| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ) |
عہ: ثم بعد زمان لما من المولی سبحنہ وتعالٰی علی بشراء غایۃ البیان للعلامۃ الاتقانی رایت نقل عن الامام شیخ الاسلام بکل مایشیرالی ہذا الذی نحوت الیہ حیث قال قال شیخ الاسلام خواہر زادہ رحمہ اﷲ تعالٰی فی مبسوطہ اما اللحم فالجواب فیہ کالجواب فی الجلد ان باعہ بالدراہم تصدق بثمنہ وان باعہ بشیئ اٰخر ینتفع بہ جاز کما فی الجلد وانما ذکر محمد رحمہ اﷲ تعالٰی البیع فی حق الجلد دون اللحم لانہ بنی الامر علی ماہو الغالب وفی الغالب کما ینتفع بعین الجلد یباع بشیئ اٰخر وینتفع بہ وفی اللحم فی الغالب ینتفع بہ ولا یباع۲ اھ فاشار ان المراد بالبیع ہو الذی یقصد بہ الانتفاع ۱۲ منہ قدس سرہ۔
پھر کچھ زمانہ بعد جب اللہ تعالٰی نے مجھ پر احسان فرمایا علامہ اتقانی کی غایۃ البیان خریدلینے کا، اسے میں نے دیکھا کہ انھوں نے امام شیخ الاسلام سے وہ سب کچھ نقل فرمایا جس کی طرف میں نے اشارہ کیاہے جہاں انھوں نے فرمایا کہ شیخ الاسلام خواہر زادہ رحمہ اللہ تعالٰی نے اپنی مبسوط میں فرمایا کہ گوشت کی بابت حکم وہی ہے جو کھال میں ہے کہ اگر دراہم سے فروخت کیا تو صدقہ کرے اور اگر کسی اور نفع آور چیز سے فروخت کیا تو جائز ہے جیسا کہ کھال کاحکم ہے امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے صر ف کھال کے متعلق بیع کاحکم اس لئے ذکر کیا کہ انھوں نے غالب رواج پر بنا کر تے ہوئے فرمایا کیونکہ غالب طو ر پر جلد کو نفع یا نفع مند کے بدلے فروخت کیا جاتاہے اور گوشت میں غالب یہی ہے کہ اس سے نفع حاصل کیا جاتاہے اور اسے فروخت نہیں کیا جاتا اھ تو اس سے اشارہ ہوا کہ بیع سے مراد صرف وہ جس سے انتفاع مقصو دہو ۱۲ منہ قدس سرہ، (ت)
(۱؎ الہدایۃ کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸) (۲؎ غایۃ البیان)
(تنبیہ نفیس) اقول وبہذا التحقیق استبان والحمدﷲ معنی قول الہدایۃ ''لوباع الجلد واللحم بالدراہم اوبما لاینتفع بہ الابعد استہلاکہ تصدق بثمنہ ۱؎ اھ'' فانما معناہ اذا باع بہا لاجل الانتفاع لا البیع بہا مطلقا فانہ رحمہ اﷲ تعالٰی ونفعنا ببرکاتہ فی الاولٰی والاخرٰی قال اولا یعمل منہ آلۃ تستعمل فی البیت ۲؎ ثم قال ''ولا باس بان یشتری بہ ماینتفع بہ فی البیت بعینہ مع بقائہ ۳؎'' ثم قال ''ولایشتری بہ مالا ینتفع بہ الا بعد استھلاکہ ۴؎، وقال فی تعلیلہ ''اعتبارا بالبیع بالدراہم ۵؎'' قال ''والمعنی فیہ انہ تصرف علی قصد التمول ۶؎'' ثم قال ''ولو باع الجلد اواللحم ۷؎'' الخ فکلامہ کلہ، بدؤہ وثناؤہ وفتحہ وانتہاؤہ فی البیع لاجل الانتفاع، لا مطلق البیع، فکیف ولو ارید المطلق لما ساغ قولہ ''ولایشتری بہ مالا ینتفع بہ''الخ فان شراء ذٰلک لاجل التصدق جائز قطعا و لما صح قولہ ''اعتبارا بالبیع بالدراہم'' لمثل مابینا وبطل تعلیہ بانہ ''تصرف علی قصد التمول'' فلیس کل بیع بالدراہم مما یصدق علیہ ذٰلک کما اسلفنا تحقیقہ۔
