Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
108 - 126
 (۱؎ الہدایہ     کتاب الاضحیۃ     مطبع یوسفی لکھنؤ    ۴/ ۲۲۸)

(۱؎ غایۃ البیان    )
ثم ان الحاکم روی فی تفسیر سورۃ الحج من مستدرک بطریق زیدن الحباب عن عبداﷲ بن عیاش المصری عن الاعرج عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من باع جلد اضحیتہ فلا اضحیۃ لہ ۲؎۔ ورواہ البیہقی ایضا فی سننہ الکبرٰی، قال الحاکم صحیح الاسناد ولم یخرجاہ ۱؎۔

قلت وہذا وان ردہ الذہبی فی التلخیص فقد تلقاہ العلماء بالقبول و بہذا یتقوی الحدیث وان ضعف سندا،

بیدانہم کما تری لایجرون علی اطلاقہ فقد اتفقوا علی جواز البیع للتصدق، ونص ائمتنا فی الصحیح عندہم علی جواز البیع بما یبقی فکان الشان فی تنقیح معنی الحدیث، 

وانا اقول وباﷲ التوفیق من تامل نظم الحدیث وامعن النظر فی القواعد الفقہیۃ والجأہ ذٰلک الی الجزم بان المراد بیع خاص لامطلق التبدل کیفما کان، کیف وان التصدق من مقاصد لاضحیۃ المأذون فیہا شرعا، وان للبدل حکم المبدل وقد ثبت شرعا جواز دفع القیمۃ فی زکوٰۃ وفطرۃ ونذرو کفارۃ کما نص علیہ فی الہدایۃ والکافی والکنز والتنویر وغیرہا عامۃ کتب المذہب، فاذا جاز ہذا۔ والصدقات واجبۃ۔ فلان یجوز وہی نافلۃ اولی فافہم،
ایک شبہ اور اس کا جواب :ـ امام حاکم نے اپنی مستدرک میں سورہ حج کی تفسیر میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے واسطہ سے ایک روایت نقل کی ہے، امام بیہقی نے بھی سنن کبرٰی میں اسے نقل کیا، حاکم نے اس حدیث کو صحیح الاسناد بتایا، لیکن امام ذہبی نے تلخیص میں اس پر جرح کی، جو کچھ بھی ہو یہ حدیث علمائے اسلام میں مقبول ومتداول ہے۔ اوریہ چیز ضعیف حدیث کو قوی بنادیتی ہے۔ الفاظ حدیث یہ ہیں :
من باع جلد اضحیتہ فلااضحیۃلہ
 (جس نے قربانی کی کھال بیچی اس کی قربانی نہیں) 

اس حدیث سے اگر کسی کو شبہہ ہو کہ امور خیر کے لئے بھی اس حدیث کی رو سے ناجائز ہوئی، تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث اپنے اطلاق پر نہیں جس کے خارجی، داخلی اور شرعی سبھی قسم کے شواہد ہیں۔
خارجی دلیل تویہ ہے کہ سارے علماء اس امر پر متفق ہیں کہ صدقہ کے لئے کھال کی بیع جائز ہے اور خاص علمائے احناف تو باقی رہنے والی چیز کے بدلہ میں بھی اس کی بیع جائز قرار دیتے ہیں اور ظاہر ہے کہ سب علماء حدیث کے خلاف اتفاق نہیں کرسکتے، اس لئے لامحالہ سب کے نزدیک یہ حدیث مطلق نہیں ہوئی بلکہ مؤول ہے۔

