| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ) |
(۵) اور پانچویں صاحب ہندیہ کا یہ کلام کہ انھوں نے صاحب تبیین کے کلام کو نقل کرکے فرمایا: ''یہ مسئلہ اسی طرح ہدایہ اور کافی وغیرہ میں ہے'' تو انھوں نے تو منہ بھر کر گواہی دے دی کہ صاحب تبیین اور ہدایہ کی عبارت کا مطلب ایک ہی ہے۔
(۱؎؎ المستدرک للحاکم کتاب التفسیر (تفسیر سورۃ الحج) درالفکربیروت ۲/ ۳۹۰) (۲؎ الہدایۃ کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸) (۱؎ درمختار کتاب الاضحیہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۴) (۲؎ الہدایہ کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸) (۳؎ الکافی شرح الوافی) (۱؎ تبیین الحقائق کتاب الاضحیہ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ بولاق مصر ۶/ ۸) (۲؎ فتاوٰی ہندیہ الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۰۱)
ثم بعد زمان لما من سبحنہ وتعالٰی علی عبدہ الضعیف بشراء غایۃ البیان شرح الہدایۃ للعلامۃ الاتقانی رحمہ اﷲ تعالٰی، رأیتہ شرح کلامہ بمالم یبق للوہم مجالا، حیث قال یرید بہ ان القربۃ فاتت عن الجلد بما باعہ ولکن الاضحیۃ ساقط عنہا معنی التمول، فلما باعہ بالدراہم وجب علیہ التصدق بہا، لئلا یلزم التمول بشیئ من الاضحیۃ اوبدلہا ۳؎ فافاد کالکافی وغیرہ ان المنہی عنہ ہو البیع للتمول، وزادان المراد بیع یفوت القربۃ فخرج البیع لاقامۃ قربۃ، فانہ لایفوتہا بل یحصلہا وہو تقرب لاتمول، فاتضح الصواب وزال الارتیاب، والحمدﷲ فی کل باب ہکذا ینبغی التحقیق اذا ساعد التوفیق، ومن المولٰی تعالٰی ہدایہ الطریق فقد بان بنعمۃ اﷲ جل وعلا ان البیع بالدراہم لیس مما یمنع مطلقا بل اذا کان علی جہۃ التمول، وہوا لذی یورث الخبث وعلیہ یتفرع وجوب التصدق، اما اذا باع بہا لیصرف فی القربات، فذٰلک سائغ وسائر وجوہ القرب، مطلقۃ حینئذ لاحجر فی شیئ منہا۔
اس کے بعد غایۃ البیان علامہ اتقانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ دیکھنے کی توفیق ہوئی تو انھوں نے تو اوہام کے سارے بادلوں کا صفایا کردیا فرماتے ہیں: ''ہدایہ کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ کھال کی بیع کے بعد اس سے قربت اور ثواب ہونے کے معنی ختم ہوگئے حالانکہ قربانی سے کسب زر اور حصول زر کی غرض ساقط ہے۔ تو جب دراہم سے اس کو بیچ دیا تو اس کا صدقہ واجب ہے تاکہ قربانی یا اس کے معاوضہ سے کسی قسم کا تمول نہ لازم آئے''
تو انھوں نے بھی کافی کی طرح یہ بات صاف کردی کہ ہدایہ کی عبارت سے مراد وہ بیع ہے جو تمول کے لئے ہو، اور اتنا اضافہ فرمایا کہ یہ وہ بیع ہے جس سے کار ثواب اور قربت ہونے کی نفی ہوتی ہے تو وہ بیع اس حکم ممانعت سے خارج ہوگئی جو ادائے قربت اور حصول ثواب کے لئے ہو،
والحمدللہ رب العالمین۔
تویہ امر واضح ہوگیا کہ ممنوع مطلقا بالدراہم نہیں، بلکہ جب تمول کے طور پر ہو یہی بدل میں خبث پیداکرتی ہے، اور اسی سے تصدق واجب ہوتاہے۔ اور کار ثواب کے لئے بیچنے میں کوئی حرج نہیں اگر چہ وہ کار ثواب کسی قسم کا ہو۔
(۳؎ غایۃ البیان )