عبارت ہدایہ کی تشریح: ہماری اس تحقیق سے ہدایہ کے مندرجہ ذیل قول کے معنی بالکل واضح ہوگئے اور مانعین کااستدلال باطل ہوگیا، ''اگر جلد یا گوشت کو دراہم یا ایسی چیزوں کے ساتھ بیچاجنھیں ختم کئے بغیر ان سے انتفاع نہ ہوسکے تو اس کی قیمت صدقہ کرے'' (۱) اس عبارت میں بیچنے سے مراد اپنی ذات کے لئے بیچنا ہے۔ مطلقانہیں کیونکہ پہلے انھوں نے یہ فرمایا کہ کھال سے گھریلو کام کے لئے کوئی سامان بنایا جاسکتاہے پھر کہا ایسی چیز جسے باقی رکھ کر اس سے فائدہ اٹھایا جائے __________ اس سے بدل بھی سکتے ہیں تو ان دو مسئلوں میں انتفاع ذاتی ہی کا بیان ہے اس کے بعد فرماتے ہیں کہ ایسی چیز سے نہ بدلیں جو استعمال میں خرچ ہوجائے، تو یہ ممانعت بھی ذاتی استعمال والی ہی بیع کے لیے ہوئی، اب اسی بیع کی ممانعت کی علت بیان فرماتے ہیں کہ یہ بیع بالدراہم کی طرح ہے۔ تو ظاہر ہے کہ اس سے وہی بیع بالدراہم مرا د ہوگی، جو ممنوع ہے صدقہ کے لئے تو دراہم کے عوض بیچنا جائز ہی ہے۔ اور آگے اسی کے لئے فرماتے ہیں کہ اس میں معنی تمول ہے تو یہ کلام ابتداء سے انتہاء تک پکار پکار کر اعلان کررہا ہے کہ اس بیع سے مراد ذاتی انتفاع والی بیع ہے مطلقا بیع نہیں،ورنہ حضرت کی ان عبارتوں کے کوئی معنی نہ ہوں گے
''مالاینتفع بہ''
(جس سے نفع نہ اٹھایاجاسکے)
اعتبارا بالبیع بالدراہم
(بیع بالدراہم پر قیاس کرتے ہوئے)
وانہ تصرف علی قصد التمول
(یہ تمول کی نیت سے تصرف ہوا)
(۱؎ تا ۷؎ الہدایہ کتاب الاضحیہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸)
وقولہ ''ولو باع الجلد الخ'' انما ہو متفرع علی تلک المسئلۃ فلا یراد بہ الاماما ارید بہا، کانہ لما بین عدم جوازہ نشاء السوال فقیل اذا لم یجزہذا۔ فان فعلہ فاعل فما ذا علیہ۔ فاجاب بانہ یتصدق بثمنہ ثم نشاء السوال بان قولکم ہذا یفید صحۃ البیع فکیف بحدیث ''من باع جلد اضحیتہ فلا اضحیۃ لہ ۱؎'' فاجاب ''بانہ الحدیث۔ انما یفید کراہۃ البیع اما البیع جائز لقیام الملک والقدرۃ علی التسلیم ۲؎ اھ'' وہذا دلیل اٰخر علی ان لیس کلام فی مطلق البیع بالدراہم، فان البیع بہا لاجل التصدق لایکرہ اصلا، وقد بین ہذا، فابین من ھنا مولانا العلامۃ العلائی صاحب الدر حیث قال بعد قولہ المولی الغزی رحمہما اﷲ تعالٰی ''تصدق بثمنہ اھ مفادہ صحۃ البیع مع الکراہۃ۔ وعن الثانی، باطل لانہ کالوقف مجتبٰی ۱؎ اھ فقد نص ان قول التنویر کالہدایۃ تصدق بثمنہ'' یفید کراہۃ البیع فمحال ان یکون الکلام فی مطلق البیع بالدراہم، بل فی الصورۃ المکروہۃ فقط، وہی المارۃ فی قولہ ''لایشتری بہ مالا ینتفع بہ'' الی قولہ ''تصرف علی قصدالتمول۲؎ ومن اوضح الدلائل علی ذٰلک ایضا تعلیل الکافی شرح الوافی لمسئلۃ الہدایۃ بقولہ ''لان معنی التمول سقط عن الاضحیۃ فاذا تمولہا بالبیع انتقلت القربۃ الی بدلہ فوجب التصدق ۳؎ اھ فافادان الکلام انما ہو فی صورۃ التمول لاغیر، ولذا جاء تصویر المسئلۃ فی التبیین ومجمع الانہر وغیرہما من الاسفار الغر بلفظہ ''لایبیعہ بالدراہم علی نفسہ وعیالہ، فقد اوضحوا المرام، وازاحوا الاوہام وہذ الدلیل رابع علی ماذکرت۔ والخامس الموتر واﷲ یحب الوتر، ان نقل کلام التبیین فی الہندیۃ ثم قال ''وہکذا فی الہدایۃ و الکافی'' ۲؎ اھ فقد افصح بملا فیہ ان معنی کلام التبیین والہدایۃ واحد۔
