Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
107 - 126
(ج) توضیح وغیرہ میں تعارض کے وقت مطلق کے مقید پر محمول ہونے کی مثال دیتے ہوئے فرمایا گیا: ''اللہ تعالٰی نے کفارہ میں مطلقا تین روزے رکھنے کا حکم دیا، متفرق طور پر ہو یا مسلسل اس سے کچھ تعرض نہیں کیا
صِیَامُ ثلٰثۃٍ اَیّامٍ
 (تین یوم کا روزہ) لیکن حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کی قرائت
ثَلٰثَۃٍ اَیَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ
 (مسلسل تین دن) آیا، یہاں ایک حادثہ میں دو متعارض حکم واجب کئے گئے، کیونکہ آیت کا تقاضا یہ ہے کہ متفرق طور پر بھی روزہ رکھ لے تو کفارہ کے لئے کافی ہوگا اور متتابعات کا تقاضا یہ ہے کہ مسلسل رکھنا واجب۔ اس لئے یہاں مطلق کو مقید پر حمل کیا جائے گا''

تو ان علماء نے تعارض والی صورت کووجوب کے ساتھ خاص فرمایا:۔
 (۱؎ القرآن الکریم            ۵/ ۸۹)

(۲؎ التوضیح ولتلویح    فصل فی ذکر المطلق والمقید         مصطفی البابی مصر    ۱/ ۶۳ و ۶۴)
ولذا قال المولٰی بحرالعلوم ملک العلماء عبدالعلی اللکنوی قدس سرہ فی فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت، فیہ اشارۃ الی ان الحمل انما ہو اذا کان الحکم الایجاب دون الندب اوالا باحۃ اذا لاتمانع فی اباحۃ المطلق و المقید بخلاف الایجاب فان ایجاب المقید یقتضی ثبوت المؤاخذہ بترک القید وایجاب المطلق اجزاہ مطلقا ۱؎ اھ،
 (د) یہی بات ملا عبدالعلی بحرالعلوم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فواتح الرحموت میں فرمائی: ''مصنف کی عبارت سے یہ پتہ چلتاہے کہ مطلق کو مقید پر حمل کرنا احکام واجبہ کے ساتھ خاص ہے۔ احکام مستحبہ اور مباح ہونے میں کوئی تعارض نہیں، اس لئے کہ مطلق اور مقید دونوں کے مباح ہونے میں کوئی تعارض نہیں، البتہ احکام واجبہ میں تعارض ہے کہ مقید کا تقاضا یہ ہوگا کہ جس نے قید پر عمل چھوڑدیا، مجرم ہوا، اور مطلق کا تقاضا یہ ہوگا کہ کوئی جرم نہیں کیا، اس تعارض کو دفع کرنے کی ضرورت ہے۔ مطلق کو مقید مان لیا جاتاہے۔
 (۱؎ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی     فصل المطلق مادل علی فرد     منشورات الشریف الرضی قم ایران    ۱/ ۳۶۲)
قول الامام السغناقی فی النہایۃ علی مانقلہ فی البحر مقرا علیہ بل متمسکابہ من ان الاصح انہ لایجوز حمل المطلق علی المقید عندنا لا فی حادثۃ ولا حادثتین حتی جوز ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ التیمم بجمیع اجزاء الارض بحدیث جعلت لی الارض مسجدا و طہورا ولم یحمل ہذا المطلق علی المقید وہو حدیث التراب طہورا ۲؎ اھ فلعلہ اراد نفی زعم من زعم ان مذہب اصحابنا رضی اﷲ تعالٰی عنہم وجوب الحمل عند اتحاد الحادثۃ مطلقا، فافاد ان لیس ہذا من المناط فی شیئ بل لایجوز فی حادثۃ ایضا ای مالم یتمانعا فیضطر الیہ لدفع التعارض، الاتری ان امامنا الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ لم یحمل الارض علی التراب مع اتحاد الحادثۃ وعلی ہذا التقریر لا یتجہ ما اورد علیہ العلامۃ المحقق محمد بن عابدین الشامی قدس سرہ السامی فی ردالمحتار کما اوضحتہ فیما علقتہ علیہ وللعبد الضعیف ہہنا بحث شریف لو لا غرابۃ المقام لاتیت بہ۔
 (ہ) امام سغنا قی نے نہایہ میں فرمایا اور صاحب بحرالرائق نے ان کے قول کو سند کے طور پر ذکر کیا، ''صحیح یہی ہے کہ حادثہ چاہے ایک ہو چاہے چند، مطلق کو مقید پر حمل نہیں کیا جائے گا، دیکھو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا: ''ساری روئے زمین میرے لئے طہور بنائی گئی'' یہ مطلق ہے۔ دوسری حدیث میں فرمایا :
''التراب طہور''
 (مٹی پاک ہے) یہ خاص اور مقید ہے۔ ہمارے امام اعظم رحمہ اللہ نے عام کو خاص پر حمل نہیں کیا، اور اس کے سارے اجزا سے ہی تیمم جائز قرار دیا، اگر چہ حادثہ ایک ہی ہے۔

