آپس میں قسیم ہیں، یا ایک دوسرے کی قسم!
 (۱؎ شرح الوقایہ         کتاب الطہارۃ     المکتبۃ الرشیدیہ دہلی    ۱ /۰۶۔ ۱۰۵)

(۲؎ درمختار         باب کفارۃ الظہار     مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۲۵۱)

(مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر     باب الظہار         داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۴۵۳)
اوما علمت ان مولی الغزی لما قال ان الزکوٰۃ تملیک ۳؎ الخ قال المحقق العلائی خرج الاباحۃ ۴؎ او ما عرفت ان الامام صدر الشریعۃ لما قال فی النقایۃ تصرف تملیک ۵؎ یعنی الزکوٰۃ قال العلامۃ الشمس محمد فی شرحہا فیہ اشارۃ الی انہ لایجوز صرف الاباحۃ ۱؎ الخ
امام غزی نے فرمایا:
''الزکوٰۃ تملیک:
زکوٰۃ میں فقیر کو مالک بنانا ضروری ہے۔''
علامہ علائی فرماتے ہیں:'' اس سے اباحت نکل گئی'' امام صدر الشریعۃ نے فرمایا: ''(الزکوٰۃ) تصرف تملیکا'' زکوٰۃ تملیک کے طور پر خرچ کی جائے گی، علامہ شمس محمد نے اس کی شرح میں کہا: اس میں اشارہ ہے کہ زکوٰۃ کو کسی کے لئے مباح کیا تو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی
 (۳؎ درمختار شرح تنویر الابصار     کتاب الزکوٰۃ     مطبع مجتبائی دہلی        ۱/ ۱۲۹)

(۴؎درمختار شرح تنویر الابصار     کتاب الزکوٰۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۲۹)

(۵؎ مختصر الوقایہ فی مسائل الہدایۃ     فصل مصرف الزکوۃ     نور محمد کارخانہ کتب کراچی    ص۳۷)

 (۱؎ جامع الرموز         کتا ب الزکوٰۃ مصرف الزکوٰۃ     مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۲ /۳۳۸)
Flag Counter