اور اسی کے بعد صاحب ہدایہ کی یہ متنازع عبارت ''اگر جلد اور گوشت الخ'' تو اس کا مطلب مطلقا بیع کیسے ہوسکتاہے، یہ تو اسی حکم پر متفرع ہے، گویا کسی نے پوچھا کہ ذاتی اغراض کے لئے جو بیع بالدراہم ہوئی وہ تو ناجائز ہوئی، اب جو پیسہ اس سے حاصل ہوا کیا کیا جائے، تو فرمایا وہ مال خبیث ہے۔ اس کا صدقہ واجب ہے۔ ا س پر گویا پھر کسی نے پوچھا آپ کے حکم ''یہ مال خبیث ہے'' سے یہ پتہ چلتاہے کہ بیع ہوئی مگر فاسد، اور حدیث مبارک''لااضحیۃ لہ'' سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ یہ بیع باطل ہے۔ تو اس کا جواب اس طرح دیا کہ ''الحدیث انما یفید الکراہۃ'' یعنی حدیث سے بھی بطلان ثابت نہیں، مراد کراہت ہی ہے، کیونکہ بیع کے تو تمام ارکان پائے گئے کہ جانور بیچنے والے کی ملک ہے۔ اور مشتری کو اس پر قبضہ بھی دلاسکتاہے۔ اس لئے بیع تو ہوگئی، مگر قصد تمول اور عدم بقائے بدل کی وجہ سے فاسد ہوئی
(۲) صاحب ہدایہ کایہ بعد والا کلام بھی اس بات کی دلیل ہے کہ بیع سے ان کی مراد مطلقا بیع بالدراہم نہیں کیونکہ تصدق کے لئے بیچنے کو تو سبھی جائز کہتے ہیں۔ (۳) یہیں سے ''صاحب درمختار'' کے کلام کا مطلب بھی واضح ہوگیا جو انھوں نے امام غزی کے قول ''تصدق بثمنہ'' کی شرح میں فرمایا ہے اس کامفاد یہ ہے کہ ایسی بیع جائز ہے مگر فاسد ہے البتہ قاضی ابویوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اس جانور کووقف کی طرح قرار دے کر اس کی بیع کو باطل قرار دیا، اس عبارت میں اس بات کی صراحت ہے کہ تنویر کا لفظ تصدق بثمنہ بالکل ہدایہ کی عبارت تصدق بثمنہ کی طرح ہے۔ جو مطلب اس کا ہے وہی تنویر کی عبارت کا بھی ہے۔ تو ایسی صورت میں محال ہے کہ اس عبارت میں مطلق بیع مراد ہو بلکہ وہی مراد ہے جو ہدایہ کی عبارت ''لایشتری بہ مالاینتفع'' سے تصرف علی قصد التمول تک میں مرا دہے۔
(۴) اس مقصد پر اس سے بھی واضح دلالت کافی شرح وافی کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں: ''قربانی کے جانور سے تمول کے معنی کی نفی ہوتی ہے۔ لیکن جب اس کو تمول یعنی کسب زر کی نیت سے بیچا تو اب پھر وہ اضحیہ سے نکل گیا، تو اب اس کا صدقہ واجب ہوگا'' تو انھوں نے تو نص ہی کردیا کہ ممانعت کا حکم صورت تمول میں ہے۔ کسی اور صورت میں نہیں، اس لئے اس مسئلہ کو تبیین، مجمع الانہر وغیرہ کتابوں میں اس طرح بیان کیا گیا: ''کھال کو اپنے اور بال بچوں کے لئے دراہم کے عوض نہ بیچے'' تو انھوں نے توتسمہ ہی لگانہ چھوڑا، یہ چوتھی دلیل تھی۔