اس عبارت سے یہ سمجھ میں آتاہے کہ امام سغناقی ان لوگوں کو جواب دے رہے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ حنفیوں کے نزدیک اتحاد حادثہ وحکم ہوتو مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا حالانکہ دار ومدار حادثہ واحدہ یا متعددہ پر نہیں، تعارض پر ہے۔ اور اسی مجبوری سے عام کو خاص پر یا مطلق کو مقید پر حمل کیا جاتاہے۔ اور اسی سے ہمارے امام اعظم نے ایک حادثہ میں عام کو خاص پر حمل نہیں کیا کہ ان دوحکموں میں کوئی تعارض نہیں۔

(یہاں امام شامی کا ایک اعتراض ہے جس کا جواب ہم نے ان کی کتابوں پر لکھے ہوئے اپنے حاشیہ میں دیاہے)
علی ان لقائل ان یقول ان الائتجار ہہنا لو حمل علی التصدق لکونہ معہ کالمطلق مع المقید فکذٰلک یجب حمل الاطعام الواردۃ وعند احمد والشیخین وغیرہم فی حدیث سلمۃ بن الاکوع رضی اﷲ تعالٰی عنہ کلوا واطعموا وادخروا ۱؎۔
ایک اور دلیل: یہی حدیث حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے امام احمد وشیخین نے اس طرح روایت کیا :
 (۱)کلوا (کھاؤ) اطعموا (کھلاؤ) ادخروا (جمع کرو)
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب الاضاحی باب مایوکل من لحوم الاضاحی     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۸۳۵)
و عند احمد ومسلم والترمذی من حدیث بریدہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کلوا مابداء لکم واطعموا وادخروا ۱؎ وعند مسلم وغیرہ من روایۃ ابی سعیدن الخدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ کلو ا واطعموا واحبسوا وادخروا ۲؎، فان الاطعام ایضا مع التصدق کالائتجار مع انہ باجماع العلماء علی اطلاقہ جار للاتفاق علی اباحۃ الاباحۃ وعدم قصر الامر علی التملیک فافہم والمتأمل الموفق اذا نظر حدیث اُمنا رضی اﷲ تعالٰی عنہا مع ہذا الاحادیث (عہ) الاربعۃ القی فی روعہ ان المرادثمہ بالتصدق فی المعنی الاعم الشامل لجمیع انواع القرب المالیۃ کما سیرد علیک تحقیقہ ان شاء اﷲ تعالٰی کیما تلئتم وترد موردا واحدا، و الاحادیث یفسر بعضہا بعضا وباﷲ التوفیق۔
اور امام احمد،مسلم، ترمذی نے حضرت بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے یوں روایت کی،

(۲)کلوا ما بداُلکم (جتنا چاہے کھاؤ) واطعموا (کھلاؤ) ادخروا (جمع کرو)

اور امام مسلم وغیرہ کے یہاں ان الفاظ میں مروی ہے: (۳)کلوا (کھاؤ) اطعموا (کھلاؤ) احبسوا (روک رکھو) ادخروا (جمع کرو)
حضرت نبیشہ ہذلی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث اس کے ساتھ ملالی جائے تو ان چاروں حدیثوں میں ''کلوا'' اور ''ادخروا'' کا لفظ مشترک ہے، صرف حضرت نبیشہ ہذلی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث میں تیسرا لفظ ''ایتجروا'' کے بجائے اطعموا ہے۔ اور حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی حدیث میں اس مقام پر تصدقوا ہے۔ گویا ان حدیثوں میں تیسری چیز کو تین لفظوں سے تعبیر کیا :
ایتجروا، اطمعوا، تصدقوا،
اب اگر سب چھوڑ کر ہم یہ تسلیم کرلیں کہ حضرت نبیشہ ہذلی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث کالفظ ''ایتجروا'' عام نہیں، بلکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی حدیث کی طرح ا س سے مراد خاص صدقہ تملیکی ہے (یعنی جس میں فقیر کو مالک بنانا ضروری ہوتاہے) تو سوال یہ اٹھتاہے کہ بقیہ تینوں حدیثوں میں لفظ ـ''ایتجروا'' کے بجائے لفظ ''اطعموا'' ہے۔ تو اس کو بھی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی حدیث ''تصدقوا'' سے وہی نسبت ہوئی جو ایتجروا کو ہے۔ تو لازم ہوگاکہ اطعام کو بھی تصدقوا پر محمول کیا جائے  اور اطعام میں بھی اباحت کافی نہ ہو تملیک ضروری ہو، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر کوئی شخص کسی کو قربانی کا گوشت اپنے دسترخوان پر بٹھاکر کھلادے تو یہ ناجائز ہوگا جب تک کہ فقیر کو اس کا مالک نہ کرے، جبکہ تمام علماء کا اجماع ہے۔ کہ آدمی قربانی کا گوشت جس طرح دوسروں کو دے سکتاہے اسی طرح بطور اباحت دعوت بھی کرسکتاہے۔ اور اگر حدیث کے لفظ اطعام کو تصدق پر محمول نہیں کرتے تو ایتجار کو کیسے محمول کرتے ہیں۔
الغرض ان سب حدیثوں پر جتنا غور کیا جائے گا یہ حقیقت کھلتی جائے گی کہ تصدقواسے مراد صدقات خاص نہیں، بلکہ عام طور پر ہر کار ثواب مرا دہے چاہے اس میں تملیک ہو یانہ ہو۔
عہ۱:  ای احادیث نبیشہ وسلمۃ وبریدۃ وابی سعید رضی اﷲ تعالٰی عنہم ۱۲ منہ قدس سرہ۔