شرعی شہادت یہ ہے کہ شریعت نے قربانی کے گوشت وغیرہ کے جو مقاصد قرار دئیے ہیں ان میں صدقہ بنیادی مقصد ہے۔ اور ازروئے شرع بدل پر وہی حکم لاگو ہوتاہے جو مبدل کا تھا، چنانچہ زکوٰۃ فطرہ میں جس طرح اصل (غلہ چاندی سونا وغیرہ) ادا کرنا جائز ہے۔ اسی طرح اس کی قیمت بھی، تو قربانی میں بھی یہی ہونا چاہئے کہ جس طرح گوشت اور کھال کا صدقہ جائز ہے اس کی قیمت کا صدقہ بھی جائز ہو۔
 (۱؂،۲؎ المستدرک للحاکم     کتاب التفسیر سورۃ الحج دارالفکر بیروت    ۲/ ۳۹۰)
 اما عدم جواز ذلک فی الہدایۃ والضحایا بان لا یریق الدم ویعطی القیم، فان القربۃ فیہا بالاراقۃ دون التصدق، وہی غیر معقولۃ، فلا تستبدل ولا تتقوم، کما افادہ فی الہدایۃ والبحر وغیرہما،
ایک ذیلی شبہہ اور اس کا جواب: اصل قربانی میں تو ایسا نہیں ہوتا کیونکہ کوئی شخص قربانی کے بجائے اس کی قیمت صدقہ کرنا چاہے تو شرعا جائز نہیں، قربانی ہی کرنی ہوگی، اس کا جواب یہ ہے کہ قربانی میں اصل مقصد خون بہانا ہوتاہے جو قیمت صدقہ کرنے سے حاصل ہوتا۔ا ور چونکہ قربانی کا حکم خلاف قیاس ہے۔ اس لئے اس میں اپنی عقل سے بدلہ مقرر کرنا صحیح نہیں، جیسا کہ بحر وہدایہ وغیرہ میں ا س کی تصریح ہے اور گوشت اور کھال کا مقصد صدقہ ہے۔ اس لئے قیمت سے بھی ادا ہوجاتاہے۔
ثم انا نجد الجزاء ای فلا اضحیۃ لہ ۱؎ اعظم شاہد علی عدم الاطلاق، فان من باع للتصدق فقد اتی بما کان مندوبا الیہ فی الاضاحی، فکیف یجازی بانتفاع قربۃ مع انہ لم یزد علی القربۃ الا قربۃ مطلوب فی خصوص المحل، وقضیۃ الجزاء، ترتبہ علی فعل ینافی التضحیۃ و ینفی الاضحیۃ علی مافیہ من التاویل لکونہ فی معنی الرجوع عن القربۃ، فلا یمکن ان یکون من باب القربۃ، بل ولا من باب الاکل والادخار فان الشرع قد رخص فیہا ایضا مثل الائتجار ولو کان فیہما ماینا فی الاضاحی ویصح ان یترتب علیہ نفی الاضحیۃ۔ لما اذن فیہما فعند ذٰلک رأینا ان المراد ہو البیع بحیث یخرج عن جمیع مارخص لہ الشرع فیہ، وما ہو الاالبیع بمستھلک لا لان یصرف الی قربۃ فان الاکل وہو الانتفاع بہ عاجلا قد ذہب بنفس التبدل والادخار (عہ) لکونہ لانفع بہ ببقائہ، والائتجار لعدم التقرب فخرج عن الوجوہ الثلثۃ الشرعیۃ، فکان ہو الملحوظ بالنہی المورث للخبث الموجب للتصدق، اما اذا باع ماینتفع بہ باقیا فالا کل وان فقد والائتجار و ان لم یکن فالا دخار باق، لان البدل ینوب المبدل وہو مبقی فیکون مدخرا، وکذا اذا باع بمستھلک لقربۃ فالاکل والادخار وان ذہب فالائتجار حاصل، وہو افضل الوجوہ فلا معنی للمنع وبہ ظہران مانحن فیہ اولی بالجواز من البیع بباق وہو مصرح بجوازہ فی عامۃ کتب المذہب فانکار جواز ہذا ان لیس تحکما فماذا،
داخلی شہادت یہ ہے کہ یہ حدیث مبارک بطور شرط وجزاء وار دہوئی، شرط یہ جملہ ہے: ''جس نے قربانی کی کھال بیچی'' اورجزا یہ ہے: ''اس کی قربانی نہیں ہوئی''

