| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ) |
بذٰلک افتیت غیر مرۃ وکتبت فیہ فتوٰی مفصلۃ اذ سئلت عنہ لتسع بقین من ذی الحجۃ عام الف وثلثمائۃ وخمس من ھجرۃ من لولاہ ماصلیت الخمس، ولا لاح قمر ولا بزغت شمس، ولا اقبل غد ولا ادبر امس، علیہ وعلی آلہ الغر الکرام افضل صلاۃ واکمل سلام واخری مجملۃ اذ ورد علی السؤال لسبع خلون من ذی القعدۃ الحرام فی العام الذی یلی ذٰلک العام وہما مثبتتان فی المجلد الرابع من مجموعۃ فتاوٰی المبارکۃ ان شاء اﷲ تعالٰی الملقبۃ بالعطایا النبویۃ فی الفتاوٰی الرضویۃ جعلہا اﷲ نافعۃ للمسلمین ومقبولۃ لدی العالمین وحجۃ لعبدہ یوم الدین اٰمین الہ الحق اٰمین۔
فعند ذٰلک نازعنی شرذمۃ من الہندیین اکثرہم من الوہابیۃ المبطلین زاعمین ان البیع بالدراہم مطلقا ولو للقربات یوجب التصدق حتی لایجوز لہ الصرف الی مانوی من القرب بل لایخرج عن العہدۃ الا بالاداء الی الفقیر علی وجہ التملیک واحتج الاصاغر منہم علی ذٰلک بعبارتی الہدایۃ والدر المذکورتین وقد بینا ما ہو المراد بہما واثبتنا عرش التحقیق علی انہ لامساس لشیئ منہما بمز عوم القوم، فاغنانا ذٰلک عن الاسترسال مرۃ اخری فی رد کلامہم۔ فانہ لشدۃ وہن نفسہ غنی عن ایھان غیرہ، فلئن سألتہم ہل الکلام ہہنا اعنی فی قول الہدایۃ والدر فی بیع یکرہ لافی غیر۔ لیقولن نعم، ولئن سألتہم ہل البیع بالدراہم یکرہ مطلقا لیقولن لا، قل فانی تذہبون، ولئن قالوا فی الاول لا۔ لقضت علیہم حجتہم نفسہا بالخطاء والجہالۃ ولئن قالوا فی الاخر نعم فکلامہم انفسہم مناد علیہم بالبہت والبطالۃ، فانہم ایضا معترفون بجواز البیع للتصدق من دون کراہۃ وان لم یعترفوا لاتیناہم بجنود من نصوص العلماء، لاقبل لہم بہا۔ فناہیک بہذاالقدر مشبعا لہم ومزیلا لوہم عرض بالہم۔
میں نے بارہا یہی فتوٰی دیا اور اس موضوع پر ایک مفصل فتوٰی ۲۱/ ذی الحجہ ۱۳۰۵ھ کو لکھا، اور دوسرا مجمل فتوٰی آئندہ سال ذی القعدہ میں دیا یہ دونوں فتاوٰی میرے فتاوٰی کی چوتھی جلد میں ہیں، تو میرے ان فتووں کی مخالفت ہندیوں کی ایک جماعت نے شروع کی جن میں اکثر وہابیہ ہیں، ان کاخیال ہے کہ کھال کی بیع دراہم کے ساتھ مطلقا ناجائز ہے۔ خواہ نیت کارثواب کی ہی کیوں نہ ہو، ان کا صدقہ کرنا واجب ہے۔ وہ بھی اسی طرح کہ فقیر کو اس کا مالک بنادے، کسی بھی دوسرے مصرف میں خواہ مصرف خیر ہی کیوں نہ ہو صرف کرنا جائز نہیں اصاغر نے توہدایہ اور درمختار کی انھیں دونوں عبارتوں سے سند پکڑی ہے، جس کا مفصل بیان اوپر گزرا تو ہم کو دوبارہ ان کی تردید کرنی ضروری نہ تھی، ان کی بات حددرجہ کمزور ہے۔ کیونکہ ان سے خود پوچھ دیکھو کہ ہدایہ اور درمختار کی عبارت بیع مکروہ کے بیان میں ہے۔ یا کسی دوسرے کے بیان کے لئے، توکہیں گے بیع مکروہ کے لئے پھر ان سے پوچھ کیا کھال کی بیع مطلقا مکروہ ہے تو کہیں گے نہیں، تو اب فیصلہ کے لئے کیا باقی رہ گیا، اور اگر اول میں پلٹ کر جواب دیں کہ صرف بیع مکروہ کی نہیں، تو ان کا نفس انھیں خود جھٹلائے گا، اور ثانی میں اگرکہیں ہاں، تو ان کی بات خود انھیں کو جھٹلارہی ہے کیونکہ وہ بھی صدقہ کے لئے بیع جائز قرار دیتے ہیں، اور اگر وہ اس بیع کے جواز کا انکار کرینگے تو ہم ان کو نصوص علماء کے لشکروں سے آسودہ کردیں گے۔
ولکنی اقول لاغرو من نفر قاصرین لایکادون یمیزون بین الغیث والسمین والرخیص والثمین والمدین والضمین والشمال والیمین، انما العجب من کبیر ہم الگنگوہی المدعی طول الباع وعظم الذراع علی مافیہ من انواع (عہ) الابتداع حیث زاد غباوۃ علی الاتباع واخذ یتشبث بما قدمنا عبارتی العینی والکافی ''انہ تصرف علی قصد التمول'' الی قولہ ''فیکون خبیثا فیجب التصدق وانہ اذ تمولہا بالبیع ۱؎ الی قولہ فوجب التصدق ۲؎ فان کلامی الہدایۃ والدر ، وان کان حجتین علیہم لالہم لکن لا کہاتین الناصتین بان الکلام فی صورۃ التمول لامطلق التبدل، لاسیما کلام الامام البدر المبین کالبدر، ان وجوب التصدق لا جل الخبث والخبث لکراہۃ البیع، وکراہۃ البیع لقصد التمول فیالیت شعری فیظن الرجل ان کل تبدل بمستہلک تمول، فیحکم بکراہۃ البیع بہ مطلقا ام لا یدری الغرق بین التمول والتقرب حتی یحتج علی الضد بالضد ام یجیز قیاس المباین علی المباین والخبیث علی الطیب، والمنہی عنہ علی الماذون فیہ۔ بل المندوب الیہ فہل ہذا الاشیئ، نکرا۔ وامرا مرا۔ وایا ما کان فالی اﷲ الضراعۃ لمنح البراعۃ ومنع الشناعۃ۔
اگر یہ جھوٹے لوگ غلطی میں پڑگئے جو موٹے اور دبلے۔ سستے اور مہنگے اور دائیں بائیں کی تمیز نہیں رکھتے تو تعجب کی بات نہ تھی تعجب تو اس بات پر ہے کہ ان سب کے امام گنگوہی صاحب جو طول باع و و سعت اطلاع کے مدعی ہیں انھوں نے کیسے یہ فتوٰی دیا اور اپنی سابقہ گمراہیوں میں اضافہ کرلیا، اور سند میں عینی اور کافی کی عبارت پیش کی، ہدایہ اور در کی عبارت ہی ان کے خلاف حجت تھیں، لیکن عینی اور کافی کی عبارتیں تو ان کا صریح رد ہیں خصوصا ہدایہ کی عبارت میں تو تصدق کی علت خبث کوقرار دیا ہے۔ اور خبث کی وجہ بیع کی کراہت تسلیم کیا ہے۔ اور بیع کی کراہت کی وجہ تمول کو گردانا ہے تو کیا یہ آدمی دراہم کے ساتھ بیع کو مطلقا بیع متمول گردانتاہے۔ یا تمول اور تقرب کا فرق نہیں جانتا،ضدکو ضد پر قیاس کرنے کو اور خبیث کو طیب پر محمول کرنے کو اور بیع منہی عنہ کو بیع جائز پر اعتبار کرنے کو روا قرار دیتا ہے، یہ کتنی شنیع بات ہے ہم خدا کی اس سے پناہ مانگ رہے ہیں۔