عہ۲:  ظنی انہ لابدہہنا من لفظ علیہ (ای یجب حمل الاطعام الواردۃ فی الاحادیث علی التصدق)
یعنی حضرت نبیشہ، سلمہ، بریدہ اور ابی سعید رضی اللہ تعالٰی عنہم کی احادیث، ۱۲ منہ قدس سرہ،۔ (ت)

میرا گمان ہے کہ یہاں ''علیہ'' کا لفظ ضروری ہے یعنی حدیث میں وارد اطعام کو صدقہ پر محمول کیا جائے۔ (ت)
 (۱؎ جامع الترمذی     ابواب الاضاحی باب فی الرخصۃ فی اکلہا بعد ثلاث     امین کمپنی دہلی        ۱/ ۱۸۲)

(۲؎ صحیح مسلم         کتاب الاضاحی باب بیان ماکان من النہی عن اکل لحوم الاضاحی     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۱۵۹)
وناھیک قول الامام الجلیل صاحب الہدایۃ فیہا یستحب ان لاینقص الصدقۃ عن الثلث لان الجہات ثلثۃ الاکل والادخار کما روینا والاطعام لقولہ تعالٰی واطعموا القانع والمعتر، فانقسم علیہا اثلاثا ۱؎ اھ، ومعلوم ان الاطعام لایقتصر علی التملیک لالغۃ ولا شرعا وقد اجمعوا ہہنا علی جواز الاباحۃ بل نصوا ان کل ماشرع بلفظ الاطعام جاز فیہ الاباحۃ لما سیأتی فاین تعیین التملیک تدعون، ثم رأیت العلامۃ الاتقانی فی غایۃ البیان قال فی شرح ہذا الکلام وذٰلک لان الایۃ والخبر تضمنا جواز الاکل والتصدق والادخال فکانت الجہات ثلثا فانقسمت علیہا اثلاثا ۱؎ اھ ومعلوم ان لیس فی الایۃ الا لفظ الاطعام المجمع علی شمولہ للاباحۃ، وقد عبر عنہ بالتصدق فعلم ان التصدق المذکور ہہنا ہو المحمول علی الائیتجار دون العکس واﷲ الموفق۔
تائیدمزید : اور انصاف پسندوں کے لئے تو صاحب ہدایہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی عبارت ہی کافی ہے۔ جس میں وہ لفظ اطعام کی تفسیر مفہوم صدقہ سے کرتے ہیں، عبارت ان کی یہ ہے: ''مستحب یہ ہے کہ صدقہ والا حصہ ایک ثلث سے کم نہ ہو، کیونکہ جیساکہ ہم نے ذکر کیا، دو چیزیں تو احادیث سے ثابت ہیں: کھانا، اور جمع کرنا، اور تیسری چیز اطعام، یہ قرآن سے ثابت ہے۔ ارشاد الہٰی ہے:
اطعموا القانع والمعتر
 (کھلاؤ صابر اور مانگنے والے فقیر کو) تو جب جہتیں تین ہیں تو گوشت بھی تین حصہ کردیا جائے''

اس عبارت کے شروع میں جس کو صدقہ والا حصہ کہا ہے یہ وہی ہے جس کو بعدوالی عبارت میں لفظ اطعام سے بیان کرتے ہیں۔ اور یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ اطعام کے لئے تملیک ضروری نہیں، نہ شرعا نہ لغۃ، بلکہ سب نے بالاتفاق اطعام میں اباحت کو جائز نہ رکھا، بلکہ یہ تصریح کی کہ جہاں لفظ اطعام آئے وہاں اباحت مراد ہوگی، امام اتقانی اسی عبارت کی شرح میں فرماتے ہیں:
''قرآن وحدیث نے جب کھانا، صدقہ اور جمع کرنا جائز قرار دیا تو جہتیں تین ہوئیں، لہذا گوشت کا بھی تین حصہ کرنا چاہئے''

ہمارا کہنا ہے کہ آیت میں صدقہ کا لفظ بھی نہیں اطعام کا لفظ ہے جس کے لفظ میں اباحت داخل ہے اور اسی کو یہ علماء لفظ تصدق سے تعبیر کرتے ہیں تو معلوم ہوا کہ اس موقعہ پر لفظ تصدق ہی عام معنی میں مستعمل ہے۔ اور اس سے ہر قسم کا کارخیر مرا دہے۔
Flag Counter