پس اس جز ا کا تقاضا یہ ہے کہ شرط ایسی چیز ہو جس پر قربانی کی نفی مرتب ہوسکے، اور قربانی قربانی نہ رہ جائے، نہ کہ وہ چیز جس سے قربانی کا مقصد بدرجہ اتم حاصل ہو، یعنی شرط ایسی بیع ہوگی جو ثواب کے لئے نہ ہو، اور وہ بیع جو حصول ثواب کی غرض سے ہو، یا وہ بیع جو باقی رہنے والی چیزسے ہو، یا اس کو کھالیا جائے، تو یہ افعال لااضحیہ لہ (اس کی قربانی نہیں) کی شرط نہیں بن سکتے کیونکہ ان کی تو خود حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اجازت دی ہے تو لامحالہ شرط میں وہی بیع مراد ہوگی جس کی کھال یا گوشت کو تمول کے لئے بیچا گیا ہو کیونکہ ایسی بیع سے قربانی کے مقاصد ثلثہ فوت ہوگئے، بیع کی صورت میں کھانا منتفی ہوگیا، یہ ظاہر ہے۔ ادخار (جمع کرنا) اس لئے منتفی ہوگیا کہ ایسی چیز کے عوض بیچا جو باقی رہنے والی نہیں ہے کہ کہا جائے کہ بدل اصل کا قائم مقام ہے اور طلب ثواب اس لئے منتفی ہوگیا کہ یہ بیع تمول اورکسب زر کی غرض سے ہوئی تو ایسی بیع کی صورت میں قربانی کے تینوں مقاصد منتفی ہوگئے،ا ور یہ کہنا بالکل چسپاں ہوگیا کہ لااضحیۃ لہ (اس کی قربانی نہیں) اور اس بیع سے جو قیمت حاصل ہوئی خبیث ہوئی، تو اس کا صدقہ واجب ہوگیا۔
برخلاف اس کے اگر باقی رہنے والی چیز سے بدلاتو اکل وثواب تو ضرور منتفی ہوا، مگر ادخار باقی رہا کہ بدل کا باقی رہنا اصل کا باقی رہنا ہے۔ اور ہلاک ہونیوالی چیز سے برائے ثواب بیچا تواکل وادخار تو ضرور منتفی ہوا۔ لیکن طیب ثواب بھی باقی ہے۔ اور یہ ان وجوہ ثلثہ میں سب سے افضل ہے۔ تویہ جائز ہوگا، اور اس کا انکار زیادتی اور زبردستی ہے،
عہ:  الادخار الا نتجار کلاہما بالنصب عطفا عن الاکل ۱۲ منہ قدس سرہ۔
ادخار اورائتجار دونوں نصب کے ساتھ ہیں لفظ اکل پر عطف کی بنا پر ۱۲ منہ قدس سرہ (ت)
 (۱؎ المستدرک للحاکم     کتاب الاضحیہ تفسیر سورۃ الحج         دارالفکر بیروت    ۲/ ۳۹۰)
وانت اذا تأملت ماالقیت علیک واخذت الفطانۃ بیدیک وجعلت الانصاف بین عینیک لعلمت ان ہذا ہو الغنی المفہوم من الحدیث فی اول النظر کما بعد الطلب الحثیث فان المتبادر من سیاق اللفظ ان یکون بیعہ (عہ) لاتنفاع لانہ عقد موضوع لذلک وہو الغالب فیہ وان یکون بالدارہم لانہ البیع المطلق، والبیع من کل وجہ اما المقایضۃ فتستوی فیہ جہتا البیع والشراء اما سائر المستھلکات ففی حکم الدراہم، ولذا جعلہافی الہدایۃ ہی الاصل۔ وقال فی سائر ہن اعتبار بالبیع بالدارہم ۱؎ ہذا کلہ ماخطر بالبال مستعجلا فانعم الفکر منصفا متاملا، فان وجدت شیئا یعرف وینکر فلم آلُ جہدا فی اتباع الغرر من ائمۃ النظر واﷲ الہادی الی عوال الفکر۔
ایک آسان بات: یہ لمبی اور دقیق بحث ترک بھی کردی جائے تو یہ ایک آسان اور سامنے کی بات ہے کہ لفظ بیع انتفاع کے لئے بیچنے پر دلالت کرتاہے۔ کیونکہ عقد بیع کی وضع ہی اسی غرض کے لئے ہوتی ہے۔ اوریہی لفظ بیع بالدراہم کی طرف بھی اشارہ کرتاہے کیونکہ بیع کی یہی صورت اصلی ہے۔ اور اشیاء سے تبادلہ میں تو بدلین پر قیمت اور بیع دونوں ہونے کااحتمال رہتاہے، اس لئے صرف لفظ باع بھی اس مقصد پر دلالت کرنے کے لئے کافی ہے کہ حدیث میں لفظ ''من باع'' سے خاص وہی بیع مراد ہے جو دراہم کے بدلے اپنے ذات کے تمول وانتفاع کے لئے ہو۔
شبہہ اوراس کا جواب: اگر کوئی یہ کہے کہ دیگر مستہلکات سے بھی تو بقول آپ کے بیچنا منع ہے۔ تو آپ کے اس قول کا کیا وزن رہا کہ لفظ بیع پر غور کرنے سے معلوم ہوجاتاہے کہ بیع ممنوع بالدراہم ہے۔ اس کاجواب یہ ہے کہ دیگر مستہلکات کے ساتھ بیع کی ممانعت دراہم کے ہی تابع ہوکر ہے۔ اصالۃً نہیں، اسی لئے تو ہدایہ میں دراہم کو ہی اصل قرار دیا ہے۔ اوربقیہ کو اسی پر قیاس کرتے ہوئے فرمایا:
اعتبار بالبیع بالدراہم
 (دراہم کی بیع پر قیاس کرتے ہوے)۔
Flag Counter