عہ: ہذا کان اذذاک ثم ترقی بہ الحال فی الغوایۃ والضلال فوقع فی الکفر البراح واختارالارتداد الصراح واستحب العمی علی الہدی نعوذ باﷲ من الہلاک والردی ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العزیز الحکیم ۱۲ قدس سرہ العزیز
یہ حکم تو اس کے حال سابق پر تھا پھر گمراہی اور ضلالت میں اس کا حال مزید ترقی کرگیا پس وہ کفرظاہر میں جا پڑا اورارتداد صریح کو اختیار کیا اور ہدایت پر گمراہی کو اختیار کیا، ہم ہلاکت وبربادی سے اللہ تعالٰی کی پناہ مانگتے ہیں
لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العزیز الحکیم ۱۲ قدس سرہ (ت)
(۱؎ البنایہ فی شرح الہدایہ کتاب الاضحیہ المکتبۃ الامدادیہ مکۃ المکرمۃ ۲/ ۱۹۰) (۲؎ الکافی شرح الوافی )
قال الرجل ہداہ اﷲ تعالٰی الی مسلک اہل السنۃ والجماعۃ اذا باع المضحی جلد الاضحیۃ بالدراہم سواء کان البیع للتمول اوبنیۃ التصدق تعین تصدقہ ثمنہ کالنذر وہذا ہو معنی الصدقۃ الواجبۃ۔ قال العینی فی شرح الہدیۃ انہ تصرف علی قصد التمول وقد خرج عن جہۃ التمول فاذا تمول بالبیع وجب التصدق لان ہذا الثمن حصل بفعل مکروہ، فیکون خبیثا فیجب التصدق اھ وفی الکافی فاذا تمولہا بالبیع انتقلت القربۃ الی بدلہ فوجب التصدق ۱؎ اھ معرباملخصا۔
رد: اللہ تعالٰی اس شخص کو مذہب اہلسنت وجماعت کی ہدایت دے، اس نے کہا: ''قربانی کرنیوالے نے جب جلد دراہم کے عوض بیچ دی تو تمول (کسب زر) کی نیت ہو یا صدقہ کی اس کے دام کا صدقہ کرنا واجب ہوگیا جیسے نذر کا صدقہ واجب ہوتاہے۔ عینی نے شرح ہدایہ میں کہا یہ قصہ تمول پر تصرف ہے اور قربانی کسب زر کا ذریعہ ہونے سے نکل چکی ہے۔ تو جب بیچ کر کسب زر کیا تو صدقہ واجب ہوگیا کیونکہ یہ ثمن فعل مکروہ سے حاصل کیا تو خبیث ہوگا اور صدقہ واجب''۔ اور کافی میں ہے جب اس سے تمول کیا تو قربت کھال سے منتقل ہوکر اس کے بدل میں چلی گئی تو اس کاتصدق واجب ہوا۔اس کلام سے کم از کم یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ شخص مول او ر تقرب کے فرق سے آگاہ ہے بھی تو بیع تمول اور بیع تقرب کو دو علیحدہ قسمیں قرار دے کر حرف تردید سے بیان کیا کہ تمول ہو یا صدقہ کی نیت دام کا صدقہ واجب ہوگیا، ہاں لاعلمی یا تجاہل عارفانہ میں لفظ تقرب کو تصدق سے بدل دیا کیونکہ کلام تو مطلقا کار ثواب کے لئے بیع کرنے سے متعلق ہے۔